سورت 3 آل عمران ۔ آیت 81
وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيۡتُكُمۡ مِّنۡ كِتٰبٍ وَّحِكۡمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمۡ لَـتُؤۡمِنُنَّ بِهٖ وَلَـتَـنۡصُرُنَّهٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰى ذٰ لِكُمۡ اِصۡرِىۡؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴿81﴾
یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ، “آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی” یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا، “کیا تم اِس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟” اُنہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں اللہ نے فرمایا، “اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں
سورت 3 آل عمران 81محمد ﷺ اور سب رسولوں سے یہ عہد لیا گیا ہے کہ سب رسولوں نے سب رسولوں پر ایمان لانا ہے ۔ خود اس آیت کا سیاق و سباق اس بات کو ثابت کرتا ہے ۔
اور قرآن میں بہت سے مثالیں ہیں جہاں محمد ﷺ اپنے سے پہلے انبیاء پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کی ہے
یہاں مزیز مثالیں دیکھی جا سکتی ہیںسورت 33 الاحزاب آیت 7
قرآن میں اس جگہ پر واضح بیان کیا گیا ہے کہ یہ میثاق النبیین محمد ﷺ سے بھی ویسے ہی لیا گیا تھا جیسے دوسری انبیاء سے لیا گیا تھا
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا ﴿7﴾
اور (اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں
سورت 3 آل عمران 81سورت 33 الاحزاب آیت 7 کو سورت الشوریٰ آیت 13 سے بھی جوڑا گیا ہے
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ ﴿ 13 ﴾
اُس نے تمہارے لئے دین میں سے وہی احکام جاری کئے ہیں جن کا اس نے نوح کو بھی تاکیدی حکم دیا تھا۔ اور جو ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی تاکیدی حکم دیا تھا، وہ یہی تھا کہ تم دین کو مضبوطی سے قائم کرو اور اس بارہ میں کوئی اختلاف نہ کرو۔ بہت بھاری ہے مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف تُو اُنہیں بلاتا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے لئے چُن لیتا ہے اور اپنی طرف اُسے ہدایت دیتا ہے جو (اس کی طرف) جُھکتا ہے ۔
ان نیچے دی گئی آیات میں عیسیٰؑ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ انہوں نے دوسرے انبیاء پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کی تھی
سورت 5 المائدہ آیت 46
وَقَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّـلۡمُتَّقِيۡنَ ﴿46﴾
پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی
سورت 61 الصف آیت 6
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿6﴾
اور یاد کرو عیسیٰؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ “اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے
اس سورت 3 آل عمران آیت 81 کی تفسیر مسیح موعودؑ نے یہاں فرمائی ہے یہ بھی دیکھ لیں
۱۷۲
ہم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی اور دیدہ دانستہ خدا پر جھوٹ بولتے ہیں۔سورة ال عمران
چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴۱، ۲۴۲)
وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُم مِّنْ كِتَب وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولُ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ ۖ قَالَ ء اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَ أَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّهِدِينَ
اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر
تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا، تمہیں اس پر
ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہو گئے انہوں نے
کہا کہ ہم نے اقرار کر لیا۔تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس
بات کا گواہ ہوں۔اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو گئے تھے۔یہ حکم ہر نبی کی امت کے لیے ہے کہ
جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ ورنہ مؤاخذہ ہوگا۔اب بتلاویں میاں عبد الحکیم خان نیم ملا خطرہ
ایمان ! کہ اگر صرف توحید خشک سے نجات ہو سکتی تو پھر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے کیوں مؤاخذہ کرے گا
جو گو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے مگر تو حید باری کے قائل ہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۳، ۱۳۴)
قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے جیسا کہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَه، پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کی اُمت ہوئے اور پھر حضرت عیسی کو امتی بنانے کے کیا معنے ہیں؟ اور کون سی خصوصیت ؟ کیا وہ اپنے پہلے
ایمان سے برگشتہ ہو گئے تھے جو تمام نبیوں کے ساتھ لائے تھے تا نعوذ باللہ ! یہ سزا دی گئی کہ زمین پر اتار
کرد و باره تجدید ایمان کرالی جائے مگر دوسرے نبیوں کے لیے وہی پہلا ایمان کافی رہا کیا ایسی کچھی باتیں
اسلام سے تمسخر ہے یا نہیں؟
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۰)
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام
۱۷۳
سورة ال عمران
اس آیت سے بنص صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت مسیح بھی شامل ہیں مامور تھے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاویں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے۔ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر ۵ صفحه ۱۹۱)
تفسیر مسیح موعودؑ سورت آل عمران آیت 81
خلیفۃ المسیح الاول اور میثاق النبیین
محمد ﷺ تمام پیغمبروں کے مصدق ہیں ۔
خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ اور میثاق النبیین
سب نبی محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے ۔
عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ ۔ خلیفۃ المسیح الرابع اور میثاق النبیین
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِفْ قَالُوا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوْا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ القَهِدِينَ ( آل عمران 82:3 )
اور جب اللہ نے نبیوں کا میثاق لیا کہ جبکہ میں تمہیں کتاب اور حکمت دے چکا
ہوں پھر اگر کوئی ایسا رسول تمہارے پاس آئے جو اس بات کی تصدیق کرنے
والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لے آؤ گے اور ضرور اس کی
مدد کرو گے۔کہا کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس بات پر مجھ سے عہد باندھتے ہو؟
انہوں نے کہا (ہاں) ہم اقرار کرتے ہیں۔اس نے کہا پس تم گواہی دو اور
میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔یہاں کتاب سے مراد تو ظاہر ہے وہ آیات الہی ہیں جو نبی پر نازل ہوتی ہیں۔ان میں اوامر بھی
ہوتے ہیں اور نواہی بھی۔اس وحی کو کتاب کہا جاتا ہے اور حکمت اس کتاب میں مضمر وہ فلسفہ ہوتا
ہے جو نبی پر ظاہر فرمایا جاتا ہے اور وہ اپنی امت کو اس کے مطابق تعلیم دیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم
نے آنحضرت ﷺ کے دونوں کام بیان فرمائے۔فرمایا:
يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ الجمعة 3:62)
وہ کتاب کی ظاہری تعلیم بھی دیتا ہے اور اسکا فلسفہ، اس کے پوشیدہ راز بھی ان کو
سمجھاتا ہے۔
اسی طرح ایسے غیر شرعی انبیاء جو بعد میں مبعوث ہوتے ہیں اور نئی کتاب نہیں لاتے وہ بھی کسی
پہلے نبی کی کتاب کی پیروی کرتے ہیں اور ضرورت زمانہ کے لحاظ سے اس کی مزید حکمتیں بیان
کرتے ہیں۔تو فرمایا جب خدا نے نبیوں سے ایک عہد لیا وہ نبیوں والا عہد یہ تھا کہ جب بھی تمہارے
پاس کتاب آئے اور حکمت بھی بیان ہو چکی ہو اور تم یہ مجھ بیٹھے ہو کہ سب کچھ مکمل ہو گیا، کتاب بھی مل
گئی حکمتیں بھی بیان ہو گئیں گویا اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ “ پھر
تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے تو اگر وہ تمہاری مسلمہ کتاب اور اس کتاب کی بیان فرمودہ حکمتوں کی
تصدیق کرتا ہو اور ان سے انحراف کرنے والا نہ ہو۔یہ میثاق اسبين جو سورۃ آل عمران میں تفصیلاً مذکور ہے اسی میثاق النبیین کے متعلق سورة
الاحزاب کی متعلقہ آیت کھلے کھلے لفظوں میں یہ بیان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو
مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ نبیوں کا عہد تجھ سے بھی لیا ہے وَ مِنْكَ ضمناً یہاں یہ سوال
اٹھتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے بعد غیر شرعی مطیع نبی بھی نہیں آسکتے جو آپ کی شریعت کے کامل
مصدق اور تابع ہوں تو پھر آپ سے یہ عہد کیوں لیا گیا کہ اگر آپ کے بعد مصدق نبی ظاہر ہوں تو ان
سے تعاون ہونا چاہیئے ظاہر ہے کہ اس جگہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد آپ کی
وساطت سے امت محمدیہ ہے اور ہر جگہ نبیوں سے لئے ہوئے عہد میں ان کے بعد آنے والے انبیاء
کے تعلق میں انکی امتیں ہی مراد ہوتی ہیں۔ورنہ وہ نبی جو فوت ہو چکا وہ آئندہ آنے والے نبی کی کیسے
تائید کر سکتا ہے۔اہل کتاب سے عہد :
صلى الله
پھر قرآن کریم اہلِ کتاب سے لئے گئے عہد کا الگ ذکر کرتا ہے جو میثاق النبین نہیں ہے بلکہ
جن لوگوں نے کتاب کو تسلیم کر لیا ہے ان کے ساتھ عہد کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔معاہدات کے
تعلق میں کوئی ایک بھی پہلو نہیں جسے قرآن کریم نے تشنہ چھوڑ دیا ہو۔اہلِ کتاب سے لئے گئے عہد کا
ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید فرماتا ہے:
وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَهُ فَنَبَدُوْهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ
(آل عمران 3: 188 )
اب جب اللہ نے ان لوگوں کا میثاق لیا جنہیں کتاب دی گئی کہ تم لوگوں کی
مفتی محمد شفیع دیوبندی اور میثاق النبیین سے حیات مسیحؑ کا جواب
الحق المبین فی تفسیر خاتم النبیین صفحہ 171
میثاق النبیین اہل کتاب سے لیا گیا ۔ قندیل صداقت
میثاق النبیین سورت الاحزاب 7 اور میثاق النبیین آل عمران 81 ۔ بہائیت کے متعلق پانچ مقالے
۲۵۱
۲۵۰
کی روشنی میں یہ مانا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے شجرہ طیبہ
میں سے کسی اعلی شیریں پھیل کو پیدا کر یگا اور پھر نئے مسلمانوں
میں قرآن مجید سے عشق و محبت پیدا ہو گی اور وہ پھر اس پاک
کتاب پر عمل پیرا ہوں گے۔جیسا کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود
علیہ اسلام کی بعثت سے ہوا ہے۔بہر حال آیت دلكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلُ سے نسخ قرآن مجید
پر استدلال کرنا سراسر باطل ہے۔پانچویں آیت
بہائی۔آیت میثاق النبیستین (سورۃ آل عمران : ۸۱) سے ظاہر ہے
کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک رسول آنے وال
ہے اور سورہ احزاب کی ۷ ۸ سے ثابت ہے کہ میثاق جس
طرح اور انبیاء سے لیا گیا تھا اسی طرح آنحضرت مسلے اللہ
علیہ وسلم سے بھی لیا گیا تھا۔پس یہ موجود رسول ناسخ قرآن مجید
ہوا ہو سکتا ہے۔احمدی – جواب اوّل۔سورۃ احزاب میں انبیاء سے جو میثاق
لیا گیا تھا وہ اور ہے اور سورۂ آل عمرانی میں ہی معشاق کا ذکر
ہے وہ اور ہے۔سورۃ احزاب کئے میثاق غلیظ کے
بعد فرمایا ہے۔ليَسلَ الصَّدِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَ
اعد للكفِرِينَ عَذَابًا اليماه یعنی اس اقامت شریعت
کے میثاق کے بارے میں ان انبیاء کی امتوں سے پورا پورا نتوانی
ہوگا اور جواپنے وعدہ میں صادق اور راستبازہ ثابت ہوں گے
ان کو اجر عظیم علیہ گا اور جو کا فر قرار پائیں گے وہ دو دناک عذاب
میں مبتلا ہوں گے۔پس یہ میثاق تو اقامت شریعت کا میثاق ہے
اسلئے اللہ تعالے نے البین کے لفظ کے بعد آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت دولتی و حضرت
یلے پانچ انبیاء کا مخصوص ذکر کیا ہے۔کیونکہ یہ انبیاء تشریعی
سلسلوں کے باقی یا ان کے اہم آخری نبی تھے۔۔سورہ آل عمران میں آیت کے الفاظ یہ ہیں۔
وَإِذْ أَخَذ الله ميثاق النبيِّنَ لَمَا التَكُم مِنْ كِتاو حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولُ مُصَدِّقَ لِمَا مَعَكُمْ لِ مِن بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ وَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُم عَلى ذلِكة اخرى ، قَالُوا أَقْوَرْنَاء قَالَ فَاشْهَدُوا وأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّهِدِينَ –
ترجمہ : یاد کرو جب اللہ تعالٰی نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ
میں نے تم کو کتاب و حکمت دی ہے سو اگر بعد ازاں تمہارے
پاس ایسا رسول آجائے جو تمہاری تعلیم اور پیشگوئیوں کا معتوق
ہو اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی نصرت کرو گے۔فرمایا
۲۵۲
کیا تم نے اقرار کیا اور اس ذمہ داری کو اُٹھالیا ؟ انہوں نے
کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم گواہ رہو
میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں کا
ہما را دعوی ہے کہ اس آیت کریمہ میں جس رسول مصدق
کی آمنہ کی خبر ہے اور جس پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کر نی کا
سب نبیوں سے اقرار کیا گیا تھا وہ ہمارے بعید و مولی حضرت
خاتم النبیین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کیونکہ دوسری جگہ
اللہ تعالی فرماتا ہے۔
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الرَّسُول يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ
تا تو ان گنتم مومنین را تجدید : ، تمہیں کیا
ہو گیا ہے کہ تم اللہ تعالی پر پورے طور پر ایمان نہیں لا رہے،
حالانکہ یہ موجود الرسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کے لئے
پیکار رہا ہے اور اس نے تم سے ایمان لانے کا میثاق لے رکھا
ہے اگر تم مومن ہو۔پھر فرمایا۔الذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيُّ
الأتى الذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُو با عِنْدَهُمْ فِي التَّوراة والانجيل (الاعراف: ۱۵۷) کہ اب رحمت
انہی کے دارت وہی لوگ ہوں گے جو اس عظیم الشان رسول
نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کی پیشگوئی ان کے ہاں قورات
۲۵۳
اور انجیل میں درج شدہ موجود ہے۔پھر سورہ بقرہ میں فرمایا ہے
وَلَمَّا جَاءَ هُم رَسُولُ مِنْ عند الله مُصَدَقَ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أوتوا الكتب كتب اللَّهِ وَرَاءَ ظَهُورِهِمْ كَانَّهُم
لا يعلمون – کہ جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم جواللہ تعالیٰ کی
طرف سے اہل کتاب کی پیشگوئیوں کے رسول مصدق نہیں ظاہر ہوئے
تو اہل کتاب نے کتاب الہی کو یوں نظر انداز کر دیا انہیں اس کا
کچھ علم ہی نہیں۔ان آیات سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کے رو سے آیت
میثاق النبیین میں جس رسول مصدق کا ذکر ہے وہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم ہی ہیں اس لئے کسی ناسخ قرآن رسول کے آئنے کا سوالی
پیدا نہیں ہوتا۔جواب دوه اگر یہ مان لیا ہجائے کہ آیت میثاق
النبيين میں رسول مصدق لما محکم سے مراد آئنڈ آنے
والے رسول ہیں۔تو ظاہر ہے کہ وہ رسول قرآن مجید کی دیگر آیات
کے بیان کے مطابق آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے متبع اور مطیع
رسول ہی ہو سکتے ہیں، نئے شارخ رسول نہیں ہو سکتے۔بھائیوں کے ہاں نہیں دو قسم کے ہیں لکھا ہے : کلیہ انبیاء
بر دو قسم اند یعے بنی بالاستفاد این اند و منبوع ، وقصے دیگر
۳۵۴
غیر مستقل و تابع ، انبیائے مستقبل اصحاب شریعت اندو موتیں
دور جدیدت ومفاوضات عبد البهار ملا اور وہ آیت
خاتم النبیین کے مطابق ہرقسم کے نبیوں کو بند قرار دیتے ہیں۔پس بیائیوں کے نز دیک کسی قسم کا نبی یا رسول نہیں آسکتا۔انڈا
آیت میثاق النبیین سے اپنی کا استدلال غلط ہے۔چ
احمدیہ پاکٹ بک ملک عبد الرحمان خادم گجراتی اور آیت میثاق النبیین
وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ و حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ – قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِمْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا – قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشُّهِدِينَ –
(ال عمران: 82)
ترجمہ : یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا البتہ میں نے تم کو کتاب
اور حکمت دی ہے پس اگر کوئی رسول تمہاری تعلیمات کا مصدق تمہارے پاس
آئے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا۔خدا نے پوچھا کیا تم
تعلیمی پاکٹ بک
116
حصہ اول
اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم
گواہ رہو میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔استدلال :-
اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہر نبی سے قوم کی نمائندگی میں بعد میں آنے
والے نبی کے متعلق ایمان لانے اور نصرت کرنے کے لئے عہد لیا گیا یا یہ عہد ہر نبی
سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لیا گیا۔قرآن مجید میں ہے کہ اسی قسم کا
عہد رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی لیا گیا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيظًا لِيَسْتَلَ الصَّدِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا –
(الاحزاب : 9،8)
ترجمہ یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے بھی اور
نوح، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسی ابن مریم علیہم السلام سے بھی اور ہم نے ان سب
سے مضبوط عہد لیا تا کہ خدا تعالیٰ صادقوں سے ان کی سچائی کے بارے میں
سوال کرے اور اس نے کافروں کیلئے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی نبیوں والا
عہد لیا گیا ہے تا مسلمان آئندہ آنے والے رسول پر ایمان لائیں اور اس کی مدد
تفسیر حسینی میں ہے:۔وَإِذْ اَخَذْنَا یاد کرا سے کہ لیا ہم نے مِنَ النَّبِيِّنَ پیغمبروں سے
مِینَاقَهُمُ عہد اُن کا اس بات پر کہ خدا کی عبادت کریں اور خدا کی عبادت کی
تعلیمی پاکٹ بک
117
حصہ اول
طرف بلائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔۔۔یا ہر ایک کو بشارت دیں
اس پیغمبر کی کہ اُن کے بعد ہوں گے۔اور یہ عہد پیغمبروں سے روز الست میں
لیا تھا۔وَمِنگ اور لیا ہم نے تم سے بھی عہداے محمدؐ۔( تفسیر حسینی اُردو جلد 2 صفحه زیر تفسیر سورۃ الاحزاب: 8)
شیطان کے چیلے ۔ ہادی علی چودھری ۔ میثاق النبیین اور مسیح موعودؑ
میثاق النبیین اور محمد علی
اللہ جل شانہ نے ازل سے ہی اپنے پیغمبروں کا چناؤ کر کے اس منصب پر فائز کیا۔نہ صرف یہ بلکہ اپنے محبوب
اور وجہ وجود کائنات سرکار دو عالم ﷺ کی آمد اور انبیائے کرام سے ان کی تشریف آوری پر ان کی اطاعت پر بھی عہد لے لیا
تھا جیسا کہ قرآن کی آیت سے واضح ہے :
واذ اخذ الله ميثق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم
لـتـومـنـن بـه ولـتـنـصـرنّه قال ء اقررتم واخذتم على ذلكم اصرى قالوا اقررنا قال فاشهدوا وانا
معكم من الشهدين O
(3:81) چنانچہ اسی لئے سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم پانی اور مٹی کے بیچ میں تھے۔“
الفتوی نمبر 23 جنوری 2000ء)
اس آیت کریمہ میں جس میثاق کا ذکر ہے اس میثاق میں دیگر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رسول اللہ
بھی شامل ہیں آنحضرت ﷺ زمرہ انبیاء سے باہر نہیں۔اس لئے یہ قطعی بات ہے کہ اپنے سے بعد
صلى الله
532
میں آنے والے رسول پر ایمان اور اس کی مدد کا وہ عبد اللہ تعالیٰ نے آپ سے بھی لیا تھا۔جس کا یا تو اس نام
نہاد پیر کوعلم ہی نہیں اور یہ اس کی جہالت کی علامت ہے۔یا پھر اس نے
عادتا سچائی کو چھپانے کی جسارت کی
ہے۔وہ آیت کریمہ جو پیر عبدالحفیظ نے اوپر درج کی ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ” اور اس وقت کو بھی یاد
کرو جب اللہ نے ( اہل کتاب سے) سب نبیوں والا پختہ عہد لیا تھا کہ جو بھی کتاب اور حکمت میں تمہیں دوں
پھر تمہارے پاس (ایسا) رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور ہی اس پر
ایمان لانا اور ضرور اس کی مدد کرنا ( اور ) فرمایا تھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے ذمہ
داری قبول کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں (اور ) قال فاشهدوا کہا تم بھی گواہی دو
وانا معكم من الشهدین اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے (ایک گواہ ) ہوں۔اسی عہد اور میثاق کا ذکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ مزید وضاحت فرماتا ہے کہ
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيْمَ وَمُوسَى وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا لِّيَسْئَلَ الصَّدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَأَعَدَّ لِلْكَفِرِيْنَ عَذَابًا أَلِيمًا (الاحزاب آیت 9۔8)
ترجمہ:۔اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے نبیوں سے ان پر عائد کردہ ایک خاص بات کا وعدہ لیا تھا اور تجھ سے بھی
وعدہ لیا تھا) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سب سے ایک پختہ عہد لیا
تھا۔تا کہ بچوں سے ان کے سچ کے متعلق سوال کرے اور کافروں کے لئے اس نے درد ناک عذاب تیار کیا
ہے۔یعنی نبیوں سے جو میثاق لیا گیا تھا، جس کا سورہ آل عمران میں ذکر ہے۔اس کے بارہ میں فرمایا کہ
یہ نبیوں کا میثاق ہم نے ہر نبی سے لیا۔اور میثاق کا مضمون یہ تھا کہ اگر تمہارے بعد کوئی ایسا نبی آئے جو اس
کتاب کی تائید کرے اور اس حکمت کی تائید کرے جو تمہیں عطا کی گئی اور اس کی مخالفت نہ کر رہا ہو تو کیا تم اس
امر کا اقرار کرتے ہو یا نہیں کہ پھر اس کی مخالفت نہیں کرو گے بلکہ اس کی تائید کرو گے ، اس پر ایمان لاؤ گے۔یہاں ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی کی موجودگی میں آئے۔مضمون صاف بتا رہا ہے کہ انبیاء کو
533
تاکیدی حکم دیا جارہا ہے کہ تم امت کو یہ نصیحت کرو گے کہ ہاں جب ایسا شخص آئے جو تمہاری شریعت کا مخالف
نہ ہو، جو تمہاری کتاب کا مخالف نہ ہو بلکہ اس کا مؤید ہو اور اس کی خدمت پر مامور ہو جائے ایسے شخص کا تم نے
انکار نہیں کرنا۔کتنا عظیم الشان عہد ہے۔یہ ذکر پہلے فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر
کے دوبارہ فرماتا ہے: وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنگ اب یادرکھنا اس بات کو کہ جو عہد ہم
:
نے نبیوں سے لیا تھا وہ تجھ سے بھی لیا ہے اور وہ عہد کیا ہے؟ یہی کہ جب کتاب آ جائے اور حکمت کامل ہو
جائے اس کے بعد بھی اگر نبی آئے گا جو مخالف نہیں ہوگا تو اس کی بھی تائید کرنا۔اگر نبیوں کے نہ آنے والا
ایک نیا باب کھلا تھا۔اگر نئی رسمیں جاری ہوئی تھیں تو پھر آنحضرت ﷺ سے اس عہد کے لینے کی کیا
ضرورت تھی کہ نبی آسکتا ہے ہاں شرط یہ ہے کہ تمہاری شریعت سے باہر نہیں ہوگا۔اگر ایسا نبی آئے تو مجھ سے اقرار کرو اور پھر انہوں نے اقرار کیا اور عہد کیا خدا سے کہ ہاں ہم یہی نصیحت کریں گے۔لما معهم
علامہ فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فحاصل الكلام أنّه اوجب على جميع الانبياء الايمان بكلّ رسول جاء مصدّقا
(التفسير الكبير تفسير سورة الاحزاب۔زیر آیت هذه )
ترجمہ:۔اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر یہ واجب کر دیا ہے کہ وہ ہر رسول پر جو ان کی
تصدیق کرتا ہے ایمان لائیں۔کیسا عظیم الشان نکتہ ہے کہ جب تک کسی کتاب کا زمانہ باقی ہے، جب تک کوئی شریعت جاری ہے
اور خدا نے اسے منسوخ نہیں فرمایا، اس وقت تک کسی جھوٹے کا سر پھرا ہوا ہے کہ اس کی تائید میں اٹھ کھڑا ہو
اور اس کی تکمیل کی کوشش شروع کر دے۔جھوٹا تو سچائی کی مخالفت کے لئے آئے گا اس لئے ایسا دعویدار جو
شریعت کی تائید اور تکمیل کے لئے آ رہا ہو اور اپنا سب کچھ اس کی حمایت میں خرچ کر رہا ہو اس کی مخالفت تم
نے ہرگز نہیں کرنی ، اس پر ضرور بالضرور ایمان لانا ہے۔ظاہر بات ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اپنے ایمان
لانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ بذات خود اس زمانے میں موجود ہوں اور نعوذ باللہ پھر کوئی اور نبی
آجائے۔اصل میں یہ عہد قوم سے ہے جس کا نبی سردار ہوتا ہے اس لئے مخاطب ہوتا ہے۔یہ وہ عہد ہے جس
534
کی قوم پابندی کرتی ہے ورنہ انبیاء کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ مخالفت کر
اس عہد کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ نے اپنی امت میں آنے والے کو مسیح کا نام دیا اور اسے ایک
ہی حدیث میں چار بار ”نبی اللہ کے نام سے یاد کیا۔(دیکھیں صحیح مسلم۔کتاب الفتن۔باب ذکر الدجال ) اسی طرح اور
احادیث میں بھی اس نبی کی آمد کی خبر دی۔تا کہ امت آنے والے وجود سے غافل نہ رہے اور جب وہ آئے تو
اس پر ایمان لائے اور اس کی مدد فرمائے۔آپ نے اس حد تک بھی تلقین فرمائی کہ
واذا رايتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج
(سنن ابو داود۔کتاب الفتن۔باب خروج المہدی۔ابن ماجہ۔ایضاً )
کہ اے مسلمانو! جب تم اس کو پاؤ تو فوراً اس کی بیعت کرو خواہ تمہیں برف کے پہاڑوں پر گھٹنوں
کے بل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔اور یہ بھی فرمایا :
” فليقرئه مني السلام “
کہ اسے میری طرف سے سلام کہنا۔66
(الدرالمحور – جلد 2 صفحہ 445 مطبع دار المعرفي للطباعة والنشر بيروت)
پس میثاق النبیین میں امت میں آنے والے اس وجود کا بھی ذکر ہے جس کی آمد کی خبر آنحضرت
نے دی اور اس پر ایمان لانے اور اسے آپ کا سلام پہنچانے کی بھی تاکید فرمائی۔مگر یہ پیغام رسول
سننے کے لئے نہ پیر عبدالحفیظ تیار ہے نہ اس کا مرید راشد علی اور نہ ہی ان کے ہمنوا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ
شیطان کے پیغام سننے کے عادی ہیں۔خدائے رحمان کے نہیں۔
مکمل تبلیغی پاکٹ بک اور آیت میثاق النبیین
تیرھویں آیت:۔وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيْنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ تُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ (ال عمران : ۸۲)
جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں
سے عہد لیا کہ جب تم کو کتاب اور حکمت دے کر بھیجا جائے اور پھر تمہارے پاس ہمارا رسول آئے تو تم
اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔
342
حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّهُ تَعَالَى اَوْجَبَ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ الْإِيْمَانَ بِكُلِّ رَسُولٍ
جَاءَ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمُ ( تفسیر کبیر رازی زیر آیت وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ ال عمران: ۸۱)
یعنی خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر یہ بات واجب کر دی کہ وہ ہر اس رسول پر
ایمان لائیں جوان کی اپنی نبوت کا مصدق ہو۔اب سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عہد لیا گیا یا نہیں۔قرآن مجید میں ہے۔
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيْنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوح وَإِبْراهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى (الاحزاب : ۸)
کہ ہم نے جب نبیوں سے عہد لیا تو آپ سے بھی لیا اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور
عیسی بن مریم علیہم السلام سے بھی یہی عہد لیا۔اگر آپ کے بعد نبوت
بند تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد نہیں لینا چاہیے تھا مگر
آپ سے بھی اس عہد کا لینا امکان نبوت کی دلیل ہے۔ا
راہ ھدیٰ کتاب اور میثاق النبیین ۔ محمد ﷺ کا مسیح موعودؑ پر ایمان لانا
عقیدہ نمبر ۱۶
آنحضرت سے مرزا صاحب پر ایمان لانے کا عہد
اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے الفضل کے حوالہ سے ایک نظم اور ایک نشریر
مشتمل اقتباس درج کیا ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ از روئے قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم سے مسیح موعود پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا ہے۔اور اس کے
بعد لدھیانوی صاحب نے جماعت احمدیہ کے غیر مبائع فریق کے اخبار ” پیغام صلح ” کا ایک
اقتباس درج کیا ہے جس میں ایک غیر مبائع مضمون نگار ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے الفضل
کے مندرجہ بالا اقتباس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ بات مان لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم بھی مسیح موعود پر ایمان لائیں گے تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی
ہے۔اور مسیح موعود کا مرتبہ زیادہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ کم ثابت ہوتا ہے۔جس شاعر کے شعروں پر بھی انہوں نے حملہ کیا ہے اس پر بالعموم ہمارا وہی جواب صادق
آتا ہے جو پہلے ایک شاعر کے شعروں کے بارہ میں دیا گیا۔لیکن فرق صرف یہ ہے کہ ان کے
حملہ میں ایک غیر مبائع لاہوری احمدی بھی مولوی صاحب کا شریک ہو چکا ہے۔قطع نظر اس
کے کہ شاعر قرآن کریم سے کیا سمجھا اور کیا بیان کیا ہم قرآن کریم سے ہی اصل متعلقہ آیت
قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جس کا واضح اور قطعی ترجمہ مسلمہ غیر احمدی علماء کے
ترجمہ کے مطابق حسب ذیل ہے۔وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّيْنَ مِنَاقَهُمْ وَمِنكَ
(سورۃ الاحزاب آیت (۸)
اے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا تھا اور تجھ سے بھی لیا
ہے۔اس آیت کریمہ کو پڑھنے کے بعد کوئی معمولی خوف خدا رکھنے والا مسلمان بھی اس آیت
کو بگاڑ کر پیش نہیں کر سکتا۔
پس جب خدا تعالٰی نے باقی رسولوں کی طرح حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ
وسلم سے بھی عہد لیا تھا تو نعوذ باللہ خدا نے خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی؟
حد سے زیادہ جہالت اور عناد کا غبار مولوی صاحب کے سر کو چڑھا ہوا ہے۔وہ شاعر تو اس
آیت کریمہ کا حوالہ دے رہا ہے اور استدلال کر رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
کسی شخص نے بطور نبی نہیں آنا تھا تو پھر قرآن کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور
پر اس میثاق نبوی میں کیوں شامل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کھلم کھلا یہ اظہار کیوں کرتا ہے کہ
جب ہم نے نبیوں سے اقرار لیا کہ جب وہ نہیں آئیں گے جو پہلوں کی تصدیق کرنے والے ہوں
گے تو پھر ضرور ان پر ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا۔پس یہ ایک علمی نکتہ ہے جو یہاں بیان
ہو رہا ہے اور اگر گستاخی ہے تو مولوی صاحب کو خبردار ہو جانا چاہئے کہ دراصل یہ گستاخی وہ
کلام الہی کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔
۱۳۹
کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیح موعود پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا ؟
اللہ تعالی سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر ۸ میں فرماتا ہے:۔وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ ” – اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا
پختہ عہد لیا اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے بھی یہ پختہ عہد لیا۔تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور کراچی (پاکستان) نے لدھیانوی صاحب کے دیوبندی فرقہ کے ایک
بزرگ شیخ الهند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی کا ترجمہ قرآن کریم شائع کیا ہے۔جس کے
حاشیہ پر دیوبندیوں کے ایک اور بزرگ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی نے تفسیری
“
نوٹس لکھے ہیں۔ہم لدھیانوی صاحب کی راہنمائی کیلئے اس ترجمہ قرآن کریم کے صفحہ ۵۵۷ سے اس آیت
کے نیچے علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی کا نوٹ درج کرتے ہیں۔آپ فائدہ نمبرا کے زیر
عنوان لکھتے ہیں :۔یعنی یہ قول و قرار کہ ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرے گا اور دین کے قائم کرنے
اور حق تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے گا۔آل عمران میں اس میثاق کا ذکر ہو
چکا ہے۔”
لدھیانوی صاحب کے ایک اور بزرگ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی اپنی تفسیر
معارف القرآن جلد ہفتم کے صفحہ ۹۰ پر سورۃ الاحزاب کی اس آیت کے نیچے یہ نوٹ لکھتے ہیں:-
آیت مذکورہ میں جو انبیاء علیہم السلام سے عہد و اقرار لینے کا ذکر ہے وہ اس اقرار عام
کے علاوہ ہے جو ساری مخلوق سے لیا گیا۔جیسا کہ مشکوۃ میں بروایت امام احمد مرفوعاً آیا ہے کہ
خصو ا بميثاق الرسالة والنبوة وهو قوله تعالى واذا خذنا من النيمن ميثاقهم الايه
(یعنی انبیاء سے خصوصی طور پر رسالت اور نبوت کا میثاق لیا گیا ہے۔اور وہ سورۃ احزاب کی
اس آیت میں مذکور ہے واذا خذنا من النبیین میثاقهم – ناقل )۔یہ عہد انبیاء علیهم السلام
سے نبوت و رسالت کے فرائض ادا کرنے اور باہم ایک دوسرے کی تصدیق اور مدد کرنے کا
ا۔اس ترجمہ کے حاشیہ پر سورۃ نساء تک محمود الحسن صاحب کے نوٹ ہیں بقیہ عثمانی صاحب کے ہیں۔
عہد تھا۔جیسا کہ ابن جریر و ابن ابی حاتم و غیرہ نے حضرت قمارہ سے روایت کیا ہے۔”
( تفسیر معارف القرآن از مفتی محمد شفیع جلد ہفتم صفحه ۹۰
زیر عنوان میثاق انبیاء ادارة المعارف کراچی)
لدھیانوی صاحب کے ان دونوں بزرگوں کے دو اقتباسات ہم درج کر چکے ہیں جن سے
پتہ چلتا ہے کہ دونوں ہی اس امر کے قائل ہیں کہ سورۃ احزاب کی اس آیت میں تمام انبیاء
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس میثاق لینے کا ذکر ہے وہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ و سلم سمیت انبیاء سے یہ اقرار لیا گیا تھا کہ تمہارے بعد جو نبی آئے اس پر ایمان لانا اور
اس کی نبوت کی تصدیق کرنا۔یہی مضمون جو لدھیانوی صاحب کے بزرگوں نے بیان کیا ہے
الفضل کے اقتباسات میں درج ہے جس پر لدھیانوی صاحب ناراض ہو رہے ہیں۔سطور بالا میں علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی کا جو اقتباس درج کیا گیا ہے اس میں یہ
ذکر ہے کہ سورۃ احزاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمیت انبیاء سے جو میثاق لیا گیا ہے
وہ سورۃ آل عمران میں مذکور ہے۔قارئین کرام ! آئیے اب ہم سورۃ آل عمران میں اس میثاق کی تفصیل پڑھیں۔وہاں
لکھا ہے:۔وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أَتَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِقَ
لمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنَنَّ بِهِ، وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اقْرَرُنَا
( سورة آل عمران : ۸۲ )
ترجمہ : جب اللہ تعالٰی نے نبیوں سے یہ پختہ عہد لیا کہ میں نے جو تم کو کتاب اور حکمت
دی ہے پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو تمہارے پاس والی کتاب کی تصدیق کرے تو تم
اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کرو گے۔فرمایا کیا تم نے اس عہد کا اقرار کر لیا ہے
اور میرے اس عہد کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔تو انبیاء بولے کہ ہاں ہم نے اقرار کر لیا
معزز قارئین ! سورۃ آل عمران کی اس آیت میں میثاق انسین کے الفاظ آتے ہیں اور
سورۃ احزاب کی آیت ” وَ إِذْ اَخَذْنَا مِنَ البينَ مِنَا لَهُمُ وَمِنكَ ” میں بھی نبیوں کے لئے
۱۴۱
میثاق کا ہی لفظ استعمال ہوا ہے ان دو مقامات کے علاوہ قرآن کریم میں کسی جگہ بھی نبیوں کے
لئے میثاق کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔لہذا یہ دونوں آیات ایک دوسری کی تشریح کر رہی ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ سورۃ احزاب کی آیت میں نبیوں کے میثاق کی تفصیل نہیں بیان کی گئی
اور سورۃ آل عمران کی آیت میں نبیوں سے جو میثاق لیا گیا اس کی تفصیل بیان کی گئی کہ وہ یہ
تھا کہ انبیاء اپنی قوموں کو یہ نصیحت کر جائیں کہ ہمارے بعد جو بھی نبی آئے اس پر ایمان لائیں
اور اس کی امداد کریں۔ان دونوں آیات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سورۃ احزاب کی
آیت میں موجود لفظ ” منک” کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ عہد لیا گیا
ہے کہ آپ کے بعد جو نبی آئے اس پر ایمان لائیں اور اس کی امداد کریں۔اس کی امداد اس
طرح ہو گی کہ اپنی امت کو اس پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے کی نصیحت کر جائیں۔اور انہیں اس کی مدد کرنے کی تلقین کریں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت
کو امام مہدی اور مسیح نبی اللہ کے آنے کی بشارت دی اور اپنی امت کو اس پر ایمان لانے اور
اس کی بیعت کرنے کی تلقین کی۔جیسا کہ فصل دوم کے عقیدہ نمبر ۲ کے جواب میں مفصل ذکر
ہو چکا ہے۔قارئین کرام وہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔شیخ الهند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی سورة آل عمران کی آیت کی تشریح میں فائدہ
نمبر ۳ کے زیر عنوان لکھتے ہیں :-
حق تعالٰی نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے کہ جب تم میں سے کسی
نہی کے بعد دوسرا نبی آئے ( جو یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی اجمالاً یا تفصیلاً تصدیق کرتا
ہوا آئے گا ) تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلے کی صداقت پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔اگر اس کا زمانہ پائے تو بذاتِ خود بھی اور نہ پائے تو اپنی امت کو پوری طرح ہدایت و تاکید کر
جائے کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لا کہ اس کی اعانت و نصرت کرنا۔کہ یہ وصیت کر
جانا بھی اس کی مدد کرنے میں داخل ہے۔” اے
) ترجمه القرآن از شیخ الهند مولانا محمود الحسن صاحب دیو بندی صفحه ۷۸)
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی اس آیت کے نیچے لکھتے ہیں :-
“میثاق کیا ہے ؟ اس کی تصریح تو قرآن نے کر دی ہے لیکن یہ میثاق کس چیز کے بارہ
اب صورة شراء تک شیخ العن صاحب کے نوٹ میں بقیہ سب لوٹ مشرقی صاحب نے کھتے ہیں۔
۱۴۲
میں لیا گیا ہے اس میں اقوال مختلف ہیں حضرت علی اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس
سے مراد نبی علیہ السلام ہیں یعنی اللہ تعالٰی نے یہ عہد تمام انبیاء سے صرف محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کے بارے میں لیا تھا کہ اگر وہ خود ان
کا زمانہ پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی تائید و
نصرت کریں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی یہی ہدایت کر جائیں۔حضرت طاؤس ، حسن بصری اور
قتادہ رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میثاق انبیاء سے اس لئے لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک
دوسرے کی تائید و نصرت کریں (تفسیر ابن کثیر)
اس دوسرے قول کی تائید اللہ تعالی کے قول وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِنَا فَهُمْ وَمِنكَ وَ
مِن نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيْنَا فَا غَلِيظًا (احزاب) سے
بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ عہد ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کیلئے لیا گیا تھا ( تفسیر احمدی)
در حقیقت مذکورہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں ہے اس لئے دونوں ہی مراد لی جا
سکتی ہیں ( تفسیر ابن اکثیر)”
تغییر معارف القرآن جلد ۲ صفحہ نمبر ۹۹ ۱۰۰۰
زیر عنوان میثاق سے کیا مراد ہے ؟)
مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں :
“وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِثَاق النبيين الى ان آیات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اللہ
تعالی نے تمام انبیاء سے یہ پختہ عہد لیا کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے جو
یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہو گا تو پہلے نہی کے لئے ضروری ہے کہ
پچھلے نبی کی سچائی اور نبوت پر ایمان خود بھی لائے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کرے “
( معارف القرآن جلد ۲ صفحہ ۱۰۰)
قرآن کریم کی ان دونوں آیات سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی
یہ عہد لیا گیا تھا کہ آپ کے بعد جو نبی آئے آپ بھی اس پر ایمان لائیں اور اس کی امداد
کریں۔اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مسیح نبی اللہ کی آمد کی
بشارت دی ہے۔اس آیت میں ہر آئندہ آنے والے پر ایمان لانے کا عہد ہے۔مولوی کون ہوتا ہے کہ
۱۳
راستے میں کھڑا ہو جائے بعض اوقات بعد میں آنے والا درجہ میں پہلے سے کم تر ہوتا ہے اگرچہ
رسالت میں برابر ہو۔ورنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی کو آپ سے درجے میں بڑھ کر
ماننا پڑے گا۔پس اگر یہ ابراہیم علیہ السلام سے بھی عہد لیا گیا تو کیا وہ بعد میں آنے والے حضرت اسحق،
حضرت اسماعیل ، حضرت یعقوب حضرت یوسف علیہم السلام پر ایمان لائے تھے کہ نہیں ؟ اگر
لائے تھے تو کیا یہ عقیدہ رکھنا ان کی گستاخی ہے ؟ اسی طرح کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی
نبیوں میں شامل تھے یا نہیں اور ان سے بھی یہ عہد لیا گیا اور کیا وہ اپنے بعد آنے والے نبیوں پر
ایمان لائے یا عہد شکنی کے مرتکب ہوئے ؟ یقیناً ایمان لائے تو اس صورت میں کیا حضرت
واور حضرت سلیمان، حضرت یحی حضرت ذکریا اور حضرت عیسی پر ان کا ایمان لانا ان کی شان
میں گستاخی ہے اور ہتک عزت قرار پاتی ہے ؟
عجیب جاہل مولویوں سے واسطہ پڑا ہے کہ واضح کھلے کھلے قرآنی علوم کو دیکھتے ہیں اور پھر
بھی ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔گستاخی کے مقدمے تو ان لوگوں پر چلنے چاہئیں۔دیکھئے !
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ
رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلَّ أَمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ (بقره آخری رکوع )
کیا اس ” کا ” میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ایمان لانے والے شامل
نہیں۔کیا اس آیت میں یہ اعلان نہیں فرمایا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر
دوسرے مومن کی طرح خدا کے تمام انبیاء پر ایمان لے آئے اور تمام کتابوں پر ایمان لے
آئے یہ ایمان تو تصدیق کے معنی رکھتا ہے ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جس پر ایمان لائے وہ اعلیٰ
اور افضل ہو جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو سب فرشتوں سے بھی افضل تھے حتی کہ
جبریل کو بھی معراج میں پیچھے چھوڑ دیا۔کیا آپ فرشتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے اگر ایمان
لاتے تھے تو ان لدھیانوی صاحب کا کیا فتویٰ ہے بول کر تو دیکھیں
اوضح القرآن ۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر ۔ میثاق النبیین اور مسیح موعودؑ پر ایمان
سے سِرًّا اور امتیوں سے جھرا برائے ایمان و نصرت لیا گیا ہے۔مراد امتِ انبیاء سے علی العموم ہے جس میں
در حقیقت جملہ انبیاء بھی شریک ہیں كَدَأْبِ الْقُرانِ اور مراد یہ ہے کہ جب انبیاء کسی کی تصدیق
کرتے ہوں اور اس کو مانتے ہوں اور ان سے میثاق بھی لیا گیا ہو اور عند اللہ ان کا اقرار اور ایمان بھی
ثابت ہو تو ان کے امتی جو ان کے خادم اور منہ دیکھنے والے ہیں اس بات کو کیوں نہ مانیں؟ ضرور ما نہیں۔یہ
نہیں کہ کوئی نبی سابق اس اقرار سے مستثنی ہے یا وہ اس کا مصداق نہیں یا اس کا متبع اس کو نہ مانے یا نہ مانا ہو بلکہ یہ
آیت بعد آنحضرت علے کے استدلالاً احمدیوں اور غیر احمدیوں کے سامنے پیش ہوتی ہے۔اس مقام پر جہاں
کوئی مسلم شریف کی حدیث کا انکار کرے جو رسول اللہ اللہ کی ایک سچی پیشگوئی عیسی نبی اللہ و مسیح موعود
علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہے اور جس پر تمام جماعت اہلِ اسلام کا اتفاق ہے کہ عیسی نبی اللہ دنیا
میں ضرور ضرور آنے والا ہے اور جس کا مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کو بتایا اور نبی اللہ
اور رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور فرمایا کہ نبی اللہ اور رسول اللہ ہونے کا دعویٰ میں اللہ کی وحی سے کرتا ہوں اور
وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة :) کا مصداق بھی اپنے کو بتایا اور وَمُبَشِّرًا
بِرَسُولٍ يَأْتِ مِنْ بَعْدِى اسْمُةَ أَحْمَدُ (الف) : ) کا الہاماً دعوی کیا کہ میں بھی اس کا مصداق
ہوں کیونکہ آنحضرت ﷺ احمد ہی نہ تھے بلکہ محمد بھی تھے ( ﷺ ) اور یہ بھی فرمایا کہ جس موعود کی آمد آمد کی خبریں
انبیاء سابق نے مختلف ناموں سے دیں وہ میں ہی ہوں۔وَ هذَا آخِرُ حُجَّةٍ مِّنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِين
تفہیمات ربانیہ ۔ میثاق النبیین ۔ شیعہ عقیدہ اور امام مہدیؑ
إِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ ، قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا، قَالَ فَاشْهَدُوا وَانَا مَعَكُمْ مِّنَ الشَّهِدِينَ (آل عمران : ۸۱)
ط
ترجمہ – یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ پختہ عہد لیا کہ میں نے ہی تم
کو کتاب اور حکمت دی ہے۔پس اگر کوئی رسول تمہاری تعلیمات کا مصدق
تمہارے پاس آئے تو اس پر ضرور ایمان لانا اور اس کی ضرور نصرت کرنا۔فرمایا کیا
تم اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا
تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔اس آیت میں نبیوں سے عہد لینے کا ذکر ہے۔مراد یہی ہے کہ ہر نبی کے ذریعہ اس
کی اُمت سے اقرار لیا گیا کہ آنے والے پیغمبر پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت
کرے۔اس آیت میں رَسُولٌ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ “ سے مطلق طور پر ہر آنے والا
رسول مراد ہے اور اس طرح یہ آیت صریح طور پر دلالت کرتی ہے کہ ہر نبی کے بعد نبی کا آنا
ممکن ہے اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ہاں اس آیت میں رَسُولٌ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ ، تنکیر کو نیم شان کے لئے بھی قرار
دیا جا سکتا ہے اور معنی یہ ہوں گے کہ اس میں سب سے بڑے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ
علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے سب امتیں آپ پر ایمان لانے کی مکلف ہیں۔آپ کے بعد کے
انبیاء آپ کے اظلال ہیں اور اس صورت میں آپ کے وجو د باجود میں ہی شامل ہوں گے۔اس صورت میں یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ آنحضرت جملہ نبیوں کے مصدق ہیں
جنہیں دوسری جگہ خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔گویا قرآن مجید سے متعین ہو گیا کہ خاتم
النبیین کے معنی مصدق النبیین کے ہیں وھو المراد۔(۸)
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحِ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوْسٰى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيظًاهِ لِيَسْتَل الصَّدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ ، وَأَعَدَّ لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا المان ( احزاب : ۷-۸)
ترجمہ۔یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے بھی ، نوح،
ابراہیم ، موسیٰ اور عیسی بن مریم علیہم السلام سے بھی۔ہم نے سب سے مضبوط عہد لیا
تا کہ اللہ تعالیٰ صادقوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے۔اس نے
کافروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔“
اس آیت میں صراحت سے فرمایا ہے کہ جن انبیاء سے میثاق لیا گیا اُن میں آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔سورۃ آل عمران والی آیت کو ساتھ ملا کر تدبر کیا جائے تو واضح ہو جاتا
ہے کہ قرآن مجید کے ذریعہ بھی یہ عہد لیا گیا ہے کہ مسلمان آنے والے نبیوں پر ایمان لاتے
رہیں ورنہ سورہ احزاب کی آیت ومنك“ کے الفاظ بے معنی قرار پاتے ہیں مشہور
تفسیر حسینتی میں اس کے معنی یوں لکھے ہیں :-
” وَإِذْ أَخَذُ نَا۔یاد رکھو کہ لیا ہم نے۔مِنَ النَّبِيِّين نبیوں سے۔(767)
مِيْثَاقَهُمْ عہد ان کا اس بات پر کہ خدا کی عبادت کریں اور خدا کی عبادت کی طرف
بلائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔یا ہر ایک کو بشارت دیں
اُس پیغمبر کی کہ ان کے بعد ہوگا۔اور یہ عہد پیغمبروں سے روز الست میں لیا
گیا۔ومنك اور لیا ہم نے تجھ سے بھی عہد اے محمد
( تفسیر حسینی اردو مطبوعه نولکشور جلد ۲ صفحه ۲۵۶)
الحق مباحثہ دہلی ۔ مسیح موعودؑ اور میثاق النبیین
مصدق نبی کے مزید حوالہ جات یہاں دیکھیں
مصدق نبی کے مزید حوالہ جات یہاں دیکھیں
میثاق النبیین کا مضمون الاسلام آرگ آفیشل ویب سائیٹ پر
آیت میثاق النبیین اور تفسیر طبری
آیت میثاق النبیین اور متفرق تفاسیر
میثاق النبیین اور مودودی صاحب کی غلطی ۔ الفضل نومبر دسمبر 1954
الفضل 19 فروری 1923 ۔ میثاق النبیین کی تشریح
ہمارے نزدیک میثاق النبیین کے مصداق محمد ﷺ ہیں ۔ الفضل 19 فروری 1916
میثاق النبی کی تفسیر اور مودودی صاحب ۔ الفضل 21 جنوری 1955
میثاق النبی غیر احمدی تفاسیر
تفسیر احسن البیان ۔ حافظ صلاح الدین یوسف ۔ میثاق النبیین
تفسیر تیسیر القرآن ۔ عبد الرحمان گیلانی ۔ میثاق النبیین
تفسیر تیسیر الرحمان ۔ محمد لقمان السلفی ۔ میثاق النبیین
تفسیر السعدی ۔ عبد الرحمان بن ناصر السعدی ۔ میثاق النبیین
تفسیر ابن کثیر ۔ میثاق النبیین
سورت آل عمران 3 آیت 81
سورت الاحزاب 33 آیت 7 ۔ تمام نبیوں سے عہد لیا گیا اور محمد ﷺ سے بھی
تفسیر ابن کثیر ۔ عربی متن کا لنک
تفسیر فتح المنان ۔ تفسیر حقانی ۔ میثاق النبیین
تفسیر عثمانی ۔ شبیر احمد عثمانی دیوبندی ۔ میثاق النبیین
تفسیر معالم العرفان ۔ صوفی عبد الحمید سواتی ۔ میثاق النبیین
معارف القرآن جلد 2 ۔ مفتی محمد شفیع ۔ مفتی اعظم پاکستان ۔ میثاق النبیین
معارف القرآن جلد 1 ۔ ادریس کاندھلوی ۔ میثاق النبیین
تفسیر مدارک ۔ مدارک التنزیل و حقائق التنزیل ۔ عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی ۔ میثاق النبیین
تفسیر جمالین فی شرح جلالین ۔ جلال الدین سیوطی ۔ میثاق النبیین
درس قرآن جلد 1 دیوبندی ۔ میثاق النبیین
گلدستہ تفاسیر جلد 1 ۔ عبد القیوم ۔ میثاق النبیین
تفسیر در منثور ۔ جلال الدین سیوطی ۔ میثاق النبیین
تفسیر انوار البیان ۔ محمد عاشق الٰہی ۔ میثاق النبیین
میثاق النبیین کی مزید عربی تفسیریں یہاں دیکھیں
میثاق النبیین کی مزید عربی تفسیریں یہاں دیکھیں
سورت 33 الاحزاب آیت 7 ۔ غیر احمدی تفاسیر ۔ میثاق النبیین کے حوالے
تفسیر احسن ابیان ۔ میثاق النبیین
میثاق النبیین اور غیر احمدی کتب
میثاق النبیین ۔ مفتی اعظم ہندوستان ۔ محمد مظہر اللہ
قرآن میں محمد ﷺ کے مصدق ہونے کے حوالے یہاں دیکھیں
السلام آرگ آفیشل ویب سائیٹ پر دیا گیا آرٹیکل
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.