اعتراض 4۔ مسیح کا جائے نزول ۔ مسیح نے تو منارہ دمشقی پر نازل ہونا تھا۔ مسلم کتاب الفتن۔باب نزول عیسیٰ بن مریم
الجواب۔ مینارہ والی حدیث پر علامہ سندی نے یہ حاشیہ لکھا ہے:۔
’’وَ قَدْ وَرَدَ فِیْ بَعْضِ الْاَحَادِیْثِ اَنَّ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ یَنْزِلُ بِبَیْتِ الْمُقَدَّسِ وَ فِیْ رَوَایَۃٍ بِالْاُرْدُنِ وَ فِیْ رَوَایَۃٍ بِمُعَسْکَرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ ‘‘
(حاشیہ ابن ماجہ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ ابن مریم و مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجّال)
کہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں نازل ہوں گے اورایک روایت میں یہ ہے کہ اردن میں نازل ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں ، خدا جانے درست بات کونسی ہے۔‘‘پس جہاں مسیح نازل ہوا وہی درست اور صحیح ہے۔
اعتراض 6۔ امام مہدی نے تو مکہ میں پیدا ہو کر مدینہ سے ظا ہر ہونا تھا۔
جواب:۔الف۔ اس معاملہ میں بھی روایات میں شدید اختلاف ہے ملاحظہ ہو:۔
’’اَنْ یَّخْرُجَ مِنْ تَھَامَ ۃٍ (جواہر الاسرار صفحہ ۵۶)کہ مہدی تہامہ سے ظاہر ہو گا۔
ب۔ یَخْرُجُ الْمَھْدِیُّ مِنَ الْقَرْیَۃِ یُقَالُ لَھَا کَدْعَۃٌ۔ (جواہر الاسرار صفحہ ۵۶) کہ امام مہدی ایک گاؤں سے ظا ہر ہوگا جس کا نام کدعہ ہوگا۔ اور ا س کے پاس ایک مطبوعہ کتاب ہوگی جس میں اس کے ۳۱۳ اصحاب کے نام ہوں گے۔ (یہ کتاب جس میں حضرت اقدس کے ۳۱۳ اصحاب کے نام ہیں۔ انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۳۲۴ تا ۳۲۸ہے۔ (خادم)
مہدی کدعہ نامی گاؤں میں پیدا ہوگا۔(حجج الکرامہ صفحہ ۳۵۸از نواب صدیق حسن خان صاحب)
ج۔ ’’یَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ ھَارِبًا اِلٰی مَکَّۃَ۔ ‘‘ (ابو داؤد کتا ب المہدی ) ’’یعنی وہ مدینہ سے ظاہر ہو کر مکہ کی طرف جائے گا۔‘‘
۷۔مولد میں اختلاف
الف۔ مہدی کا مولد بلادِ مغرب ہے۔ (حجج الکرامہ از نواب صدیق حسن خان صاحب صفحہ۳۵۶تا ۳۵۸۔ اقتراب الساعۃ صفحہ ۶۲از نواب نورالحسن خان صاحب مطبع مفیدعام الکائنہ فی آگرہ)
ب۔’’تولِّد او در مکہ معظمہ باشد۔‘‘ (رسالہ مہدی مصنفہ علی متقی )
ج۔ مسند احمد بن حنبلؒ باب خروجِ مہدی میں ہے کہ۔ ’’مہدی خراسان کی طرف سے آئے گا۔‘‘
د۔ ’’مہدی حجاز سے آئے گا اور دمشق کی طرف جائے گا۔‘‘(حجج الکرامۃ صفحہ۳۵۸ )غرضیکہ اس معاملہ میں بھی اختلاف ہے درست وہی روایت ہے جس میں مہدی کہ کدعہ نامی گاؤں سے ظاہر ہونے کا ذکر ہے جو لفظ قادیان کی بدلی ہو ئی صورت ہے۔ بوجہ عدم احتیاط رواۃ۔
اعتراض 8 ۔ مہدی کا نام محمد ان کے والد کا نام عبداﷲ اور ان کی والدہ کا نام آمنہ ہو گا ؟
جواب:۔ ا۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی عاصم بن ابی النجود ہے جو ضعیف ہے۔ عاصم بن ابی النجود کے متعلق مفصل بحث مسئلہ حیات مسیح کے ضمن میں حضرت ابن عباس کی تفسیر متعلقہ آیت اِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ میں گزر چکی ہے وہاں سے دیکھی جائے۔ (پاکٹ بک ہذاصفحہ۲۱۵)
۲۔ ابنِ خلدون نے اس روایت پر نہایت مبسوط بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون مطبوعہ مصر ۲۶۱۔ و مترجم اردو مطبع نفیس اکیڈمی حصہ دوم صفحہ ۱۵۸ تا ۱۶۰)
۳۔ یہ روایت خلیفہ مہدی عباسی کو خوش کرنے کے لئے وضع کی گئی تھی۔ کیونکہ اس کا نام محمد اور اس کے باپ کا نام عبداﷲ تھا اور مہدی لقب تھا۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے اس روایت کا اطلاق اسی مہدی عباسی پر کیا ہے ملاحظہ ہو:۔ ’’تاریخ الخلفاء باب ذکر مہدی‘‘ (اردو ترجمہ موسومہ بہ محبوب العلماء مطبوعہ پبلک پرنٹنگ پریس لاہو ر ۳۴۱)
۴۔ بر بنائے تسلیم یہ استعارہ کے رنگ میں تھا۔ جس کامطلب یہ تھا کہ امام مہدی کا وجود اپنے آقا اور مطاع آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے الگ نہ ہوگا۔ جیسا کہ حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں:۔ اِنَّ بَاطِنَہٗ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ۔ (شرح فصوص الحکم صفحہ۵۱، ۵۳ مطبعۃ الزاہریہ مصریہ) کہ مہدی کا باطن محمد صلعم کا باطن ہو گا۔
۵۔ مہدی کے نام کے متعلق بھی روایات میں اختلاف ہے:۔
الف۔ مہدی کا نام محمد ہوگا۔(اقتراب الساعہ صفحہ۶۱از نواب نورالحسن خان صاحب)
ب۔مہدی کا نام احمد ہوگا۔ (اقتراب الساعہ صفحہ ۶۱از نواب نورالحسن خان صاحب) چنانچہ لکھاہے:۔
’’اکثر روایتوں میں اس کا نام محمد آیا ہے۔بعض میں احمد بتایا ہے۔‘‘
ج۔مہدی کا نام عیسیٰ ہو گا۔ (جواہر الاسرار صفحہ ۶۸)
یہ اختلاف بتاتا ہے کہ مہدی کے یہ نام بطور صفات کے ہیں نہ کہ ظاہری نام۔
اعتراض 13۔ نبی کا نام مرکب نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب کا نام مرکب تھا؟
الجواب:۔ ۱۔یہ معیار کہاں لکھا ہے۔ بھلانام کے مرکب یا مفرد ہونے کا نبوت کے ساتھ کیا تعلق؟
۲۔ قرآن مجید میں ہے۔ ( اٰل عمران:۴۶) اس آیت میں فرشتے نے حضرت عیسیٰ ؑ کا نام ’’‘‘بتایا ہے جو مرکب ہے۔
۳۔’’اسمٰعیل‘‘ بھی مرکب ہے اِسْمَعْ اور اِیل جس کا ترجمہ ہے ’’سن لی‘‘ اﷲ نے میری! یعنی اﷲ نے میری دعا سن لی۔
اعتراض 15۔ مرزا صاحب سے تو خدا کا وعدۂ حفاظت تھا۔ پھر کیا ڈر تھا ؟
جواب:۔۱۔’’(المائدۃ:۶۷)کا وعدہ تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھا اوریہ وعدہ ابتدائے نبوت میں ہواتھا۔‘‘
(درمنثور زیر آیت ۔ المائدۃ:۶۷)
پھر حضرت ؐ ہجرت کے لئے رات کو نکلے اور غارثور میں چھپنے کی کیا ضرورت تھی ؟ نیز در منثور میں ہے کہ’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا خَرَجَ بَعَثَ مَعَہٗ اَبُوْطَالِبٍ مَنْ یَّکَلُؤْہٗ۔ ‘‘نیز دیکھو ابن کثیر بر حاشیہ فتح البیان زیرآیت۔و بحرمحیط زیرآیت ) کہ رسول خد صلعم جب کہیں جاتے تو حضرت ابو طالب کسی آدمی کو بطور حفاظت ساتھ بھیج دیتے تھے۔ نیز اگر یہ کہو کہ مرزا صاحب نے پنج بنائے اسلام بھی پورے نہ کئے تو تم یہ بتاؤ کہ نبیوں کے سردار آنحضرت صلعم نے پانچ بناء اسلام کو پورا کیا ہے ؟ آپؐ کا زکوٰۃ دینا ثابت کرو نیز حضرت علیؓ کا۔
۲۔ جنگ بدر کے موقع پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے زرہ پہنی۔ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ رَأَیْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَلْبَسُ الدِّرْعَ (بیضاوی زیرآیت المائدۃ:۵۱)کہ بد ر کی جنگ کے موقع پر میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو زرہ بکتر پہنے ہوئے دیکھا۔
۳۔ تفسیر حسینی میں لکھا ہے :۔
’’تفسیر وسیط میں محمد بن کعب قرظی سے منقول ہے کہ لیلۃ العقبہ میں پچہتر آدمی اہل مدینہ میں سے حضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرتے تھے۔ عبداﷲ رواحہؓ نے کہا کہ یا رسول اﷲ وہ شرط کر لیجئے جو خدا اور رسول کے واسطے آپ چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ خدا کے واسطے تو میں یہ شرط کرتا ہوں کہ تم اسی کی عبادت کرو اور اس کا شریک نہ ٹھہرا ؤ۔ اور اپنے واسطے یہ شرط کرتا ہوں کہ ان چیزوں سے میری حفاظت کرو جن سے اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو۔‘‘
(تفسیر قادری مترجم زیر آیت۔التوبۃ :۱۱۰)
اعتراض 16۔ مسیح و مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے ملازمت کیوں کی ؟
الجواب۔ بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلعمنے فرمایا کُنْتُ اَرْعَاھَا عَلٰی قَرَارِیْطَ لِاَہْلِ مَکَّۃَ (بخاری کتاب الاجارۃ باب رَعْیِ الْغَنَمِ )کہ میں چند قیراط لے کر کفار مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ نیز قرآن مجید میں حضرت موسیٰ ؑ کا اپنے خسر کی بکریاں چرانا پڑھو۔
اعتراض 28۔ مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی۔ سیرت مسیح موعود ؑ مؤلفہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے آخری صفحہ پر لکھا ہے کہ وفات کے قریب آپ کو دست آئے۔
جواب:۔ دستوں کا آنا ہیضہ کو مستلزم نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو دستوں کی پرانی بیماری تھی۔ چنانچہ ۱۹۰۳ء میں یعنی اپنی وفات سے چھ سال قبل حضرت اقدس ؑ اپنی کتاب ’’تذکرۃ الشھادتین‘‘روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۴۶پر تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے دستوں کی پرانی بیماری ہے۔ نیز الزامی جواب کے لیے کتا ب مصنفہ وان کریمر صفحہ ۱۸۸پڑھو۔ یہ کتا ب پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں موجو د ہے:۔
اعتراض 30۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کی مسیح نازل ہونے کے بعد میری قبر میں دفن ہو گا۔ یدفن معی فی قبری
یُدْفَنُ مَعِیَ فِیْ قَبْرِیْ
اس کا مفضل جواب ’’حیات مسیح کی تیرھویں دلیل‘‘کے جواب مندرجہ صفحہ۲۳۱پاکٹ بک ہذا پر ملاحظہ فرمائیں۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.