از روئے قرآن کریم
پہلی دلیل:۔
مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِىۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبَّكُمۡۚ وَكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡۚ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِىۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡؕ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴿117﴾
میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تُو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے۔ اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پس جب تُو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تُو ہی ان پر نگران رہا اور تُو ہر چیز پر گواہ ہے۔
مطلب:۔ اﷲ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسیٰ! کیا تو نے نصاریٰ کو تثلیث کی تعلیم دی تھی؟ آپ انکار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے تعلیم تو کیا دینی تھی میری زندگی میں اور میرے سامنے یہ عقیدہ ظاہر نہیں ہوا۔ میں ان کا نگران تھا جب تک میں ان میں تھا۔ پھر جب تو نے میری توفّی کرلی تو تُو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز کامحافظ ہے۔
استدلال نمبر۱:۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دو زمانے بتائے ہیں۔ پہلا اپنی قوم میں حاضری کا زمانہ () اور دوسرا غیر حاضری کا ()اور ان دونوں زمانوں کے درمیان حد فاصل ہے۔ گویا ان کی اپنی قوم سے غیر حاضری سے پہلے ’’وفات‘‘ ہے۔ کیونکہ غیر حاضری کی و جہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی قوم میں حاضر ہیں یا غیر حاضر؟ چونکہ غیر حاضر ہیں لہٰذا ان کی توفّی ہوچکی ہے۔
استدلال نمبر۲:۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ ؑاقرار فرماتے ہیں کہ تثلیث پرستی کا عقیدہ میری زندگی میں نہیں پھیلا بلکہ میری توفّی کے بعد پھیلا ہے اور اس زمانہ میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی ایک کھلی حقیقت ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ﴿73﴾
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے (بھی) جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ حالانکہ ایک ہی معبود کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا دردناک عذاب ضرور آلے گا۔
کہ ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے اور ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے۔
لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَؕ قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـــا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ؕ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿17﴾
یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ یقیناً اللہ ہی مسیح ابنِ مریم ہے۔ تُو کہہ دے کہ کون ہے جو اللہ کے مقابل پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہے، اگر وہ فیصلہ کرے کہ مسیح ابنِ مریم کو اور اس کی ماں کو اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو نابود کرے۔ اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اُس کی بھی جو اُن دونوں کے درمیان ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
پس صاف نتیجہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی توفّی ہوچکی ہے یعنی وہ فوت ہوچکے ہیں۔
غیر احمدی:۔ حضرت مرزا صاحب نے چشمہ معرفت صفحہ ۲۵۴ طبع اوّل پر لکھا ہے:۔
’’انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔‘‘
جواب:۔اس حوالہ میں انجیل کا ذکر ہے مسیح کی ہجرت کا ذکر نہیں اور انجیل اس وحی کے مجموعہ کا نام ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام پر ان کی وفات تک نازل ہوتی رہی جس طرح قرآن مجید آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے قریب زمانہ تک نازل ہوتا رہا۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ……
اِنَّاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ كَمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى نُوۡحٍ وَّالنَّبِيّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَعِيۡسٰى وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡنُسَ وَهٰرُوۡنَ وَسُلَيۡمٰنَ ۚ وَاٰتَيۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿163﴾
ہم نے یقیناً تیری طرف ویسے ہی وحی کی جیسا نوح کی طرف وحی کی تھی اور اس کے بعد آنے والے نبیوں کی طرف۔ اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب کی طرف اور (اس کی) ذریّت کی طرف اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف۔ اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
یعنی اے محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) ہم نے آپ پر اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح نوح اور…………عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء پر۔
پس چشمہ معرف کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات (جو ۱۲۰ برس کی عمر میں ہوئی) کے تیس برس کے قریب گزرنے پر عیسائی بگڑ گئے۔ نہ یہ کہ حضرت عیسیٰ کی زندگی ہی میں مسیح کی پرستش شروع ہوگئی تھی۔
تَوَفِّیْ کے معنے
حضرت امام بخاریؒ کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ کا ارشاد نقل کیا ہے:۔
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ؓ مُتَوَفِّیْکَ مُمِیْتُکَ
(بخاری کتاب التفسیر سورۃ مائدہ زیر آیت فلما توفیتنی المائدۃ:۱۱۸)
تغلیق التعلیق علی صحیح البخاری ۔ ابن حجر عسقلانی ۔ متوفیک ممیتک ۔ ابن عباس
ابن ابی حاتم و ابن جریر من طریق ابی صالح عن معاویہ بن صالح عن علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری امام عینی ۔ متوفیک ممیتک صحیح ہے
امداد القاری بشرح کتاب التفسیر من صحیح البخاری ۔ عبد اللہ بن سلیمان الجابری۔ متوفیک ممیتک ۔ ابن عباس
کہ حضرت ابن عباسؓ کے فیصلہ کے بعد کسی دوسرے شخص کی بات قابل قبول نہیں اس حالت میں کہ جب قرآن مجید و احادیث و لغت و تفاسیر کے مندرجہ ذیل حوالجات بھی ان کی تائیدمیں ہیں۔
(تفسیر ابن عباسؓ کے متعلق نوٹ آگے ملاحظہ فرمائیں صفحہ ۱۸۳)۔
توفی معنی موت کا اصول اور چیلنج
لفظ توفّی باب تفعل کا مصدر ہے۔ سو قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی اس کا کوئی مشتق استعمال ہوا ہے جب اﷲ تعالیٰ یا ملائکہ اس کا فائل ہوں یا صیغہ مجہول ہو اور غائب مفعول اس کا انسان ہو تو سوائے قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں اور وہ قبض روح بذریعہ موت ہے۔ سوائے اس مقام کے کہ جہاں لیل یا منام کا قرینہ موجود ہو تو وہاں قبض روح کو نیند ہی قرار دیا گیا ہے۔ بہرحال قبضِ جسم کسی جگہ بھی مراد نہیں۔
چنانچہ قرآن کریم میں علاوہ متنازعہ فیہ جگہ کے ۲۳ جگہ لفظ توفّی کا مشتق استعمال ہوا ہے۔
۱،۲۔ (دو مرتبہ البقرۃ : ۲۳۵، ۲۴۱)
وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴿234﴾
اور تم میں سے جو لوگ وفات دیئے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔ تو وہ (بیویاں) چار مہینے اور دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔ پس جب وہ اپنی (مقررہ) مدت کو پہنچ جائیں تو پھر وہ (عورتیں) اپنے متعلق معروف کے مطابق جو بھی کریں اس بارہ میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے
وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا ۖۚ وَّصِيَّةً لِّاَزۡوَاجِهِمۡ مَّتَاعًا اِلَى الۡحَـوۡلِ غَيۡرَ اِخۡرَاجٍ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡکُمۡ فِىۡ مَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَکِيۡمٌ ﴿240﴾
اور تم میں سے جو لوگ وفات دیئے جائیں اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں، اُن کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے کہ وہ (اپنے گھروں میں) ایک سال تک فائدہ اٹھائیں اور نکالی نہ جائیں۔ ہاں! اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اس بارہ میں جو وہ خود اپنے متعلق کوئی معروف فیصلہ کریں۔ اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے
۳۔ (آل عمران: ۱۹۴)
رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِۚ ﴿193﴾
اے ہمارے ربّ! یقیناً ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سُنا جو ایمان کی منادی کر رہا تھا کہ اپنے ربّ پر ایمان لے آؤ۔ پس ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے ربّ! پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری برائیاں دور کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔
وَالّٰتِىۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ مِنۡ نِّسَآٮِٕكُمۡ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّنۡكُمۡ ۚ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِى الۡبُيُوۡتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰٮهُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا ﴿15﴾
اور تمہاری عورتوں میں سے وہ جو بے حیائی کی مرتکب ہوئی ہوں ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو ان کو گھروں میں روک رکھو یہاں تک کہ ان کو موت آجائے یا ان کے لئے اللہ کوئی (اور) رستہ نکال دے۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَاؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ﴿97﴾
یقیناً وہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ (اُن سے) کہتے ہیں تم کس حال میں رہے؟ وہ (جواباً) کہتے ہیں ہم تو وطن میں بہت کمزور بنا دیئے گئے تھے۔ وہ (فرشتے) کہیں گے کہ کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟۔ پس یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔
وَهُوَ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُـنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴿61﴾
اور وہ اپنے بندوں پر جلالی شان کے ساتھ غالب ہے اور وہ تم پر حفاظت کرنے والے (نگران) بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آجائے تو اُسے ہمارے رسول (فرشتے) وفات دے دیتے ہیں اور وہ کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔
فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيۡبُهُمۡ مِّنَ الۡـكِتٰبِؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُـنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَشَهِدُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴿37﴾
وَمَا تَـنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴿126﴾
اور تُو ہم پر کوئی طعن نہیں کرتا مگر یہ کہ ہم اپنے ربّ کے نشانات پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے ربّ! ہم پر صبر انڈیل اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے۔
وَاِنۡ مَّا نُرِيَـنَّكَ بَعۡضَ الَّذِىۡ نَعِدُهُمۡ اَوۡ نَـتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ﴿40﴾
اوراگر ہم تجھے ان اِنذاری وعدوں میں سے کچھ دکھا دیں جو ہم ان سے کرتے ہیں یا تجھے وفات دے دیں تو (ہر صورت) تیرا کام صرف کھول کھول کر پہنچا دینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔
وَاِمَّا نُرِيَـنَّكَ بَعۡضَ الَّذِىۡ نَعِدُهُمۡ اَوۡ نَـتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِيۡدٌ عَلٰى مَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴿46﴾
اور اگر ہم تجھے اس (اِنذار) میں سے کچھ دکھا دیں جس سے ہم انہیں ڈرایا کرتے تھے یا تجھے وفات دے دیں تو (بہرحال) ہماری طرف ہی ان کو لَوٹ کر آنا ہے۔ پھر اللہ ہی اس پر گواہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔
رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِىۡ مِنَ الۡمُلۡكِ وَ عَلَّمۡتَنِىۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَنۡتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ ﴿101﴾
اے میرے ربّ! تو نے مجھے امورِ سلطنت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی اصلیّت سمجھنے کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تُو دنیا اور آخرت میں میرا دوست ہے۔ مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زُمرہ میں شامل کر۔
۱۲،۱۳۔ (دو مرتبہ النحل: ۲۹،۳۳)
الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰۤٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَـعۡمَلُ مِنۡ سُوۡۤءٍؕ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿28﴾
ہاں، اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے” ملائکہ جواب دیتے ہیں “کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے
النحل آیت 32
الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰۤٮِٕكَةُ طَيِّبِيۡنَ ۙ يَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمُۙ ادۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿32﴾
(یعنی) وہ لوگ جن کو فرشتے اس حالت میں وفات دیتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں وہ (انہیں) کہتے ہیں تم پر سلام ہو۔ جنت میں داخل ہو جاؤ اُس کی بنا پر جو تم عمل کرتے تھے۔
وَاللّٰهُ خَلَقَكُمۡ ثُمَّ يَتَوَفّٰٮكُمۡۙ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَىۡ لَا يَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَيۡــًٔاؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ ﴿70﴾
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں وفات دے گا اور تم ہی میں سے وہ بھی ہے جو ہوش و حواس کھو دینے کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ علم حاصل کرنے کے بعد کلیّۃً علم سے عاری ہو جائے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) دائمی قدرت رکھنے والا ہے۔
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡـتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَـعۡثِ فَاِنَّـا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ لِّـنُبَيِّنَ لَـكُمۡ ؕ وَنُقِرُّ فِى الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّكُمۡ ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡــًٔـا ؕ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَاَنۡۢبَـتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۢ بَهِيۡجٍ ﴿5﴾
اے لوگو! اگر تم جی اُٹھنے کے بارہ میں شک میں مبتلا ہو تو یقیناً ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا تھا پھر نطفہ سے پھر لوتھڑے سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے جسے خاص تخلیقی عمل یا عام تخلیقی عمل سے بنایا گیا تا کہ ہم تم پر (تخلیق کے راز) کھول دیں۔ اور ہم جو چاہیں رِحموں کے اندر ایک مقررہ مدت تک ٹھہراتے ہیں پھر ہم تمہیں ایک بچے کے طور پر نکالتے ہیں تا کہ پھر تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچو۔ اور تم ہی میں سے وہ ہے جس کو وفات دے دی جاتی ہے اور تم ہی میں سے وہ بھی ہے جو ہوش وحواس کھو دینے کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ علم حاصل کرنے کے بعد کلیۃً علم سے عاری ہوجائے۔ اور تُو زمین کو بے آب وگیاہ پاتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ (نمو کے لحاظ سے) متحرک ہو جاتی ہے اور پھولنے لگتی ہے اور ہر قسم کے ہرے بھرے پُر رونق جوڑے اگاتی ہے۔
قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿11﴾
تُو کہہ دے کہ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہیں وفات دے گا پھر تم اپنے ربّ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿42﴾
اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو مَری نہیں ہوتیں (انہیں) ان کی نیند کی حالت میں (قبض کرتا ہے)۔ پس جس کے لئے موت کا فیصلہ کر دیتا ہے اسے روک رکھتا ہے اور دوسری کو ایک معین مدت تک کے لئے (واپس) بھیج دیتا ہے۔ یقیناً اس میں فکر کرنے والوں کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿67﴾
وہی ہے جس نے (اوّلاً) تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر لوتھڑے سے، پھر تمہیں بچے کی صورت باہر نکالتا ہے اور پھر یہ توفیق بخشتا ہے کہ تم اپنی بلوغت کی عُمر کو پہنچو تاکہ پھر یہ امکان ہو کہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تاکہ تم آخری مقررہ مدت تک پہنچ جاؤ۔ہاں کچھ تم میں سے ایسے بھی ہیں جنہیں پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے اور (یہ نظام اس لئے ہے) تاکہ تم عقل کرو۔
فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ ﴿77﴾
پس تو صبر کر۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ہم چاہیں تو تجھے اس اِنذار میں سے کچھ دکھا دیں جس سے ہم انہیں ڈرایا کرتے تھے یا تجھے وفات دے دیں تو بہرحال وہ ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے۔
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ ﴿27﴾
پس کیا حال ہوگا جب فرشتے انہیں وفات دیں گے؟ وہ ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ضربیں لگائیں گے۔
وَهُوَ الَّذِىۡ يَتَوَفّٰٮكُمۡ بِالَّيۡلِ وَ يَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَـبۡعَثُكُمۡ فِيۡهِ لِيُقۡضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّىۚ ثُمَّ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿60﴾
اور وہی ہے جو تمہیں رات کو (بصورت نیند) وفات دیتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے جو تم دن کے وقت کر چکے ہو اور پھر وہ تمہیں اُس میں (یعنی دن کے وقت) اُٹھا دیتا ہے تا کہ (تمہاری) اجلِ مسمّٰی پوری کی جائے۔ پھر اسی کی طرف تمہارا لَوٹ کر جانا ہے۔ پھر جو بھی تم کیا کرتے تھے وہ اس سے تمہیں آگاہ کرے گا۔
وَ لَوۡ تَرٰٓى اِذۡ يَتَوَفَّى الَّذِيۡنَ كَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡۚ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴿50﴾
اور اگر تو دیکھ سکے (تو یہ دیکھے گا) کہ جب فرشتے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا وفات دیتے ہیں تو وہ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں کو چوٹیں لگاتے ہیں اور (یہ کہتے ہیں کہ) سخت جلن کا عذاب چکھو۔
قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ شَكٍّ مِّنۡ دِيۡنِىۡ فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلٰـكِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰهَ الَّذِىۡ يَتَوَفّٰٮكُمۡ ۖۚ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ ﴿104﴾
تُو کہہ دے کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو میں تو ان کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ لیکن میں اُسی اللہ کی عبادت کروں گا جو تمہیں وفات دیتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنوں میں سے ہوجاؤں۔
کتب احادیث سے اس کی مثالیں
بخاری میں ایک باب (بخاری کتاب المناقب باب وفات النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم) بھی ہے۔’’باب توفّی رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم‘‘ پھر آنحضرتؐ نے صاف فرمادیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی توفّی کے وہی معنے ہیں جو میری توفّی کے ہیں۔ فرمایا:۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ اِنَّہٗ یُجَاءُ بِرِجَالٍ مِّنْ اُمَّتِیْ فَیُؤْخَذُ بِھِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَاَقُوْلُ یَارَبِّ اُصَیْحَابِیْ فَیُقَالُ اِنَّکَ لَا تَدْرِیْ مَا اَحْدَثُوْا بَعْدَکَ فَاَقُوْلُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ۔ فَیُقَالُ اِنَّ ھٰؤُلآءِ لَمْ یَزَالُوْا مُرْتَدِّیْنَ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ مُنْذُ فَارَقْتَھُمْ۔
ترجمہ:۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگ دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ جواب ملے گا تو نہیں جانتا کہ تیرے پیچھے انہوں نے کیا کیا۔ اس وقت میں وہی کہوں گا جو اﷲ تعالیٰ کے صالح بندے عیسیٰ ؑ نے کہا تھا کہ میں ان کا اسی وقت تک کا نگران تھا جب تک ان میں تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو ہی ان کا نگہبان تھا۔
فلما توفیتنی ۔ کتاب التفسیر سورت المائدہ بخاری ۔ معنی موت
نتیجہ:۔ اس حدیث سے صاف نتیجہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی توفی کی صورت وہی ہے جو آنحضرتؐ کی توفی کی ہے۔ ورنہ آپ کا یہ فرمانا فَاَقُوْلُ کَمَا قَالَ درست نہیں رہتا۔
اب دیکھو آنحضرتؐ نے بعینہٖ وہی لفظ تَوَفَّیْتَنِیْ جو مسیح کے لئے استعمال ہوا ہے اپنے لئے استعمال فرمایا ہے۔ پس تعجب ہے کہ آنحضرتؐ کے لیے جب لفظ توفّی آئے تو اس کے معنی ’’موت‘‘ لئے جائیں مگر جب وہی لفظ حضرت مسیح ؑکے متعلق استعمال ہو تو اس کے معنے آسمان پر اٹھانا لئے جائیں۔
ایک لطیفہ:۔ اس کے جواب میں مؤلف محمدیہ پاکٹ بک لکھتا ہے:۔
’’ایک ہی لفظ جب دو مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت و شخصیت اس کے جدا جدا معنے ہوتے ہیں۔ دیکھئے حضرت مسیح اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور خدائے پاک بھی……اب کیا خدا کا نفس اور مسیح کا نفس ایک جیسا ہے‘‘
جواب:۔ گویا آپ کے نزدیک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثال حضرت مسیح کے بالمقابل ویسی ہی ہے جیسی مسیحؑ کی اﷲ تعالیٰ کے بالمقابل۔ اور گویا آپ کے نزدیک آنحضرتؐ کی حیثیت اور شخصیت مسیحؑ کی حیثیت اور شخصیت سے مختلف نوعیت کی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف محمدیہ پاکٹ بک بھی درپردہ الوہیت مسیح کا قائل ہے۔ ورنہ آنحضرتؐ اور مسیحؑ کی حیثیت نبوت اور بشریت کے لحاظ سے نوع ہرگز مختلف نہیں اور نہ خدا کی مثال پر حضرت مسیحؑ کا قیاس کیا جاسکتا ہے۔ پس غیر احمدی کا جواب محض نفس کا دھوکہ اور قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ یہ تو درست ہے کہ انسان کا قیاس خدا پر نہیں کیا جاسکتا لیکن نبی کا قیاس نبی پر اور انسان کاقیاس انسان پر تو کیا جاسکتا ہے۔ خود قرآن مجید میں ہے کہ اے محمدؐ رسول اﷲ! کہہ دے کہ میں بھی پہلے انبیاء کی طرح ایک نبی ہوں۔ نیز
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ﴿144﴾
اور محمدنہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائےگا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکےگا۔ اور اللہ یقینا شکرگزاروں کو جزا دے گا۔
پس جو معنی آنحضرتؐ کی توفی کے ہیں بعینہٖ وہی معنی حضرت عیسیٰ ؑ کی توفّی کے بھی لینے پڑیں گے۔
پھر بخاری میں ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ؓ مُتَوَفِّیْکَ مُمِیْتُکَ کہ حضرت ابن عباسؓ نے مُتَوَفِّیْکَ کے معنی موت کیے ہیں۔
(بخاری کتاب التفسیر سورۂ مائدہ زیر آیت ……۱۸۸)
تفسیر ابن عباسؓ
نوٹ:۔ بعض غیر احمدی مولوی ’’تفسیر ابن عباسؓ ‘‘کے حوالہ سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ تو حیات مسیح کے قائل تھے اور وہ آیت (اٰل عمران:۵۶) میں تقدیم تاخیر کے قائل تھے۔
جواب ۔ تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے حضرت ابن عباسؓ کا جو مذہب پیش کیا ہے وہ اَصَحَّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ یعنی صحیح بخاری میں درج ہے جس کی صحت اور اصالت میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا مگر وہ مختلف اقوال جو دوسری تفاسیر یا ’’تفسیر ابن عباسؓ ‘‘ کے نام سے مشہور کتاب میں درج ہیں وہ قابل استناد نہیں کیونکہ
ان تمام تفاسیر کے متعلق محققین کی رائے ہے کہ وہ جعلی اور جھوٹی تفسیریں جو حضرت ابن عباسؓ کی طرف منسوب کردی گئی ہیں۔
چنانچہ لکھا ہے:۔
۱۔وَمِنْ جُمْلَۃِ التَّفَاسِیْرِ الَّتِیْ لَا یُؤَثَّقُ بِھَا تَفْسِیْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَاِنَّہ مَرْوِیٌّ مِنْ طَرِیْقِ الْکَذَّابِیْنَ۔
(فوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ مصنفہ علامہ شوکانی صفحہ ۱۱۱ و مطبوعہ در مطبع محمدی لاہور ۱۳۰۳ھ صفحہ ۱۰۴)
یعنی ناقابل اعتبار اور غیر معتبر تفسیروں میں سے ایک تفسیر ابن عباس بھی ہے کیونکہ وہ کذاب راویوں سے مروی ہے۔
۲۔حضرت امام سیوطیؒ فرماتے ہیں:
ھٰذَہِ التَّفَاسِیْرُ الطِّوَالُ الَّتِیْ اَسْنَدُوْھَا اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ غَیْرُ مَرْضِیَّۃٍ وَ رُوَاتُھَا مَجَاھِیْلٌ
(تفسیر اتقان جلد ۲ صفحہ ۱۸۸ التفسیر البسیط زیرآیت الانفال:۹)
یہ لمبی لمبی تفسیریں جن کو مفسرین نے ابن عباس کی طرف منسوب کیا ہے ناپسندیدہ اور ان کے راوی غیر معتبر ہیں۔
تفسیر ابن عباس جھوٹی ہے ۔ اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیں ۔ عمر فاروق قدوسی
اب آپ ملاحظہ فرما ہے حضرت ابن عباس سے منسوب اس اثر کی اسنادی تحقیق :
یہ ساری کی ساری تفسیر مکذوب و موضوع ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ سے ثابت ہی نہیں ہے۔ اس تفسیر کی سند کے دو بنیادی راوی محمد بن مروان السدی اور محمد بن السائب الکلبی دونوں کذاب ہیں ۔ اول الذکر یعنی محمد بن مروان السدی کو
امام بخاری نے امام ابو حاتم رازی، امام نسائی ، حافظ ہیثمی ، امام ذہبی وغیرہ نے متروک، امام یحیی بن معین نے ليس بثقة یعنی وہ ثقہ نہیں اور ابن نمیر نے کذاب کہا ہے۔ دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس پر سخت جرح کی ہے۔
خود مولاناسرفراز خان صفدر نے بھی اس جرح کو ازالة الریب میں نقل کیا ہے اور اس سے استدلال فرمالیا ہے۔ وہ اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں
“سدی کذاب اور وضاع ہے۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں: آپ نے خازن کے حوالے سے “سدی کذاب” کے گھر میں پناہ لی ہے جو آپ کی “علمی رسوائی” کے لیے بالکل کافی ہے اور یہ داغ ہمیشہ آپ کی پیشانی پر چمکتا رہے گا ۔” (ماخوذ)
تفسیر ابن عباس کی اس سند کے متعلق امام سیوطی لکھتے ہیں:
تمام طرق میں سب سے کمزور ترین طریق “الكلبي عن أبي الصالح عن ابن عباس رضی الله عنه ” ہے اور اگر اس روایت کی سند میں محمد بن مروان السدی الصغیر بھی مل جائے تو پھر یہ سند “السلسلة الكذب” کہلاتی ہے۔”
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ تفسیر ابن عباس محمد بن مروان السدی اور کلبی کی من گھڑت تفسیر ہے جسے انہوں نے کذب بیانی کرتے ہوئے سید نا ابن عباس میں سے منسوب کر دیا ہے۔
تفسیر ابن عباس ۔ فتاویٰ رضویہ ۔ ص 396 ۔ احمد رضا خان بریلوی جلد 29
(۳) یہ تفسیر که منسوب بسید نا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے نہ ان کی کتاب ہے نہ اُن سے ثابت یه بسند محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح مروی ہے اور ائمہ دین اس سند کو فرماتے ہیں کہ یہ سلسلہ کذب ہے۔
تفسیر ابن عباس کے راوی کذاب ہیں ۔ سرفراز خان صفدر دیوبندی
راوی اسباط بن نصر الہمدانی ابویوسف پر جرح
اس کی سند میں اسباط بن نصر الہمدانی ابویوسف ہے ۔ امام حرب کا بیان ہے کہ امام احمدبن حنبل اس کو ضعیف سمجھتے تھے۔ امام ابو حاتم کابیان ہے کہ میں نے ابونعیم سے اس کی تصنیف سنی ہےاور انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ اس کی اکثر حدیثیں عامی ساقط الاعتبار اور مقلوب الاسانید ہیں ۔ امام نسائی کا بیان ہے کہ وہ قوی نہیں ہے۔ ساجی اس کو ضعفاء میں بیان کرتے ہیں ۔ امام ابن معین سے ایک روایت میں لیس بشی کے الفاظ مروی ہیں۔ تہذیب التہذیب جلد 1 ص 213 )
راوی اسماعیل بن عبد الرحمان السدی الکبیر پر جرح
السدي الكبير ہیں جن کا نام اسمعیل بن عبد الرحمن بن ابی کر میہ ہے۔ یہ اگرچہ فن تفسیر کے امام ہیں مگر فن حدیث کے بارے میں حضرات محدثین کرام کی رائے ان کے بارے میں اچھی نہیں ہے۔ چنانچہ امام ابن معین فرماتے ہیں کہ ان کی روایت میں ضعف ہوتا ہے۔ امام جوزجانی فرماتے ہیں کہ ہو کذاب شتام ۔ کہ وہ بہت بڑا جھوٹا اور تبرائی تھا۔ امام ابو زرعہ فرماتےہیں کہ وہ کمزور ہے۔ ابو حاتم کہتے ہیں اس کی حدیث لکھی تو جا سکتی ہے مگر اس سے احتجاج درست نہیں ہے ۔ عقیلی کہتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔ ساجی کا بیان ہے کہ صدوق فيه نظر۔ امام طبری کہتے ہیں لا يحتج بحدیثہ کہ اس کی حدیث سےاحتجاج و استدلال جائز نہیں ہے۔
راوی محمد بن السائب بن بشر ابو النضر الکلبی پر جرح
کلبی کا حال بھی سن لیجئے اور سدی اس مقام پر الصغیر ہے۔ اس کا بھی ملاحظہ کر لیجئے۔ کلبی کانا م محمدبن السائب بن بشر ابوالنصر الکلبی ہے ۔ امام معتمرین سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کوفہ میں دو بڑے بڑے کذاب تھے ، ایک ان میں سے کلبی تھا اور لیث بن ابی سلیم کا بیان ہے کہ کوفہ میں دو بڑے بڑے جھوٹے تھے ، ایک کلبی اور دوسراسدی ۔ امام ابن معین جو کہتے ہیں کہ لیس بشی ۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ امام یحیی اور ابن مہدی نے اس کی روایت بالکل ترک کر دی تھی ۔ امام ابن مہدی فرماتے ہیں کہ ابوجز ءنے فرمایا کہ میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں کہ کلبی کا فر ہے ۔ میں نے جب یہ بات یزید بن زریع سے بیان کی تو وہ بھی فرمانے لگے کہ میں نے بھی ان سے یہی سنا کہ اشہدانہ کافر اس کے کفر کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ ۔
يقول كان جبرائيل يوحى الى النبي صلى الله عليه واله وسلم فقام النبي لحاجته وجلس على فاوحي الى علىؓ
کبھی کہتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ آلہ وسلم کیطرف وحی لایا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ کسی حاجت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی جگہ حضرت علی پر بیٹھ گئے تو جبریل علیہ اسلام نے ان پر وحی نازل کر دی۔
کلبی نے خود یہ کہا ہے کہ جب میں بطریق ابو صالح عن ابن عباس ، کوئی روایت اور حدیث تم سے بیان کروں تو فھو کذب، وہ جھوٹ ہے۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں کہ حضرات محدثین کرام سب اس امر پرمتفق ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ اس کی کسی روایت کو پیش کرنا صحیح نہیں ہے ۔ امام نسائی کہتے ہیں کہ وہ ثقہ نہیں ہے اور اس کی روایت لکھی بھی نہیں جاسکتی۔ علی بن الجنید ، حاكم ابو احمد اور دار قطنی فرماتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ جو زجانی کہتے ہیں کہ وہ کذاب اور ساقط ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ اس کی روایت پر جھوٹ بالکل ظاہر ہے اور اس سے احتجاج صیح نہیں ہے ۔ ساجی کہتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے اور بہت ہی ضعیت اور کمزور تھا کیونکہ وہ غالی شیعہ ہے ۔ حافظ ابو عبداللہ الحاکم کہتے ہیں کہ ابو صالح سے اس نے جھوٹی روائتیں بیان کی ہیں۔ حافظ ابن حجرہ لکھتے ہیں کہ ۔
وقد اتفق ثقات اهل النقل على ذمه و ترك الرواية عنه في الاحكام والفروع ۔ (تهذيب التهذيب ۔ جلد 9 ص 178 تا 181)
تمام اہل نقل ثقات اس کی مذمت پر متفق ہیں اور اس پر بھی ان کا اتفاق ہے کہ احکام اور فروع میں اس کی کوئی روائت قابل قبول نہیں ہے ۔
اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ کلبی کی تفسیر اول سے لے کر آخرتک سب جھوٹ ہے اس کو پڑھنا بھی جائزہ نہیں ہے (تذکرة الموضوعات ص 82) ، اور علامہ محمد طاہر الحنفی لکھتے ہیں کہ کمزور ترین فن تفسیرمیں کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس ہے، اور
فاذا انضم اليه محمد بن مروان السدي الصغير فھي سلسلة الكذب ۔ ( تذكرة الموضو عات۔ ص 83 و اتقا جلد 2 ص 189)
جب اس کے ساتھ محمد بن مروان السدی الصغیر بھی مل جائے پھر تو یہ جھوٹ کا ایک پلندہ ہے ۔
راوی محمد بن مروان السدی الصغیر پر جرح
امام بخاری فرماتے ہیں کہ اس کی روایت ہرگز نہیں لکھی جاسکتی۔ (ضعفاء صغیر امام بخاری ص 39) اور امام نسائی فرماتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے ۔( ضعفاء امام نسائی روح ص 52 ) علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ حضرات محدثین کرام نے اس کو ترک کر دیا ہے، اور بعض نے اس پر جھوٹ بولنے کا الزام بھی لگایا ہے ۔ امام ابن معین کہتے ہیں کہ وہ ثقہ نہیں ہے ۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ ابن عدی کا بیان ہے کہ جھوٹ اس کی روایات پر بالکل بین ہے۔ (میزان الاعتدال ج 3 ص 132) – امام بہیقی رو فرماتے ہیں کہ وہ متروک ہے۔ (کتاب الاسماء والصفات ۔ ص 394) ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ وہ بالکل متروک ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 515) علامہ سبکی لکھتے ہیں کہ دہ ضعیت ہے (شفاء السقام ۔ ص 37) ۔ علامہ محمد طاہر لکھتے ہیں کہ وہ کذاب ہے۔ (تذکرة الموضوعات ص 90) جریر بن عبد الحمید فرماتے ہیں کہ وہ کذاب ہے۔ ابن نمیر کہتے ہیں کہ وہ محض ہیچ ہے ۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔ صالح بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ ضعیف تھا دکان يضع۔ خود جعلی حدیثیں بھی بنایا کرتا تھا ۔ ابو حاتم کہتے ہیں کروہ متروک الحدیث ہے ، اس کی حدیث ہرگز نہیں لکھی جاسکتی ۔ (تہذیب التہذیب ج 9 ص436)
اوپر کی سب عبارات یہاں اس کتاب میں دیکھی جا سکتی ہیں
تفسیر ابن عباس جعلی ہے ۔ نور العینین فی مسئلہ رفع الیدین ۔ زبیر علی زئی
راوی محمد بن السائب الکلبی کا تعارف
کلبی کذاب ہے مختلف کتب کے حوالے
تفسیر ابن عباس غیر معتبر۔مواعظ اشرفیہ ۔ اشرف علی تھانوی دیوبندی
حضرت مولانا نے فرمایا ہے واذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال اور ہر چند کہ تفسیر تنویر المقیاس ( یعنی تفسیر ابن عباس ) اکثر محدثین کے نزدیک معتبر نہیں کیونکہ اس کے راوی کلبی اور ان کے شاگرد محمد بن مروان سدی صغیر مجروح ہیں ۔
تفسیر ابن عباس ۔ دلائل النبوت و معرفت احوال صاحب الشریعت
محمد بن السائب الکلبی ۔ تفسیر ابن عباس کے راوی پر جرح
هو محمد بن السائب الكلبي ، أحد المفسرين الذين يرجع تفسيرهم إلى تفسير ابن عباس ، وترجع شهرته إلى كونه مؤرخاً ونسّابة ، وكان ذا ميول شيعية ، أما روايته فكثيراً ما توصف بأنها ضعيفة ذكره ابن معين في تاريخه ، وقال : ليس بشيء ، وذكره العقيلي في الضعفاء الكبير » ، وأفاض ابن حبان في جرحه ، وقال : كان سبئياً من أصحاب عبد الله بن سبأ من أولئك الذين يقولون . إن علياً لم يمت وإنه راجع إلى الدنيا قبل قيام الساعة فيملؤها عدلا كما ملئت جوراً ، وإن رأوا سحابة قالوا : أمير المؤمنين فيها ) .
ونقل ابن حبان قوله : ( كان جبريل يُملي الوحي على النبي ﷺ ، فلما دخل النبي الخلاء جعل يملي على علي !!!!! وكان يقول : حفظت القرآن في سبعة أيام . وقال حماد بن سلمة عنه : « كان والله غير ثقة ) . وقال ابن حبان : ( الكلبي هذا مذهبه في الدين ووضوح الكذب فيه أظهر من أن يحتاج إلى الإغراق في وصفه . يروى عن أبي صالح عن ابن عباس التفسير وأبو صالح لم ير ابن عباس ولا سمع منه شيئاً ولا سمع الكلبي من أبي صالح إلا الحرف بعد الحرف ، فجعل لما احيج إليه تخرج له الأرض أفلاذ كبدها . لا يحل ذكره في الكتب فكيف الاحتجاج به والله جل وعلا ولى رسوله تفسير كلامه وبيان ما أنزل إليه لخلقه حيث قال : « وأنزلنا إليك الذكر لتين للناس ما نُزِّل إليهم » ومن أمحل المحال أن يأمر الله جل وعلا النبي المصطفى أن يُبين لخلقه مراده حيث جعله موضع عن کلامه ويفسر لهم حتى يفهموا مراد الله جل وعلا من الآي التي أنزلها الله عليه ، ثم لا يفعل ذلك رسول رب العالمين وسيد المرسلين . بل أبان عن مراد الله جل وعلا في الآي وفَسِّر الأمانة.
يهم الحاجة إليه ، وهو سننه ، فمن تتبع السنن حفظها وأحكمها فقد عرف تفسير كلام الله جل وعلا وأغناه الله تعالى عن الكلبي وذويه . وما لم يُبين رسول الله ﷺ لأمته معاني الآي التي أنزلت عليه مع أمر الله جل وعلا له بذلك وجاز له ذلك كان لمن بعده من أمته أجوز ، وترك التفسير لما تركه رسول الله ﷺ أخرى. وعن أعظم الدليل على أن الله جل وعلا لم يرد بقوله : ولتبين
للناس ما نزل إليهم ) . القرآن كله أن النبي عليه الصلاة والسلام ترك من الكتاب متشابهاً من الآي وآيات ليس فيها أحكام فلم يُبين كيفيتها لأمته فلما فعل رسول الله دل ذلك على أن المراد من قوله « لتبين للناس ما نُزِّل إليهم ، كان بعض القرآن لا الكل .
ترجمہ۔
وہ محمد بن السائب الکلبی ہیں، ان مفسرین میں سے ہیں جن کی تفسیر ابن عباس کی تفسیر پر مبنی ہے۔ ان کی شہرت ان کے ایک مورخ اور ماہر نسب کی وجہ سے ہے اور اس کا تعلق شیعہ سے تھا۔ ان کی روایتوں کو اکثر ضعیف قرار دیا جاتا ہے۔ ابن معین نے اپنی تاریخ میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ نہیں ہے۔ العقیلی نے اسے اپنی “ضعیف راویوں کی عظیم کتاب” میں شامل کیا۔ ابن حبان نے اپنی تنقید کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: “وہ سبائی تھے، عبداللہ بن سبا کے پیروکاروں میں سے تھے، ان لوگوں میں سے تھے جو کہتے ہیں کہ علی کی وفات نہیں ہوئی اور وہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں واپس آئیں گے تاکہ اسے عدل سے بھر دیا جائے جیسا کہ وہ ظلم سے بھرا ہوا تھا، اگر وہ بادل کو دیکھیں تو کہتے ہیں، “فائد فلان”۔
ابن حبان نے ان سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ جبرائیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا حکم دے رہے تھے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ کو حکم دینے لگے، وہ کہتے تھے کہ میں نے سات دن میں قرآن حفظ کر لیا۔ حماد بن سلمہ نے اس کے بارے میں کہا کہ خدا کی قسم وہ ثقہ نہیں تھا۔” ابن حبان نے کہا: ”الکلبی کا مذہب اور اس میں صریح جھوٹ اس قدر واضح ہے کہ وہ ابو صالح کی روایت سے روایت کرتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اور نہ ہی اس نے ابو صالح سے کوئی بات سنی، لیکن جب اسے کسی چیز کی ضرورت پڑی تو اس نے اسے گھڑ لیا، گویا کہ اس کا ذکر کتابوں میں کرنا جائز نہیں، تو اس کا ذکر خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے؟ اپنی مخلوق پر نازل کیا، جیسا کہ اس نے کہا: ’’اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے سامنے جو کچھ ان پر نازل کیا گیا ہے، اس کی وضاحت کر دیں۔‘‘ یہ بالکل ناممکن ہے کہ خدا برگزیدہ پیغمبر کو حکم دے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں اپنے ارادے کی وضاحت کرے، اسے اپنے الفاظ کا ترجمان بنا دے، اور ان کی وضاحت کرے تاکہ وہ خدا کے ارادے کو سمجھیں اور اس کے بعد اس نے دنیا میں خدا کے رسول کی آیت اور اس کے بارے میں نازل ہونے والی آیتیں نازل کیں۔ رسولوں کا آقا ایسا نہیں کرتا بلکہ اس نے آیات میں خدا کے ارادے کو واضح کیا اور امانت کی وضاحت کی۔
ضرورت اس کی سنت کی ہے۔ جس نے سنت پر عمل کیا، اسے حفظ کیا اور اس پر عبور حاصل کیا اس نے قرآن کی تفسیر سمجھ لی۔” اللہ تعالیٰ نے اسے کلبی اور اس کی امت سے بے نیاز کیا ہے اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نازل ہونے والی آیات کے بارے میں بیان نہیں کیا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا تھا، اور چونکہ یہ ان کے لیے جائز تھا، اس لیے یہ ان لوگوں کے لیے بھی زیادہ جائز تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئے باقی رہ جانا ایک اور بات ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں کہ “اور آپ لوگوں کے لیے ان پر نازل ہونے والی باتوں کی وضاحت کر سکتے ہیں، یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابی آیات کو چھوڑ دیا جو مبہم تھیں اور وہ آیات جن میں احکام نہیں تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ “اور آپ لوگوں کے سامنے وہ بیان کر سکتے ہیں جو ان پر نازل کیا گیا تھا”، قرآن کا کچھ حصہ تھا، نہ کہ تمام۔
تفسیر ابن عباس غیر معتبر ہے ۔ الفوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ
موضوع قال في اللالي اخرجه ابن أبي حاتم وابو الشيخ وابن مردویہ في تفاسير ھم
فائدہ ۔ قال احمد بن حنبل ثلاثہ كتب ليس لھا اصل بالمغازی والملاحم والتفسير ۔ قال الخطيب هذا محمول على كتب مخصوصہ في هذه المعاني الثلاثة علي معتمد عليهاالعلم عدالة ناقليها و زیادة القصاص منها فا ما كتب التفسير فمن اشهرھا كتابان للكلبي و مقابل بن سليمان قال احمد في تفسير الكلبي من اولہ الی اخره کذب لا یحل النظر فيہ و قد حمل هذا على الاكثر لا على الكل ومن هذا تفاسير المبتدعة المشهورين بالدعا على بد عتهم فانه لا يحل النظر في تفاسير ھم لانهم یدسون فيها بد عتهم متفق على كفير من الناس ۔ ذكر معنى ذلك السيوطي قال واما تفسير الصوفية فليس بتفسير كتفسیر السلمي المسمي بحقايق التفسير فاني اعتقدان ذالک تفسیر فقد کفر و اقول لا شات ان كثير من كلام الصوفية على الكتاب العرين ھو بالتحريف الشبہ منہ التقنيي بل غالب ذالک من جنس تفاسیر الباطنیہ و تحریفاتہم و من جملۃ التفاسیر التی لائق ثقبہ
تفسیر ابن عباس فانہ من وی من طریق الکذابین کالکلبی والسدی
فائدہ۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: تین کتابیں ایسی ہیں جن میں لڑائیوں، معرکوں اور تفسیر کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ الخطیب نے کہا: یہ ان تینوں شعبوں میں مخصوص کتب پر مبنی ہے جن پر ان کے راویوں کی صداقت اور ان سے راویوں کے بڑھنے کا علم ہے۔ جہاں تک تفسیر کی کتابوں کا تعلق ہے تو ان میں سب سے زیادہ مشہور الکلبی اور مقبل بن سلیمان کی دو کتابیں ہیں۔ احمد نے شروع سے آخر تک الکلبی کی تفسیر کے بارے میں کہا: یہ جھوٹ ہے اور اسے دیکھنا جائز نہیں ہے۔ اس کا اطلاق اکثریت پر ہوا ہے، سب پر نہیں۔ اور اس میں سے بدعتیوں کی وہ تاویلیں ہیں جو اپنی بدعت کی طرف بلانے کے لیے مشہور ہیں، کیونکہ ان کی تاویلات کو دیکھنا جائز نہیں کیونکہ وہ ان میں اپنی بدعت داخل کرتے ہیں جس پر لوگوں کا کافر متفق ہے۔ السیوطی نے اس کا مفہوم ذکر کرتے ہوئے کہا: “جہاں تک صوفی تفسیر کا تعلق ہے، یہ السلمی کی طرح کی تفسیر نہیں ہے، جسے “تفسیر کی حقیقت” کہا جاتا ہے، اگر میں اسے تفسیر مانتا ہوں تو اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، اور میں کہتا ہوں کہ صوفیاء کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، اس میں سے زیادہ تر تکنیکی کتاب “رضی اللہ عنہ” کی تکنیکی تصنیف ہے۔ جیسا کہ باطنی ماہرین کی تشریحات اور ان کی تحریفات، اور یہ ان تاویلات میں سے ہے جن کی تردید کی جا سکتی ہے۔”
ابن عباس کی تشریح: کیونکہ وہ الکلبی اور السدی جیسے جھوٹوں کے راستے سے ہے۔
تفسیر ابن عباس ۔ مجموعہ رسائل الامام المحدث محمد عبد الحی الکنوی
و قد ورد عن ابن عباس فی التفسیر ما لا تحصی کثرۃ، و عنہ روایات و طرق مختلفۃ، فمن جیدھا طریق علی بن ابی طلحۃ الھاشمی عنہ
ترجمہ ۔ تفسیر میں ابن عباس سے لاتعداد احادیث اور روایات منقول ہیں اور ان میں سب سے بہتر سند علی بن ابی طلحہ الہاشمی کی روایت ہے۔
تفسیر ابن عباس غیر معتبر ۔ فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام ۔ حافظ زبیر علی زئی
فائدہ: آج کل بہت سے دیوبندیوں نے کلبی ( کذاب) کی روایت کردہ تفسیر ابن عباس کو سینے سے لگارکھا ہے، حالانکہ اس من گھڑت تفسیر میں استوی کا مفہوم : ” استقر “ لکھا ہوا ہے۔ دیکھئے تنویر المقباس (ص103)
تفسیر ابن عباس پر جرح ختم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیراتقان شریف میں ہے :
و اوهی طرقه طريق الكلبي عن ابی صالح عن ابن عباس فان انضم الى ذلك رواية محمد بن مروان اسدي الصغير فهي سلسلة الكذب
اس کے طرق میں سے کمزور ترین طریق کلبی کا ابو صالح سے اور اس کا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما
سے روایت کرنا اگر اس کے ساتھ محمد بن مروان اسدی کی روایت مل جائے تو کذب کا سلسلہ ہے۔ (ت)
(خادمؔ)
تَوفّی کے معنی عرف عام میں
قرآن مجید اور احادیث کے علاوہ اگر عرف عام کو بھی دیکھا جائے تو بھی متوفّی کے معنی میّت کے ہی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پٹواری کے رجسٹر اور دیگر دفاتر کو دیکھ لو۔ اور جنازہ کی دعا میں
وَ مَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِسْلَامِ
ترجمہ ۔ کہ جس کو تو ہم میں سے وفات دے تو اس کو اسلام پر ہی وفات دے۔
مشکات المصابیح ۔ بریلوی ترجمہ۔ نماز جنازہ
تَوفّی کے معنی لغت سے
یہاں تمام حوالے دیکھے جا سکتے ہیں
صحاح میں لفظ تَوَفِّی کے نیچے ہے
تَوَفَّاہُ اللّٰہُ اَیْ قَبَضَ رُوْحَہٗ
پھر لکھا ہے تُوُفِّیَ فُلَانٌ وَ تَوَفَّاہُ اللّٰہُ وَ اَدْرَکَتْہُ الْوَفَاۃُ
فلاں انسان کی توفی ہوئی یا اسے کا اللہ نے توفی کیا مطلب پا لیا اس کو موت نے
(اساس البلاغۃ از علامہ زمحشری زیر مادہ وفی )
اَلْوَفَاۃُ الْمَوْتُ وَ تَوَفَّاہُ اللّٰہُ۔ قَبَضَ رُوْحَہٗ
ترجمہ۔ توفاہ اللہ ۔ اللہ انسان کا توفی کرے مطلب اس کی روح قبض کرتا ہے
(قاموس جلد۴ زیر لفظ وفی از مجدالدین محمد بن یعقوب الفیروز آبادی)
تَوَفّٰہُ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ اِذَا قَبَضَ نَفْسَہٗ
(تاج العروس زیر لفظ وفی از محب الدین ابی فیض السید محمد مرتضیٰ الحسینی الواسطی الزبیدی الحنفی)
اَلْوَفَاۃُ الْمَنیَّۃُ وَالْوَفَاۃُ اَلْمَوْتُ وَ تُوَفِّیَ فُلَانٌ وَ تَوَفَّاہُ اللّٰہُ اِذَا قَبَضَ نَفْسَہُٗ وَ فِی الصِّحَاحِ اِذَا قَبَضَ رُوْحَہٗ
ترجمہ ۔ وفات کا مطلب نیند ہے اور وفات کا مطلب موت بھی ہے ۔ فلاں انسان کا توفی ہوا یا اللہ نے توفی کیا تو مطلب ہے اس کی روح قبض ہو گئی ۔ صحاح میں لکھاہے
(لسان العرب زیر لفظ وفی از ابن منظور جمال الدین محمد بن مکرم الانصاری)
لسان العرب ۔ توفی فلان و توفاہ اللہ ۔ قبض نفسہ
ترجمہ ۔ انسان کا توفی ہوا اور اللہ نے توفی کیا مطلب اس کی روح قبض کر لی گئی
جب اس کے نفس کو اﷲ تعالیٰ قبض کرے۔
اور صحاح جوہری میں بجائے نفس کے روح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
تَوَفَّاہُ اللّٰہُ اَیْ قَبَضَ رُوْحَہٗ
مُتَوَفِّی۔ وفات یافتہ، مرا ہوا، انتقال کردہ شدہ، جہان سے گزرا ہوا
(فرہنگ آصفیہ زیر لفظ تَوَفِّی)
نوٹ ۔ بعض تراجم میں توفّی کے معنے بھر لینے کے لکھے ہیں اور اس کا مطلب بھی موت دینا ہے۔
توفاہ اللہ ۔ معنی موت ۔ لین کی لغت
Arabic English Lexicon – by Edward William Lane
التوفی قبض الارواح بالموت ۔ یقبض ارواحھم بالموت ۔
ترجمہ ۔ توفی کا مطلب ہے موت سے روح قبض کرنا
امام دمغانی ۔ قاموس القرآن او اصلاح الوجوہ والنظائر فی القرآن الکریم
تاج اللغات و صحاح القراات ۔ من باب العین ۔ اسماعیل الجوھری
و توفاہ اللہ ای قبض روحہ
ترجمہ ۔ اللہ زی روح کا توفی کرے مطلب اس کی روح قبض ہو گئی
تَوَفِّی کا مادہ
کلیات ابوالبقاء صفحہ ۱۲۹ زیر بحث التوفی پر لکھا ہے۔
اَلتَّوَفِّیْ۔ اَلْاِمَاتَۃُ وَ قَبْضُ الرُّوْحِ وَ عَلَیْہِ اِسْتِعْمَالُ الْعَامَّۃِ…… وَالْفِعْلُ مِنَ الْوَفَاۃِ تُوَفِّیَ عَلَی مَا لَمْ یُسَمَّ فَاعِلُہٗ لِاَنَّ الْاِنْسَانَ لَا یَتَوَفّٰی نَفْسَہٗ فَالْمُتَوَفِّیْ ھُوَاللّٰہُ تَعَالٰی اَوْ اَحَدٌ مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ وَ زَیْدٌ ھُوَالْمُتََوَفّٰی۔
زیر بحث ’’التوفّی‘‘ یعنی توفی کے معنی مارنے اور قبض روح کرنے کے ہیں اور عام لوگوں کا استعمال اسی معنی پر ہے اور اشتقاق اس کا وفات سے ہے۔ توفّی مجہول استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ انسان خود اپنی جان کو قبض نہیں کرتا کیونکہ مارنے والا اﷲ تعالیٰ ہے یا کوئی اس کا فرشتہ ہے اور انسان وہ ہے جس کو موت دی جاتی ہے۔
تَوفّی کے معنی احادیث سے
۱۔ قَالَ اَنَّہٗ سَیَکُوْنُ مِنْ ذٰلِکَ مَا شَاءَ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ رِیْحًا طَیِّبَۃً فَیُتَوَفّٰی کُلُّ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِیْمَانٍ فَیَبْقٰی مَنْ لَاخَیْرَ فِیْہِ فَیَرْجِعُوْن اِلٰی دِیْنِ اٰبَائِھِمْ۔
(تفسیر ابن کثیر زیرآیت توبہ:۳۴)
۲۔ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ انّہ قَالَ الْمُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجُھَا لَا تَلْبِسُ الْمُعَصْفَرَۃَ مِنَ الثِّیَابِ۔الخ
ترجمہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے وہ زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے۔‘‘ وغیرہ
(مسند امام احمد بن حنبل حدیث ام سلمہ زوج النبی جلد۶ صفحہ ۳۰۲ مطبع المکتب الاسلامی بیروت)
مسند احمد بن حنبل ۔ توفی معنی موت
مسند احمد بن حنبل ۔ توفی معنی موت
۳۔ عَنْ عَائِشَۃَ ؓؓ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکٰی وَ بَکٰی اَصْحَابُہٗ تُوُفِّیَ سَعْدُ ابْنُ مَعَاذٍ اِلٰی اٰخِرِہٖ رَوَاہُ ابْنُ جَرِیْرٍ۔
ترجمہ ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سعد بن معاذ کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روئے اور آپ کے صحابہ بھی روئے، وغیرہ۔ ابن جریر نے روایت کی ہے۔
۴۔اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا اشْتَکٰی نَفَثَ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ مَسَحَ عَنْہُ بِیَدِہٖ فَلَمَّا اشْتَکٰی وَجَعَہُ الَّذِیْ تُوُفِّیَ فِیْہِ طَفِقْتُ اَنْفُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْمُعَوِّذَاتِ۔ الخ
ترجمہ ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرتے تو اپنے آپ کو غافل کے الفاظ سے نکال دیتے اور اپنا نام مٹا دیتے۔ اس کے ہاتھ سے، اور جب اس نے اس درد کی شکایت کی جس میں اس کی موت ہوئی، تو میں نے اس کی روح پر بھوتوں کے ساتھ دم کرنا شروع کیا۔ وغیرہ
(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیؐ و وفاتہ)
۵۔اِنَّ عَائِشَۃَ ؓ زَوْجَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ رَاَیْتُ ثَلٰثَۃَ اَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِیْ حُجْرَتِیْ فَقَصَصْتُ رُءْ َیایَ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ الصَّدِّیْقِ ؓ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ دُفِنَ فِیْ بَیْتِھَا قَالَ لَھَا اَبُوْبَکْرٍ ھٰذَا اَحَدُ اَقْمَارِکِ وَ ھُوَ خَیْرُھَا۔
(مؤطا امام مالک المجلد الثانی کتاب الجنائز حدیث ۶۰۰)
عمرو بن نفیل توفیا بالعقیق و حملا الی المدینہ و دفنا بھا
عمرو بن نفیل کا انتقال عقیق کے ساتھ ہوا اور انہیں مدینہ لے جایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا۔
۶۔ عَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ قَالَتْ وَالَّذِیْ تُوُفِّیَ نَفْسُہٗ تِعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا تُوُفِّیَ حَتّٰی کَانَتْ اَکْثَرُ صَلَاتِہٖ قَاعِدًا اِلَّا الْمَکْثُوْبَۃَ۔ الخ
(مسند امام احمد بن حنبل حدیث ام سلمۃ زوج النبیؐ)
۷۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ اَنَّھَا قَالَتْ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ قَالَ لَھَا یَا بُنَیَّۃُ اَیُّ یَوْمٍ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔الخ
ترجمہ ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اے میری بیٹی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی؟ وغیرہ
(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ ۱۱۸ مصری)
۸۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ ؓ یَقُوْلُ لِطَلْحَۃَ ابْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ مَا لِیَ اَرَاکَ قَدْ شُعِثْتُ وَاغْبَرَرْتَ مُنْذُ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الخ
ترجمہ ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو طلحہ بن عبید اللہ سے کہتے سنا: میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے اتنا پراگندہ اور غبار آلود کیوں دیکھ رہا ہوں؟
(مسند امام احمد بن حنبل حدیث عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ)
۹۔ عَنْ عُثْمَانَ ؓ اَنَّ رِجَالًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَزِنُوْا عَلَیْہِ حَتّٰی کَادَ بَعْضُھُمْ یُوَسْوِسُ وَ کُنْتُ منْھُمْ فَقُلْتُ لِاَبِیْ بَکْرٍ تَوَفَّی اللّٰہُ نَبِیَّہٗ ۔الخ
(کنزالعمال جلد۷ مصری صفحہ۷۳ مصری)
تَوفّی کے لیے انعامی اشتہار
چونکہ متنازعہ فیہ جگہ میں تَوَفِّی بابِ تَفَعُّل سے ہے اور اﷲ تعالیٰ فاعل ہے اور ذی روح یعنی حضرت عیسیٰ ؑ مفعول ہیں اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی صورت میں تَوَفِّی کے معنے سوائے قبضِ روح کے دکھانے والے کو ایک ہزار روپیہ انعام مقرر فرمایا ہے مگر آج تک کوئی مردِ میدان نہیں بنا جو یہ انعام حاصل کرتا، اور نہ ہی ہوگا۔ انشاء اﷲ تعالیٰ۔
اعتراض۔ بعض غیر احمدی مولوی کہا کرتے ہیں کہ تم نے توفّی کے متعلق یہ قاعدہ کہاں سے لیا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ فاعل کوئی ذی روح مفعول ہو تو اس کے معنی قبض روح یا موت کے ہوتے ہیں؟
جواب۔ تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قاعدہ کوئی من گھڑت قاعدہ نہیں ہے بلکہ کتب لغت میں مذکور ہے جیساکہ قاموس، تاج العروس اور لسان العرب میں ہے۔
۱۔ تَوَفّٰہُ اللّٰہُ۔ قَبَضَ رُوْحَہٗ
ترجمہ ۔ اللہ کسی کا توفی کرے مطلب اس کی روح قبض کر لی گئی
یعنی اﷲ تعالیٰ نے اس ذی روح کی توفّی کی یعنی اس کی روح قبض کرلی۔ اس حوالہ میں لفظ توفّی باب تفعل سے ہے۔اﷲ فاعل مذکور ہے اور ہٗ کی ضمیر بھی جو ذی روح کی طرف پھرتی ہے اس کے معنے قبض روح صاف طور پرلکھے ہیں۔
اسی طرح تاج العروس زیر لفظ وفی جلد۲۰ اور لسان العرب زیر لفظ وفی کے حوالے پہلے صفحہ۱۸۴ پر درج ہوچکے ہیں۔
۲۔ تَوَفَّاہُ اللّٰہُ اَیْ قَبَضَ رُوْحَہٗ۔
اﷲ تعالیٰ نے فلاں شخص کی توفّی کی، یعنی اس کی روح کو قبض کیا۔
(صحاح الجوہری از اسماعیل بن حماد الجوہری الجزء السادس زیر لفظ وفی)
۳۔ استقراء کے طور پر یہ قاعدہ ہے، اس کے خلاف ایک مثال ہی بموجب شرائط پیش کرو۔ جو یقینا ناممکن ہے (خادم)
غیر احمدیوں کے عذر کا جواب
محمدیہ پاکٹ بک از مولانا محمد عبداﷲ صاحب معمار امرتسری صفحہ ۵۴۶، ۵۴۷ مطبع المکتبہ السفلیہ شیش محل روڈ لاہور
پر جو تَوَفِّی کے معنے تفسیر بیضاوی اور تفسیر کبیر کے حوالہ سے
اَلتَّوَفِّیْ۔ اَخْذُ الشَّیْیءٍ وَافِیًا اور تَوَفَّیْتُ مِنْہُ دَرَاھِمِیْ مذکور ہیں۔
ان ہر دو مثالوں میں توفّی کا مفعول ذی روح نہیں۔بلکہ پہلی مثال میں شَیْء اور دوسری میں درھم غیر ذی روح مفعول ہے۔ مگر آیت میں مفعول حضرت عیسیٰ ؑ ذی روح ہیں۔
براہین احمدیہ کے حوالہ کا جواب
اسی طرح محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۵۱۵ پر براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۹ حاشیہ کے حوالہ سے جو ترجمہ آیت: کا بدیں الفاظ درج کیا گیا ہے کہ
’’میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔‘‘
وہ حجت نہیں کیونکہ اسی براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ پر کا ترجمہ ’’وفات دوں گا‘‘ بھی درج ہے جو درست ہے۔ ’’نعمت دوں گا‘‘ والا ترجمہ لائق استناد نہیں کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ ترجمہ مستند نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں:۔
الف۔’’یاد رہے کہ براہین احمدیہ میں جو کلماتِ الٰہیہ کا ترجمہ ہے وہ بباعث قبل از وقت ہونے کے کسی جگہ مجمل ہے اور کسی جگہ معقولی رنگ کے لحاظ سے کوئی لفظ حقیقت سے پھیرا گیا ہے یعنی صَرْف عَنِ الظَّاہِرکیا گیا ہے……پڑھنے والوں کو چاہیے کہ کسی ایسی تاویل کی پروا نہ کریں‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ حاشیہ صفحہ ۹۳)
ب:۔ ’’ مَیں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے تَوَفّی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں۔ میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں۔ مَیں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گو مَیں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا مگر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مَیں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کر سکتا۔ خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کاکلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو و نسیان لازمۂ بشریت ہے۔ ‘‘
(ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۲۷۱، ۲۷۲)
ج۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ ایام الصلح کی عبارت میں تحریر فرمایا ہے وہ قرآن مجید و احادیث نبوی کے عین مطابق ہے کیونکہ یہی بات خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا:۔
مَا حَدَّثْتُکُمْ عَنِ اللّٰہِ سُبْحٰنَہٗ فَھُوَ حَقٌّ وَ مَا قُلْتُ فِیْہِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِیْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اُخْطِیُٔ وَ اُصِیْبُ۔
ترجمہ ۔ میں نے آپ کو خدا کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، وہ سچ ہے، اور میں نے اس کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ میری اپنی رائے سے ہے، کیونکہ میں صرف ایک انسان ہوں جو غلطیاں کرتا ہے اور کبھی کبھی صحیح بھی ہوتا ہے۔
(نبراس شرح الشرح لعقائد نسفی صفحہ ۳۹۲)
کہ جوبات میں اﷲ تعالیٰ کی وحی سے کہوں تو وہ درست ہوتی ہے (یعنی اس میں غلطی کا امکان نہیں) لیکن جو بات میں اس وحی الٰہی کے ترجمہ و تشریح کے طور پر اپنی طرف سے کہوں تو یاد رکھو کہ میں بھی انسان ہوں، میں اپنے خیال میں غلطی بھی کرسکتا ہوں۔
تفصیل کے لیے دیکھو پاکٹ بک ہذا۔ الہامات پر اعتراضات کا جواب صفحہ ۴۱۸
اسی طرح بخاری میں بھی ہے۔
اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ
(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب التو جہ نحو القبلۃ حیث کان)
کہ میں بھی انسان ہوں، تمہاری طرح مجھ سے بھی نسیان ہوجاتا ہے۔
تَوَفِّیْ کے معنی تفاسیر سے
۱۔ تفسیر خازن جلد نمبر۱ پر ہے۔
اَلْمُرَادُ بِالتَّوَفِّیْ حَقِیْقَۃُ الْمَوْتِ۔
یعنی تَوَفِّیْ سے مراد موت کی حقیقت ہے۔
(تفسیر خازن الجزء الاول زیر آیت اذ قال اﷲ یعیسیٰ……آل عمران:۵۵)
۲۔ تفسیر کبیرپر لکھا ہے۔
مُتَوَفِّیْکَ کے معنے ہیں۔
مُتَمِّمُ عُمْرَکَ فَحِیْنَئِذٍ اَتَوَفَّاکَ فَلَا اَتْرُکُھُمْ حَتّٰی یَقْتُلُوْکَ۔
(تفسیر کبیر جلد ۸ صفحہ ۶۷۔زیر آیت اذ قال اﷲ یعیسیٰ……۔ آل عمران: ۵۶)
۳۔ تفسیر در منثور جلد ۲ صفحہ ۳۶ مطبوعہ مصر پر لکھا ہے۔
اَخْرَجَ ابْنُ جَرِیْرٍ وَ ابْنُ الْمُنْذِرِ وَ ابْنُ اَبِیْ حَاتِمٍ مِنْ طَرِیْقِ عَلِیٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ یَقُوْلُ اِنِّیْ مُمِیْتُکَ۔
یعنی ابن عباسؓ مُتَوَفِّیْکَ کے معنی مارنے والا کرتے ہیں۔
۴۔ تفسیر فتح البیان الجزء الرابع زیر آیت ما قلت لھم الا ما امرتنی بہ…… پر لکھا ہے۔
کے نیچے قِیْلَ ھٰذَا یَدُلُّ عَلٰی اَنَّ اللّٰہَ سُبْحٰنَہٗ تَوَفّٰہُ قَبْلَ اَنْ یَّرْفَعَہٗ یعنی خدا تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو اٹھانے سے قبل وفات دے دی تھی۔
۵۔الف۔ تفسیر کشاف جلد۱ صفحہ ۳۰۶پر
مُتَوَفِّیْکَ کے معنے لکھے ہیں وَ مُمِیْتُکَ حَتْفَ اَنْفِکَ یعنی طبعی موت سے مارنے والا ہے۔
(الکشاف جلد۱ زیر آیت اذ قال اﷲ یعیسیٰ……آل عمران:۵۵)
۶۔ب۔تفسیر مدارک برحاشیہ خازنزیر آیت
و اذ قال اﷲ یعیسیٰ……آل عمران:۵۵
انی متوفیک ۔ ای مستوف اجلک و معناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار۔ و ممیتک حتف انفک لا قتلا بایدیھم
ترجمہ ۔ میں تیرا توفی کروں گا یعنی میں تمہاری مدت پوری کروں گا اور اس کا معنی یہ ہے کہ میں تمہیں کفار کے ہاتھوں مارے جانے سے بچاؤں گا۔ اور ممیتک کا مطلب ہے تمہاری روح قبض کروں گا ، ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہونے دوں گا۔
۷۔ تفسیر سر سید احمد خاں صاحب جلد ۲ صفحہ۱۹۳
زیر آیت فلما توفیتنی……المائدۃ:۱۱۷ ’’پھر جب تو نے مجھ کو فوت کیا، تو تُو ہی ان پر نگہبان تھا۔‘‘
۸۔ تفسیر فتح البیان زیر آیت انی متوفیک پر ہے
زیر آیت مُتَوَفِّیْکَ۔قَالَ اَبُوْ زَیْدٍ مُتَوَفِّیْکَ قَابِضُکَ…… وَالْمَعْنٰی کَمَا قَالَ فِی الْکَشَّافِالخ اس نے بھی کشاف کے معنوں کو قبول کیا ہے اوروہ گزر چکے ہیں۔
۹۔ تاج التفاسیر جلد۱ صفحہ ۴۹ زیر آیت
(البقرۃ: ۲۳۵) اَیْ یَمُوْتُوْنَ مِنْکُمْ۔
جمالین فی شرح جلالین جلد اول ۔ جلال الدین السیوطی
والذین یتوفون ۔ یموتون
ترجمہ ۔ اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں
۱۰۔ سراج التفاسیر جلد۱ صفحہ ۱۴۵۔اَیْ یَمُوْتُمُوْنَ۔
۱۱۔ مجمع البیان جلد۱ ۔(جز ۲ صفحہ ۳۳۷ زیر آیت)
والذین یتوفون منکم و یزرون ازواجا
اَیْ یُقْبَضُوْنَ وَ یَمُوْتُوْنَ۔
۱۲۔فتح البیان الجزء الثانی زیر آیت
والذین یتوفون منکم……۔ وَالْمَعْنٰی اَلَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ۔
ترجمہ ۔ توفی معنی موت
فمن مات فقد استوفی عمرہ کاملا ۔ یقال توفی فلان یعنی قبض و اخذ
ترجمہ ۔ جو مر جائے اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے ۔ اگر کسی انسان کے بارے کہا جائے کہ اس کا توفی ہوا تو مطلب ہو مر گیا
الجامع الاحکام ۔ احمد بن ابی بکر القرطبی
والذین یتوفون منکم ۔ یموتون منکم
توفی کا مطلب موت
تفسیر السمرقندی ۔ بحر العلوم ۔ احمد بن ابراھیم السمرقندی
والذین یتوفون منکم ۔ ای یموتون
جو لوگ تم میں سے مر جائیں ۔ توفی معنی موت
۱۳۔ در الاسرار جلد ۱ صفحہ ۴۰۔
لِوَرُوْدِ حَمَامِھِمْ۔
۱۴۔ ترجمۃ القرآن تفسیر عبداﷲ چکڑالوی صفحہ ۲۰۲ اور جو لوگ مرجاویں گے تم میں سے۔
۱۵۔ روح البیان ۔
اَیْ یَمُوْتُوْنَ وَ یُقْبَضُ اَرْوَاحُھُمْ بِالْمَوْتِ۔ (زیر آیت والذین یتوفون منکم……)
۱۶۔ فتح البیان تفسیر سورۃ النساء
زیر آیت ان الذین توفاھم الملائکۃ……۔اَلَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمْ اَیْ تُقْبَضُ اَرْوَاحُھُمْ۔
اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا……۔ اَیْ یَقْبَضُ الْاَرْوَاحَ عِنْدَ حَضُوْرِ اٰجَالِھَا۔
ترجمہ ۔ اللہ موت کے وقت لوگں کی روح قبض کرتا ہے ۔
۱۸۔ روح المعانی جلد ۵ صفحہ ۴۰۹ ۔
اَیْ مِنْکُمْ مَنْ یَمُوْتُ مِنْ قَبْلِ الشَّیْخُوْخَۃِ بَعْدَ بُلُوْغِ الرُّشْدِ اَوْ قَبْلَہٗ۔ ایضاً
یُقَالُ تَوَفّٰہُ اللّٰہُ قَبَضَ رُوْحَہٗ کَمَا فِی الْقَامُوْسِ…… وَ مَعْنَی الْاٰیَۃِ یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْوَاحَ الْاِنْسَانِیَّۃَ عَنِ الْاَبْدَانِ۔ الخ
ترجمہ۔ کہا جاتا ہے کہ خدا نے اس کی روح لی، جیسا کہ لغت میں بتایا گیا ہے… اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ خدا انسانی روحوں کو جسموں سے نکالتا ہے۔
(زیر آیت اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا……)
روح البیان ۔ اللہ یتوفی الانفس حین موتھا
یتوفی الارواح حین موت ابدانھا بمفارقۃ ارواحھا عنھا و اسند القبض الیہ تعالیٰ لانہ الآمر للملائکۃ القابضین ۔ وفی زھرۃ الریاض التوفی من اللہ الامر بخروج الروح من البدن۔
اللہ قبض روحہ ۔ بقبضہ فقبض اللہ روحھا
ترجمہ ۔ جب ان کے جسم مر جاتے ہیں تو وہ ان کی روحوں کو ان سے جدا کر کے ان کو قبض کرتا ہے اور گرفتاری کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے، اس لیے کہ وہ ان کو قبض کرنے والے فرشتوں کا کمانڈر ہے۔ ظہرۃ الریاض کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے روح کو جسم سے نکلنے کا حکم دیا۔
خدا اس کی روح قبض کرے۔ اسے لے کر خدا نے اس کی روح لے لی
قَالَ فِی الصِّحَاحِ تَوَفَّاہُ قَبَضَ رُوْحَہٗ وَالْوَفَاۃُ اَلْمَوْتُ۔
روح البیان ۔ توفاہ اللہ قبض روحہ والوفاۃ الموت
۲۱۔ روح البیان جلد۳ صفحہ ۴۶۸
یُقْبَضُ رُوْحُہٗ وَ یَمُوْتُ۔
۲۲۔ روح البیان زیر آیت
فاما نرینک بعض الذی نعدھم۔
اگر بمیرانیم ترا پیش از ظہور آں عذاب۔
۲۳۔ روح البیان جلد۲ صفحہ ۳۴۱۔
اَیْ یَقْبِضُ اَرْوَاحَھُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ وَاَعْوَانُہٗ۔
۲۴۔ روح البیان جلد۲ صفحہ ۲۵۳۔
اَیْ نَقْبِضُ رُوْحَکَ الطَّاھِرَۃَ قَبْلَ اِرَاءَ ۃِ ذٰلِکَ۔
(نیا ایڈیشن جلد ۴ صفحہ ۳۸۸۔ تفسیر سورۃ الرعد:۴۱)
منک من یتوفی……۔ اَیْ یُقْبَضُ رُوْحُہٗ وَ یَمُوْتُ بَعْدَ بُلُوْغِ الرُّشْدِ اَوْ قَبْلَہٗ……وَالتَّوَفِّیْ عِبَارَۃٌ عَنِ الْمَوْتِ وَ تَوَفَّاہُ اللّٰہُ قَبَضَ رُوْحَہٗ۔
ترجمہ ۔ وہ اپنی روح قبض کرتا ہے اور بالغ ہونے کے بعد یا اس سے پہلے مر جاتا ہے… اور موت موت کا اظہار ہے، اور خدا نے اس کی روح قبض کر لی۔
۲۶۔ روح البیان زیرآیت توفنی مسلمًا۔
اَیْ اِقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ مُخْلِصًا بِتَوْحِیْدِکَ۔
۲۷۔ انوار التنزیل مصنفہ قاضی ناصر الدین عبداﷲ البیضاوی حاشیہ صفحہ ۳۲۴ مطبع دارالجیل بیروت۔
توفنی مسلما ۔ اقبضنی
توفی معنی موت
مفسرین کو غلطی لگی ہے
فتح البیان جلد ۲ صفحہ ۴۹ زیر آیت مُتَوَفِّیْکَ لکھا ہے:۔
وَ اِنَّمَااحْتَاجَ الْمُفَسِّرُوْنَ اِلٰی تَاْوِیْلِ الْوَفَاۃِ بِمَا ذُکِرَ لِاَنَّ الصَّحِیْحَ اَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی رَفَعَہٗ اِلَی السَّمَاءِ مِنْ غَیْرِ وَفَاتٍ کَمَا رَجَّحَہٗ کَثِیْرٌ مِّنَ الْمُفَسِّرِیْنَ وَاخْتَارَہٗ اِبْنُ جَرِیْرِ الطَّبْرِیُّ وَ وَجْہُ ذٰلِکَ اَنَّہٗ قَدْ صَحَّ فِی الْاَخْبَارِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ نُزُوْلُہٗ وَ قَتْلُہُ الدَّجَّالَ۔
ترجمہ ۔ یعنی کہتے ہیں کہ مفسرین نے جو وفات عیسیٰ ؑ کی نص کی تاویلیں کی ہیں اس کی و جہ یہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں میں ان کے لیے نزول کا لفظ دیکھا اور ان کے قتل دجال کا بیان پڑھا۔
حالانکہ نزول سے آسمان پر جانا اور قتل دجال کے ذکر سے بعینہٖ ان کا زندہ رہنا ثابت نہیں ہوتا۔
(تفصیل اپنی جگہ پر دیکھیں)
دوسری دلیل:۔
اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّىۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ اِلَىَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿55﴾
جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے، اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالادست کرنے والا ہوں۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے جس کے بعد میں تمہارے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔
ترجمہ: جب فرمایا اﷲ تعالیٰ نے اے عیسیٰ ؑ میں ہی تجھے وفات دینے والا ہوں اور عزت دینے والا ہوں تجھ کو اور یہودِ نامسعود کے اعتراضات سے تجھے بری الذمہ کرنے والا ہوں اور تیرے ماننے والوں کو قیامت تک نہ ماننے والوں پر غالب کرنے والا ہوں۔
استدلال:۔ اﷲ تعالیٰ نے مُتَوَفِّیْکَ کو پہلے رکھا ہے، ہمارا کوئی حق نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی ترتیب کو بدلیں ورنہ اس کی حکمت پر الزام آئے گا کہ اس نے اس چیز کو جو پیچھے تھی بلاو جہ آگے کردیا (نعوذباﷲ)
دوم:۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلمسے پوچھا گیا کہ حضورؐ پہلے صفا کا طواف کریں گے یا مروہ کا۔ آپ نے فرمایا:۔
اَبْدَءُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ
اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اﷲ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔
پس ہمیں بھی وہی پہلے رکھنا چاہیے جس کو اﷲ تعالیٰ نے پہلے رکھا ہے۔
(نیز دیکھو محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۵۹۳ ناشر مطبع المکتبۃ السفلیۃ شیش محل روڈ لاہور۔ بحوالہ مسلم و جلالین)
سوم:۔ اگر مُتَوَفِّیْکَ کو پیچھے کیا جائے تو ساری ترکیب ہی درہم برہم ہوجائے گی اور صحیح طور پر مُتَوَفِّیْکَ کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔ کیونکہ وعدہ نمبر4 اب شروع ہے اور الی یوم القیامۃ رہے گا۔ تَوفِّیْ کے معنے اوپر گزر چکے ہیں اور رفع کے معنے (النساء:۱۵۹) کی بحث میں ملاحظہ کریں۔
غیر احمدی:۔ واؤ ترکیب کے لیے نہیں ہوتی جیسا کہ قرآن مجید کی آیت
وَاللّٰهُ اَخۡرَجَكُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَيۡـــًٔا ۙ وَّ جَعَلَ لَـكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصٰرَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴿78﴾
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا جب کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر ادا کرو۔
میں ہے۔
جواب:۔ آیت محولہ میں تو نہایت پرمعارف ترتیب ہے کیونکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت اس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ہاں کان کھلے ہوتے ہیں، سن سکتا ہے اسی لئے سب سے پہلے اس کے کان میں اذان دینے کا حکم ہے۔ پس اس و جہ سے قرآن مجید میں سَمْع(سننے کو)پہلے رکھا گیا ہے۔ دیکھنے کی وقت بعد میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے اَبْصَار کو بعد میں بیان کیا گیا ہے۔ اور چونکہ عقل اور سمجھ بہت بعد میں آتی ہے ا س لیے اﷲ تعالیٰ نے اَفْئِدَۃَ(دل)کو سب سے پیچھے رکھا ہے۔
’’دل‘‘ عقل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جیساکہ قرآن مجید میں ہے۔
ثُمَّ لَاَتِيَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآٮِٕلِهِمۡؕ وَلَاٰ تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ ﴿17﴾
پھر میں ضرور اُن تک ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کے دائیں سے بھی اور ان کے بائیں سے بھی آؤں گا۔ اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔
کہ ان کے دل ہیں مگر ان دلوں سے یہ سمجھتے نہیں۔ پس آیت قرآنی میں حد درجہ ایمان افروز ترتیب ہے اس طرح
وَاِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ فَکُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ نَّغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطٰيٰكُمۡؕ وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿58﴾
اور جب ہم نے کہا کہ اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور اس میں سے جہاں سے بھی چاہو بافراغت کھاؤ اور (صدر) دروازے میں اطاعت کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو کہ بوجھ ہلکے کئے جائیں ۔ ہم تمہاری خطائیں تمہیں معاف کردیں گے اور احسان کرنے والوں کو ہم ضرور اور بھی زیادہ دیں گے
میں بھی ہر دومقامات پر عدم ترتیب نہیں کیونکہ کہنا دروازے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ہر دومقامات میں بیان ہوا ہے یعنی دروازے میں داخل ہونا اور کہنا قرآن مجید کی دونوں آیات اورمیں بیک وقت وقوع میں آنا بیان ہوا ہے۔ پس اس میں بھی تقدیم تاخیر کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
پس حق اور سچ بات یہی ہے کہ انسان کے کلام میں توواؤ عالیہ اگر بغیر صحیح ترتیب کے مستعمل ہو تو ممکن ہے مگر اﷲ تعالیٰ کا کلام بغیر ترتیب کے نہیں ہوسکتا۔ تعجب ہے کہ حیات مسیح کے باطل عقیدہ نے تم کو قرآن مجید کے مرتب اور مسلسل کتاب ہونے کا بھی منکر بنا دیا ہے۔ سچ ہے
خشت اوّل چوں نہد معمار کج تا ثریا مے رود دیوار کج
تیسری دلیل:۔
مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ وَاُمُّهٗ صِدِّيۡقَةٌ ؕ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَؕ اُنْظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرۡ اَ نّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴿75﴾
مسیح ابنِ مریم ایک رسول ہی تو ہے۔ اس سے پہلے جتنے رسول تھے سب کے سب گزر چکے ہیں۔ اور اس کی ماں صِدیقہ تھی۔ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ کس طرح ہم ان کی خاطر اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھ وہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں۔
ترجمہ:۔ نہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول البتہ آپ سے پہلے رسول سب فوت ہوچکے اور آپ کی والدہ راستباز تھی۔ وہ دونوں ماں بیٹا کھانا کھایا کرتے تھے۔
استدلال:۔ اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ اور مریم کے ترک طعام کو ایک جگہ بیان فرماکر ظاہر کردیا کہ دونوں کے یکساں واقعات ہیں۔ اب مریم کے ترک طعام کی و جہ موت مسلّم ہے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیحؑ کے ترک طعام کی بھی یہی و جہ تھی کیونکہ ماضی استمراری ہے۔گویا اب نہیں کھاتے لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا جَعَلۡنٰهُمۡ جَسَدًا لَّا يَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوۡا خٰلِدِيۡنَ ﴿8﴾
اور ہم نے انہیں ایسا جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے۔
یعنی ان (انبیاء)کو ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتا ہو یا ہمیشہ رہنے والا ہو۔
حدیث میں بھی آنحضرتؐ فرماتے ہیں
وَلَا مُسْتَغْنِیْ عَنْہُ رَبَّنَا
(بخاری کتاب الاطعمۃ باب ما یقول اذا فرغ من طعامہ)
اے ہمارے رب ہمارے لئے اس سے استغناء نہیں ہوسکتا۔ پس بشر بصورت زندگی تو محتاج طعام ہے پس مسیح کا احتیاج سے سوائے موت کے بری ہونا کیونکر ممکن ہے؟
چوتھی دلیل:۔
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ﴿144﴾
اور محمدنہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائےگا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکےگا۔ اور اللہ یقینا شکرگزاروں کو جزا دے گا۔
ترجمہ: آنحضرتؐ صرف ایک رسول ہیں آپ سے پہلے کے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ پس اگر یہ مرجائے یا قتل کیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے۔
استدلال:۔ اس آیت میں آنحضرتؐ سے پہلے تمام رسولوں کی نسبت گزر جانے کی خبردی ہے اور گزر جانے کے طریق صرف دو قرار دیئے ہیں،موت اور قتل۔ یعنی بعض بذریعہ موت طبعی گزرے اور بعض بذریعہ قتل۔ اگر کوئی تیسری صورت گزر نے کی ہوتی تو اس کا بھی آیت میں ذکر ہوتا۔ مثلاً آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کی صورت جو مسیح کے متعلق خیال کی جاتی ہے۔ چنانچہ اس کی تائید تفسیروں کے ان حوالجات سے بھی ہوتی ہے جو زیر عنوان ’’خَلَا کے معنے تفسیر میں‘‘درج ہیں۔ (دیکھو صفحہ ۱۹۳)
اس آیت میں صاف لکھا ہے کہ آنحضرتؐ سے پہلے سب رسول گزر چکے ہیں یعنی فوت ہوچکے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ ؑ بھی شامل ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ چونکہ آیت
مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ وَاُمُّهٗ صِدِّيۡقَةٌ ؕ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَؕ اُنْظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرۡ اَ نّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴿75﴾
مسیح ابنِ مریم ایک رسول ہی تو ہے۔ اس سے پہلے جتنے رسول تھے سب کے سب گزر چکے ہیں۔ اور اس کی ماں صِدیقہ تھی۔ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ کس طرح ہم ان کی خاطر اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھ وہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں۔
میں سے بظاہر مسیحؑ باہر رہ جاتے تھے، اﷲ تعالیٰ نے ان کی وفات کا بالتخصیص ذکر فرمانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔
غیر احمدی عذرات کا جواب
مصنف محمدیہ پاکٹ بک نے اس ضمن میں صفحہ ۵۷۶، ۵۷۷ پر جو ترجمہ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۂ اولؓ کا جنگ مقدس، شہادۃ القرآن اور فصل الخطاب کے حوالہ سے دیا ہے کہ ’’کئی رسول‘‘ یا ’’بہت سے رسول‘‘۔ یہ غیر احمدیوں کے چنداں مفید طلب نہیں ہوسکتا کیونکہ اس ترجمہ سے باقی رسولوں کی نفی نہیں ہوتی۔ البتہ اگر چند رسول یا بعض رسول ہو تا تو کوئی بات بھی تھی ورنہ جس قدر رسول آنحضرتؐ سے قبل گزر چکے تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ وہ ’’کئی‘‘ اور ’’بہت سے‘‘ تھے۔
غیر احمدی:۔ قرآن مجید میں آتا ہے
وَيَسۡتَعۡجِلُوۡنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ وَقَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمُ الۡمَثُلٰتُؕ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ لِّـلنَّاسِ عَلٰى ظُلۡمِهِمۡۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴿6﴾
اور وہ تجھ سے بدی کو بھلائی سے پہلے جلدتر طلب کرتے ہیں۔ جبکہ ان سے پہلے بہت سی عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں۔ اور یقیناً تیرا ربّ لوگوں کے لئے اُن کے ظلم کے باوجود بہت مغفرت والا ہے اور یقیناً تیرا ربّ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
اس سے پہلے بہت سے عذاب گزر چکے ہیں۔ کیا یہاں خلا کے معنے موت ہیں؟
(محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۶۰۹ ناشر المکتبۃ السفلیۃ شیش محل روڈ لاہور)
جواب:۔ ہمارا دعویٰ تو یہ ہے کہ خَلَا کا لفظ بصیغۂ ماضی جب انسانوں کے متعلق استعمال ہو تو ہمیشہ وفات یافتہ انسانوں ہی کے متعلق آتا ہے مگر کیا تمہاری پیش کردہ آیت میں مَثُلٰتُ (الرعد:۷) (عذاب) ذی روح ہے؟
محمدیہ پاکٹ بک کی پیش کردہ دوسری آیت
كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ فِىۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ لِّـتَتۡلُوَا۟ عَلَيۡهِمُ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِؕ قُلۡ هُوَ رَبِّىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ ﴿30﴾
اسی طرح ہم نے تجھے ایک ایسی اُمّت میں بھیجا جس سے پہلے کئی اُمتیں گزر چکی تھیں تاکہ تُو اُن پر وہ تلاوت کرے جو ہم نے تیری طرف وحی کیا حالانکہ وہ رحمان کا انکار کر رہے ہیں۔ تو کہہ دے وہ میرا ربّ ہے۔ کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔ اُسی پر میں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔
میں ہلاک شدہ قومیں ہی مراد ہیں، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورۃ رعد میں فرمایا:۔
اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَـؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ ۛؕ وَالَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُؕ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِىۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ وَقَالُوۡۤا اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَـنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ ﴿9﴾
] کیا تم تک ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے یعنی نوح کی قوم کی اور عاد اور ثمود کی اور ان لوگوں کی جو اُن کے بعد تھے۔ انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آئے تو انہوں نے (تکبر کرتے ہوئے) اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں رکھ لئے اور کہا یقیناً ہم اس چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اِنکار کرتے ہیں اور یقیناً ہم اس کے بارہ میں، جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، بے چین کردینے والے شک میں مبتلا ہیں۔
یعنی کیا تمہیں ان قوموں کی خبر نہیں ملی جو تم سے پہلے تھیں یعنی قوم نوح، عاد،ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے جن کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا ان کے پاس رسول آئے تو انہوں نے ان کا انکار کیا۔
انہی اقوام کی تباہی اور ہلاکت کی تفصیل سورۂ ہود اور دوسری سورتوں میں متعدد مقامات پر قرآن مجید میں دی گئی ہے۔ پس تمہاری پیش کردہ سورۃ رعد والی آیت میں بھی کے معنے ہلاک شدہ ہی کے ہیں نہ کچھ اور۔
خَلَا کے معنی از روئے قرآن کریم
رَفَعَ اِلَی السَّمَاءِ خَلَا کے اندر داخل نہیں فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کا خلا کسی کا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی کہے کہ چونکہ آنحضرتؐ نے آسمان پر نہ جانا تھا اس لیے وہ ذکر نہ کیا گیا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت نے تو قتل بھی نہ ہونا تھا، جیساکہ اﷲ تعالیٰ وعدہ فرماچکا تھا
يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ ﴿67﴾
اے رسول! اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے ربّ کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے۔ اور اگر توُ نے ایسا نہ کیا تو گویا توُ نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ یقیناً اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
پھر قتل کا ذکر کیوں کیا۔ معلوم ہوا کہ رَفَع اِلَی السَّمَاءِ ۔ خَلَا میں شامل نہیں۔
دوم:۔ بہت جگہ یہ لفظ قرآن کریم میں موت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، ملاحظہ ہو:۔
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡۚ وَلَا تُسۡـَٔـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴿134﴾
یہ ایک امّت تھی جو گزر چکی۔ اس کے لئے تھا جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماتے ہو اور تم اس کے متعلق نہیں پوچھے جاؤگے جو وہ کیا کرتے تھے
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡۚ وَلَا تُسۡـَٔـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴿141﴾
یہ (بھی) ایک امّت تھی جو گزر چکی ۔ اس کے لئے تھا جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم نے کمایا۔ اور تم نہیں پوچھے جاؤگے اُس بارہ میں جو وہ کرتے رہے
مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُؕ وَاُمُّهٗ صِدِّيۡقَةٌ ؕ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَؕ اُنْظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرۡ اَ نّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴿75﴾
مسیح ابنِ مریم ایک رسول ہی تو ہے۔ اس سے پہلے جتنے رسول تھے سب کے سب گزر چکے ہیں۔ اور اس کی ماں صِدیقہ تھی۔ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ دیکھ کس طرح ہم ان کی خاطر اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھ وہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں۔
كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ فِىۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ لِّـتَتۡلُوَا۟ عَلَيۡهِمُ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِؕ قُلۡ هُوَ رَبِّىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ ﴿30﴾
اسی طرح ہم نے تجھے ایک ایسی اُمّت میں بھیجا جس سے پہلے کئی اُمتیں گزر چکی تھیں تاکہ تُو اُن پر وہ تلاوت کرے جو ہم نے تیری طرف وحی کیا حالانکہ وہ رحمان کا انکار کر رہے ہیں۔ تو کہہ دے وہ میرا ربّ ہے۔ کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔ اُسی پر میں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿25﴾
یقیناً تیرا ربّ ہی قیامت کے دن اُن کے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿17﴾
پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ اُن کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ ُچھپا کر رکھا گیا ہے۔ اُس کی جزا کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے
أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوُونَ ﴿18﴾
پس کیا جو مومن ہو اُس جیسا ہوسکتا ہے جو فاسق ہو؟ وہ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿21﴾
اور ہم یقیناً انہیں بڑے عذاب سے وَرے چھوٹے عذاب میں سے کچھ چکھائیں گے تاکہ ہوسکے تو وہ (ہدایت کی طرف) لوٹ آئیں۔
فَهَلۡ يَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَيَّامِ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡؕ قُلۡ فَانْتَظِرُوۡۤا اِنِّىۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴿102﴾
پس کیا وہ انتظار کر رہے ہیں مگر اسی قسم کے دَور کا جیسا ان لوگوں پر آیا جو اُن سے پہلے گزرے۔ تُو کہہ دے کہ انتظار کرتے رہو یقیناً میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
اَللّٰهُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِهٖ كَمِشۡكٰوةٍ فِيۡهَا مِصۡبَاحٌ ؕ الۡمِصۡبَاحُ فِىۡ زُجَاجَةٍ ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوۡكَبٌ دُرِّىٌّ يُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَةٍ مُّبٰـرَكَةٍ زَيۡتُوۡنَةٍ لَّا شَرۡقِيَّةٍ وَّلَا غَرۡبِيَّةٍ ۙ يَّـكَادُ زَيۡتُهَا يُضِىۡٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰى نُوۡرٍ ؕ يَهۡدِى اللّٰهُ لِنُوۡرِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۙ ﴿35﴾
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔ وہ چراغ شیشے کے شمع دان میں ہو۔ وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔ وہ (چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی۔ اس (درخت) کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ نہ بھی چھوا ہو۔ یہ نور علیٰ نور ہے۔ اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔
مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا ﴿38﴾
نبی پر اس بارہ میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہئے جو اللہ نے اس کے لئے فرض کر دیا ہو، اللہ کی اس سنّت کے طور پر جو پہلے لوگوں میں بھی جاری کی گئی۔ اور اللہ کا فیصلہ ایک جچے تلے اندازے کے مطابق ہوا کرتا ہے۔
خَلَا کے معنی ازلغتِ عرب
سوم:۔لغت سے خَلَا کے معنی مَاتَ کے ثابت ہیں:۔
خَلَا فُلَانٌ اِذَا مَاتَ
(لسان العرب زیر مادہ ’’خلا‘‘)۔
خَلَا الرَّجُلُ اَیْ مَاتَ
(اقرب الموارد زیر لفظ خلا)
خَلَا فُلَانٌ اَیْ مَاتَ
(تاج العروس زیر لفظ خلا)
شعر کی مثال
اِذَا سَیِّدٌ مِّنَّا خَلَا قَامَ سَیِّدٌ
قَؤُوْلٌ لِّمَا قَالَ الْکِرَامُ فُعُوْلٌ
(دیوان الحماسہ الأبی تمام جبیر بن اوس الطائی شاعر السموال بن عاد باب الحماسہ ناشر المکتبۃ السفلیۃ لاہور)
خلا کے معنی از تفاسیر
۱۔ تفسیر مظہری زیر آیت و ما محمد الا رسول……۔ قَدْ خَلَتْ۔ مَضَتْ وَ مَاتَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ فَسَیَمُوْتُ ھُوَ اَیْضًا۔
(ایضاً جلد۲ صفحہ ۱۴۷)
۲۔ تفسیر جامع البیان صفحہ۶۱۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ بِالْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ فَیَخْلُوْا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(ایضاً جز نمبر۱ صفحہ ۱۰۳)
۳۔ تفسیر بحر مواج جلد۱ صفحہ ۴۱۳۔
معنی این است کہ بدرستی از و پیغمبران گزشتہ اند وہمہ از جہان رفتہ اند۔
۴۔ تفسیر سراج منیر جلد۱ صفحہ ۲۵۱۔
فَسَیَخْلُوْا کَمَا خَلَوْا بِالْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ
یعنی پہلے رسول یا مرگئے یا قتل ہوگئے اسی طرح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی ہوں گے۔
۵۔تفسیر خازن زیر آیت و ما محمد الا رسول……۔
وَ مَعْنَی الْاَیَۃِ فَسَیَخْلُوْا مُحَمَّدٌ کَمَا خَلَتِ الرُّسُلُ مِنْ قَبْلِہٖ۔
۶۔ حضرت امام رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔
وَ حَاصِلُ الْکَلَامِ اَنَّہٗ تَعَالٰی بَیَّنَ اَنَّ قَتْلَہٗ لَا یُوْجِبُ ضُعْفًا فِیْ دِیْنِہٖ بَدَلِیْلَیْنِ۔
(اَلْاَوَّلُ) بِالْقِیَاسِ عَلٰی مَوْتِ سَائِرِ الْاَنْبِیَاءِ وَ قَتْلِھِمْ۔
(وَالثَّانِیْ)
اَنَّ الْحَاجَۃَ اِلَی الرَّسُوْلِ لِتَبْلِیْغِ الدِّیْنِ وَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَا حَاجَۃَ اِلَیْہِ فَلَمْ یَلْزِمْ مِنْ قَتْلِہِ فَسَادُ الدِّیْنِ
(تفسیر کبیر رازی زیر آیت ما کان لنفس ان تموت الا باذن اﷲ……)
کہ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ آنحضرتؐ کے قتل ہوجانے سے آپ کے دین میں کوئی کمزوری واجب نہیں آتی۔ اوّل اس و جہ سے کہ تمام گزشتہ انبیاء کی موت اور قتل پرقیاس کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ دوسرے اس و جہ سے کہ نبی کی بعثت کی غرض تو تبلیغ دین ہوتی ہے۔ پس جب وہ تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرچکے تو پھر اس کو زندہ رکھنے کی کوئی حاجت نہیں رہتی۔
۷۔ حضرت داتا گنج بخش صاحبؒ اس آیت کا ترجمہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔
’’یعنی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم محض رسول خدا ہیں۔ ان کے پہلے بھی رسول راہ رَوعالم آخرت ہوئے۔ کیا اگر حضرتؐ انتقال فرماگئے یا قتل کئے گئے تو تم پیچھے قدم ہٹ جاؤ گے۔ یعنی الٹی چال چلو گے۔ ‘‘
(کشف المحجوب مترجم اردو صفحہ ۳۷۔ باب۳ تصوف کے بیان میں ’’فارسی‘‘عشرت پبلشنگ اڈس ہسپتال روڈ انار کلی لاہور)
۸۔ تفسیر مدارک
برحاشیہ خازن زیر آیت و ما محمد الا رسول……۔ خَلَتْ۔ مَضَتْ۔ فَسَیَخْلُوْا۔
۹۔ تفسیر کشاف
زیر آیت و ما محمد الا رسول……۔ فَسَیَخْلُوْا کَمَا خَلَوْا۔
نبی کریمؐ کا خَلَا ویسے ہی ہوگا جیسے پہلوں کا ہوچکا ہے۔
۱۰۔ تفسیر قنوی علی البیضاوی صفحہ ۱۲۴۔ جلد۳۔
فَسَیَخْلُوْا کَمَا خَلَوْا بِالْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ…… اِنَّھُمُ اعْتَقَدُوْا اِنَّہٗ رَسُوْلٌ کَسَائِرِ الرُّسُلِ فِیْ اِنَّہٗ یَخْلُوْا کَمَا خَلَوْا رُدَّ عَلَیْھِمْ اِنَّہٗ لَیْسَ اِلَّا رَسُوْلًا کَسَائِرِ الرُّسُلِ فَسَیَخْلُوْا کَمَا خَلَوْا۔
یعنی لوگوں نے اعتقاد کیا کہ آنحضرتؐ فوت نہ ہوں گے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ باقی رسول جب فوت ہوگئے تو یہ کیوں نہ فوت ہوں گے۔
اس آیت سے وفات مسیحؑ پر صحابہ کرامؓ کا اجماع
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات صدمہ آفات نے صحابہؓ کی کمر ہمت کو توڑ دیا۔ حتی کہ حضرت عمرؓ نے کہنا شروع کیا کہ جو کوئی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلمکو فوت شدہ کہے گا اس کی گردن اڑادوں گا۔ چنانچہ بخاری کتاب النبیؐ الٰی کسرٰی و قیصر باب مرض النبیؐ و وفاتہٖ میں مندرجہ ذیل حدیث ہے:۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ اَبَا بَکْرٍ خَرَجَ وَ عُمَرُ یُکَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اِجْلِسْ یَا عُمَرُ فَاَبٰی عُمَرُ اَنْ یَّجْلِسَ فَاَقْبَلَ النَّاسُ اِلَیْہِ وَ تَرَکُوْا عُمَرَ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ اَمَّا بَعْدُ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ قَالَ اللّٰہُ اِلٰی قولہ وَ قَالَ وَاللّٰہِ لَکَأَنَّ النَّاَسَ لَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ حَتّٰی تَلَا ھَا اَبُوْ بَکْرٍ فَتَلَقّٰھَا مِنْہُ النَّاسُ کُلَّھُمْ فَمَا اَسْمَحَ بَشَرًا مِنَ النَّاسِ اِلَّا یَتْلُوْھَا۔ فَاَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ ابْنُ الْمُسَیِّبِ اَنَّ عُمَرَ قَالَ وَاللّٰہِ مَا ھُوَ اِلَّا سَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ تَلَاھَا فَعَقَرْتُ حَتّٰی مَا تُقِلُّنِیْ رِجْلَایَ وَ حَتّٰی اَھْوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ حِیْنَ سَمِعْتُہٗ تَلَاھَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ۔
یہ خطبہ مسند امام ابو حنیفہؒ صفحہ ۱۸۸ اور حمام الاسلامیۃ صفحہ ۵۴ پر بھی موجود ہے۔
تو حضرت ابوبکرؓ نے خطبہ پڑھا جس میں بتایا کہ جس طرح اور رسول فوت ہوچکے ہیں آنحضرتؐ بھی فوت ہوگئے ہیں۔ جس پر صحابہؓ میں سے کسی نے انکار نہ کیا اور حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ میں کھڑا نہ ہوسکتا تھا اور زمین پر گرگیا اور میں نے سمجھ لیا کہ آنحضرتؐ فی الواقعہ فوت ہی ہوچکے ہیں۔
اس سے یوں استدلال ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کے استدلال کو اس طرح توڑا ہے کہ آپؐ ایک رسول ہیں اور آپؐ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں۔ اگر حضرت عمرؓ یا کسی اور صحابی کے ذہن میں بھی یہ بات ہوتی کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ بجسدہ العنصری ہیں تو وہ آگے سے فوراً کہہ دیتا ہے کہ اجی عیسیٰ ؑبھی تو رسول ہی تھے وہ پھر کیوں زندہ ہیں، لیکن کسی کا ایسا نہ کرنا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ان کے وہم میں بھی حیاتِ عیسیٰ ؑ کا عقیدہ نہ تھا بلکہ وہ سب کو وفات یافتہ تسلیم کرتے تھے۔ یہی و جہ ہے کہ انہوں نے سرِ تسلیم خم کیا اور بالکل چون و چرانہ کی۔
اس اجماع سے ان روایات کی بھی حقیقت کھل جاتی ہے جو بعض صحابہ کرامؓ کی طرف حیاتِ عیسیٰ ؑ کے بارے میں منسوب کی جاتی ہیں۔کیونکہ اگر کوئی ایسی روایت ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں (۱) یا تو وہ اس سے پہلے کی ہے (۲) یا بعد کی۔ صورت اوّل میں وہ قابل استناد نہیں، کیونکہ اجماع سے وہ گر جائے گی اور صورت ثانی میں بہرحال قابلِ ردّ۔
اعتراض:۔ اگر اَلرُّسُل کا الف لام استغراقی مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ آنحضرتؐ سے پہلے ہی تمام رسول فوت ہوجائیں کیونکہ مِنْ قَبْلِہٖ بو جہ مقدم ہونے کے اَلرُّسُل کی صفت نہیں بن سکتی۔ ہاں خَلَتْ فعل کے ساتھ متعلق ہوسکتی ہے۔ لہٰذا لازم آیا کہ آنحضرتؐ سے پہلے ہی تمام رسول فوت ہوں ورنہ آنحضرتؐ اور مرزا صاحبؑ دونوں کی نفی ہوئی۔
جواب:۔ ’’مِنْ قَبْلِہٖ‘‘ ’’اَلرُّسُل‘‘ کی صفت ہی ہے جس کے معنی ہیں کہ تمام وہ رسول فوت ہوگئے جو آنحضرتؐ سے پہلے تھے اور صفت کا موصوف سے پہلے آنا جائز ہے
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔
الۤرٰ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ لِـتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ ۙ بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ ﴿1﴾
اَنَا اللّٰہُ اَرٰی : میں اللہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تیری طرف اتاری ہے تاکہ تُو لوگوں کو ان کے ربّ کے حکم سے اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہوئے اس راستہ پر ڈال دے جو کامل غلبہ والے (اور) صاحبِ حمد کا راستہ ہے۔
اللّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِؕ وَوَيۡلٌ لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡ عَذَابٍ شَدِيۡدِ ۙ ﴿2﴾
یعنی اللہ (کا راستہ) جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور کافروں کے لئے ایک سخت عذاب سے ہلاکت (مقدر) ہے۔
عَزِیْزٌ اور حَمِیْدٌ اﷲ کی صفات ہیں جو اس پر اس آیت میں مقدم مذکور ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے۔
وَ یَجُوْزُ اَنْ یَّکُوْنَ الْعَزِیْزُ الْحَمِیْدُ صِفَتَیْنِ مُتَقَدِّمَیْنِ وَ یُعَرِّبُ الْاِسْمُ الْجَلِیْلُ مَوْصُوْفًا مُتَأَخِّرًا
(روح المعانی زیر آیت الی صراط العزیز الحمید۔)
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ ﴿125﴾
کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور پیدا کرنے والوں میں سے سب سے بہترکو چھوڑ دیتے ہو۔
اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ ﴿126﴾
اللہ کو۔ جو تمہارا بھی ربّ ہے اور تمہارے پہلے آباءواجداد کا بھی۔
کیا تم بعل کو پکارتے (پوجتے) ہو اور اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ (یعنی سب سے اچھا بنانے والے) خدا کو جو تمہارا رب ہے چھوڑتے ہو۔ اس آیت میں اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ صاف طور پر اﷲ کی صفت ہے مگر موصوف یعنی اﷲ بعد میں ہے، اور صفت احسن الخالقین اس پر مقدم مذکور ہے۔ اسی طرح مِنْ قَبْلِہِ اَلرُّسُل بھی صفت ہے اور اس پر مقدم مذکور ہے۔ فلا اعتراض۔
پانچویں دلیل:۔
وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡــًٔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؕ ﴿20﴾
اور جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرتے جبکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔
اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ ۚ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴿21﴾
مُردے ہیں، زندہ نہیں اور شعور نہیں رکھتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
ترجمہ:۔ یہ مشرک جن لوگوں کو اﷲ کے سوائے پکارتے ہیں وہ ایسے ہیں کہ انہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا وہ پیدا کیے گئے ہیں۔ مردہ ہیں زندہ نہیں اور نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔
استدلال:۔ حضرت عیسیٰ ؑ بھی ان ہستیوں میں سے ہیں جن کو معبود مانا جاتا ہے۔
چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَؕ قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـــا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ؕ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿17﴾
یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ یقیناً اللہ ہی مسیح ابنِ مریم ہے۔ تُو کہہ دے کہ کون ہے جو اللہ کے مقابل پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہے، اگر وہ فیصلہ کرے کہ مسیح ابنِ مریم کو اور اس کی ماں کو اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو نابود کرے۔ اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اُس کی بھی جو اُن دونوں کے درمیان ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
پس وہ بھی وفات یافتہ ہیں۔ ان کا کہیں استثناء نہیں۔
نوٹ:۔ بعض حیلہ ساز لوگ اس جگہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اَمْوَاتٌ۔ مَیِّتٌ کی جمع ہے یعنی مرنے والے ہیں کسی وقت ضرور مریں گے۔
جواب:۔ یہ بالکل غلط ہے کہ اَمْوَاتٌ۔ مَیِّتٌ کی جمع ہے۔اَمْوَاتٌ تو مَیْتٌ کی جمع ہے جس کے معنے ہیں ’’مرے ہوئے‘‘ اور مَیِّتٌ کی جمع مَیِّتُوْنَ ہے۔ دیکھو لغت کی کتاب المنجدزیر لفظ موت۔ اور آیت بھی اس کی مؤیّد ہے کیونکہ اس میں
اَمۡوَاتٌ غَيۡرُ اَحۡيَآءٍ ۚ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ﴿21﴾
مُردے ہیں، زندہ نہیں اور شعور نہیں رکھتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
یعنی ایسے اموات جو زندہ نہیں ہیں۔ پس اَمْوَاتٌ کو مَیِّتٌ کی جمع قرار دینا زبان اور قرآن دونوں سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
اگر ملائکہ اور جنوں کا اعتراض کرو تو یاد رہے کہ وہ عالمِ امر سے ہیں اور
وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡــًٔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَؕ ﴿20﴾
اور جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرتے جبکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔
میں عالم خلق کا بیان ہے اس لئے ان کا یہاں ذکر نہیں۔ ہاں حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر ہے۔ ملائکہ اور جنوں کے نہ مرنے کا کیا ثبوت ہے؟
كُلُّ نَفۡسٍ ذَآٮِٕقَةُ الۡمَوۡتِ ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿57﴾
ہر جان موت کا مزا چکھنے والی ہے۔ پھر ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
کے کلیہ سے وہ کیونکر باہر رہ سکتے ہیں۔
چھٹی دلیل:۔ آیت
قَالَ فِيۡهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيۡهَا تَمُوۡتُوۡنَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُوۡنَ ﴿25﴾
اس نے کہا تم اسی میں جیو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تم نکالے جاؤ گے۔
ترجمہ:۔ اﷲ تعالیٰ نے بنی آدم کو فرمایا کہ تم اسی زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور اسی میں مرو گے اور پھر اسی سے اٹھائے جاؤ گے۔
استدلال:۔ یہ ایک عام قانونِ الٰہی ہر فرد بشر پر حاوی ہے تو کیونکر ہوسکتا ہے کہ کے صریح خلاف حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ موجود ہوں۔ اس آیت میں(فعل) پر (ظرف) مقدم ہے۔ پس از روئے قواعدِ نحو اس میں حصر ہے جس سے استثناء ممکن نہیں۔
نوٹ:۔ اس آیت کی تائید میں یہ آیتیں بھی ہیں:۔
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا ﴿25﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والا نہیں بنایا؟
أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ﴿26﴾
زندوں کو بھی اور مُردوں کو بھی۔
کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
فَاَزَلَّهُمَا الشَّيۡطٰنُ عَنۡهَا فَاَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيۡهِ وَقُلۡنَا اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴿36﴾
پس شیطان نے ان دونوں کو اس (درخت) کے معاملہ میں پھسلا دیا پس اُس سے انہیں نکال دیا جس میں وہ پہلے تھے ۔ اور ہم نے کہا تم نکل جاؤ (اس حال میں کہ) تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لئے (اس) زمین میں ایک عرصہ تک قیام اور استفادہ (مقدر) ہے
اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے اور فائدہ اٹھانا ایک مدت تک ۔
ساتویں دلیل:۔
وَّجَعَلَنِىۡ مُبٰـرَكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ وَاَوۡصٰنِىۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ۖ ﴿31﴾
نیز مجھے مبارک بنا دیا ہے جہاں کہیں میں ہوں اور مجھے نماز کی اور زکوٰۃ کی تلقین کی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔
ترجمہ:۔(حضرت عیسیٰ ؑ کہتے ہیں)اﷲ تعالیٰ نے مجھ کو تاکیدی حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں نماز پڑھتا اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں۔
استدلال:۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا زکوٰۃ دینا ان کی تمام زندگی بھر فرض قرار دیا گیا ہے اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے پاس زکوٰۃ دینے کے لائق روپیہ بھی ہو اور مستحقین زکوٰۃ بھی زندہ رہیں۔ پس آسمان میں اگر وہ زندہ فرض کیے جاویں تو وہاں روپیہ اور زکوٰۃ لینے والوں کا ایک گروہ بھی ان کے ہمراہ ہونا ضروری ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگر کہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے پاس وہاں مال نہیں اس لیے ان پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ان کے پاس مال نہیں رہنا تھا تو (مریم:۳۲) کی بجائے مَا دُمْتُ عَلَی الْاَرْضِ کہنا چاہیے تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوتا کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ’’میں جب تک زمین پر رہوں۔‘‘ زکوٰۃ دیتا رہوں۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا تعالیٰ کا خاص طور پر زکوٰۃ دینے کا حکم بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ صاحبِ نصاب تھے اور جب تک زندہ رہے صاحب نصاب رہے۔
دوسرا سوال ۔ اس آیت کے متعلق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر جو نماز پڑھتے ہیں تو کس طرف منہ کرکے؟ اگر کہو کہ عرش خداوندی کی طرف منہ کرکے پڑھتے ہیں تو اس پر سوال یہ ہے کہ ان کو وہ کیسے معلوم ہوئی۔ اگر کہو کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کو بذریعہ وحی بتادی ہوگی تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیحؑ اسلامی نماز اس لئے نہیں پڑھتے کہ یہ آنحضرتؐ پر نازل ہوئی تھی بلکہ اس لئے کہ یہ خود ان پر نازل ہوئی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ابھی تک موسوی شریعت منسوخ نہیں ہوئی۔ اگر کہو کہ آنحضرتؐ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو معراج کی رات عندالملاقات بتادی ہوگی تو یہ غلط ہے۔کیونکہ معراج کی رات جب حضرت عیسیٰ ؑ آنحضرتؐ سے ملے ہیں اس وقت تک ابھی نماز فرض ہی نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے بعد فرض ہوئی۔ اور نماز کے فرض ہونے کے بعد آنحضرتؐ کے ساتھ ان کی ملاقات ثابت نہیں۔
پھر سوال ۔ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ دارالعمل میں ہیں یا دارالجزاء میں؟ اگر کہو دارالعمل میں تو پھر ان پر نماز و زکوٰۃ وغیرہ تمام اعمال کا بجالانا فرض ہے۔ اور اگر کہو دارالجزاء میں تو وہ دو قسم کا ہے (۱) دوزخ (۲) جنت۔ حضرت عیسیٰ ؑ اوّل الذکر میں تو جا نہیں سکتے۔
پس معلوم ہوا کہ وہ جنت میں ہیں اور جنت کے متعلق خداتعالیٰ فرماتا ہے:۔
لَا يَمَسُّهُمۡ فِيۡهَا نَـصَبٌ وَّمَا هُمۡ مِّنۡهَا بِمُخۡرَجِيۡنَ ﴿48﴾
انہیں ان میں نہ کوئی تھکان چھوئے گی اور نہ وہ کبھی ان میں سے نکالے جائیں گے۔
کہ جنتی جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ اب دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔
آٹھویں دلیل:۔
وَالسَّلٰمُ عَلَىَّ يَوۡمَ وُلِدْتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴿33﴾
اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن مجھے جنم دیا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کرکے مبعوث کیا جاؤں گا۔
ترجمہ:۔ (حضرت عیسیٰ ؑ کہتے ہیں) کہ سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں دوبارہ اٹھایا جاؤں گا۔
استدلال:۔ سلامتی کے یہ تینوں اوقات بعینہٖ اس سورت میں حضرت یحییٰ ؑ کے لیے بھی آئے ہیں اور اگر بفرض محال حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں اور یہودِ نا مسعود کے نرغے سے بچ کر آسمان پر جا بیٹھے ہیں تو اس سلامتی کا کہاں ذکر ہے؟ وہ تو زیادہ اظہار امتنان کا موقعہ تھا۔ ان مواقع مذکورہ میں تو سب نبی موردِ سلامتی بنتے ہیں، آپ کے شریک ہیں، لیکن دو اہم اور عظیم الشان واقعات کی حضرت مسیحؑ کے ساتھ خصوصیت ہے، یعنی آسمان پر جانا اور آسمان سے واپس آنا، یہ سلامتی کے ساتھ ذکر کرنے کے زیادہ قابل تھے۔ خصوصاً جب کہ یہ مسیح کا کلام ان کے اختیار سے نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ماتحت ہے۔
نویں دلیل:۔
اَوۡ يَكُوۡنَ لَـكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰى فِى السَّمَآءِ ؕ وَلَنۡ نُّـؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّـقۡرَؤُهٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّىۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿93﴾
یا تیرے لئے سونے کا کوئی گھر ہو یا تُو آسمان میں چڑھ جائے۔ مگر ہم تیرے چڑھنے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تُو ہم پر ایسی کتاب اتارے جسے ہم پڑھ سکیں۔ تُو کہہ دے کہ میرا ربّ (ان باتوں سے) پاک ہے (اور) میں تو ایک بشر رسول کے سوا کچھ نہیں۔
آیت (بنی اسرائیل:۹۴)
کفار نے آنحضرتؐ سے جو نشانات طلب کیے ان میں سے ایک یہ بھی نشان انہوں نے طلب کیا اور سب سے اس کو آخر میں رکھا اور اپنے ایمانی فیصلہ کو اس پر ٹھہرایا کہ آپؐ آسمان پر جائیں اور وہاں سے کتاب لائیں جس کو ہم پڑھ کر آپ پر ایمان لائیں۔ آپ کو اﷲ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ حکم دیا کہ کہو میرا ربّ پاک ہے۔ میں بندہ رسول ہوں۔ یعنی اﷲ کی قدرت میں تو کسی قسم کا نقص نہیں، لیکن رسول کو آسمان پر لے جانا سنت اﷲ نہیں۔
جائے غور ہے کہ کفار کا یہ کہنا کہ تو آسمان پر چڑھ جاوے اور کتاب لاوے تب ہم ایمان لائیں گے، تو اس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کو آسمان پر نہ اٹھا لیا تاکہ سب کفار ایمان لے آویں، بلکہ یہ فرمایا کہ ایسا نہ ہوگا۔ جس کی و جہ یہ ہے کہ تو ایک بشر رسول ہے اور بشر رسول آسمان پر نہیں جایا کرتے۔ بھائیو! غور کرو جب حضرت عیسیٰ ؑ بھی بشر رسول ہیں تو وہ کیونکر آسمان پر جاسکتے ہیں
غیرت کی جا ہے عیسیٰ ؑ زندہ ہو آسماں پر
مدفون ہو زمیں میں شاہِ جہاںؐ ہمارا
دسویں دلیل:۔
وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُـلۡدَ ؕ اَفَا۟ٮِٕن مِّتَّ فَهُمُ الۡخٰـلِدُوۡنَ ﴿34﴾
اور ہم نے کسی بشر کو تجھ سے پہلے ہمیشگی عطا نہیں کی۔ پس اگر تُو مر جائے تو کیا وہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے؟
ترجمہ:۔ اور ہم نے تجھ سے پہلے (اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم) کسی انسان کو غیرطبعی زندگی نہیں دی۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تُو تو فوت ہوجائے اور وہ زندہ رہیں۔
استدلال:۔ مسلمانو! دیکھو اﷲ تعالیٰ کس قدر غیرت سے فرماتا ہے کہ لیکن ایک تم ہو کہ عیسیٰ ؑ کو تو زندہ مانتے ہو مگر اس سید المعصومینؐ کو فوت شدہ تسلیم کرتے ہو۔ استدلال صاف ہے، زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے صاف فرمادیا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ تُو تو جو انفع للناس ہے دنیا سے رحلت کرجائے اور اَور کوئی تجھ سے پہلے کا زندہ ہو۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیحؑ فوت ہوگئے۔
گیارہویں دلیل:۔
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿6﴾
اور (یاد کرو) جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! یقیناً میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے ہے اور ایک عظیم رسول کی خوشخبری دیتے ہوئے جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ پس جب وہ کھلے نشانوں کے ساتھ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا یہ تو ایک کھلا کھلا جادو ہے۔
حضرت عیسیٰ ؑ علیہ السلام نے بشارت دی کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا اس کا نام احمد ہوگا۔
تم کہتے ہو کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم احمد ہیں تو ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہوچکے ہیں کیونکہ احمد نے بہرحال مِنْ بَعْدِیْ ہی آنا ہے۔ اگر آج بقول تمہارے وہی عیسیٰ ابن مریم واپس آجائیں تو آنحضرتؐ احمد ان سے پہلے ہوجائیں گے نہ کہ بعد۔ تو کیا اس وقت قرآن میں سے مِنْ بَعْدِیْ کاٹ کر اس کی جگہ اور تبدیلی کردو گے؟
پس ثابت ہوا کہ اب جبکہ احمد آچکا ہے تو حضرت عیسیٰ ؑ واپس نہیں آسکتے۔
بارہویں دلیل:۔
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿28﴾
اور (یاد رکھو) وہ دن جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر ہم ان سے جنہوں نے شرک کیا کہیں گے اپنی جگہ پر تم (بھی) رُک جاؤ اور تمہارے شریک بھی۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کردیں گے اور ان کے (مزعومہ) شریک کہیں گے تم ہماری عبادت تو نہیں کیا کرتے تھے۔
ترجمہ:۔ اور جس دن ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور پھر ہم ان سے جنہوں نے شرک کیا کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ پھر ہم ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے اور ان کے معبود مشرکوں سے کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ اﷲ ہمارے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے۔ ہم تو یقینا تمہاری عبادت سے غافل ہیں۔
ان آیات سے صاف طور پر ثابت ہوتاہے کہ قیامت کے دن تمام معبودانِ باطلہ خدا کو گواہ رکھ کر کہیں گے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ یہ لوگ ہماری عبادت کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بھی انہی معبودوں میں سے ہیں کہ جن کی خدا کے سوا عباد ت کی جاتی ہے۔ جیسا کہ
لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَؕ قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـــا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ؕ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴿17﴾
یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ یقیناً اللہ ہی مسیح ابنِ مریم ہے۔ تُو کہہ دے کہ کون ہے جو اللہ کے مقابل پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہے، اگر وہ فیصلہ کرے کہ مسیح ابنِ مریم کو اور اس کی ماں کو اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو نابود کرے۔ اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اُس کی بھی جو اُن دونوں کے درمیان ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔
سے ثابت ہے۔ اب اگر بقول غیراحمدیان حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں اور صلیبوں کو توڑیں تو وہ کس طرح قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر یہ کہیں گے کہ مجھے معلوم نہیں کہ عیسائی میری عبادت کرتے اور مجھے خدا بناتے تھے؟
یا تو یہ کہو کہ نعوذ باﷲ حضرت عیسیٰ ؑ غلط بیانی کریں گے یا یہ تسلیم کرو کہ اب دوبارہ دنیا میں وہ تشریف نہیں لائیں گے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ نعوذ باﷲ غلط بیانی سے کام لیں۔ پس دوسری بات ہی درست ہے کہ وہ واپس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔ و ھٰذا ہُوالمراد۔
دیگر آیات:۔ ان مندرجہ بالا آیات کے علاوہ اس مسئلہ پر روشنی ڈالنے والی اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:۔
وَاللّٰهُ خَلَقَكُمۡ ثُمَّ يَتَوَفّٰٮكُمۡۙ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَىۡ لَا يَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَيۡــًٔاؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ ﴿70﴾
اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں وفات دے گا اور تم ہی میں سے وہ بھی ہے جو ہوش و حواس کھو دینے کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ علم حاصل کرنے کے بعد کلیّۃً علم سے عاری ہو جائے۔ یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) دائمی قدرت رکھنے والا ہے۔
ترجمہ:۔ اﷲ وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو وفات دیتا ہے اور بعض تم میں رذیل ترین عمر (انتہائی بڑھاپے)کی طرف لوٹائے جاتے ہیں جس کی و جہ سے وہ جاننے کے بعد نہ جاننے والا بن جاتا ہے۔
ہمارے دوست بتائیں کہ کیا حضرت عیسیٰ ؑ کے اس قانون سے مستثنیٰ ہونے کا کوئی ثبوت ان کے پاس ہے؟ ہرگز نہیں۔
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡـتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَـعۡثِ فَاِنَّـا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ لِّـنُبَيِّنَ لَـكُمۡ ؕ وَنُقِرُّ فِى الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّكُمۡ ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡــًٔـا ؕ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَاَنۡۢبَـتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۢ بَهِيۡجٍ ﴿5﴾
اے لوگو! اگر تم جی اُٹھنے کے بارہ میں شک میں مبتلا ہو تو یقیناً ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا تھا پھر نطفہ سے پھر لوتھڑے سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے جسے خاص تخلیقی عمل یا عام تخلیقی عمل سے بنایا گیا تا کہ ہم تم پر (تخلیق کے راز) کھول دیں۔ اور ہم جو چاہیں رِحموں کے اندر ایک مقررہ مدت تک ٹھہراتے ہیں پھر ہم تمہیں ایک بچے کے طور پر نکالتے ہیں تا کہ پھر تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچو۔ اور تم ہی میں سے وہ ہے جس کو وفات دے دی جاتی ہے اور تم ہی میں سے وہ بھی ہے جو ہوش وحواس کھو دینے کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے تاکہ علم حاصل کرنے کے بعد کلیۃً علم سے عاری ہوجائے۔ اور تُو زمین کو بے آب وگیاہ پاتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ (نمو کے لحاظ سے) متحرک ہو جاتی ہے اور پھولنے لگتی ہے اور ہر قسم کے ہرے بھرے پُر رونق جوڑے اگاتی ہے۔
وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ ﴿68﴾
اور جسے ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کو جبلّی طاقتوں کے لحاظ سے کم کرتے چلے جاتے ہیں۔ پس کیا وہ عقل نہیں کرتے؟
ترجمہ:۔ جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں ہم پھر اس کو خلقت میں الٹاتے ہیں یعنی وہ جوانی کے بعد بڑھاپے سے ہوتا ہوا نادان بن جاتا ہے۔ کیا حضرت عیسیٰ ؑ پر یہ قانون حاوی نہیں؟
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ ﴿54﴾
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک ضُعف (کی حالت) سے پیدا کیا۔ پھر ضُعف کے بعد قوت بنائی۔ پھر قوت کے بعد ضُعف اور بڑھاپا بنا دیئے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ دائمی علم رکھنے والا (اور) دائمی قدرت والا ہے۔
ترجمہ:۔ اﷲ وہ ذات ہے جس نے تم کو ضعف سے پیدا کیا اور پھر کچھ عرصہ کے لئے قوت عطا فرمائی اور پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا۔
بقول مخالفینِ احمدیت بھی حضرت عیسیٰ ؑ نے آسمان پر جانے سے پیشتر قوت پائی تھی۔ اب اتنے عرصہ کے بعد ضرور ہے کہ آپ دوبارہ ضعف کا شکار ہوچکے ہوں اور دنیا میں آکر بجائے خدمت دین کرنے کے اپنی ہی خدمت کرائیں۔
وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِى الۡاَسۡوَاقِ ؕ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً ؕ اَتَصۡبِرُوۡنَۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيۡرًا ﴿20﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجے مگر وہ بالضرور کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے۔ اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے ابتلا ءکا ذریعہ بنا دیا۔ کیا تم صبر کروگے؟ اور تیرا ربّ گہری نگاہ رکھنے والاہے۔
ترجمہ:۔ ہم نے اے محمدصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم! تجھ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر وہ کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرا کرتے تھے۔
صاف ظاہر ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے قبل محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سب رسولوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا ہے، منجملہ ان کے ایک حضرت عیسیٰ ؑ بھی ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ آپ بھی اس دارِ فانی سے رحلت فرماگئے ہیں۔
الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۙ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ ﴿156﴾
اُن لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقیناً اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقیناً اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
توفی کے متعلق مزید حوالہ جات یہاں دیکھیں
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.