📚 کتابیں تلاش کریں Roman Urdu میں ٹائپ کریں
ahmadiyya pocket book malik abdul rahman khadim 0000

اعتراض۔ انت منی بمنزلۃ ولدی ۔ تم مجھے سے بیٹوں کی مانند ہو ۔ توحید کا انکار اور اللہ کی توہین ہے۔ ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ

۲۔ الف۔اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ
ب۔اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِیْ

اعتراض۔ انت منی بمنزلۃ ولدی ۔ تم مجھے سے بیٹوں کی مانند ہو ۔ توحید کا انکار اور اللہ کی توہین ہے۔
جواب:۔۱۔حضرت مرزا صاحبؑ فرماتے ہیں :۔

’’خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۸۹ حاشیہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

’’یادرہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کابیٹا ہوں۔ لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیلِ مجاز اور استعارہ میں سے ہے ۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ قرار دیتا ہے۔ اور فرمایا (الفتح :۱۱)ایسا ہی بجائے قُلْ یٰعِبَادَ اللّٰہِ(یعنی کہہ دے اے اﷲ کے بندو! خادمؔ) کے (الزمر:۵۴) (یعنی اے نبی! ان سے کہہ۔ اے میرے بندو!)اور یہ بھی فرمایا (البقرۃ :۲۰۱)پس اس خدا کے کلام کو ہشیاری اور احتیاط سے پڑھو او راز قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ۔ اور یقین رکھو کہ خدا اتخاذ ولد سے پاک ہے اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَاحِدٌ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ(اربعین نمبر ۲ صفحہ۸ بحوالہ براہین احمدیہ صفحہ۴۱۱) (یعنی کہہ دے کہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں جس پر وحی ہوتی ہے بیشک تمہارا ایک ہی خدا ہے اور سب خیر وخوبی قرآن میں ہے ۔) (دافع البلاء روحانی خزائن جلد۱۸ حاشیہ صفحہ۶ تذکرہ صفحہ۳۹۷مطبوعہ ۲۰۰۴ء)

۲۔قرآن مجید میں ہے۔ کہ خدا کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔ گویا خدا ہمارا باپ نہیں ہے مگر بمنزلۂ باپ ہے۔ جس طرح ایک بیٹا اپنا ایک ہی باپ مانتا ہے او راس رنگ میں اس کی توحید کا قائل ہوتا ہے۔اسی طرح خدا بھی چاہتا ہے کہ اس کو ’’وحدہٗ لاشریک‘‘ یقین کیا جائے اور جو اس رنگ میں خد ا تعالیٰ کی توحید کا قائل اور اس کے لئے غیرت رکھنے والا ہووہ خداتعالیٰ کو بمنزلہ اولاد ہوگا ۔

۳۔ الہام میں اَنْتَ وَلَدِیْ نہیں بلکہ بِمَنْزِلَۃِ وَلَدِیْ ہے جو صریح طور پر خدا کے بیٹے کی نفی کرتا ہے ۔

۴۔ حدیث میں ہے۔ (الف) ’’اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللّٰہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللّٰہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عَیَالِہٖ ‘‘(مشکوٰۃ کتاب الآداب باب الشفعہ الفصل الثالث )کہ تمام لوگ اﷲ کا کنبہ ہیں۔ پس بہترین انسان وہ ہے جو خدا کے کنبہ کے ساتھ بہترین سلوک کرے ۔

(ب)’’اَنَّ الْفُقَرَآءَ عَیَالُ اللّٰہِ‘‘ (تفسیر کبیر امام رازی زیرآیت اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِیْنِ(التوبۃ:۶۰)کہ غرباء خدا کے بال بچے یا کنبہ ہیں۔ (نیز دیکھو جامع الصغیر امام السیوطیؒ مطبوعہ مصر جلد ۲ صفحہ۱۲)

۵۔شاہ ولی اﷲ صاحب محدّث دہلوی لفظ ’’ابن اﷲ‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں:۔ ’’اگر لفظ ابنا بجائے محبوبان ذکر شدہ باشدچہ عجب‘‘ (الفوز الکبیرصفحہ۸)نیز دیکھو الحجۃ البالغۃ باب ۳۶ جلد۱۔ اردو ترجمہ موسومہ بہ شموس اﷲ البازغہ مطبوعہ حمایت اسلام پریس لاہو رجلد ۱صفحہ۱۰۹فرماتے ہیں:۔فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ لَمْ یَفْطَنُوْا الْوَجْہَ التَّسْمِیَّۃَ وَکَادُوْا یَجْعَلُوْنَ الْبُنُوَّۃَ حَقِیْقِیَّۃً۔‘‘ یعنی ابتدائی نصاریٰ کے بعد ان کے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے مسیح علیہ السلام کے ابن اﷲ ہونے کی و جہ تسمیہ کو نہ سمجھااور وہ بیٹے کے لفظ سے حقیقی معنوں میں بیٹا سمجھے ۔‘‘

۶۔جناب مولوی رحمت اﷲ صاحب مہاجر مکی اپنی کتاب ’’ازالۃ الاوہام‘‘میں فرماتے ہیں:۔

’’فرزند عبارت از عیسیٰ علیہ السلام است کہ نصارٰی آنجناب را حقیقۃ ابن اﷲ میدانند واہلِ اسلام ہمہ آنجناب را ابن اﷲ بمعنی عزیز وبرگزیدۂ خدامی شمارند ۔‘‘ (ازالۃ الاوہام صفحہ۵۲۰)
کہ فرزند سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جن کو عیسائی خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے ہیں مگر تمام اہلِ اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’ابن اﷲ‘‘ بمعنی خدا کا پیارا وبرگزیدہ مانتے ہیں۔ گویا ’’ابن اﷲ‘‘ کے معنی خدا کا پیارا اور برگزیدہ ہوئے۔ اور ان معنون میں مسلمان بھی مسیح کو ابن اﷲ مانتے ہیں ۔

تبصرہ چھوڑیں

🤖 اسلامی مددگار

ahmady.org کے مضامین سے جوابات

السلام علیکم! میں ahmady.org کا اسلامی مددگار ہوں۔ آپ مجھ سے کسی بھی اسلامی موضوع پر سوال کر سکتے ہیں۔ میں اس ویب سائٹ کے مضامین سے آپ کو جواب دوں گا۔

نوٹ: میں صرف ahmady.org کے مضامین کی بنیاد پر جواب دیتا ہوں۔ فتویٰ کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔
⚠️ یہ مددگار صرف ahmady.org کے مضامین سے معلومات فراہم کرتا ہے۔ فتویٰ کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔

📬 خبرنامے میں شامل ہوں

نئے مضامین اور اپڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں