وفات مسیح کے دلائل ۔ عدَمِ رَجُوع مَوتی ۔ مردے دنیا میں واپس نہیں آتے

wafate-maseeh-murde-dunya-men-wapis-nahin-aate-title


مردوں کا اس دنیا میں دوبارہ نہ آنا!

پہلی آیت

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَاۤ اَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴿95﴾

ترجمہ ۔ اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پھر پلٹ سکے

(الانبیاء:۹۶)

یعنی ہر ایک فوت شدہ بستی پر واجب ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف واپس نہ آئیں گے

دوسری آیت

أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ ﴿31﴾

ترجمہ ۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟

(یٰس:۳۲)

کیا ان کو معلوم نہیں کہ ہم نے کس قدر لوگ ان سے پہلے ہلاک کئے اور پھر وہ دوبارہ ان کی طرف نہیں آتے۔

تیسری آیت

فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ ﴿50﴾

ترجمہ ۔ اور اُس وقت یہ وصیت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے

(یٰس:۵۱)

جب موت آجاتی ہے تو نہ وصیت کر سکتے ہیں اور نہ ہی دوبارہ اپنے اہل و عیال کی طرف آسکتے ہیں۔

چوتھی آیت

حَتّٰٓى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِۙ‏ ﴿99﴾

ترجمہ ۔ (یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ “اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں

لَعَلِّىۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًـا فِيۡمَا تَرَكۡتُ‌ؕ كَلَّا‌ ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآٮِٕلُهَا‌ؕ وَمِنۡ وَّرَآٮِٕهِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴿100﴾

ترجمہ ۔ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا” ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک

(المؤمنون:۱۰۰، ۱۰۱)

کہ یہاں تک کہ ان میں سے جب ایک مر جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس لٹا دے تاکہ میں اعمال صالحہ بجا لاؤں (لیکن ) یہ بات ہر گز نہ ہوگی۔ یہ صرف ایک بات ہے جو وہ منہ سے کہہ رہاہے اور ان کے پیچھے ایک روک ہے قیامت کے دن تک۔ یعنی وہ دنیا میں ہرگز نہیں آسکتے۔

پانچویں آیت

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿42﴾

ترجمہ ۔ وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں

(الزمر:۴۳)

اﷲ تعالیٰ روکے رکھتا ہے اس نفس کو جس پر موت کو وارد کرتا ہے، اور سونے والے نفس کو واپس بھیجتا ہے۔ یعنی مردہ نفس دوبارہ کبھی نہیں آتا۔

چھٹی آیت

وَقَالَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡهُمۡ كَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ كَذٰلِكَ يُرِيۡهِمُ اللّٰهُ اَعۡمَالَهُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَيۡهِمۡؕ وَمَا هُمۡ بِخٰرِجِيۡنَ مِنَ النَّارِ ﴿167﴾

ترجمہ ۔ اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں، ہم اِن سے بیزار ہو کر دکھا دیتے یوں اللہ اِن لوگوں کے وہ اعمال جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں، ان کے سامنے اِس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے

(البقرۃ:۱۶۸)

یعنی کہیں گے وہ جنہوں نے پیروی کی بتوں کی، کاش! ہمارے لئے بھی دنیا میں لوٹنا ہوتا تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجاتے جیسے یہ (آج) ہم سے بیزار ہوئے۔ یعنی افسو س کہ دنیا میں ہمیں دوبارہ نہ لوٹایا گیا۔

ساتویں آیت

ثُمَّ اِنَّكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوۡنَؕ ﴿15﴾
ترجمہ ۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر
ثُمَّ اِنَّكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴿16﴾
ترجمہ ۔ پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً تم اٹھائے جاؤ گے

(المؤمنون:۱۶،۱۷)

پھر پیدائش کے بعد تم مرو گے اور مر کر پھر قیامت کے دن ہی اٹھائے جاؤ گے۔ اس سے پہلے ہر گز نہ اٹھائے جاؤ گے۔

آٹھویں آیت

وَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿27﴾
ترجمہ ۔ کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں

(الانعام:۲۸)

کہ جب کفار آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے اے کاش ! ہم دوبارہ دنیا میں لوٹائے جاتے تو نہ اﷲ کی آیات کا انکار کرتے بلکہ مومنوں میں سے ہوتے۔

نوٹ:۔ اس جگہ کوئی یہ نہ کہے کہ یہ تو کفار کے لئے ہے مومن لوٹائے جا سکتے ہیں، تو یاد رہے کہ عقلاً اگر دنیا میں کوئی لوٹایا جانا چاہئے تو وہ کفار ہی ہیں تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں۔ مومنوں کو تو آنے کی ضرورت ہی نہیں۔ پس جب کفار بھی لوٹائے نہ جائیں گے تو ماننا پڑے گا کہ کوئی بھی اس دنیا میں (واپس) نہ آئے گا۔

قرآنِ کریم سے ثا بت ہے کہ مرنے والے انسان کی روح بعد از مرگ فوراً اپنے اعمال کے مطابق جزا سزا پانے لگ جاتی ہے۔ مومنوں کی ارواح اعلیٰ عِلّیین میں اور منکرین کی اسفل السّافلین میں بھیج دی جاتی ہیں۔

ضرورت

اس مضمون کی دو جگہ ضرورت ہوتی ہے ایک تو تب جب وفاتِ مسیح عقلاً نقلاً ثابت ہونے پر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہوا اگر مر گئے تو خدا تعالیٰ پھر زندہ کر دے گا۔ دوسرے عجوبہ پسند لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کو محی الاموات حقیقی معنو ں میں مانتے ہیں۔ تو اس مضمون سے دونوں کی تردید ہو جاتی ہے۔

۱۔قَالَ یَا عَبْدِیْ تَمَنَّ عَلَیَّ اُعْطِکَ قَالَ یَا رَبِّ تُحْیٖنِیْ فَاُقْتَلْ فِیْکَ ثَانِیَۃً قَالَ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی اِنَّہٗ قَدْ سَبَقَ مِنِّیْ اِنَّھُمْ لَا َیرْجِعُوْنَ فَنَزَلَتْ

۔الاٰیۃ

(رواہ الترمذی۔بحوالہ مشکوٰۃ کتاب المناقب باب جامع المناقب)

کہ اﷲ تعالیٰ نے شہید جابرؓ کے باپ کو فرمایا کہ کوئی آرزو کر۔ ا س نے کہا، اے میرے رب مجھے دنیاوی زندگی بخش کہ تیرے راستہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ فرمایا کہ یہ تو میرا قانون ہو چکا ہے کہ یہاں سے دنیا کی طرف نہیں لوٹیں گے۔

– لمَّا قُتِلَ عَبدُ اللَّهِ بنُ عَمرِو بنِ حَرامٍ يَومَ أُحُدٍ، قال رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: يا جابِرُ، ألَا أُخبرُك ما قال اللهُ عَزَّ وجَلَّ لأبيك؟ قُلتُ: بَلى. قال: ما كَلَّمَ اللَّهُ أحَدًا إلَّا مِن وراءِ حِجابٍ، وكَلَّم أباك كِفاحًا، فقال: (يا عَبدي، تَمَنَّ عليَّ أُعطِك). قال: يا رَبِّ، تُحييني فأُقتَلَ فيك ثانيةً، قال: (إنَّه سَبَقَ مِنِّي أنَّهم إلَيها لا يُرجَعونَ)، قال: يا رَبِّ فأبلِغْ مَن ورائي، فأنزَلَ اللهُ عَزَّ وجَلَّ هذه الآيةَ: {ولا تَحسَبنَّ الذينَ قُتِلوا في سَبيلِ اللهِ أمواتًا}، الآيةَ كُلَّها.

ترجمہ ۔ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام کو احد کے دن قتل کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے کیا کہا؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی سے بات نہیں کی مگر پردے کے پیچھے سے، لیکن اس نے آپ کے والد سے براہ راست بات کی، اور فرمایا: (اے میرے بندے، مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا)۔ اس نے کہا: اے رب مجھے زندہ کر تاکہ میں دوسری بار تیری خاطر مارا جاؤں ۔ اس نے کہا: (میری طرف سے یہ پہلے ہی طے ہوچکا ہے کہ وہ اس کی طرف واپس نہیں جائیں گے)۔ اس نے کہا: اے رب، پھر ان لوگوں کو خبر دے جو میرے پیچھے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {اور یہ ہرگز مت سمجھو کہ جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ہیں وہ مردہ ہیں}، پوری آیت۔

jab abdallah ban amaro ban haram ko ahad ke dan qatal kiya gaya to rasol ad sali ad aliya wasalm ne farmaya: aye jabr, kiya min tamahin na bataon kah ad taaala ne tamahare wald se kiya kaha? min ne kaha: han. is ne kaha: ad taaala ne kabhi kasi se bat nihen ki magar parde ke patchhe se, lican is ne aap ke wald se barah raast bat ki, or farmaya: (aye mere bande, majh se mango min tamahin don ga). is ne kaha: aye rab majhe zandah kar taakah min dosari bar tiri khaatir mara jaon . is ne kaha: (meri taraf se ya pehle hi te hochka hay kah wah is ki taraf waps nihen jain ge). is ne kaha: aye rab, phar an logon ko khabar de jo mere patchhe hen. chananchah khuda taaala ne ya aayat naazl farmai: {or ya hargaz mat samjo kah jo log khuda ki raah min mare gaye hen wah mardah hen}, pori aayat.

خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن
الراوي : جابر بن عبد الله | المحدث : ابن النحاس | المصدر : مشارع الأشواق الصفحة أو الرقم : 719
التخريج : أخرجه الترمذي (3010)، وابن ماجه (2800)، وابن أبي عاصم في ((السنة)) (602)، وابن خزيمة في ((التوحيد)) (2/ 890) واللفظ لهم.

مزید تفصیل یہاں دیکھی

حدیث

۲۔ وَ قُلْنَا ادْعُ اللّٰہَ یُحْیِیْہِ لَنَا فَقَالَ اسْتَغْفِرُوْا لِصَاحِبِکُمْ……اِذْھَبُوْا فَدْفِنُوْا صَاحِبَکُمْ (رواہ مسلم بحوالہ مشکوٰۃ مجتبائی صفحہ ۳۶۰باب ما یحل اَکْلُہٗ وما یحرم )

کہ ایک آدمی فوت شدہ کے متعلق صحابہؓ نے آنحضرتؐ کی خدمت میں عرض کی کہحضور! دعا فرمائیں کہ یہ زندہ ہو جائے تو آپ نے فرمایا۔ تمہیں چاہیئے کہ اب اس کے لئے دعائے مغفرت کرو اور دفن کر دو۔

اس حدیث سے صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ اس دنیا میں زندہ کر کے نہیں بھیجتا، انبیاء بھی ایسا نہیں کر سکتے۔ احباب غور کریں کہ اگر حضرت عیسیٰ ؑ فی الواقعہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے تو سرور کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیوں نہ کیا ؟محض اس لئے کہ خدا کے قانون کے برخلاف ہے۔ ھٰذَا ھُوَ الْمُرَادُ ۔

کیونکہ کسی حدیث اور تفسیر اور فقہ وغیرہ میں کسی مسلمان نے ایسے احکام بیان نہیں کئے کہ اگر مردہ دوبارہ لوٹ آئے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ بیوی، مال وغیرہ اس کو ملے گا یا نہیں ؟ پس شریعت کے باوجود مکمل ہونے کے اور فقہاء کا بھی اس کا ذکر نہ کرنا صاف بتاتا ہے کہ یہ عقیدہ ہی باطل ہے۔ وہُوَ المقصود۔

Leave a Reply