رد شیعہ مذہب ۔ خلفائے ثلاثہ کا ایمان از روئے قرآن

رد شیعہ مذہب ۔ خلفائے ثلاثہ کا ایمان از روئے قرآن


۱۔ (البقرۃ:۲۱۹)

ترجمہ:۔تحقیق جو ایمان لائے اور جنہوں نے جہاد کیا راہ خدا میں وہی امید رکھتے ہیں رحمت الٰہی کی اور ابخشنے والا مہربان ہے۔

۲۔ (المائدۃ:۵۷)

ترجمہ:۔اور جو دوست رکھے ااور اس کے رسول کو اور ان کو جو ایمان لائے ۔پس یقیناً گروہ اہی کا غالب ہے۔

۳۔ (التوبۃ:۲۰) جو کہ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا راہ خدا میں اپنے ما لوں اور اپنے جانوں سے بڑے درجے ہیں اکے حضور اور یہی ہیں مراد پانے والے۔

ہر سہ خلفاء مہاجر اور مجاہد تھے۔ضروری تھا کہ اس وعدہ الٰہی کے مطابق ان کو وہ درجات ملتے۔ اور چونکہ وہ آخر تک کامیاب ہوئے اس لئے ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کا وعدہ پورا ہوا۔

۴۔……الآیہ (آل عمران:۱۹۶)

ترجمہ:۔پس جنہوں نے ہجرت کی اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میری راہ میں تکلیف دی گئی اور انہوں نے جنگ کی اور مارے گئے۔میں ان کی بدیوں (کے اثر) کو ان (کے جسم) سے یقیناً مٹادوں گا اور میں انہیں یقینا ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (یہ انعام) اکی طرف سے بدلہ کے طور پر ملے گا اور اتو وہ ہے جس کے پاس بہترین جزا ہے۔

۵۔ (الاحزاب:۶۱)

ترجمہ:۔ اگر باز نہ رہیں گے منافق اور وہ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور بد خبر اڑانے والے شہر میں البتہ لگا دیں گے ہم تجھ کو ان کے پیچھے۔پھر نہ قریب پھٹکنے پاویں گے تیرے اس شہر میں مگربہت کم۔

اگر خلفاء بخیال شیعوں کے منافق تھے تو ضرور تھا کہ آنحضرتان سے جہاد کرتے اور ان کو آنحضرت کے قریب رہنے کا موقع نہ ملتا۔

۶۔ (التوبۃ:۷۳) مگر چونکہ اس قسم کا کوئی جہاد ثابت نہیں اور نہ ہی یہ خلفاء آپ سے تا وفات الگ ہوئے بلکہ وفات کے بعد بھی تا ایں دم قبر میں بھی ساتھ رہے۔اس لئے ثابت ہوا کہ موجب قرآن یہ مومن تھے۔

۷۔ (الفتح:۱۹) چونکہ تحت الشجرۃ کے حاضرین میں سے یہ خلفاء بھی تھے اس لئے ثابت ہوا کہ آپ ہی کو رضی اکا سر ٹیفکیٹ ملا۔

۸۔ (النور:۵۶) چونکہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے بعد اسلام دور دراز ملکوں میں پھیلا اور اسلام نے وہ موعودہ زور اور عروج پکڑا ۔اور وعدہ الٰہی تھا کہ مومنوں کے ذریعہ اسلام تمکنت پکڑے گا پس خلفاء کا ایمان ثابت ہے۔

۹۔ (المجادلۃ:۲۳) جن کی روح القدس سے تائید کی ان میں یہ خلفاء بھی تھے اور یہی حزب اٹھہرے۔

۱۰۔ (التوبۃ:۴۰) یہ یار غار حضرت ابو بکر صدیق تھے جن پر اتعالےٰ نے سکینت اتاری اور آنحضرت صلی اعلیہ وسلم نے انہی کو اپنا رفیق الطریق بنایا۔

شیعہ مفسرین نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ ہی اُس وقت آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے ساتھ غار ثور میں موجود تھے اور صَاحِبِہٖ سے مراد آپ ہی ہیں (دیکھو تفسیر مجمع البیان از شیخ ابی الفضل الحسن الطبری و تفسیر صافی از علامہ کاشانی سورہ توبہ زیر آیت (توبہ:۴۰)


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply