وفات مسیح ناصری علیہ السلام – پی ڈی ایف
حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ مسلمانوں میں کیونکر آیا؟
فتح البیان جلد۲ صفحہ ۴۹ پر لکھا ہے:۔ فَفِیْ زَادِ الْمَعَادِ لِلْحَافِظِ ابْنِ قَیِّمِ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مَا یُذْکَرُ اَنَّ عِیْسٰی رُفِعَ وَ ھُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَ ثَلَاثِیْنَ سَنَۃٍ لَا یُعْرَفُ بِہٖ اَثْرٌ مُتَّصِلٌ یَجِبُ الْمَصِیْرُ اِلَیْہِ۔ قَالَ الشَّامِیْ وَھُوَ کَمَا قَالَ فَاِنَّ ذٰلِکَ اِنَّمَا یُرْوٰی عَنِ النَّصَارٰی۔
ترجمہ:۔حافظ ابن قیم کی کتاب زاد المعاد میں لکھا ہے کہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ۳۳ سال کی عمر میں اٹھائے گئے اس کی تائید کسی حدیث سے نہیں ہوتی تا اس کا ماننا واجب ہو۔ شامیؔ نے کہا ہے کہ جیسا کہ امام ابن قیم نے فرمایا ہے فی الواقعہ ایسا ہی ہے۔ اس عقیدہ کی بناء حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نہیں بلکہ یہ نصارٰی کی روایات ہیں اور ان سے ہی یہ عقیدہ آیا ہے۔
حضر ت مسیحؑ ناصری امت محمدیہ کا موعو د نہیں ہو سکتے
حدیث نزول میں سے جس لفظ سے غلطی لگتی ہے وہ ’’ابن مریم‘‘ ہے۔ ابن مریمؔ سے کیا مراد ہے ؟ سو اس کی تشریح، صداقت حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات کے جواب میں ’’ابن مریم بننے کی حقیقت‘‘ کے ذیل میں کی گئی ہے۔ (صفحہ ۲۴۰)وہاں سے دیکھا جائے۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام امت محمدیہ کے موعود بوجوہ ذیل نہیں ہو سکتے۔
اول:۔ قرآن و حدیث سے مسیحؑ کی وفات با لصراحت ثابت ہو چکی ہے اور وفات یافتہ ہستیوں کے متعلق فرمان الٰہی ہے (الزمر:۴۳)کہ جس پر ایک دفعہ موت وارد ہو جائے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا۔
دوم:۔ اگر مسیح ناصری امت محمدیہ یا ساری دنیا کے لئے رسول ہو کر آئیں تو پھر قرآن مجید میں سے(اٰل عمران:۵۰)کے الفاظ کاٹ دینے چاہئیں۔کیا ایسی صورت میں قرآن مجید کی نعوذ باﷲ اصلاح کرو گے ۔
پس جس صور ت میں قرآن مجید قیامت تک واجب العمل ہے تو پھر حضرت مسیحؑ ناصری امت محمدیہ یا غیر اسرائیلی دنیا کی طرف نہیں آسکتے۔
سوم:۔امت محمدیہ کو ارشاد ہوتاہے۔(اٰل عمران:۱۱۱) کہ تم سب امتوں سے بہتر ہو۔ اب اگر امت محمدیہ میں سے کوئی عیسیٰ بن مریم نہ بنے تو یہ فرمان بے معنی بن جاتا ہے نیز آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روحانیت کو بھی ناقص ٹھہرانا پڑے گا۔ کیونکہ آپ کی قدوسیت ایک مسیح بھی نہ بنا سکی، بلکہ جب امت اصلاح کی محتاج ہوئی تو بنی اسرائیل کے ایک نبی کے زیر بارِ احسان ہونا پڑا(نعوذباﷲ منہ)
چہارم:۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے آنے والے مسیحؔ اور مسیحؔ ناصری کا جو حلیہ بیان فرمایا ہے۔ وہ بالکل متضاد اور متبائن ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والا مسیح اور ہے مسیح ناصری اور ہے چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔
فَاَمَّا عِیْسٰی فَاَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدْرِ (بخاری جلد ۲ کتاب بدء الخلق با ب واذکر فی الکتاب مریم )کہ مسیح ناصری سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینہ والا تھا۔
پھر آنے والے موعود کے متعلق فرمایا فَاِذَا رَجُلٌ اٰدَمُ کَاَحْسَنِ مَا یُرٰی مِنْ اُدَمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُہٗ بَیْنَ مَنْکَبَیْہِ رَجُلُ الشَّعْرِ (بخاری کتاب بد ء الخلق باب واذکر فی الکتاب مریم) کہ اس کا رنگ گندمی ہو گا۔ اور خوبصورت ہوگا۔ اس کے سر کے بال پیٹھ پر پڑتے ہوں گے۔ درمیانہ قد کا آدمی ہو گا۔
پس معلوم ہوا کہ علیحدہ علیحدہ دو مسیح ہیں۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.