مذہب شیعہ ۔ پی ڈی ایف
کتب شیعہ کی فہرست
کا فی۔
مجمع البیان۔
عمدۃ البیان۔
الروضۂ بہمیہ۔
شرع عرشیہ۔
تاج البلاغۃ
شرح نہج البلاغۃ
مؤلفہ عبدالحمید بن ابی الحدید شیعی۔
الصافی۔
بحارالانوار۔
کتب الخصال۔
غررالفوائد۔
اکمال الدین۔
اسرارالتنزیل۔
امالی۔
انارۃ البصائر۔
بشریٰ بالحسن۔
حقایق لدنی۔
الصراط السوی۔
کشف الغمہ۔
کلینی۔
حیات القلوب۔
ناسخ التواریخ۔
حجاج السالکین۔
جالاء العیون (ملا محمد باقر مجلسی) ۔
مجالس المومنین۔
روضۃ الصفا (تاریخ) استبصار۔
مہیج الاحزان۔
کتب ردّشیعہ
سرّالخلافۃ۔
خلافت راشدہ۔
تحفہ اثناء عشریہ۔
شرائط المذاہب۔
آیات بیّنات۔
براہین قاطعہ۔
تشریف البشر۔
رسالہ فدک۔
معیار المذاہب۔
اسباب مقاطعہ درمیان سنّی و شیعہ۔
تحقیقات واقعات کربلا۔
اسماء ائمہ شیعہ
(ا) حضرت علی رضی اﷲ عنہ
(۲) حضرت حسن ؓ بن علیؓ
(۳) حضر ت حسین ؓ بن علیؓ
(۴) ابو محمد علی بن حسین ؓ زین العابدین
(۵) ابو جعفر محمد بن علی باقر (محمد باقر)
(۶) جعفر صادق
(۷) موسیٰ کاظمی
(۸) علی رضا
(۹) ابو جعفر محمد بن علی الجواد
(۱۰) ابو الحسن علی بن علی بن محمد اتّقا
(۱۱) ابو محمد حسن بن عسکری
(۱۲) امام مہدی علیہ السلام۔
مسئلہ وراثت
(النساء:۱۲)
استدلال شیعہ:۔اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے ایک اسلامی قانون پیش کیا ہے کہ ہر شخص کی وارث اس کی اولاد ہے۔چونکہ تمام احکام قرآنی میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ مساوی طور پر شریک ہیں اس لئے اس مسئلہ میں بھی آپ کا کوئی استثناء نہیں۔ بدیں و جہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ کو وراثت سے محروم کر کے ان کی حق تلفی کی۔
جواب:۔بیشک یہ آیت عام ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر عام میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بھی شریک ہوں جیسا کہ (النور:۳۳) میں باوجود یکہ خطاب عام ہے پھر بھی آنحضرت ؐ کی بیویاں اس سے مستثنیٰ ہیں۔اسی طرح (النساء:۱۲) والی آیت میں آنحضرت ؐ کا استثناء ہوسکتا ہے اگر کوئی کہے والی آیت میں اس واسطے استثناء مانتے ہیں کہ اس استثناء کا خودقرآن کریم میں دوسری جگہ ذکر ہے جہاں فرمایا (الاحزاب:۵۴) لیکن والی آیت کا استثناء قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ قرآن کریم کی عمومیت میں استثناء ضرور قرآن ہی کے ذریعہ ہو بلکہ حدیث یا تعامل کے ذریعہ سے بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ (بنی اسرائیل:۲۴) یعنی اپنے والدین کو اُف تک نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو۔کے حکم سے آنحضرتؐ کا حکم عام ہے مگر اس میں آنحضرتؐشامل نہیں۔اور یہ استثناء قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں،بلکہ واقعات سے ثابت ہے کیونکہ حضورؐ کے والدین بچپن ہی میں فوت ہوچکے تھے ۔اسی طرح (النساء:۱۲) والی آیت میں جو استثناء ہے وہ آپ کی اسی صحیح حدیث کی بناء پر ہے جو بخاری و مسلم بلکہ تمام صحاح میں موجود ہے۔نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِیَآءِ لَا نَرِثُ وَلَا نُوْرَثُ (بخاری کتاب خمس باب فضائل اصحاب النبیؐ ۔مغازی فرائض ۔مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۶۳) جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.