پاکٹ بک ۔ مسیح موعود احمدؑ کی پیشگوئیوں پر اعتراضات

پاکٹ بک ۔ مسیح موعود احمدؑ کی پیشگوئیوں پر اعتراضات

غیر احمدی اعتراضات

پیشگوئیوں پر اعتراضات کے جوابات

(اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد۱۹)

الجواب نمبر ۱:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمد حسین بٹالوی کو فرعون قرار دیا ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۶۴،۶۵،۶۶

پھر فرماتے ہیں:۔’’فرعون سے مراد محمد حسین ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشف ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بالآخر ایمان لائے گا۔ مگر مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایمان فرعون کی طرح صرف اس قدر ہو گا کہ آمَنْتُ بِالَّذِیْ آمَنْتُ بِہٖ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ یا پرہیز گار لوگوں کی طرح۔ واللّٰہ اعلم۔‘‘

(استفتاء۔روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ۱۳۰ حاشیہ)

فرعون کے ایمان لانے کا واقعہ جس کی طرف حضرت اقدس ؑ نے محولہ بالہ عبارت میں اشارہ فرمایاہے۔ قرآن مجید سورۃ یونس آیت ۹۱ میں ہے کہ جب فرعون غرق ہونے لگا۔ تو اس نے آوا ز دی کہ:
(یونس:۹۱)

کہ میں ایمان لایا کہ وہی ایک خدا ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں۔ اب فرعون کے ایمان لانے کا بجز خدا تعالیٰ کی شہادت کے اور کون انسان گواہ ہے۔ بعینہٖ اسی طرح محمد حسین کے ایمان کا بھی خدا کا الہام گواہ ہے۔اب کوئی آریہ یا عیسائی تم سے فرعون کے ایمان لانے کا ثبوت پوچھے تو جو جواب تم اس کو دو گے وہی جواب ہماری طر ف سے سمجھ لو۔

جواب نمبر ۲ـ:حضرت اقدس علیہ السلام کی پیشگوئی میں تھا اَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ یُؤْمِنُ بِاِیْمَانِیْ(تذکرہ صفحہ ۱۹۱ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) کہ مولوی محمد حسین بٹالوی میرا مومن ہونا مان لے گا۔ چنانچہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ۔ کیونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی اوّل المکفرین نے ۱۹۱۲ء میں لالہ دیو کی نندن صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل وزیر آباد کی عدالت میں مقدمہ نمبر ۱۳۰۰ میں حلفاً بیان کیا کہ ’’میں احمدی جماعت کو مسلمان سمجھتا ہوں۔‘‘

اب بتاؤ حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی میں کسی کو یہ وہم بھی ہوسکتا تھا کہ کسی وقت یہی مولوی محمد حسین جو سب سے پہلے فتویٰ کفر دینے والا ہے، خود حضرت اقدس ؑ اور آپ کی جماعت کو مسلمان سمجھنے لگ جائے گا۔

۹۔محمد حسین کی ذلت

الجواب:۔محمد حسین پر کئی ذلتیں آئیں۔ تفصیل کے لیے دیکھو کتاب ’’بطالوی کا انجام‘‘ مصنفہ جناب میر قاسم علی صاحب۔ اجمالاً یہاں کچھ لکھا جاتا ہے۔

۱۔محمد حسین نے حضرت اقدس علیہ السلام پر اس وجہ سے فتویٰ کفر لگایا کہ آپ گویا مہدی خونی کے قائل نہیں۔ مگر بعد میں اس نے خود گورنمنٹ سے زمین حاصل کرنے کی غرض سے بطور خوشامد یہ لکھا کہ کوئی ایسا جنگ اور جہاد کرنے والا مہدی نہیں آئے گا اور یہ کہ اس مہدی کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں سب موضو ع اور ضعیف ہیں ۔ چنانچہ اس نے ۱۴۔ اکتوبر ۱۸۹۴ء کو ایک انگریزی فہرست شائع کی۔ جس میں مہدی کی آمد کا انکار کیا۔ اس پر غیر احمدی علماء ہی سے حضرت اقدس ؑ نے خونی مہدی کے منکر کے متعلق فتویٰ کفر حاصل کرلیا۔پس محمد حسین اپنے مسلمات کی رو سے ذلیل ہوا۔

(تفصیل دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار ۷جنوری۱۸۹۹ء)

۲۔محمد حسین نے حضرت اقدس ؑ کے الہام ’’ءَ تَعْجَبُ لِاَمْرِیْ‘‘ (تذکرہ صفحہ۲۷۱ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) پر نحوی اعتراض کیا تھا کہ عجب کا صلہ لام نہیں آتا۔ اس کے جواب میں حضرت اقدس علیہ السلام نے احادیث کتبِ لغت اور شعراء عرب کے کلام سے عجب کے صلہ لام کی مثالیں شائع کیں تو محمد حسین نے خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اپنی خفت کو یہ کہہ کر مٹانا چاہا کہ میں نے کہا تھا کہ قرآ ن میں ’’عجب‘‘ کا ’’مِنْ‘‘ صلہ آیا ہے۔ (الہامات مرزا مصنفہ ثناء اﷲ امرتسری صفحہ ۸۳ دفعہ ششم)

۳۔محمد حسین نے خونی مہدی کا انکار کرکے گورنمنٹ سے زمین حاصل کی۔ اور بخاری میں ہے کہ جس گھر میں ہل داخل ہوجاتا ہے وہ ذلیل ہوجاتا ہے۔ ’’عَنْ اَبِیْ اُمَاَمَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ وَ رَأَی سِکَّۃً وَّ شَیْئًا مِنْ آلَۃِ الْحَرْثِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَا یَدْخُلُ ھٰذَا بَیْتَ قَوْمٍ اِلَّا اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الذُّلَ‘‘ (بخاری کتاب الحرث والمزاعۃ باب مَا یُحْذَرُ مِنْ عَوَاقِبِ و مشکوٰۃ کتاب البیوع الفصل الاول ) حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہل کا ایک پھل اور کھیتی کرانے کا ایک آلہ دیکھا تو فرمایا کہ میں نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ جس قوم کے گھر میں داخل ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ اس قوم میں ذلت آجاتی ہے۔ محمد حسین بٹالوی کا عالم اورغیر زمیندار ہوکر ’’اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ‘‘ کا مصداق بننا یقیناً حدیث کے الفاظ میں اس کے لیے ذلیل ہونا تھا، لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے گھر میں ’’ہل‘ ‘کو داخل نہیں کیا۔ بلکہ حضور ؑ تو پیدا ہی زمیندار خاندان میں ہوئے تھے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشگوئی مندرجہ ابو داؤد ’’حَارِثٌ حَرَّاثٌ‘‘(ابو داؤد کتاب المہدی بحوالہ مشکوٰۃ باب شرائط الساعۃ)والی پوری ہوئی۔ اس لیے آپ کے لیے یہ موجب ذلت نہیں۔
نوٹ:۔یاد رہے کہ یہاں حدیث میں صرف ان لوگوں کا ذکر ہے جو تجارت یا دوسرے پیشے چھوڑ کر اور غیر زمیندا ر ہوکر زمیندا ر بننے کی کوشش کرتے ہیں نیز اس زمینداری کا ذکر ہے جو انسان کو دنیاداری میں مشغول کردے اور اپنے مذہبی عقائد سے منحرف کرائے۔ جیسا کہ محمد حسین کے ساتھ ہوا ورنہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے امام مہدی کو بھی زمیندار قرار دے کر بتا دیا کہ زمینداری برا پیشہ نہیں۔

۱۰۔نَافِلَۃً لَّکَ

الجواب:۔حضرت اقدس ؑ نے خود اس الہا م کی تشریح فرمادی ہے:۔’’چند روز ہوئے الہام ہوا تھا ’’اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ نَافِلَۃً لَّکَ‘‘ ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہو کہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ ’’نافلۃ‘‘ پوتے کو بھی کہتے ہیں۔یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔‘‘

(الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۳۔ ۱۰ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ۱۔و تذکرۃ صفحہ ۵۱۹ مطبوعہ ۲۰۰۴ء)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:۔

’’انّا نُبَشِّرُکَ بغلامٍ نافلۃً لَّکَ۔ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۹۹ )

پس وہ نَافِلَۃٌ جس کی بشارت دی گئی تھی صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب مولوی فاضل فرزند اکبر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ بنصرہ العزیز ہیں۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ۔

اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اور حضور کے بھائیوں کے کئی ایک اور صاحبزادے ہیں۔ گویا دشمنوں کے ابتر ہونے کے مقابلہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کو پوتوں تک کی بشارت دی گئی۔

نوٹ:۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’پسر خامس‘‘ کی بھی پیشگوئی فرمائی تھی تو اس کا جو اب یہ ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے الہام بَشَّرَنِیْ بِخَامِسٍ (یعنی پسر خامس ) سے مراد پوتا لیا ہے۔ (دیکھو حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۲۷)


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply