بد ظنی سے بچو ۔ اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے ۔ کلام مسیح موعودؑ

بدظنی سے بچو
| تو پھر کیوں ظنِ بد سے ڈر نہیں ہے | اگر دل میں تمہارے شر نہیں ہے |
| بدی سے خود وہ رکھتا ہے اِرادت | کوئی جو ظنِ بد رکھتا ہے عادت |
| نہ اہلِ عفت و دیں کا ہے پیشہ | گمانِ بد شیاطیں کا ہے پیشہ |
| اسی سے ہیں تمہارے کام کچے | تمہارے دل میں شیطاں دے ہے بچے |
| کہ جو رکھتا ہے پردہ میں وہی عیب | وہی کرتا ہے ظنِّ بد بِلا رَیب |
| نظر بازی کو اِک پیشہ بنایا | وہ فاسِق ہے کہ جس نے رہ گنوایا |
| وہاں بدظنیوں سے بچ کے رہیو | مگر عاشق کو ہر گز بد نہ کہیو! |
| یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دامَن | اگر عشاق کا ہو پاک دامن |
| کہ گُل بے خار کم ہیں بوستاں میں | مگر مشکِل یہی ہے درمیاں میں |
| کہ عاشق کس کو کہتے ہیں جہاں میں | تمیں یہ بھی سناؤں اس بیاں میں |
| مَحبت کی کماں سے آ لگا تِیر | وہ عاشق ہے کہ جس کو حسبِ تقدیر |
| ہوا اُلفت کے پیمانوں سے مدہوش | نہ شَہوَت ہے نہ ہے کچھ نَفس کا جوش |
| نہیں اس کو خبر کچھ پیچ و خم کی | لگی سینہ میں اُس کے آگ غم کی |
Post Views: 962