مسیح موعودؑ نے اللہ کا نام یلاش ، کالا اور کالو بتایا اس پر اعتراض کا جواب
قل ادعوا اللہ او ادعوا الرحمان ۔ ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنیٰ۔ تم اس کواللہ کہو یا رحمان کہو ۔ جس نام سے بھی اسے پکارو سب اچھے نام اسی کے لیے ہیں
ایک مشرک نے حضورﷺ سے سجدے کی حالت میں یا رحمان یا رحیم سن کر کہا کہ لیجئے یہ موحد ہے ۔ دو معبودوں کو پکارتے ہیں ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ پھر فرماتا ہے اپنی نماز کو بہت اونچی آواز سے نہ پڑھو ۔ اس آیت کے نزول کے وقت محمد ﷺ مکہ میں پوشیدہ تھے ۔ تفسیر ابن کثیر
مناقب اہل بیت ۔ سید احمد مستنبط ۔ طریحی کتاب مجمع البحرین میں ابن اعرابی سے نقل کرتے ہیں کہ خداوند کے ایک ہزار ایک نام ہیں اور محمد ﷺ کے ایک ہزار نام ہیں
تفسیر نور العرفان ۔ احمد یار خان نعیمی
شان نزول – ابو جہل کہتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور وہ اللہ اور رحمان دو کو پکارتے ہیں۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کے 99 نام ہیں جس نے انہیں یاد کر لیا جنتی ہو گیا۔ خیال رہے کہ رب کے نام اور حضور کے نامایک ہزار ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان ناموں کو یاد کرنا جنتی ہونے کا ذریعہ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کے صرف ننانوے نام ہیں ۔ خیال رہے کہ خدا اللہ تعالیٰ کا نام نہیں ہے بلکہ مالک کا ترجمہ ہے۔ گویا اس کا ایک وصف ہے۔ لہذا اسے خدا تو کہہ سکتے ہیں مگر رام یا پر بھو نہیں کہہ سکتے۔ جیسے ستار کا ترجمہ پردہ پوش کر لیا جاوے۔ ۸۔ اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کو ایسے ناموں سے یاد کرنا جو اس کی شان کے لائق نہ ہوں، یا جن کے ایک معنی تو اچھے ہوں، دوسرے برے نا جائز ہے۔ اسے میاں نہ کہو رام کرشن وغیرہ ناموں سے نہ پکارو حق یہ ہے کہ رب تعالٰی کے نام تو قیفی ہیں۔
شفا شریف ۔ قاضی عیاض مالکی ۔
ہم نے اسی فصل میں تیس نام لکھے ہیں اور اللہ نے جیسا مجھے ان اسماء کا علم الہام فرمایا۔
صحیح مسلم ۔ امام نووی ۔ بعض علماء نے نقل کیاہے کہ اللہ تعالی کے ہزار نام ہیں اور ارسول اللہ ﷺ کے بھی ہزار نام ہیں ۔
احکام شریعت ۔ احمد رضا خان بریلوی
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے کتنے نام ہیں
اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے نام ان گنت ہیں ۔ مواہب و شرح مواہب میں ان گنت نام ہیں ۔ اور میں نے چودہ سو پائے اور حصر ناممکن ۔
فتاویٰ محمودیہ ۔ مفتی محمود حسن گنگوہی ۔
ابن عربی نے اللہ کے ایک ہزار نام بیان کیے ہیں ۔ ( طحاوی )
اللہ کے کئی نام پچھلی کتب اور دیگر مذاہب میں بھی مذکور ہیں ۔
جیسے خدا ، ایزد، یزدان کہ یہ نام کسی مخصوص غیر مسلم کے شعار نہیں بلکہ بکثرت اہل اسلام کی تصانیف میں موجودہیں ۔
رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پانچ ہزار نام ہیں ۔ ایک ہزار قرآن میں اور صحیح حدیث میں اور ایک ہزار تورات میں اور ایک ہزار انجیل میں اور ایک ہزار زبور میں اور ایک ہزار لوح محفوظ میں ۔
امام خطابی نے اس کی ایک دلیل یہ دی ہے کہ یا اللہ تو کہہ سکتے ہیں مگر یا الرحمن کہتے کسی کو نہیں سنا اگر لفظ اللہ میں الف لام اصل کلمہ کا نہ ہوتا تو اس پر ندا کا لفظ یا داخل نہ ہو سکتا کیونکہ قواعد عربی کے لحاظ سے حرف ندا کا لفظ لام والے اسم پر داخل ہونا جائز نہیں۔
تفسیر ابن کثیر ۔ جلد 1
فضل في عدد أسماء الله
قال ابنُ الخَطِيبِ (۳) ـ رحمه الله -: رأيتُ في بعض كُتُبِ الذكر أنَّ الله – تعالى – أربعة آلاف اسم : أَلفّ منها في القرآن، والأخبار الصحيحة، وألف في التوراة، وألفُ في الإِنْجِيلِ، وَأَلْفٌ في الزَّبُورِ، ويُقالُ : أَلْفٌ آخر في اللوح المَحْفُوظ، وَلَمْ يَصِلْ ذلك الأَلْفُ إلى عَالم البَشَرِ .
( الباب فی علوم الکتاب ۔ جلد اول )
تفسیر غرائب القرآن ورغائب الفرقان ۔ الجلد اول
قیل ۔ ان للہ تعالیٰ اربعۃ آلاف اسم
ترجمہ۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے چار ہزار نام ہیں
شرح شفاء ۔ قاضی عیاض مالکی ۔ شارح ملا علی قاری
قیل اسماء اللہ اربعۃ آلاف اسم
ترجمہ ۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے چار ہزار نام ہیں
مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ۔ مرزا حسین الطبرسی
قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ تبارک و تعالیٰ تسعۃ و تسعین اسماء ، مائۃ الا واحد، من احصاھا دخل الجنۃ ، وہ ھی
ترجمہ ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ اللہ کے 99 نام ہیں جو ان کو یاد کرے گا جنت میں جائے گا۔
بحار الانوار ۔ جلد 4 ۔ باقر مجلسی
اللہ کے چار ہزار نام ہیں ۔ ایک ہزار کو صرف اللہ جانتا ہے ۔ ایک ہزار کو اللہ اور فرشتے جانتے ہیں ۔ ایک ہزار کو اللہ ، فرشتے اور نبی جانتے ہیں ۔ ایک ہزار کو سب مومنین جانتے ہیں ۔ 300 انجیل میں ہیں ، 300 زبور میں اور 100 قرآن میں ۔ 99 ظاہر ہیں اور ایک چھپا ہوا ہے ۔ جو ان کو پا لے وہ جنت میں جائے گا۔
تفسیر روح البیان ۔ جلد 5
اللہ کے چار ہزار نام ہیں
عقیدہ اہل سنت والجماعت ۔ امام تیمیہ
اللہ کے تمام ناموں پر ایمان لانا ضروری ہے چاہے وہ قرآن اور حدیث میں مذکور نہ ہوں ۔
امام بیہقی نے کہا ہے کہ اللہ کے نام ان گنت ہیں
احمد رضا خان بریلوی ۔ فتاویٰ رضویہ جلد 15
اللہ کے مختلف زبانوں میں مختلف نام
مسند احمد بن حنبل
اللہ کے نامعلوم ناموں سے دعا ۔ عبد اللہ بن مسعودؓ
تفسیر کبیر ۔
اللہ کے چار ہزار نام
الیواقیت والجواہر ۔ امام عبد الوہاب شعرانی
اسم اللہ اس کی ذات ہے اور دوسری صفات اس کی غیر ہیں
اللہ کے اسماء کی تین اقسام ہیں ۔ ایک ذاتی جیسے اللہ ، دوسرا تنزیہی اور تیسرا صفات
ہر زبان میں اللہ کے جو بھی نام ہیں وہ تعظیم کے قابل ہیں کیونکہ وہ اسی کے نام ہیں جیسے خدا ، واق یا کربطور
اسماء کی کثرت مسمیٰ کی عظمت پر دلالت کرتی ہے ۔
ترجمان السنہ ۔ بدر عالم میرٹھی
ابن عربی کا اللہ کے نام اور صفات کے بارے میں بیان ۔
اللہ کے مشہور نام انسانوں کو دینا ممنوع ہے
اللہ کے 99 نام ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو ہم نہیں جانتے ۔
تفسیر نعیمی ۔ احمد یار خان نعیمی
محمد ﷺ کا بھی نام اللہ ہے
محمد ﷺ تمام صفات الٰہیہ سے موسوم ہیں
تفسیر کبیر میں ہے کہ اللہ کے تین ہزار نام ہیں
اسم ذات اور اسم صفات میں فرق
خدا پروردگار سب اللہ کے صفاتی نام ہیں
ضرورت دین ۔ محمد راشد القاری
خدا کو رام یا پرماتما کہنا جائز نہیں
احکام شریعت ۔ احمد رضا خان بریلوی
اللہ کے نام بے شمار ہیں اور ایسے ہیں محمد ﷺ کے بھی بے شمار نام ہیں ۔ نام زیادہ ہونا شرف کو ظاہر کرتا ہے ۔
مواہب و شرح مواہب میں آٹھ سو بیان ہوئے ہیں اور میں نے چودہ سو ڈھونڈے ہیں اور حصر نا ممکن ہے
تذکرہ انعامات رحمان ۔ عبد الغفار
اللہ کا ترجمہ ہے من موہن
اگر نبوت بند نہ ہوتی تو غریب نواز معین الدین چشتی اجمیر ی بھی نبی ہوتے
تذکرہ فضل رحمان مراد آبادی ۔ ابو الحسن علی ندوی
اللہ کا ترجمہ ہے من موہن
ارشاد رحمانی و فضل یزدانی
اللہ کا ترجمہ ہندی میں من موہن ہے
روحانی خزائن جلد 17 ۔ ص 203 ۔ تحفہ گولڑویہ
خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ فلاش خدا کا ہی نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں نے اسکو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔ اس کے معنے میرے پر یہ کھولے گئے کہ یا لا شریک۔
یلاش ۔ خدائے واحد و لاشریک کا ایک نام ۔ اس خوبصورت نام پر اعتراضات کا جواب ۔ عطاء المومن زاہد