مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 4

maseehe-maood-pbuh-zilli-baroozi-muhammad-pbuh-jawab

مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 4

شروح الغیب  ترجمہ فتوح الغیب ۔ عبد القادر جیلانی 

کیوں نہ ہو جب کہ ولایت درحقیقت ظل نبوت ہے  اور جس میں جو کچھ بھی پیدا ہو گا وہ سب زیر سایہ نبوت ہی ہو گا ۔ بالخصوص ولایت کبریٰ حضور غوث پاک کہ آپ حضور سید العالمین ﷺ کی نبوت کے ظل ظلیل اور آفتا کمال کے نور بے زوال ہیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔ ایک وہ مقام رفیع جسے مقام فنائے صفات کہتے ہیں ۔ محقیقین کے نزدیک انا الحق اسی شہود و مقام کی حالت میں ظہور پزیر ہوتا ہے ۔ ( از شرح ) 

مقیاس الحنفیہ  فی رد اھل الغراب والبدعیہ

لاریب اس جہاں میں ہیں ظل عمر عمر 

اسلام کا شعور ہے مقیاس حنفیت 

مدائح اعلیٰ حضرت مشتملہ نعمۃ الروح 

مصطفیٰ ہیں ظل حق نور خدا 

تم ہو ظل مصطفیٰ احمد رضا

یہ دعا ہے یہ دعا ہے یہ دعا 

تیرا اور سب کا خدا احمد رضا

میں ہوں کس کا آپ کا احمد رضا

دونوں عالم میں ہے تیرا آسرا

کون دیتا ہے مجھے کس نے دیا 

جو دیا تم نے دیا احمد رضا

ہاں مدد فرما شہااحمد رضا

حشر میں جب ہو قیامت کی تپش

جب زبانیں سوکھ جائیں پیاس سے 

جام کوثر کا پلا احمد رضا 

قبرو نشرو حشر میں تو ساتھ دے 

ہو مرا مشکل کشا احمد رضا

گر اشارہ ہو ترا احمد رضا 

اک نظر میں کام ہوتا ہے مرا

ہو عطا کچھ ہو عطا احمد رضا

تو ہے داتا اور میں منگتا ترا

میرے بگڑے اکم بن جائیں ابھی 

یک نظر سوئے گدا احمد رضا

میں نہ جاؤں تیرے در سے خالی ہاتھ 

میں ترا ہوں تو مرا احمد رضا

 

الملفوظ ۔ معروف بہ ملفوظات اعلیٰ حضرت ۔ مکمل چار حصے ۔ مرتب ۔ محمد مصطفیٰ رضا خان 

سوال ۔ وحدت الوجود کے کیا معنی ہیں ؟ 

جواب۔  وجود ہستی بالذات، واجب تعالیٰ کے لیے ہے اس کے سوا جتنی موجودات ہیں اسی کی ظل پرتو ( یعنی عکس ) ہیں تو حقیقتاً وجود ایک ہی ٹھہرا

عرض : اس کا سمجھا تو کچھ دشوار نہیں پھر یہ مسئلہ اس قدر کیوں مشکل مشہور ہے؟

ارشاد : اس میں غور و تکامل یا موجب حیرت یعنی حیران کن ) ہے یا باعث ضلالت (یعنی گراہی کا سبب ۔ اگر اس کی تھوڑی بھی تفصیل کروں تو کچھ سمجھ میں نہ آئے گا بلکہ اوہام کثیرہ (یعنی کثیر ہم ) پیدا ہوجائیں گے۔

اس کے بعد کچھ مثالی بیان فرمائیں، ان میں سے ایک یادری) مثلا روشنی بالذات (یعنی بلا واسطہ ) آفتاب و چراغ میں ہے،زمین و مکاں اپنی ذات میں بے نور ہیں مگر بالعرض (یعنی بالواسطہ) آفتاب (یعنی سورج) کی وجہ سے تمام دنیا ئنو راور چراغ سے سارا گھر روشن ہوتا ہے۔ ان (یعنی زمین و مکاں) کی روشنی انہیں (یعنی آفتاب و چماغ) کی روشنی ہے ۔ اُن (یعنی آفتاب و چراغ) کی روشنی ان (یعنی زمین و مکاں) سے اٹھالی جائے تو وہ ابھی تاریک محض رہ جائیں۔

ارشاد : اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جو شخص آئینہ خانہ میں جائے وہ ہر طرف اپنے آپ ہی کو دیکھے گا، اس لئے کہ یہی اصل ہے اور جتنی صورتیں ہیں سب اس کے ظل (یعنی عکس) ہیں مگر یہ صورتیں اُس کی صفات ذات کے ساتھ متصف (یعنی موصوف ) نہ ہوں گی مثلا سنے والی دیکھنے والی وغیرہ وغیرہ نہ ہوں گی ۔ اس لئے کہ یہ صورتیں صرف اُس کی سطح ظاہری (یعنی جسم کے ظاہری حصے) کی قل (یعنی کوس ) ہیں ، ذات کی نہیں اور سمع و بصر یعنی شنا اور دیکھنا ذات کی صفتیں ہیں سطح ظاہر کی نہیں لہذا جو اثر ذات کا ہے وہ ان ظلال (یعنی ملوس) میں پیدا نہ ہوگا بخلاف حضرت انسان کہ یہ ظل ذات باری تعالی ہے لہذا ظلال صفات سے بھی حسب استعداد

یعنی بقدر صلاحیت) بہرہ ور ( یعنی فیضیاب) ہے۔

دیدار الهی کس طرح ھو گا؟

مؤلف : حضور یہ اب بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ہر جگہ خدا کیوں کر دیکھتے ہیں ، اگر ان ظلال و نکوس کو کہا جاوے تو یہ اتحاد ہے ” وحدت نہیں اور اتحاد گھلا الحادو نفقہ (یعنی کفر بے دینی) ہے اور اگر یہ ظلال و عکوس

کو نہیں دیکھتے بلکہ انہیں عدم محض میں سلاتے ہیں ایک اللہ (عزز خل) کا جلوہ نظر آتا ہے۔ تو یہ خود بھی ایک ظل ہیں یہ بھی معدوم ہوئے تو نہ ناظر (یعنی دیکھنے والا) رہانہ نظر، پھر یہ کہ اللہ تعالی کو دیکھنے کے کیا معنی ؟ وہ اس سے پاک ہے کہ کسی کی نظر سے احاطہ کرے وہ سب کو محیط  ہے۔

ارشاد ۔ ظلال و عکوس مرات ملاحظہ ہیں ، مرات کامرئی ( یعنی نظر آنے والی چیز )  سے متحد ہونا کیا ضرور ! علم بالوجہ میں وجہ مرات ملاحظہ ہوتی ہے ۔ 

ظلال اپنی ذات میں معدوم ہیں کہ کسی کی ذات مقتضی وجود نہیں ( یعنی وجود کا تقاضا نہیں کرتی ) 

یعنی حضور سید عالم ﷺ ذات حق کے مظہر ہیں اور ظہور حق آپ میں بالذات ہے ۔ ت 

عرض : تو تمام مخلوق خلال ذات کس طرح ہوگی ؟

ارشاد : امام مظہر صفات ہیں اور صفات مظہر ذات اور مظہر کا مظہر مظہر ہے تو سب خلق مظہر ذات ہے اگر چہ بواسطہ یا بوسائط ۔ شیخ کا کلام مظہر ذات بلا واسطہ میں ہے وہ نہیں مگر حضور مظہر اول صلی الہ علیہ سلم ان کے لفظ دیکھئے کہ 

ظهور حق دروس بالذات ست

( یعنی حضور جان عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم بلا واسطہ مظہر حق ہیں) (ايضاً )

حدائق بخشش کامل ۔ منظوم کلام احمد رضا خان بریلوی

نبوی ظل علوی برج بتولی منزل 

حسنی چاند حسینی ہے اجالا تیرا 

نبوت خور علوی کوہ بتولی معدن 

حسنی لعل حسینی ہے تجلا تیرا

اُمی ولی ۔ سوانح و ارشادات و کرامات دباغ

بلکہ ہر سالک راہ طریقت، سلام اپنی علم الیقینی کی لذت کو عین الیقینی کے کیف و حال میں لا کر کچھ توق شرف انسانیت ادا کرتا ہے ۔ انبیائے سابقہ کے ظل میں ، راه توحید ابراهیمی، راه عشق و طریقت عیسوی، راہ شریعت موسوی علم لدنی کو اپناتا ہے۔ پھر محبوبیت کی کملی اوڑھ کر کچھ تو خیرات ہونے کا ثبوت دینا ہے ۔ پیران طریقت کو پیران پیر کے نقش قدم چل کر فتح الغیب کرنا ہے۔

 

کشف المعارف ۔ مجدد الف ثانی کے مکتوبات 

حقیقت محمدی بقیه دوم – (کتاب ۲۷ ۱ دفتر سوم ) ( اس کا ایک حصہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس سے تسلسل قائم کریں) حقیقت محمدی جو ظہور اصل اور حقیقت الحقائق ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے حقائق کیا انبیاء کرام کے حقائق اور کیا ملائکہ سب اس کے اطلال کلام حقائق کا اصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے خدا تعالٰی نے میرے نور کو پیدا کیا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے نور سے پیدا ہوا ہوں اور مومن میرے نور سے پس وہ حقیقت باقی تمام حقائق اور حق تعالیٰ کے درمیان واسطہ ہے اور آنحضرت ﷺ کے واسطے کے بغیر کوئی مطلوب تک نہیں پہنچ سکتا جس طرح آنحضرت علیہ الصلواۃ والسلام انبیاء کرام اور ملائکہ عظام کے ہر فرد سے افضل ہیں اسی طرح کل ہونے کی حیثیت سے کل سے افضل ہیں اس لیے کہ اصل کو اپنے قتل پر نفسیات ہے۔

انبیاء سے فضیلت – ( کتاب ۱۲ دفتر سوم ) اگر امتوں میں سے کوئی فرد اپنے پیغمبر کی طفیل و سے اوپر کے طور پر ہوگا کیونکہ معلوم تبعیت کے باعث بی ہے خادم اور طفیلی ہر وقت تعیلی ہے۔ جو کچھ کرنے کے بعد اس فقیر پر منکشف ہوا ہے یہ ہے کہ حقیقت محمدی جو حقیقت الحقائق ہے اس سب کا تعین اور ظہور ہے جو ظہورات کا مبداء اور مخلوقات کی پیدائش کا نشا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں پس میں نے خلق کو پیدا کیا۔

سوانح عمری امام ربانی ۔ مجدد الف ثانی 

اس بیان کے ضمن میں ہم حضرت مجد وصاحت کے فضائل بیان کرتے ہوئے انکی کمال پیروی جناب مقدس رسول الثقلین کی بیان کر دینگے اوغلی مرد کا اپنے رسول ہے سے ہنگ ہونا ہی ثابت کرینگے ۔

واضح ہو کہ مجرد اپنےرسول کانون ہوتا ہے والی طور پر وہ ہنگر اسی سیٹی پر پریکہ جہان کو کہا تا ہے جسپرا وسکا رسول چڑیا تہا اور اسکی کمال تابعدار ہی کر کے شصت با وصاف کمال موکر مخلوقات کی واسطے ہدائیت کا نمونہ قائم کرتا ہے۔ 

بلندی اور فوقیت ہے  مجدد الف کو مجدد ماتہ پر اور یہی طور زمانہ ارسال انبیاء سے چلا آتا تھا کہ بعد ہزار برس کے پیغمبر اولوالعزم پیدا ہوتا تھا جو صاحب احکام جدیدہ اور صاحب کتاب پسندیدہ ہو 

سراج العوارف فی الوصایا والمعارف۔ سید شاہ ابوالحسین احمد نوری 

للہ کرتے ہو دل کو حاضر کھانا طلب صادق اس تمام کرسکتے ہیں اپنے خاندان تعلق تم کرکے جنگل میں چلاگیا اور عبادت اہی میں مصروفہ ہوگیا چونکہ سی ناقص تھا اس لئے خدا تک رسائی ہوئی۔ بارگاہ اہی سے حضرت خضر یا اسلام کوکم ہوا کہ اس پر کو تعلیم دیر ریت کمال تک پہنچاؤ اور اس سے کہو کہ ہمارے میں طالب مصادق کو تو نے مرید کیا ہے اسے ہم ی پینا چنانچہ خضر علی السلم کی تعلیم سے گھڑی بھونیں اس کی چوری بھی چھوٹی اور وہ صاحب کمال ہو کہ مرید کے پاس پہنچا اور اسے بھی خدارسیدہ بنایا۔ دیکھتے طالب کی طلب صادق نے پر ناقص کے ساتھ کیا کیا اور کیا ہوگا ۔

میں نے اپنے شیخ شاہ آل رسول رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ستائیسواں اور سری دیویوں نور کر بعض دور ولیوں کو اور حرام اور مدارکھاتے دیکھا گیا ہے کئی بار دکھا گیا کہ انہوں نے مرے ہوئے جانور کے گوشت اور چربی کو استعمال کیا اور بظا ہردہ مجذوب و مجنون کی صورت بھی نہیں رکھتے بلہ کبھی کبھی تو وہ دوسروں کو بھی اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں۔ جب ہم نے دیکھا تودہ حلوہ نکلا۔ یہ کیا راز ہے۔ ارشاد فرمایا کن فیکون ۔ یہ باری تعالیٰ کی صفت ہے جب بندہ قانی محض ہو کر اس صفت کا مظہرین جاتا ہے تو اسے یہ قدرت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ چیزوں کی حقیقت کو بدل دے۔ تو وہ اگر مردے کو زندہ کہدے تو وہ زمرہ ہو جاتے اور زندہ کو مردہ کہدے تو مردہ ہو جاتے اگر وہ مردار کے گوشت کو حلوہ کہدے تو صلوہ ہو جائے اور حلوے کو اگر فضل کمہارے

اٹھا تیسواں نور ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضرت روح کی ہے ، فرمایا که روح صفت حیات باری تعالیٰ کا عکس ہے، جب باری تعالیٰ کی ذات اور صفات کا سمجھنا محال ہے تو روح کی حقیقت کیسے جان سکتے ہیں کہ یہ تو اسی کال اور کس ہے۔

عالم صغیر میں عقل ہے جو حقیقت محمدیہ ﷺ کے عکسوں میں سے ایک عکس اور انہیں کا پرتو ہے ۔ عالم کبیر میں شہنشاہ حقیقی کا عرش عظیم ہے 

کسی بندہ کو اپنے کلام کا مظہر بنا دے اور اس کی زبان سے کلام فرمائے تو کیا تعجب ہے تو وہ جو تم انا الحق اور سبحانی ما اعظم شانی سنتے ہو تو یہ وہی کہتا ہے جسے یہ کہنا زیبا ہے ۔ 

کلام فرماتے اورلوگوں کو انسانی گلے سے وہ آواز سنائی دے توکیا تعجب ہے۔ ان کا کہا ہو اللہ کا فرمایا ہوا ہے اگر چہ وہ انسان کے گلے سے ہی سنائی دے رہا ہے۔ بظاہر اس کلام کا کہنے والا انسان ہے لیکن در حقیقت یہ اسی کلام کرنے والے کا کلام ہے اور انسان نے اس کی صفت کلیمی سے عصر پایا اور اس کا کلام حقیقی ہر کسی کی مجھ میں نہیں آتا۔ یہاں اس ظاہر ی تکلم داستان) نے خود کو فناکہ کے اس تنظر حقیقی (اللہ تعالیٰ) کے کہلانے سے وہ بات کہی ہے کہ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ معاذ اللہ اس نے اپنے نفس کے فریب سے کہی ہے جیسے فرشون بے سامان کا کہنا انار بکم الا علیٰ رہیں ا اور اگر ہوں تو ان یہ بات اپنی ویسے ہی دو یا ان کا اپنی خودی سے گزر کر کہتے ہیں کہ وہ متکلم حقیقی ان سے کہلواتا ہے اوریہ بات چھینی ہوئی نہیں ہے لہذایہ اولیا کرام تقول

اس وقت کے کلمے کلام الٰہی کا ظل اور عکس ہوتے ہیں ۔ بعض اولیاء اللہ اپنی تمام عمر اسی حالت میں ڈوبے رہتے ہیں جیسے حسین منصور  ااور بعض سے تمام عمر ظاہر نہیں ہوتے اور یہ لوگ ضبط کرنے والوں کے بڑوں اور حضور ﷺ کے خاص وارثوں میں شمار ہوتے ہیں 

رای بایزیدنے ہرگز ی کے نہیں ہے اور ہر گز نہیں کہ کیا لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ نے ہی فرماتے ہیں فرمایا اگر تا بیک کے سن تو میں نہیں کر دیتا ہوں کے خنجر سے ختم کر دیا۔ لوگوں نے خنجروں پر دار ھو کر رکھ لیا یہاں تک کہ حضرت پر وہ حالت پھر طارمی وقتی اور آپ نے سبحانی ما اعظم مشانی کہنا شروع کیا تولوگوں نے آپ کے حکم کے مطابق آپ یہ تجر ملائے۔ جو شخص آپ کو خنجر مارتا اس کا زخم خود اس کے بدن پر اسی جگہ آجاتا اور حضر ے جس پر کوئی نشان ہی نہ پیدا فرمایا میں کہا تا کہ وہ بیوی یہ نہیں کہتا وہی فرماتا ہے جسے یہ کہنا میا سے اگر کوئی شخص حالت ہے اور اپنے حواس کی سلامتی کے وقت اس قسم کے لئے کہے تو

حکماء کی اصطلاح میں نفوس کی عکسی صورتوں کو عالم مثال کہتے ہیں ۔ اشراقیہ اسی عالم کو روح کا مقام کہتے ہیں اور صوفیا دوسرے عالم کو قول کرتے ہیں جیسا شیخ اکبر نے فتوحات کے تین سو اکیسویں باب میں بیان کیا ہے اور ہم اس کا ذکر عالم برزخ کے ذکر میں کر چکے ہیں 

فتوحات مکیہ ۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی 

وحدت وجود یہ ہے کہ وہ صرف موجود واحد ہے باقی سب اظلال و عکوس ہیں 

قابلیت کا ہوتا ہے ورنہ دو صورت جس کا اس میں عکس ہے خود واحد ہے ۔ ان میں جو حالتیں پیدا ہو ئیں متجلی اُن سے منزہ ہے اُن کے الٹے بھونڈے دھندلے ہونے سے اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا ۔ واللہ المثل الاعلی اسب اس آئینہ خانے کو دیکھنے والے تین قسم کے ہوئے۔ اول نا سمجھ بچے انہوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ موجود ہے یہ سب عکس بھی موجود ہیں کہ یہ بھی تو ہمیں ایسے ہی نظر آ رہے ہیں جیسے وہ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے تابع ہیں جب وہ اٹھتا ہے یہ سب کھڑے ہو جاتے ہیں وہ چتا ہے یہ سب چلنے لگتے ہیں وہ بیٹھتا ہے یہ سب بیٹھ جاتے ہیں تو عین یہ بھی اور وہ بھی، مگر وہ حاکم ہے یہ محکوم اور اپنی نادانی سے نہ سمجھا کہ وہاں تو بادشاہ ہی بادشاہ ہے یہ سب اسی کے عکس ہیں اگر اس سے حجاب ہو جائے تو یہ سب صفحہ ہستی سے معدوم محض ہو جائیں گئے ہو کیا جا ئیں گے اب بھی تو حقیقی وجود سے

دو اہل نظر و عقل کامل وہ اس حقیقت کو پہنچے اور اعتقاد بنائے کہ بے شک وجود ایک بادشاہ کے لیے ہے موجود ایک وہی ہے یہ سب ظل و عکس ہیں کہ اپنی حد ذات میں اصلاً وجود نہیں رکھتے ۔ 

انہوں نے ان صفات اور خود وجود کی دوقسمیں کیں حقیقی ذاتی کہ متجلی کے لیے ہے اور ظلی عطائی کہ طلال کے لیے اور حاشا یہ تقسیم اشتراک معنی نہیں بلکہ محض موافقت فی اللفظ یہ ہے حق حقیقت و معین

معرفت‘ ۔ (۱)

فاضل بریلوی کی توضیح بظاہر وحدت شہود کی طرف جاتی ہے مگر غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ مولانا اشرف علی تھا وی شیخ اکبر کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ظاہر میں لوگ جن کی رسائی معنی تک نہیں اور جو علم و فہم باطن سے محروم ہیں، وہ مسئلہ توحید میں شیخ اکبر الہ کے ارشادات کو عقیدہ حلول کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ شیخ نے اپنی مولفات میں عقیدہ حلول کا انکار اور ڈفرمایا ہے۔ فتوحات میں فرماتے ہیں کہ اس گروہ کا نظریہ جو دلائل نظریہ کے محتاج ہیں یہ ہے کہ حق کی نسبت خلق کے ساتھ ایسی ہے جیسی صانع کی مصنوع کے ساتھ اور واجب کی ممکن کے ساتھ ہر مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے ۔ مگر اخص الخواص کا عقیدہ یہ ہے کہ اشیا کا مظہر ان کا عین ہے یعنی اشیاء اسماء کا ظل اور

وحدت الوجود اور وحدت الوجود ۔ ابن عربی مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ اور عبید اللہ سندھی کے نظریات

 وحدت الوجود کی بنیا د ظل واصل کی عینیت پر ہے۔ شیخ مجدد کے نزدیک ظلّ شئے عین شے نہیں ہو سکتا۔ خل تو اصل کے مشابہ و مماثل ہوتا ہے۔ ظل واصل عین یک دگر نہیں ہو سکتے۔ مثلا اگر کسی شخص کا سایہ لمبا ہو جائے تو نہیں کہ سکتے کہ شخص لمبا ہو گیا۔ شیخ مجدد کے ہاں اول تو کائنات خدا کا ظل ہی نہیں اور اگرا سے خدا کا ظل مان بھی لیا جائے تو بھی حینیت ثابت نہیں ہوتی ۔

یہ آٹھوں صفات صفت وجود کی صورتیں ہیں۔ دیہاں پر اللہ کے وجود کامل اور اس کی اپنی ذات میں پیدا کی گئی صفت وجود میں فرق قائم کرنالازمی ہے ۔ اب اس صفت وجود کے بالمقابل عدم محض ہے صفت حیات کے متقابل موت ہے۔ علم کے بالمقابل جبل اعلم کا عدم ، ہے ۔ قدرت کے بالمقابل عجز (قدرت کا عدم ہے۔ اسی طرح ان تمام صفات کے اعدام متقابلہ ہیں۔ خدا اپنے اس وجود محض کا غل پر تو یا مکس اس کی عدم متقابل یعنی عدم محض میں ڈالتا ہے تو وجود مکن پیدا ہو جاتا ہے (یعنی عدم محض کو وجود کی صفت نصیب ہو جاتی ہے اور وہ نیست سے ہست میں آجاتا ہے ۔ اسی طرح وہ صفت حیات کا ظل اس کے عدم متقابل یعنی موت میں ڈالتا ہے تو وہ موت حیات ممکن بن جاتی ہے۔ اسی طرح وہ صفت علم

حقائق اشیار سے متعلق مجددالف ثانی رحمہ للہ علیہ کا نظریہ اعدام متقابلہ ان کے تصور توحید کے بیان میں گزر چکا ہے۔ شیخ محمد دحادث و قدیم کے مابین ربط و تعلق کو اس طرح سے بیان فرماتے ہیں کہ یہ عالم اللہ تعالی کے سماء وصفات کے ان عکوس و خلال سے عبارت ہے جو اعدام متقابلہ کے آئینوں میں مرتسم ہوتے ہیں۔ مثلا قدرت کا عدم مجز ہے ۔ چنانچہ جب قدرت کا عکس یا غل جب مجز کے آئینے میں پڑے گا تو اس سے قدرت مکنہ طور پذیر ہو جائے گی ایسی طرح سے تمام صفات وجود کو قیاس کیا جاسکتا ہے اور تمام اشیاء اور موجودات کی توجیہ کی جاگتی ہے کہ نام اشیاء اورموجودات دائرہ عدم میں تھے دعدم کا محل بھی علم الہی ہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اسماء وصفات نے ضوفشانی کی اور ان اعدام کو وجود ممکن نصیب ہو گیا۔

تحقیق الحق فی کلمۃ الحق ۔ پیر مہر علی گولڑی 

جو اس بدنی کے احساسات، وفکر و خیال (زمینی کے تخیلات اسب کو معطل کر کے طالب صادق اور وں پر متوجہ اور مقیم رہے اور دروں اعتقادام من نیم او ستار یہ میرا تعین و نود اپنے وجود سے قطعا قائم نہیں۔ بلکہ اسی وجود حقیقی کا مطلق ہے اور محض تعبیر مظاہر کا عنوان ہے جس کی کوئی ہستی نہیں ۔ الملک لمن ضلب نامیست زمن باقی کا مراقبہ ( دھیان کرے کہ الا موجود إلا الله

فارسی ۔ و هم چنین میان محلی که وجود سالک بعینہ منعم حقیقت محمدیہ علی صاحبها الصلوة و السلام شده در ترنم لا اله الا الله چشتی سوال له شده لازالة در آید یار فع اشتباه میدان تجلی ملی که نازل است بر سالک تعین ملکی که نزول فرموده بود بر نبی از انبیا – سابقه و بسبب تشابه آن دو تعین دعوای عینیته آن بی نماید بغیر از مد د سابقه عنایت از عید که اکثر و اغلب از صورت پر ظهور می نماید دشوار است و متعسر

ترجمہ ۔ اور ایسا ہی امتیاز در میان تجلی ظهوری ا سکے کہ سالک کا ویو میبینه مظهر حقیقت محمدیه مور لا اله الا الله چشتی اسالك رسول الله کے ترقم میں آتا ہے۔ یا سالک کے مشاہدہ میں ، رفع اشتباه کا درمیان تجلی مکی کے کہ قلب سالک پر نازل ہے ، اور عین ملکی کہ انبیاء سابقہ میں سے کسی نبی پر اس فرشتہ نے نزول فرمایا ہو ۔ ر اور مناسبیت قلب سالک کے اس بنبی کے قلب سے سالک پر تجلی ملکی وارد ہوا ہو) اور سبب باہمی مشابهت ان دونوں تعین تجلی ملکی وقعین مکی کے مالک افریب مشاہدہ سے، دعوی بعینیت (بروزی) اس نبی کا کرتا ہے۔ تو بغیر مرد سابقہ عنایت ازلی کے۔ کہ اکثرو اغلب احوال میں (وہ مرد از یہ شیخ کامل کی صورت نظیفہ سے ظہور کرتی ہے دشوار اور مشکل ہے۔

قدم الشیخ عبد القادر علیٰ رقاب الاولیاء الاکابر  ۔ ممتاز احمد چشتی

اے ظل الٰہ شیخ عبد القادر

اے بندہ پناہ شیخ عبد القادر 

حدائق بخشش کامل ۔ احمد رضا خان بریلوی منظوم کلام 

وہی نور حق وہی ظل رب ہے 

انہیں سے  سب ہے انہی کا سب ہے 

تنویر الایمان ۔ محمد رمضان علی 

مرشد کی شفاعت خداست کیف مدالظل نقش اولیاست کو دلیل نور خورشید خدا کیف مدالظل میں جو سایہ کا اشارہ ہے ۔ اس سے مراد اولیاء اللہ کا وجود مبارک ہے بود خورشید حق کے نور کی طرف رہنما ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ الم تو إلى مرتك كيف مد الظلّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سالِنا ثمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ علیه دلیلاً ۔ اسے پیہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) کیا تم اپنے رب کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس نے کس طرح سایہ کو درانہ کیا اور اگر وہ چاہے تو اس کو ساکن کہ دے پھر ہم نے آفتاب کو اس پہ دلیل بنایا ۔ مولانا روم قدسنا الله با سرادہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جو سایہ ظاہری کا حکم آیا ہے۔ یہی مثال اولیا اللہ کی ہے کہ میں طرح سایہ ظاہری سے سورج اور اس کی رفتارہ کا پتہ لگتا ہے، اسی طرح اولیاء اللہ کی ذات بابرکات جو ظلی اللہ میں ان کے وجود سے آفتاب حق یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ اس مقام پر مولانا بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک لطیف نکتہ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرمایا ہے

ایضاح الطریقہ ۔ شاہ غلام علی دہلوی 

مراقبه حقیقت موسوی

مرکز این مقام محبیت صرفہ ذاتیہ حقیقت موسوی است علیه السلام و بسیاری از پیغمبراں بمطالعت او بائیں مقام رسیده اند و در قرب و معیت ممتاز اند علیہ السلام 

مراقبہ حقیقت محمدی

این مرکز بتدقیق کشفی دائرہ عظیم می نماید و مرکز این دائره محسبیت و محبوبیت ذاتیہ متز جین حقیقت محمدی است

گویا دو میم اسم مبارک محمد ﷺ بر این محبیت و محبوبیت اشاره می فرمایند و نیز درین مرکز که بغور نظر، رفته می شود و شل دائر درفیع الشان نظر می آید

مراقبہ حقیقت احمدی

مرکز ایں دائرہ محبوبیت صرفه حقیقت احمدی است. صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ و اصحابہ و بارک وسلم و مهیم اسم مقدس احمد از این معنی رمزے وا می نماید ۔ بدانکه این عظمت و کبریا وایس وسعت و این محبت و درجات آن می تواند که در نفس حضرت ذات حق تعالی باشد که حصول این مراتب بعد تحصیل تجلیات ذاتیہ دائمیه که در کمالات نبوت حصول می شود، پیش می آید با عظمت و وسعت بودن و محب و محبوب خودشدن تحقیق آن موقوف بر اضافت غیر نیست، محض وجوه و اعتبارات است حصر حضرت ذات حق تعالی را تعالت و نقدست و نیز مقتضائے محبت که در سیر ظلال و صفات پیدا شود اذواق و اشواق قلبی است و محبتی که در این مقامات محض بفضل الہی دست دهد موجب کمال و اطمینان و وسعت و بے رنگی باطن واراده طاعت و استواء ایلام و انعام محبوب می گردد.

چنانچہ شہادت وجدان اہل وصول این مقامات مصداق این معنی است.

مراقبه حقیقت موسوی

اس مقام کا مرکز محبیت صرافہ ذاتیہ حقیقت موسوی علیہ السلام ہے اور بہت سے پیغمبر آپ کی متابعت سے اس مقام پر پہنچے ہیں اور قرب ومعیت الہی میں ممتاز ہیں۔ علیہم السلام۔

مراقبه حقیقت محمدی ﷺ

اس مقام کا مرکز دقیق نظر کشفی میں ایک عظیم دائرہ نظر آتا ہے اور اس دائرہ محبیت و محبوبیت ممتر جین کا مرکز حقیقت محمدی التا ہے۔

گویا اسم مبارک محمد ﷺ کے دو میم اسی محسبیت و محبوبیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور نیز اس مرکز میں بغور دیکھا جائے تو ایک رفیع الشان دائرہ کی مثل نظر میں آتا ہے۔

مراقبہ حقیقت احمدی

اس دائرہ کا مرکز محبوبیت صرفہ ذاتیہ حقیقت احمدی ہے۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ

واصحابہ وبارک وسلم ۔ اسم مقدس احمد کا میم اسی بھید کو کھولتا ہے۔

جان لیں کہ یہ عظمت و کبریائی اور یہ وسعت اور یہ محبت اور اس کے درجات ہو سکتا

ہے کہ نفس حضرت ذات میں ہوں کہ ان مراتب کا حصول تجلیات ذاتی دائگی کے حاصل ہونے کے بعد جن کا حصول کمالات نبوت میں ہوتا ہے، پیش آتا ہے۔ با عظمت و با وسعت ہونا اور اپنا محب ومحبوب ہونے کی تحقیق غیر کی اضافت پر موقوف نہیں ہے۔ محض حضرت ذات حق تعالی و تقدس کے وجوہ و اعتبارات ہیں۔ نیز مقتضائے محبت جو کہ ظلال وصفات کی سیر میں پیدا ہوتا ہے وہ قلبی اذواق واشواق ہیں اور جو محبت ان مقامات میں محض بفضل الہی نصیب ہوتی ہے، کمال اطمینان و وسعت و بے رنگی باطن و اراده طاعت و استواه ایلام و انعام محبوب کا موجب بن جاتی ہے۔

چنانچہ ان مقامات کے واصل حضرات کے وجدان کی شہادت اس معنی کی مصداق

تعین ثانی تعین ثانی تعین وجودی ہے اور تعین اول کی کل کی مانند ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعین ہے اور اس تعین وجودی کے حصوں سے ہر پیغمبر اور رسول کا مبدء تعین ایک حصہ ہے اور امتوں میں سے اگر کسی کو متابعت انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات کی برکت سے اس تعین وجودی میں نصیب ہو جائے۔

اور اس تعین کا حصہ یا نقطہ اس آدمی کا مبدا تعین ہو جائے تو یہ جائز ہے، بلکہ واقع ہے۔ ملائکہ علین علیہم السّلام کے مبادی تعینات بھی اسی تعین وجود میں ہیں اور حقیقت امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق جن کا مبدہ تعین بغیر کسی امر کے توسط کے حقیقت محمدی ﷺ کا اس نہج پر تل ہے کہ جو کچھ اس حقیقت میں شامل ہے وہی تبعیت و وراثت کے طریق پر اس کل میں ثابت ہے۔ اسی جگہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کو ضمعیت کبری حاصل تھی جو کہ کمال محبت و معیت سے حبیب اللہ ﷺ کے ضمن میں قرب الہی کے مقامات کی سیر فرماتے تھے۔ اس لیے حدیث میں آیا ہے: ” جو شئے اللہ تعالیٰ نے میرے سینے میں ڈالی وہ ابوبکر صدیق کے سینے میں پلٹ دی گئی ہے۔ یہی مرتبہ عالیہ شیخ الشیوخ حضرت محمد عابد گو به تبعیت

توحید شہودی اور توحید شہودی کے علوم اہل فنائے نفس کو کہ جو انہوں نے فنائے قلب کے حصول کے بعد انوار حق کے غلبات میں انا و توابع وجود و استهلاک کے انتقاء میں پائے ہیں۔ کمالات نبوت و دیگر مقامات مجددیہ میں طالب تجلی ذاتی کا مورد ہے۔ سکر ختم ہو چکا ہے اب صحو وارد ہے۔ اب ہوشیاری ہے۔ شرعی علوم کے حقائق و معارف ہیں اور بس۔ جو سالکین توحید وجودی کے مقام پر ہیں، وہ خدا تعالٰی کے ساتھ تمام دنیا کی نسبت اتحاد و عینیت ثابت کرتے ہیں۔ اہل توحید شہودی خدا وند تعالیٰ کی کائنات کے ساتھ ظلیت به کمالات نبوت به تبعیت و وراثت رسیده اند از غایت تنزیهه مقصود را از اثبات هر نسبت تبری فرمایند الانسبت مخلوقیت و مصنوعیت ما للتراب ورب الارباب این معرفت ذوتی و وجدانی است نه تقلیدی اما ظہور ایں اقسام علوم ہر سالکے را میسر نیست۔

و نسبت احرار یه که حضرت خواجہ احرار از آباء کرام خود دارند قدس سره و منشاء اسرار تو حید وجودی است گزاشته که در آن مزلت اقدام پیش می آید و آنکه در این وقت اکثر ارباب سلوک از ذوق و وجدان ہم بہرہ تمام نه دارند می تواند که از دوری زمان نبوی ﷺ کی نسبت کا ہونا مقرر کرتے ہیں۔ جو لوگ ان دونوں سے گزر چکے ہیں ( توحید شہودی و توحید وجودی) اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تبعیت ووراثت سے کمالات نبوت حاصل کر چکے ہیں، وہ مقصود کی غایت تنزیہہ کے پیش نظر اس سے ہر نسبت کے اثبات سے بے زاری فرماتے ہیں مگر صرف نسبت مخلوقیت و مصنوعیت یہ معرفت ذوقی اور وجدانی ہے تقلیدی نہیں۔ لیکن علوم کی ان اقسام کا ظہور ہر سالک کو میسر نہیں ہے۔ ماللتراب ورب الارباب ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم

مکاشفات عینیہ مجددیہ ۔ مجدد الف ثانی ۔ احمد فاروقی سرہندی

مکاشفه ۲۵ – دائره وظل واجب تعالیٰ کے اسماء و صفات ہیں۔ یہ مرتبہ تعینات خلائق کو متضمن ہے سوائے انبیاے کرام اولانکہ عظام کے علیہم الصلوۃ والسلام۔ اور ہر اسم کاظل اشخاص میں سے کسی ایک کے تحقیق کا مبداً . ہے۔ اور یہ دائرہ ظل حقیقت میں اسماء وصفات کے مرتبہ کی تفصیل ہے۔ مثلاً صفت علم ایک حقیقی صفت ہے کہ جزئیات اس صفت کے خلال ہیں جو کہ اجمال کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ اور ہر چیز اس حقیقت کا انبیاء و ملائکہ کرام علہیم الصلوۃ والسلام کے علاوہ اشخاص میں سے ایک شخص ہے ، اور انبیاء وملائکہ کے تعینات کے مبادی ان ظلال کے اصول ہیں یعنی جزئیات مفصلہ کے کلیات ہیں۔ مثلاً صفت علم صفت قدرت صفت ارادہ وغیرہ ۔ اور اکثر اشخاص ایک صفت میں شرکت رکھتے ہیں مثلاً خاتم الرسل رصلی اللہ علیہ وسلم ) کے یقین کا مبداً صفت علم ہے۔ اور یہی ایک اعتبار سے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے تعین کا

مبدا ہے۔ نیز ایک اختیار سے حضرت نوح على نبينا وعليهم الصلوۃ والتسلیمات کے تعین کا مبدا ہے ۔ اور لوگوں نے جو کہا ہے کہ حقیقت حضرت محمدی صلی اللہ علیہ د تم حضرت اجمال ہے۔ اور تین اول جس کو وحدت کہا جاتا ہے اس دائرہ قتل کا مرکز ہے۔ اور اسی دائرہ کل کو مرکز اول کا تعین سمجھا ہے ۔ اور اس کے مرکز کو احبال سمجھ کر وحدت کا نام دیا ہے۔ اور اس مرکز کی تفصیل کو جوکہ دائرہ کا حیط ہے واصدرت گمان کیا ہے۔ اور دائرہ ا طل کے مقام فوق کو جو کہ اسماء و صفات کا دائرہ ہر ذات بے چون تصور کیا ہے۔ کیونکہ صفت کو معین ذات کہا ہے۔ اور زائد نہیں سمجھا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ دائرہ فوق کامرکز ہے جو کہ اس کی اصل ہے اور دائر کا اسماء وصفات کہا جاتا ہے۔ اور حقیقت محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم ) اسی دائرہ اصل کا مرکز ہے۔ اور اس مرکز کے ظل پر حقیقت کا اطلاق کرنا اصل کے ساتھ ظل کے اشتباہ پر مبنی ہے۔ اور حضرت ندیق کا مید العین بود که انبیاء علیهم الصلوۃ والتسلیمات کے بعد اتصل بشر ہیں۔ اور یہ دائرہ اسماء وصفات کے لیے خاص کر دائرہ اصل ہے۔ اور دوسرا دائرہ جو اس کے اوپر ہے اس اصل کی اصل ہے اور ایک قوس

ہے۔ اور یہ تعین اول تمام ولایت کا منتا ہے۔ خواہ ولایت کبری ہو خواہ ولایت علیاء جوکہ ملاء اعلیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اور جامع ہے تمام دولایت انبیاء و لانگہ کرام علیم الصلوۃ والتسلیمات کو ۔ اس مقام میں ملاحظہ ہوا کہ آیا یہ یقین اول شاید وہی حقیقت محمدی ہے جو کہ مشائخ نے کہا ہے یہ معلوم ہوا کہ نہیں ہے۔ اور حقیقت محمدی دوسری ہے جو کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے ۔ لہذا جو میر کہ اس شہر کے اوپر واقع ہوتی ہے کہا لات نبوت میں سیر ہوگی جوکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات کو اصالتہ حاصل ہے۔ اور اولیا ہے کاملین کو ان حضرات علیہم الصلوۃ والتسلیمات کے اتباع کی وجہ سے حاصل ہے۔ اور ان کمالات سے خاک کے عنصر کے لیے کافی حصہ ہے۔ اور تمام اجزا سے انسانی

مکاشفه ۲۶ – برا در عزیز خواجہ محمد ہاشم نے پوچھا تھا کہ بعض فضلاء ان دو باتوں میں خدشہ رکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہزار سال کے بعد حقیقت محمدی حقیقت احمدی ہو جاتی ہے۔ اور عبادت کا تمہ لکھا جو کہ اس فقرہ کے بعد واقع ہے۔ اور دونوں ہم کا سمی متحقق ہو جاتا ہے۔ اس عبارت کو ملاحظہ کرنے کے بعد دیکھیں کہ وہ خدشہ باقی رہتا ہے یا نہیں۔ کیا چیز مانع ہے کہ ایک مسلمی اپنے ان دو ناموں کے ساتھ جیسے د و کمالات مخصوصہ مراد ہیں یکے بعد دیگر سے طویل زمانہ کے بعد تحقیق ہو۔ اور ایک کہاں سے دوسرے کمال کی طرف ترقی کرے جو کہ بالعقوۃ اس میں موجود تھا۔ یہ فلاسفہ کا قول ہے کہ انھوں نے مجردات میں تمام کمالات کے بالفعل حاصل ہونے کا اعتبار کیا ہے۔ اور قوت سے فعل کی طرف ترقی کو جائز نہیں قرار دیا ہے۔ یہ اُن کی کوتاہ نظری کے باعث ہے۔ جس شخص کے دو دن برابر ہوں تو وہ خسارے میں ہے ۔ اسی وجہ سے

انوار الصوفیہ ۔ علم تصوف و عرفان کا جامع چار ماہی رسالہ

ستائیسواں نور میں نے اپنے شیخ ( شاہ آل رسول ) رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ بعض درویشوں کو بارہا حرام اور مردار کھاتے دیکھا گیا ہے۔ کئی بار دیکھا گیا کہ انہوں نے مرے ہوئے جانور کے گوشت اور چربی کو استعمال کیا اور بظاہر وہ مجذوب و مجنون کی صورت بھی نہیں رکھتے بلکہ کبھی کبھی تو وہ دوسروں کو بھی اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں جب ہم نے دیکھا تو وہ حلوہ نکلا ۔ یہ کیا راز ہے۔ ارشاد فرمایا کن فیکون ۔ یہ باری تعالیٰ کی صفت ہے۔ جب بندہ فانی محض ہو کر اس صفت کا مظہر بن جاتا ہے تو اسے یہ قدرت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ چیزوں کی حقیقت کو بدل دے۔ تو وہ اگر مردے کو زندہ کہہ دے تو وہ زندہ ہو جائے اور زندہ کو مردہ کہہ دے تو مردہ ہو جائے اگر وہ مردار کے گوشت کو حلوہ کہہ دے تو حلوہ ہو جائے اور حلوے کو اگر فضلہ کہہ دے تو فضلہ ہو جائے۔ وہ زہر ہلاہل کو تریاق اور تریاق کو زہر ہلاہل کر دے چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زہر کھا لینے کا واقعہ مشہور ہے تو جب اسے اس صفت سے حصہ مل گیا اور وہ فضلہ کوحلوہ سمجھ کر کھائے تو تعجب کی کیا بات ہے کہ وہ اس کی قوت کرامت سے حلوہ ہو چکا ہے اور ظاہر ہے کہ جب ماہیت بدل جاتی ہے تو اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے مثلا انگوی شراب نجس العین اور حرام ہے، اگ وہ سر کہ ہو جائے تو اس کا کھانا حلال و درست ہے۔ یہی حال تمام چیزوں کا ہے اور اب اس میں کوئی خطرہ نہیں میں نے عرض کیا کہ حضور اب میری دلی تسکین ہوگئی۔

اٹھائیسواں نور: ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضرت روح کیا ہے؟ فرمایا کہ روح صفت حیات باری تعالیٰ کا عکس ہے، جب باری تعالیٰ کی ذات اور صفات کا سمجھنا محال ہے تو روح کی حقیقت کیسے جان سکتے ہیں کہ یہ تو اسی کا مل اور عکس ہے۔

 

کشف المعارف ۔ مجدد الف ثانی کے مکتوبات ۔ عنایت عارف

حقیقت محمدی حقیہ دوم۔ (کتاب ۱۲۷ دفتر سوم ) ( اس کا ایک حصہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس سے تسلسل قائم کریں ) حقیقت محمدی جو ظہور اصل اور حقیقت الحقائق ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے حقائق کیا انبیاء کرام کے حقائق اور کیا ملائکہ سب اس کے اطلال العام حقائق کا اصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا کیا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالٰی کے نور سے پیدا ہوا ہوں اور مومن میرے نور سے پس وہ حقیقت باقی تمام حقائق اور حق تعالیٰ کے درمیان واسطہ ہے اور آنحضرت ﷺ کے واسطے کے بغیر کوئی مطلوب تک نہیں پہنچی سکتا جس طرح آنحضرت علیہ الصلواۃ والسلام انبیاء کرام اور ملائکہ عظام کے ہر فرد سے افضل ہیں اسی طرح کل ہونے کی حیثیت سے کل سے افضل ہیں اس لیے کہ اصل کو اپنے عمل پر فضیلت ہے۔

انبیاء سے فضیلت ۔ (کتوب ۱۲ دفتر سوم ) اگر امتوں میں سے کوئی فرد اپنے ولیبر کی فیل و کے طور پر ہوگا کیونکہ معلوم تبعیت ہے خادم اور طین اور تبعیت کے بعد اس فقیر پر وقت طفیلی ہے۔ جو کچھ آخر کار مراتب طلال کے طے منکشف ہوا ہے یہ ہے کہ حقیقت محمدی جو حقیقت الحقائق ہے اس حب کا تعین اور ظہور ہے جو ظہورات کا مہداء اور مخلوقات کی پیدائش کا منشا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں پس میں نے خلق کو پیدا کیا۔

اور اول وہ چیز جو اس پوشیدہ خزانے سے میدان ظہور میں آئی ہی حب ہے جو خلوقات کی پیدائش کا سب ہوتی ہے۔ اگر چہ حب شا ہوتی تو ایجاد کا دورازہ نہ کھلا اور عالم عدم میں رائخ اور ستم رہتا۔ حدیث میں ہے اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان کو پیدا نہ کرتا باریک نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعین کا مرکز جب ہے جو حقیقت محمدی ہے اور اس کا محیط ( جو صورت مثال میں دائرہ کی طرح ہے اور اس مرکز کے عمل کی مانند ہے ) علت ہے جس کو حقیقت ابراہیمی کہتے ہیں پس جب اصل ہے اور ملت اس کے ظل کی طرح اور یہ مجموعہ مرکز و محیط ایک دائرہ ہے ۔ 

Leave a Reply