اعتراض۔ کان اللہ نزل من السماء۔ جیسے اللہ آسمان سے نازل ہو گیا ہے

اعتراض۔ کان اللہ نزل من السماء۔ جیسے اللہ آسمان سے نازل ہو گیا ہے

اعتراض۔ کان اللہ نزل من السماء۔ جیسے اللہ آسمان سے نازل ہو گیا ہے ۔ یہ اللہ کی توہین ہے۔ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ

جواب:۔ ۱۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سے خداتعالیٰ کا جلال اور حق کا ظہور مراد لیا ہے۔ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۵۷۸ پر ہے:۔

’’یَظْھَرُ بِظُھُوْرِہٖ جَلَالَ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘

نیز حقیقۃالوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۹۸،۹۹: ’’جس کے ساتھحق کا ظہور ہوگا۔‘‘

۲۔ حدیث شریف میں ہے :۔اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی سَمَاءٍ الدُّنْیَا۔ ‘‘(بخاری کتاب التہجد باب الدعا و الصلٰوۃ من آخر اللیل ومشکوٰۃ کتاب الصلوٰۃ باب التحریض علی قیام اللیل)کہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا ربّ ہر رات پہلے آسمان پر اترآتا ہے ۔کیا معنے؟لکھا ہے:۔

(الف)۔’’اَلنُّزُوْلُ وَالْھُبُوْطُ وَالصَّعُوْدُ وَالْحَرَکَاتُ مِنْ صِفَاتِ الْاَجْسَامِ وَاللّٰہُ تَعَالٰی مُتَعَالٍ عَنْہُ وَالْمُرَادُ نُزُوْلُ الرَّحْمَۃِ وَقُرْبُہُ تَعَالٰی۔‘‘ (حاشیہ مشکوٰۃ مجتبائی کتاب الصلوٰۃ باب التحریض علی قیام اللیل) کہ نازل ہونا ،اترنا ،چڑھنا اور حرکات یہ تو اجسام کی صفات ہیں ۔خدا تعالیٰ ان سے پاک ہے اتعالیٰ کے نازل ہونے سے مراد اس کی رحمت کا نازل ہونا اور اس کے قرب کا حاصل ہونا ہے۔

(ب)۔اسی حدیث کی شرح میں حضرت شاہ ولی امحدث د ہلوی رحمۃ اعلیہ تحریر فرماتے ہیں:۔

قَوْلُہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِلَی السَّمَآءِ الدُّنْیَا (الحدیث) قَالُوْا ھٰذَا کِنَایَۃٌ عَنْ تَھِیْؤِ النُّفُوْسِ لِاِ سْتِنْزَالِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ……وَ عِنْدِیْ اِنَّہٗ مَعَ ذَالِکَ کَنَا یَۃٌ عَنْ شَیْءٍ مُّتَجَدِّدٍ یَسْتَحِقُّ اَنْ یُّعَبَّرَ عَنْہُ بِالنُّزُلِ۔‘‘
(الحجۃ البا لغۃ جلد ۲ صفحہ۳۷ باب النوافل مترجم اردو مطبوعہ حمایت اسلام پریس )

ترجمہ از شموس االبازغۃ:۔

’’اور نبی صلعم نے فرمایا ہے یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَالخ یعنی جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہتا ہے تو ہمارا پروردگار آسمانِ دنیا کی طرف اترتا ہے اور فرماتا ہے کوئی ہے کہ مجھ سے کچھ طلب کرے تو میں اس کی مراد پوری کروں۔الخ علماء نے اس حدیث کے یہ معنی کئے ہیں کہ نفس انسانیہ اس بات کے قابل ہوجائے کہ رحمت الٰہیہ کے نزول کو برداشت کرسکے اور میرے نزدیک اور معنیٰ بھی ہوسکتا ہے۔وہ یہ ہے کہ دل کے اندر کوئی نئی چیز پیدا ہوجائے کہ جس کو نزول کے ساتھ بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔‘‘(حاشیہ صفحہ ۳۷ جلد ۲)

۳۔ مؤطا امام مالک ؒ صفحہ۷۴ کے حاشیہ باب ماجاء فی ذکراللّٰہ میں لکھا ہے:۔

’’قَوْلُہٗ یَنْزِلُ رَبُّنَا اَیْ نُزُوْلُ رَحْمَۃٍ۔ ‘‘ کہ آنحضرت صلی اعلیہ و آلہ وسلم کا فرمانا کہ خدا نازل ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اکی رحمت نازل ہوتی ہے۔

۴۔ تلخیص المفتاح مطبع مجتبائی کے صفحہ ۲۶ پر لکھا ہے:۔وَقَدْ یُطَلَقُ الْمَجَازُ……بِحَذْفِ لَفْظٍ اَوْ زِیَادَۃِ لَفْظٍ کَقَوْلِہٖ تَعَالٰی وَ جَاءَ رَبُّکَ……اَیْ اَمْرُرَبِّکَ۔‘‘ یعنی بعض دفعہ مجاز میں کوئی لفظحذف کیا جاتا ہے یا زیادہ کیا جاتا ہے ۔جیسے خدا تعالیٰ کا فرمانا جَاءَ رَبُّکَ کہ تیرا ربّ آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خداتعالیٰ کا حکم آیا۔

پس کَأَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ کا مطلب بھی صاف ہے کہ خدا کی رحمت ۔خدا کے فضل۔ خدا کے جلال اور اس کے حکم کا نزول ہوتا ہے۔


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply