غیر احمدی علماء کے اعتراضات کے جوابات
(الہامات پر اعتراضات )
اعتراض۔ انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توہین ہے ۔ ۳۔اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ۔
جواب (۱)’’توحید‘‘ اور ’’تفرید‘‘ مصدر ہیں۔ جن کا ترجمہ ہوگا ’’واحد جاننا‘‘ اور ’’یکتا جاننا‘‘۔ پس الہام کا مطلب یہ ہے کہ تُو خدا کو واحد اور یکتا جاننے کے مقام پر ہے۔ یعنی اپنے زمانہ میں سب سے بڑا موحد ہے۔ فلااعتراض؟
(۲)حضرت مرزا صاحب نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں :۔
’’ تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور ایسا ہی میں تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی توحید اور تفرید کو۔‘‘
(اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ۴۱۳)
(۳)حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے :۔
’’تاجِ کرامت میرے سر پر رکھ کر توحید کادروازہ مجھ پر کھول دیا۔ جب مجھ کو میری صفات کے اس کی صفات میں مل جانے کی اطلاع ہوئی تو اپنی خودی سے مشرف فرما کر اپنی بارگاہ سے میرا نام رکھا۔ دُوئی اٹھ گئی اور یکتائی ظاہر ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ جو تیری رضا وہی میری رضا ہے ۔……حالت یہاں تک پہنچی کہ ظاہر وباطن سرائے بشریت کو خالی پایا۔ سینۂ ظلمانی میں ایک سوراخ کھول دیا ۔مجھ کو تجرید اور توحید کی زبان دی ۔تو اب ضرور میری زبان لُطفِ صمدی سے اور میرا دل نُورِ ربّانی سے اور آنکھ صنعت یزدانی سے ہے ۔اسی کی مدد سے کہتا ہوں اور اسی کی قوت سے پھرتا ہوں ۔جب اس کے ساتھ زندہ ہوں تو ہرگز نہ مروں گا ۔جب اس مقام پر پہنچ گیا ۔تو میرا اشارہ ازلی ہے اور عبادت ابدی۔ میری زبان، زبانِ توحیدہے اور روح، روحِ تجرید ۔اپنے آپ سے نہیں کہتا کہ بات کرنے والا ہوں اور نہ آپ کہتا ہوں کہ ذکر کرنے والا ہوں۔ زبان کو وہ حرکت دیتا ہے ۔میں درمیان میں ترجمان ہوں۔ حقیقت میں وہ ہے نہ میں۔‘‘
(ظہیر الاصفیاء ترجمہ اردو تذکرۃ الاولیاء ۔چودھواں باب۔ ذکر معراج شیخ بایزید بسطامی ؒ مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور ’’بارسوم‘‘ صفحہ ۱۶۵،۱۵۷۔وتذکر ۃ الاولیاء اردوشائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سننر مطبوعہ مطبع علمی لاہور صفحہ ۱۳۰)
نوٹ :حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اﷲ علیہ کی عظیم شخصیت کے متعلق نوٹ دوسری جگہ زیرِعنوان ’’حجر اسود منم‘‘ صفحہ ۶۶۲و۶۴۶پر ملاحظہ فرمائیں ۔
اعتراض ۔ انت من ماءنا و ھم من فشل ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توہین ہے ۔ اَنْتَ مِنْ مَّآءِ نَا وَھُمْ مِّنْ فَشَلٍ
جواب۱:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کایہ مفہوم بتایا ہے :۔
’’ اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کا پانی، تقویٰ کا پانی، وفا کا پانی، صدق کا پانی، حُبّ اللّٰہ کا پانی ہے جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔‘‘
(انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۵۶ حاشیہ)
۲۔قرآن مجید میں ہے (الانبیاء :۳۸)اس کی تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے کہ:۔
اَنَّہٗ لِکَثْرَۃِ عَجَلِہٖ فِیْ اَحْوَالِہٖ کَاَنَّہٗ خُلِقَ مِنْہُ۔ (جلالین مع کمالین زیرآیت خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ۔ الانبیاء:۳۷)
کہ انسان اپنی مختلف حالتوں میں بڑی جلد بازی سے کام لیتا ہے۔ گویا کہ اسی سے پیدا ہوا۔ یہ نہیں کہ انسان جلدی کا بیٹا ہے ۔
۳۔خدا کا پانی الہام الٰہی اور محبت الٰہی کو بھی کہتے ہیں۔ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی نے فرمایا ہے
ایک عالَم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر
پھیر دے اب میرے مولیٰ ا س طرف دریا کی دھار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۱۲۹)
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:۔
فَإِنْ شِئْتَ مَاءَ اللّٰہِ فَاقْصِدْ مَنَاہَلِیْ
فَیُعْطِکَ مِنْ عَیْنٍ وَعَیْنُ تُنَوَّرُ
(کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ۸۱)
اگر تو خدا کا پانی چاہتا ہے تو میرے چشمے کی طرف آ۔پس تجھ کو چشمہ دیا جائے گا ۔نیز وہ آنکھ بھی ملے گی جو نورانی ہوگی۔ (نیز دیکھو درثمین عربی صفحہ۳۳)اس جگہ بھی ’’خدا کے پانی‘‘ سے مراد رضائے الٰہی ہے۔ پس الہام مندرجہ عنوان میں بھی یہی مراد ہے ۔
اعتراض ۔ ربنا عاج ۔ اس الہام میں اللہ تعا لیٰ کی توہین ہے ۔ رَبُّنَا عَاجٌّ
جواب:۔ یہ لفظ ’’عاج‘‘ (ہاتھی دانت)نہیں بلکہ ’’عاجّ‘‘ بہ تشدید ج ہے جس کا ترجمہ ’’پکارنے والا۔ آواز دینے والا‘‘ ہے۔ یہ لفظ عجسے مشتق ہے۔ دیکھئے لغت میں ’’عَجَّ۔ عَجًّا وَعَجِیْجًا ‘‘ آواز کرد۔ بانگ کرد۔ وَمِنْہُ الْحَدِیْثُ اَفْضَلُ الْحَجِّ اَلْعَجُّ وَالثَّجُّ یعنی برداشتن آواز بہ تلبیہ وقربان کردن ہدیہ را (منتہی العرب والفرائد الدرّیہ )کہ عَجَّ۔ عَجًّا وَعَجِیْجًا کے معنے آواز دینے اور پکارنے کے ہیں ۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حج میں افضل ترین آواز دینا (تلبیہ اور لبیک کہنا)اور قربانی دینا ہے۔ الہام کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا خدا دنیا کو اپنی طرف بلاتا ہے ۔
اعتراض۔ اسمع ولدی ۔ اے میرے بیٹے سن! (البشریٰ جلد ۱صفحہ۴۹) اس میں اللہ کی توہین ہے اور توحید کے خلاف ہے ۔
جواب۔ الف۔یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کا کوئی الہام اِسْمَعْ وَلَدِیْ ہے۔ حضرتؑ کی کسی کتاب سے دکھاؤاور انعام لو۔
ب۔حضرت اقدس علیہ السلام کا الہام تو اَسْمَعُ وَاَرٰی ہے کہ میں اﷲ سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں (مکتوبات احمدیہ جلد ۱ صفحہ۲۳۔ نیز انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۵۴)(قرآن مجید کی آیت ہے طٰہٰ :۴۷)
ج۔معترض نے جس کتاب کا حوالہ دیا ہے وہ حضرت اقدس علیہ السلام کی تالیف یا تصنیف نہیں بلکہ بابو منظور الٰہی کی مرتّبہ ہے۔ اس میں انہوں نے جلد ۱ صفحہ۴۹پر حوالہ دیاہے کہ حضرت مرزا صاحب کے مکتوبات جلد ۱ صفحہ۲۳ سے یہ الہام نقل کیا گیا ہے مگر اصل کتاب مکتوبات میں ’’اِسْمَعْ وَلَدِیْ ‘‘ نہیں بلکہ ’’اَسْمَعُ وَاَرٰی ‘‘ ہے ۔بابو منظور الٰہی صاحب کی مرتّبہ کتاب البشرٰی میں کاتب کی غلطی سے وَاَرٰی کی بجائے وَلَدِیْ بن گیا۔ حضرت اقدسؑ کی کسی کتاب میں ’’وَلَدِیْ‘‘ نہیں ہے۔ بابو منظور الٰہی صاحب نے ’’الفضل‘‘ جلد ۹ صفحہ۹۶ میں اس غلطی کا اعتراف کیا ہے کہ البشریٰ جلد ۱ صفحہ۴۹ سطر ۱۰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاالہام غلطی سے اَسْمَعُ وَاَرٰیکی بجائے اِسْمَعْ وَلَدِیْ چھپا ہے اور ترجمہ بھی غلط کیا گیا ہے ۔
اعتراض ۔ انت اسمی الاعلیٰ ۔ یعنی تو میرا سب سے بڑا نام یعنی خدا ہے ۔ یہ اللہ کی توہین ہے ۔ ۔اَنْتَ اِسْمِیَ الْاَعْلٰی
جواب۱ :۔ ترجمہ غلط ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اس کا ترجمہ کر دیا ہے۔ ’’ تو میرے اسم اعلیٰ کا مظہر ہے یعنی ہمیشہ تجھ کو غلبہ ہوگا۔‘‘(تریاق القلوب ۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۳۱۵)
۲۔گویا اس الہام میں قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ اﷲ اورا س کے رسول ہی غالب رہیں گے ۔
۳۔حضرت غوث الاعظم سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کو مندرجہ ذیل الہام الٰہی ہوا :۔
’’فَجَآءَ الْخِطَابُ مِنَ الرَّبِّ الْقَدِیْرِ اُطْلُبْ مَاتَطْلُبُ فَقَدْ اَعْطَیْنٰکَ عِوَضًا عَنْ اِنْکِسَارِ قَلْبِکَ……فَجَآءَ ہُ الْخِطَابُ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْقَدِیْرِ جَعَلْتُ اَسْمَآءَ کَ مِثْلَ اَسْمَآئِیْ فِی الثَّوَابِ وَالتَّاثِیْرِ وَمَنْ قَرَأَ اِسْمًا مِنْ اَسْمَآءِ کَ فَھُوَ کَمَنْ قَرَأَ اِسْمًا مِنْ اَسْمَآئِیْ ‘‘ (رسالہ حقیقۃ الحقائق بحوالہ کتاب مناقب تاج الاولیاء و برہان الاصفیاء القطب الربّانی والغوث الصمدانی عبدالقادر الکیلانی۔مصنفہ علامہ عبدا لقادر بن محی الدین الاربلی مطبوعہ مطبع عیسیٰ البانی الحلبی مصر صفحہ۱۷)اﷲ تعالیٰ نے حضرت سید عبدا لقادر رحمۃ اﷲ علیہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ :۔
’’تیرے دل کے انکسار کے باعث میں تجھے یہ کہتا ہوں کہ جو تو چاہتا ہے مانگ وہ میں تجھے دوں گا……پھر اﷲ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ (اے عبدا لقادر!) میں نے ثواب اور تاثیر میں تیرے ناموں کو اپنے ناموں کی طرح بنا دیا ہے پس جو شخص تیرے ناموں میں سے کوئی نام لے گا گویا اس نے میرا نام لیا ۔‘‘
۴۔حضرت محی الدین ابن عربی ؒ اپنی کتاب ’’فصوص الحکم‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں :۔
’’حضرت امیر المومنین اما م المتقین علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ…… خطبہ لوگوں کو سنا رہے تھے کہ میں ہی اسم اﷲ سے لفظ دیا گیا ہوں اور میں ہی اس اﷲ کا پہلو ہوں جس میں تم نے افراط وتفریط کی ہے۔ اور میں ہی قلم ہوں اور میں ہی لوحِ محفوظ ہوں۔ اور میں ہی عرش ہوں۔ اور میں ہی کرسی ہوں۔ او رمیں ہی ساتوں آسمان ہوں۔ اور میں ہی ساتوں زمین ہوں۔ ‘‘
(فصوص الحکم مترجم اردو شائع کردہ شیخ جلا ل الدین سراج دین تاجران کتب لاہور ۱۳۲۱ھ مطبوعہ مطبع مجتبائی صفحہ۶۰ و۶۱ مقدمہ فصل ششم ’’عالم انسانی کی حقیقت ‘‘)
۵۔’’اسم‘‘ کے معنے اس الہام میں ’’صفت‘‘ کے ہیں ۔جیسا کہ اس حدیث میں ’’اِنَّ لِیْ اَسْمَآءً……اَنَاالْمَاحِیُ ‘‘ کہ میرے کئی نام ہیں……میں مآحی ہوں جس سے کفر کو مٹایا جائے گا۔ یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی صفت ہے۔پس اس الہام میں اس صفت کی طرف اشارہ ہے جو ’’اَعْلٰی‘‘ یعنی سب پر غالب آنے والی ہے ۔چونکہ ہر نبی خدا کی اس صفت کا مظہر ہوتا ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس صفت کا مظہر قرار دیا ہے ۔
اعتراض ۔ اعمل ماشئت فانی قد غفرت لک ۔ یعنی جو مرضی کرتا رہ تیرے سارے گناہ معاف ہو گئے ہیں۔
جواب:۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ لَعَلَّّ اللّٰہَ اِطَّلَعَ عَلٰی ٰاَھْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اِعْمَلُوْا مَاشِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَکُمُ الْجَنَّۃُ اَوْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ (بخاری کتا ب المغازی باب فَضْلِ مَنْ شَھِدَ بَدْرًا۔ومسلم کتاب الفضائل باب فضائل اہل بدر ومشکوٰۃ مجتبائی صفحہ۵۷۷)کہ اﷲ تعالیٰ اہل بدر پر واقف ہوا۔ اور کہا کہ جو چاہو کرو۔ اب تم پر جنت واجب ہوگئی یا یہ فرمایا کہ میں نے تم کو بخش دیا۔
ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کے مقبولوں پر ایک وہ حالت آتی ہے جب بدی اور گناہ سے ان کو انتہائی بُعد ہوجاتا ہے اور اس پر انتہائی کراہت ان کی فطرت میں داخل کردی جاتی ہے ۔فلا اعتراض
۲۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کی تفسیر فرمادی ہے ۔
’’اس آخری فقرہ کا یہ مطلب نہیں کہ منہیات شرعیہ تجھے حلال ہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تیری نظر میں منہیات مکروہ کئے گئے ہیں اور اعمال صالحہ کی محبت تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔ گویا جو خدا کی مرضی ہے وہ بندہ کی مرضی بنائی گئی اور سب ایمانیات اس کی نظر میں بطور فطرتی تقاضا کے محبوب کی گئی۔ وذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۶۶۹بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۴ نیز الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۴)
اعتراض۔ کن فیکون ۔ یہ الہام تو خدائی کا دعویٰ ہے۔ کُنْ فَیَکُوْنُ
یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تو ہے مگر اس کے پہلے ’’قُلْ‘‘ محذوف ہے۔ جس طرح سورۃ الفاتحہ کے پہلے ’’قُلْ‘‘ محذوف ہے۔ یعنی یہ خداتعالیٰ نے اپنے متعلق فرمایا ہے۔ یہ اعتراض تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی آریہ کہہ دے کہ دیکھو محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا بھی میری عبادت کرتا ہے۔ کیونکہ خدا اس کو کہتا ہے۔ ۔ مَا ھُوَ جَوَابُکُمْ فَھُوَ جَوَابُنَا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔
’’یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا یہ میری طرف سے نہیں ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۱۲۳،۱۲۴)
۲۔اگر مندرجہ بالا جواب تسلیم نہ کرو تو حضرت ’’پیرانِ پیر‘‘ جناب سید عبدا لقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کا یہ ارشاد پڑھ لو :۔
الف۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی فِیْ بَعْضِ کُتُبِہٖ یَا ابْنَ اٰدَمَ اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا اَقُوْلُ لِلشَّیْءِ کُنْ فَیَکُوْنُ وَ اَطِعْنِیْ اَجْعَلُکَ تَقُوْلُ لِلشَّیْءِ کُنْ فَیَکُوْنُ وَقَدْ فَعَلَ ذٰلِکَ بِکَثِیْرٍ مِّنْ اَنْبِیَآئِہٖ وَ اَوْلِیَاءِ ہٖ وَخَوَاصِہٖ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ۔‘‘
(فتوح الغیب مقالہ نمبر ۱۶ وبرحاشیہ قلائد الجواہر فی مناقب الشیخ عبد القادر مطبوعہ مصر صفحہ۳۱)
ب۔ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیْکَ التَّکْوِیْنُ فَتَکُوْنُ بِالْاِذْنِ الصَّرِیْحِ الَّذِیْ لَاغَبَارَعَلَیْہِ۔ (ایضاً)
ہر دو عربی عبارٹوں کا ترجمہ ندائے غیب ترجمہ اردو فتوح الغیب مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور کے صفحہ۲۴ پر یہ درج ہے :۔
’’اﷲ تعالیٰ نے بعض کتابوں میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے بنی آدم میں اﷲ ہوں اور نہیں میرے سوا کوئی دوسرا معبود۔ میں جس چیز کو کہتا ہوں کہ ہو جا ۔وہ ہوجاتی ہے۔ تُو میری فرمانبرداری کر تجھے بھی ایسا ہی کردوں گا کہ جس چیز کو توکہے گا ہوجا۔ وہ ہوجائے گی۔ اور اﷲ تعالیٰ نے بنی آدم سے کئی نبیوں اور ولیوں کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے ۔
غرضیکہ اس کے بعد تجھ کو درجہ تکوین (یعنی کُنْ فَیَکُوْنُ کرنے کا۔ خادم ؔ) عطا ہوگا۔ اور تو اپنے ہی حکم اور اذنِ صریح سے پیدا کر سکے گا ۔‘‘ (ندائے غیب صفحہ۲۴ مترجم صفحہ ۳۲از سید عبدالقادر جیلانی ؒ)
۳۔جناب ڈاکٹر سر محمد اقبال بالِ جبریل میں فرماتے ہیں:۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اعتراض ۔ لو لاک لما خلقت الافلاک ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہے ۔ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ
جواب :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح فرماتے ہیں :۔
۱۔’’ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جاتی ہے یعنی ملائک کو اس کے مقاصد کی خدمت میں لگا یا جاتا ہے اور زمین پر مستعد طبیعتیں پیدا کی جاتی ہیں پس یہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۱۰۲ حاشیہ)
۲۔حضرت پیرانِ پیر غوث الاعظم سیّد عبدا لقادر جیلانی رحمۃاﷲ علیہ اولیاء اﷲ اور واصل باﷲ لوگوں کی تعریف میں فرماتے ہیں جو فتوح الغیب میں درج ہے۔ ’’بِھِمْ ثَبَاتُ الْاَرْضِ وَالسَّمَآءِ وَقَرَارُ الْمَوْتٰی وَالْاَحْیَآءَ اِذْ جَعَلَھُمْ مَلِیْکَھُمْ اَوْتَادًا لِلْاَرْضِ الَّتِیْ دَحَی فَکُلٌّ کَالْجَبَلِ الَّذِیْ رَسَا ۔ ‘‘ (فتوح الغیب مقالہ ۱۴ آخری سطور نیز قلائد الجواہر حاشیہ صفحہ۲۸)
ترجمہ :۔ انہیں ہی کی وجہ سے زمین وآسمان اور زندوں اور مردوں کا قیام ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ان کو گستردۂ زمین کے لئے بطور میخ کے بنایا ہے اور ان میں سے ہر ایک کوہِ وقار ہے ۔
(ندائے غیب ترجمہ از اردو فتوح الغیب صفحہ۲۲مترجم ۲۹از سید عبدالقادر جیلانی ؒ)
۳۔حضرت سیّد عبدا لقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں :۔
’’بِھِمْ تَمْطُرُ السَّمَآءُ وَتُنْبِتُ الْاَرْضُ وَھُمْ شَمِنُ الْبَدْوِ وَالْعِبَادِ بِھِمْ یُدْفَعُ الْبَلَاءُ عَنِ الْخَلْقِ ‘‘ (رسالہ الفتح الربانی والفیض الرحمانی کلام الشیخ عبد القادر جیلانی مطبوعہ میمینہ مصر جلد ۱۲،۱۴)یعنی انہی اولیاء اﷲ ہی کی وجہ سے آسمان بارش برساتا اور زمین نباتات اگاتی ہے اور وہ ملکوں اور انسانوں کے محافظ ہیں اور انہی کی وجہ سے مخلوقات پر سے بلا ٹلتی ہے ۔
۴۔حضرت امام ربّانی مجدّد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :۔
’’ایشاں امانِ اہل ارض اند وغنیمتِ روزگار اند۔ بِھِمْ یُمْطَرُوْنَ وَبِھِمْ یُرْزَقُوْنَ درشانِ شاں است ۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی جلد ۲ مکتوب نمبر ۹۲)
۵۔ڈاکٹر سر محمد اقبال فرماتے ہیں :۔
عالَم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث
مومن نہیں جو ’’صاحب ِلولاک‘‘ نہیں ہے
(بالِ جبریل صفحہ نمبر۱۰)
پھر فرماتے ہیں
جہاں تمام ہے میراث مردِ مومن کی
مرے کلام پہ حجت ہے نکتۂ لولاک
(بالِ جبریل صفحہ نمبر۴۶)
اعتراض۔ مسیح و مہدی مرزا غلام احمد علیہ السلام نے کہا کہ زمین و آسمان کو بنایا ۔
جواب نمبر۱:۔یہ بھی مندرجہ بالاکشف ہی کا حصہ ہے اور حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی خواب کے ضمن میں لکھا ہے کہ میں نے خواب ہی میں زمین وآسمان بنایا اور اس کی تعبیر بھی حضور ؑ نے اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ۵۶۶ پر اس خواب کو نقل فرما کر یہ تحریر کی ہے ۔
’’اِنَّ ھٰذَا الْخَلْقَ الَّذِیْ رَأَیْتُہُ إِشَارَۃً اِلٰی تَائِیْدَاتِ سَمَاوِیَّۃٍ وَ أَرْضِیَّۃٍ ‘‘ کہ یہ زمین وآسمان جو میں نے خواب میں دیکھے ہیں ۔یہ تو اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ آسمانی اور زمینی تائیدات میرے ساتھ ہوں گی ۔
نمبر۲:۔پھر آپ اپنی کتاب چشمہ مسیحی صفحہ۳۵ حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں :۔
’’ایک دفعہ کشفی رنگ میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا۔ اور پھر مَیں نے کہا کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں اس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا حالانکہ اُس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے۔ اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔‘‘
(چشمہ مسیحی۔ روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۳۷۵،۳۷۶حاشیہ)
نمبر۳: پھر فرمایا :۔’’ خدا نے ارادہ کیا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بناوے۔ وہ کیا ہے نیا آسمان؟ اور کیا ہے نئی زمین؟ نئی زمین وہ پاک دل ہیں جن کو خدا اپنے ہاتھ سے تیار کر رہا ہے جو خدا سے ظاہر ہوئے اور خدا اُن سے ظاہر ہوگا۔ اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اس کے بندے کے ہاتھ سے اُسی کے اِذن سے ظاہر ہو رہے ہیں۔‘‘ (کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۷)
’’ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جاتی ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۱۰۲)
(۴)انہی معنوں میں یہ محاورہ کتب سابقہ انجیل میں بھی مستعمل ہوا ہے ۔
’’اس وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی ۔ ‘‘ (۲۔پطرس باب۳ آیت۱۳)
جناب ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم فرماتے ہیں
زندہ دل سے نہیں پوشیدہ ضمیر تقدیر خواب میں دیکھتا ہے عالم نو کی تصویر
اور جب بانگ اذاں کرتی ہے بیدار اسے کرتا ہے خواب میں دیکھی ہوئی دنیا تعمیر
(ضربِ کلیم نظم بہ عنوان ’’عالم نو‘‘)
اعتراض۔ یتم اسمک و لایتم اسمی۔ تیرا نام پورا ہوجائے گا ۔مگر میرا (خدا کا) نام پورا نہ ہوگا۔ یَتِمُّ اِسْمُکَ وَلاَ یَتِمُّ اِسْمِیْ
الجواب:۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود اس الہام کی تشریح فرمائی ہے:۔
۱۔براہین احمدیہ حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ۲۶۷حاشیہ در حاشیہ نمبر۱ میں الہام یَا اَحْمَدُ یَتِمُّ اِسْمُکَ وَلاَ یَتِمُّ اِسْمِیْ درج فرما کر اس کے آگے بین السطورتحریر فرماتے ہیں:۔ ’’ اَیْ اَنْتَ فَانٍ فَیَنْقَطِعُ تَحْمِیْدُکَ وَ لَا یَنْتَھِیْ مَحَامِدُ اللّٰہِ فَاِنَّھَا لَا تَعُدُّ وَ لَا تُحْصٰی۔ ‘‘یعنی اس الہام کا مطلب یہ ہے کہ اے احمد ! تو فوت ہوجائے گا اور تیرے کمالات اور محامد ختم ہوجائیں گے۔مگر خدا کے محامد ختم نہیں ہوں گے کیونکہ وہ لاتعداد اور بے شمار ہیں۔
۲۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خطبہ الہامیہ۔ روحانی خزائن جلد۱۶ صفحہ۴۱ پر تحریر فرماتے ہیں :۔’’اِذَا اَنَارَ النَّاسَ بِنُوْرِ رَبِّہٖ اَوْ بَلَّغَ الْاَمْرَ بِقَدَرِ الْکِفَایَۃِ فَحِیْنَئِذٍ یَتِمُّ اسْمُہٗ وَیَدْعُوْہُ رَبُّہٗ وَیُرْفَعُ رُوْحُہٗ اِلٰی نُقْطَتِہِ النَّفْسِیَّۃِ۔‘‘ یعنی جب انسانِ کامل لباس خلافت زیب تن کر لیتا ہے اور اس کے بعد یہ بندہ زمین پر ایک مدت تک جو اس کے ربّ کے ارادہ میں ہے توقف کرتا ہے تاکہ مخلوق کو نورہدایت کے ساتھ منور کرے اور جب خلقت کو اپنے ربّ کے نور کے ساتھ روشن کر چکایا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کردیا پس اس وقت اس کا نام پورا ہوجاتا ہے۔اور اس کا ربّ اس کو بلاتا ہے اور اس کی روح اس کے نقطۂ نفسی کی طرف اٹھائی جاتیہے۔‘‘گویا وہ فوت ہوجاتا ہے۔
پس الہام یَتِمُّ اِسْمُکَ وَلاَ یَتِمُّ اِسْمِیْکا مطلب یہ ہے کہ تو فوت ہوجائے گا مگر میں (یعنی خدا )فوت نہیں ہوں گا۔ فلا اعتراض۔
اعتراض۔ الارض والسماء معک کما ھو معی ۔ عربی غلط ہے ھُوَ کی بجائے ھُمَا چاہیے۔ کیونکہ زمین و آسمان دو ہیں نہ کہ ایک۔
اَلْاَرْضُ وَالسَّمَآءُ مَعَکَ کَمَا ھُوَ مَعِیْ
جواب:۔ یہ جائز ہے ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ۔(التوبۃ:۶۲) کہ اﷲ اور اس کا رسول سب سے زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو خوش کیا جائے۔آپ کے قاعدہ کے مطابق یہاں بھی یُرْضُوْہُ کی بجائے یُرْضُوْھُمَا چاہیے تھا۔
اعتراض۔ تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے
الجواب۱۔اس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد اس امت ہی کے تخت مراد ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اس میں شامل نہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :۔
’’غرض اس حصّہ کثیر وحی الہٰی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں یہ ایک فرد مخصوص ہوں اور جسقدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذرے ہیں ان کو یہ حصّہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا‘‘۔
’’یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیر۱۳۰۰ہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزا ئن جلد۲۲ صفحہ ۴۰۶)
۲۔چنانچہ اربعین نمبر ۱ و نمبر۲ (جو اکٹھے چھپے ہیں) اس کے صفحہ ۹پر اور پھر اربعین ۴ (جو علیحدہ چھپا ہے) کے صفحہ ۷ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ’’اِنِّیْ فَضَّلْتُکَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ‘‘ درج ہے۔ اس کا ترجمہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دو ایڈیشنوں کے صفحہ ۱۷ پر کیا ہے۔
’’اور جس قدر لوگ تیرے زمانے میں ہیں سب پر میں نے تجھے فضیلت دی۔‘‘
پس معلوم ہوا کہ آپ کاتخت جو سب سے اونچا بچھایا گیا تو اس سے مراد بھی امت محمدیہ ہی کے تخت ہیں۔
۳۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو خدا کے فضل سے نبی اﷲ ہیں اور آپ کا مقام مسیح ناصری علیہ السلام سے بھی بلند ہے۔ مگر حضرت ’’پیران پیر‘‘سیّد عبدالقادرجیلانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:۔
’’اَنَا مِنْ وَّرَآءِ عُقُوْلِکُمْ فَلَا تَقِیْسُوْنِیْ عَلٰی اَحَدٍ وَلَا تَقِیْسُوْا اَحَدًا عَلَیَّ‘‘ (فتوح الغیب مترجم فارسی صفحہ ۲۲) یعنی میں تمہاری عقلوں سے بالا ہوں ۔مجھ کو کسی دوسرے پر قیاس نہ کرو اور نہ کسی دوسرے کو مجھ پر قیاس کرو۔
اعتراض۔ ء تعجبین لامر اللہ ۔ عربی غلط ہے۔ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ چاہیے تھا ۔’’عجب ‘‘ کا صلہ لام نہیں آتا۔ ءَ تَعْجَبِیْنَ لِاَمْرِاللّٰہِ
جواب:۔’’عجب‘‘ کاصلہ لام آتا ہے ،ملاحظہ ہو مشہور عرب شاعر جعفر بن علبتہ الحارثی جبکہ وہ مکّہ میں قید تھا کہتا ہے :۔
عَجِبْتُ لِمَسْرَاھَا واَنِّٰی تَخَلَّصَتْ
اِنِّیْ وَبَابُ السِّجْنِ دُوْنِیْ مُغْلَقُ
(دیوان الحماسہ قول جعفر بن علی صفحہ ۱۲ مکتبہ اشرفیہ)
کہ میں نے اپنی معشوقہ کے چلے جانے پر تعجب کیا کہ ایسی حالت میں کہ قید خانے کا دروازہ مقفل ہے پھر وہ کس طرح میرے پاس پہنچ گئی۔
اس شعر میں عجب کا صلہ لام آیا ہے ۔پس تمہارا اعتراض باطل ہے۔
اعتراض۔ یحمد اللہ من عرشہ ۔ ’’حمد‘‘ کا لفظ سوائے خدا کے کسی اور پر بولا نہیں جاتا؟ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ
جواب:۔ ’’حمد‘‘ کا لفظ غیر اﷲ پر بھی بولا جا سکتا ہے۔
۱۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام ہی محمدؐ تھا۔
۲ ۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم سے کسی شخص نے کچھ سوال کیا تو حضور ؐ نے تھوڑی دیر ٹھہر کر فرمایا۔ اَیْنَ السَّائِلُ۔ کہ وہ سائل کہا ہے ؟اس کے متعلق بخاری و مسلم میں لکھا ہے۔ کَاَنَّہٗ حَمِدَہٗ۔ گویا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس شخص کی(حمد) تعریف کی۔
(بخاری کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الیتامی مصری و مسلم کتاب الزکوٰۃ باب تخوف ماتخرج من زمرۃ الانبیاء )
۳۔’’اِفْعَلْ ھٰذَا الَّذِیْ اَمَرْتُکَ بِہٖ لِنُقِیْمُکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُقَامًا مَّحْمُوْدًا یَحْمَدُکَ فِیْہِ الْخَلَا ئِقُ کُلُّھُمْ وَخَالِقُھُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی‘‘ (تفسیر ابن کثیر زیرآیت عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔ اسراء:۷۹)کہ یَبْعَثُکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے۔ یہ جو میں نے تجھے حکم دیا اس کو بجالا۔ تاکہ میں تجھ کو قیامت کے دن مقا م محمود پر کھڑا کروں ۔تمام دنیا تیری حمد کرے گی اور خالق کون و مکان (خداتعالیٰ ) بھی تیری حمد کرے گا ۔
۴۔ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
’’فَیَحْمَدُنِیْ وَاَحْمَدُہٗ وَ یَعْبُدُنِیْ وَاَعْبُدُہٗ‘‘ کہ اﷲتعالیٰ میری حمد کرتا ہے اور میں اس کی حمد کرتا ہوں۔ اﷲتعالیٰ میری عبادت کرتا ہے اور میں اس کی عبادت کرتا ہوں۔
حضرت امام شعرانی رحمۃ اﷲ علیہ مندرجہ بالا ارشاد کی حسب ذیل تشریح فرماتے ہیں۔
’’اِنَّ مَعْنٰی یَحْمَدُنِیْ‘‘ اَنَّہٗ یَشْکُرُنِیْ اِذَا اَطَعْتُہٗ کَمَا فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی ’’فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ‘‘ وَاَمَّا فِیْ قَوْلِہٖ ’’فَیَعْبُدُنِیْ وَاَعْبُدُہٗ‘‘ اَیْ یُطِیْعُنِیْ بِاِجَابَتِہٖ دُعَائِیْ کَمَا قَالَ تَعَالٰی ’’لَا تَعْبُدُوْاالشَّیْطَانَ‘‘ اَیْ لَا تُطِیْعُوْہُ وَ اِلَّا فَلَیْسَ اَحَدٌ یَعْبُدُ الشَّیْطَانَ کَمَا یَعْبُدُ اللّٰہَ۔‘‘
(الیواقیت و الجواہر الفصل الثانی فی تاویل کلمات اظیفت الی الشیخ محی الدینؓ)
یعنی حضرت امام ابن عربی کا یہ فرمانا کہ اﷲ میری حمد کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ میری اطاعت و فرمانبرداری کا شکریہ ادا کرتا ہے ۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ تم مجھے یا د کرو میں تم کو یاد کروں گا اور شیخ رحمۃ اﷲ علیہ نے جو یہ فرمایا کہ اﷲتعالیٰ میری عبادت کرتا ہے اور میں اس کی عبادت کرتا ہوں۔تو اس جگہ اس سے مراد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ دعائیں قبول فرما کر میری بات مانتا (میری اطاعت کرتا) ہے جیسا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان کی عبادت نہ کرو ۔یعنی شیطان کا کہا نہ مانو ۔ورنہ دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جو شیطان کی اس رنگ میں عبادت کرتا ہو جس رنگ میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے ۔
پس عبارت بالا میں لفظ ’’حمد‘‘ بعینہٖ اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اﷲ علیہ کی مندرجہ بالا عبارت میں۔
۴۔قرآن مجید میں ہے:۔ (اٰل عمران: ۱۸۹)
کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بغیر کسی کام کرنے کے ہی تعریف کی جائے۔
علیٰ ہٰذا القیاس متعدد مثالیں ہیں جن کو بخوف تطویل درج نہیں کیا گیا۔
اعتراض:۔ مرزا صاحب کا الہام ہے ’’ٹیچی ٹیچی‘‘
جواب :۔بالکل غلط ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی ایسا الہام نہیں۔ایک خواب ضرور ہے جس میں حضورؑنے ایک آدمی دیکھا جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔ اور اس نے اپنا نام ’’ٹیچی‘‘بتایا۔ پنجابی زبان میں ٹیچی کے معنے ہیں ’’وقت مقررہ پر آنے والا۔‘‘ پس اس خواب کی تعبیر یہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بروقت امداد فرمائے گا ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جو مشکلات لنگر خانے کے اخراجا ت کی نسبت اس خواب کے بعد دیکھنے سے پہلے درپیش تھیں وہ اس خواب کے بعد جلد ہی دور ہوگئیں ۔پس یہ کہنا کہ مرزا صاحب کو ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ الہام ہوا محض شرارت ہے۔
اعتراض۔ کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔ (البشریٰ جلد ۲ صفحہ ۱۲۱) یہ مرزا صاحب کو اپنے متعلق الہام ہوا ۔
جواب:۔تم دھوکہ سے کام لیتے ہو۔’’البشریٰ‘‘جس میں یہ الہام درج ہے ۔اس کے آگے تشریح بھی موجود ہے :۔
’’کمترین کا بیڑہ غرق ہوگیا۔یعنی کسی کے قول کے طرف اشارہ ہے یا شاید کمترین سے مراد کوئی شریر مخالف ہے۔‘‘ (البشری جلد۲ صفحہ ۱۲۱)
تم لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ تو پڑھتے ہو۔مگر وَاَنْتُمْ سُکَارٰی ہضم کر جاتے ہو۔
کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ
اعتراض۔ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ الہام ہوا۔ میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا ۔
جواب:۔’’وَاَنْتُمْ سُکَارٰی ‘‘ بھی پڑھو ۔لکھا ہے:۔
’’اس وحی کے بعد ایک ناپاک روح کی آواز آئی ۔میں سوتے سوتے جہنم میں پڑگیا۔‘‘
(البشریٰ جلد ۲ صفحہ ۹۵)
گویا تمہارے جیسی ناپاک روح کے متعلق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں خدا تعالیٰ کے عذاب سے بے خبر ہے اور اسی حالتِ نیند میں ہی اپنے لئے سامان جہنم بہم پہنچا رہی ہے۔ فَاعْتَبِرُوْا۔
حضرت اقدس علیہ السلام کا اپنے متعلق الہام ہے:۔
’’خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود‘‘ (البشریٰ جلد ۲ صفحہ۸۵۹)
۲۔اس الہام کو حضرت اقدس علیہ السلام نے اس زلزلہ کے متعلق قرار دیا ہے جو ۳۱ مئی ۱۹۳۵ء کو کوئٹہ میں موسم بہار کے آخری دن (الوصیت صفحہ ۱۳ حاشیہ روحانی خزائن جلد۲۰)میں آیا ۔جبکہ رات کو لوگ غفلت کی نیند سوتے تھے۔ مگر بعض بدکاروں کی بد اعمالیوں کے باعث زلزلہ بھیج کر ان کو ہلاک کردیا اور ان میں سے ناپاک روحیں سوتے سوتے واصلِ جہنم ہوئیں (مرنے والوں میں سے کئی نیک بھی تھے جیسا کہ طوفان نوح میں غرق ہونے والوں میں شیرخواربچے ،عورتیں اور جانور بھی شامل تھے )چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام اپنے اشتہار ۱۸؍ اپریل ۱۹۰۵ء متعلقہ زلزلہ مذکور میں تحریر فرماتے ہیں:۔
’’ جب خداتعالیٰ اس وحی کے الفاظ میرے دل پر نازل کرچکا تو ایک روح کی آواز میرے کان میں پڑی جو ایک ناپاک روح تھی اور میں نے اس کو کہتے سنا میں سوتے سوتے جہنم میں پڑگیا۔
(دیکھو اشتہار ۱۸ اپریل ۱۹۰۵ء بعنوان ’’الانذار‘‘ آخری صفحہ)
پس اس الہام میں یہ بتایا گیا کہ وہ زلزلہ رات کو آئے گاجبکہ بعض بدکار سوتے سوتے واصل جہنم ہوجائیں گے۔ (تذکرہ صفحہ ۴۵۲ایڈیشن نمبر۴)
اعتراض۔ الہام ہوا ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں لیکن مسیح و مہدی علیہ السلام تو لاہور میں فوت ہوئے ۔
جواب :۔اس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تشریح فرمائی :۔
’’یعنی خائب وخاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے اور یہ کلمہ کہ ہم مکّہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کیے جائیں گے۔ دوسرے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہو گی۔خود بخود لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہوجائیں گے ۔فقرہ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ مدینہ کی طرف۔
(البشریٰ جلد ۲ صفحہ ۱۰۶ و تذکرہ صفحہ ۵۰۳ مطبوعہ ۲۰۰۴ء والحکم جلد ۱۰نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۳)
اعتراض۔ یہ کیسا الہام ہے خاکسار پیپر منٹ۔ کیا پیپر منٹ بھی بولتا ہے؟
الجواب:۔یہ حضرت اقدس علیہ السلام کا کشف ہے۔ آپ کو ایک شیشی دکھائی گئی جس کے لیبل پر لکھا تھا ’’خاکسار پیپر منٹ ‘‘جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بیماری کا جس میں آپ اس وقت مبتلا تھے علاج پیپر منٹ ہے ۔(تذکرہ صفحہ ۴۴۳ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) پیپر منٹ تو نہیں بولا مگرتم ذرا بخاری میں پڑھو جہاں لکھا ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام ننگے نہا رہے تھے کہ پتھر جس پر آپ نے کپڑے رکھے ہوئے تھے آپ کے کپڑے لے کر بھا گ گیا اور آپ اس کے پیچھے دوڑے۔ اسے پکڑ کر سوٹیاں ماریں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم اب تک اس پتھر پر حضرت موسٰی ؑ کی سوٹیوں کے نشان موجود ہیں۔ فَذَھَبَ مَرَّۃً یَغْسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ عَلٰی حِجِرٍفَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہٖ فَخَرَجَ مُوْسٰی فِیْ اَثِرِہٖ یَقُوْلُ ثَوْبِیَ الْحَجَرُ ثَوْبِیَ الْحَجَرُ۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب مَنِ اغْتَسَلَ عُرْیَانًا ۔ نیز مشکوٰۃ کتاب بدء الحق باب ذکر الانبیاء)کہ حضرت موسٰیؑ ایک دفعہ نہانے گئے اور اپنے کپڑے اتار کر آپ نے ایک پتھر پر رکھے۔ پس وہ پتھر بھاگ گیا اور موسٰیؑ اسکے پیچھے ننگے بھاگے۔ بھاگتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ’’اے پتھر! میرے کپڑے دے جا، او پتھر میرے کپڑے دے جا۔‘‘ تمہارے ہاں پتھر کپڑے اٹھاکر بھاگ سکتا ہے۔مسجد نبویؐ کا شہتیر اور یعفور گدھا باتیں کر سکتے ہیں، لیکن اگر ہمارے ہاں عالم کشف میں کسی شیشی کے لیبل پر ’’خاکسارپیپر منٹ‘‘ لکھا ہوا مل جائے تو اس پر بھی اعتراض کر دیتے ہو۔حالانکہ اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ۔یہ ایک کشفی نظارہ ہے جس میں علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں کوئی امر محل اعتراض نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ تمام علم طبّ اور علم تاثیر الادویہ الہامی ہے۔ملاحظہ ہو:۔
’’قَدْ ثَبَتَ اَنَّ عِلْمَ الطِّبِّ وَمَنَافِعَ الْاَدْوِیَّۃِ وَمَضَارَّھَا اِنَّمَا عُرِفَتْ بِالْوَحْیِ۔‘‘
(نبراس شرح الشرح لعقائد نفسی صفحہ ۴۲۷)
کہ یہ امر ثابت ہوگیا ہے کہ علم طبّ ۔ ادویہ ّ کے فوائد اور نقصانات محض وحی الٰہیسے معلوم ہوئے ہیں۔ فلا اعتراض
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.