یسو ع خدا نہیں ۔ حواری خدا کی عبادت کرتے تھے
۱۔ ’’ہم جو خدا کی روح سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یسوع مسیح پر فخر کرتے ہیں۔‘‘ (فلپیوں ۳/۳)
۲۔ ’’مگر سچے پرستار روح اور راستی سے باپ کی پرستش کرتے ہیں۔‘‘ (یوحنا ۲۳،۴/۲۴)
۳۔ حواریوں کا ایمان مسیح کا باپ سے کمتر ہونے پر بہت صاف تھا۔ چنانچہ پولوس کا کلام شرک سمجھا۔ ’’تم مسیح کے ہو۔ مسیح خدا کا ہے۔‘‘ ’’ہر ایک مرد کا سر مسیح ہے اور مسیح کا سر خدا ہے۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں:۳/۲۳) (۱۔ کرنتھیوں: ۱۱/۳)
۴۔ حواری سوائے باپ کے کسی کو خدا نہ کہتے تھے۔
’’ہمارا ایک خدا ہے جو باپ ہے۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں۶،۴؍۸)
۵۔ اس اکیلے خدا کی تعریف۔ وہ مبارک اور اکیلا حاکم۔ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا ہے۔ فقط اسی کو ہے۔ وہ اس نور میں رہتا ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور اسے کسی انسان نے نہ دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ اس کی عزت اور سلطنت ابد تک رہے۔ (۱۔ تیمتھیس ۱۵،۶/۱۶)
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.
