مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 5
فتاویٰ ختم نبوت ۔ جلد دوم ۔ مفتی سعید احمد جلال پوری
نہم ۔ بروز ۔ ہمارے نزدیک بروز عقائد اسلام میں کہیں تسلیم نہیں کیا گیا ۔ ہم اس کو تناسخ کے مساوی سمجھتے ہیں
اقتباس الانوار ۔ شیخ محمد اکرم
حضرت علی ؓ کی روحانیت سے سلمان فارسی کی امداد
مثالی میں ظاہر ہو کہ حضرت سلمان فارسی کو شیر کے پنجے سے نجات دلائی ہوگی ۔ اسی طرح آج تک کا ملین کی روحانیت سے اہل بصیرت کو تمام امور پر میر کی امداد ملتی چلی آتی ہے بلکہ ان کی روحا نیست بعض اوقات ارباب ریاضت پر اس طور پر تصرف کرتی ہے کہ اس کے افعال کی فاعل میں خود ہو جاتی ہے ۔ اس مقام کا نام صوفیاء کرام کی اصطلاح میں ہیروز ہے بروز اور تناسخ میں یہ فرق ہے کفار کا خیال ہے کہ جب روح ایک جسم سے نکلتی ہے تو اس عورت کی رقم میں داخل ہو جاتی ہے جس کو چار ماہ کا حمل ہو اور بچہ بن کر ظاہر ہوتی ہے اسے تناسخ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ یہ عقیدہ الکل باطل ہے بروز کا مطلب یہ ہے کہ کاملین کی روحانیت کسی اور کامل بزرگ کے جسم میں تصرف کرتی ہے اور اس کے افعال کی فائل بن جاتی ہے ۔ جیسا کہ ذات باری تعالے نے آگ کی صورت میں درخت میں ظاہر ہو کر حضرت موسی علیہ السلام پر تیل فرائی اور زبان حال سے فرمایا رانی انا اللہ ہی اللہ ہوں)
میر سید حسن سادات شرح فصوص الحکم میں لکھتے ہیں کہ متقین کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ یہ سید نا محمد تھے جنہوں نے آدم کی صورت میں ظہور فرمایا اور آخر خاتم کی صورت میں ظاہر ہوں گے ۔ یہ بروز ہے نہ کہ تناسخ بعض کا تو یہ خیال ہے کہ حضرت مینے علیہ السلام کی روح امام مہدی کی صورت میں بروز کرے گی اور نزول کا مطلب یہی بروز ہے جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے لا مہدی الا جیسے (مهدی عیسیٰ ابن مریم ہو گا ) لیکن یہ بات بہت غیر معتبر ہے ۔ واللہ اعلم ۔
حضرت علی ؓ کے آخری خلیفہ ہونے میں حکمت
مجموعہ رسائل ۔ رسائل امام شاہ ولی اللہ
اور جان لو کہ جس کے کمال نے روح اعظم سے ترقی کر لی اس کے کمون و حجاب اور بروز و ظہور ہوتے ہیں جبکہ اس کے برعکس نہیں ہوتا ۔ اور روح اعظم سے میر کی مراد ہر صورت انسانی، حیوانی نباتی یا معدنی کا اجمالی فیض ہے کہ یہ اس اجمالی فیض کی شرح اور تفصیل ہے۔ اور کمون و بروز کی دو قسمیں ہیں حقیقی اور مجازی۔
اور حقیقی کی بھی چند قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اس امر سے پوشیدہ ہو جاتا ہے کہ احکام نا سورت سے بلند ہو جائے۔ اور وہ ملکوت کے مشابہ ہو جاتا ہے تو لوگ اس کو نہیں دیکھتے حتی کہ اللہ اس کے ظہور کا فیصلہ فرماتا ہے، خواہ نوع انسانی کی نسل کی ہلاکت کے بعد ان کے قیام کے لیے یا ملت کے ناپید ہونے کے بعد اس کے قیام کے لیے۔ جیسا کہ عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ پیش آیا۔ یا حقیقت اجمالیہ الہیہ کا ظہور جو آدمی کی حقیقت سے مخلوط ہے۔ وہ کبھی ایک خاص ملت کا منتظم ہوتا ہے۔ اور کبھی آدمی کی حقیقت سے اس کی آل یا متوسلین سے مخلوط ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہور مہدی کی طرف نسبت سے ہے کہ جب نصرانیوں نے ملت اسلامی پر سرکشی کی تو اللہ کی حکمت یہ ہوئی کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل سے ایک ایسے شخص کو ظاہر کرے جو ان کی سرکشی کا قلع قمع کرنے والا ہو ۔
اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ فرد و نیادی زندگی سے علیحدہ ہو جائے گا، پھر ہر رخ کی سختی سے جان دے دے گا ، پھر جنت میں داخل ہو جائے گا، پھر حظیرۃ القدس کی طرف خالص ہو جائے گا اور کلمہ الہیہ باقی رہ جائے گا۔ زمین پر اللہ کے جود وسخا کی بارش ہوگی ، پھر کلمہ الہیہ اس سے جدا ہو کر صاف حالت میں ملے گا تو اس کی جود وسخا نوع انسانی کی طرف منتقل ہوگی۔ اور یہ کمون و بروز کا سب سے مکمل درجہ ہے۔
و خاتم ولایت مطلقہ محمدیہ مھدی است کہ از نسل آنحضرت است و حضرت سید علی ہمدانی قدس سرہ در حل فصوص میفرماید خاتم ولایت مفیدہ محمد بمرتبہ قلب محمد و سد و خاتم ولایت مطلقہ بمرتبہ روح و خاتم ولایت عامہ عیسی است علیہ الصلوٰۃ والسلام
ترجمہ ۔ محمد ﷺ کا خاتم الولایت مھدی ہو گا کہ وہ محمد ﷺ کی نسل سے ہے ۔ سید علی ہمدانی فصوص الحکم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ خاتم الولایت ہوں گے ۔
و بعض ی برانند کہ روح عیسیٰ در مھدی بروز کند و نزول عیسیٰ عبارت ازیں بروز است و مطابق انیست حدیث لا مھدی الا عیسیٰ ابن مریم
ترجمہ ۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ عیسیٰ ؑ کی روح مھدی میں بروز کرے گی اور یہی مرادہے نزول عیسیٰ ؑ کے نزول سے جیسا کہ حدیث میں ہے عیسیٰ ؑ کے علاوہ کوئی مہدی نہیں ہے ۔
فیوض الحرمین اردو ۔ مشاہدات و معارف ۔ شاہ ولی اللہ دہلوی
دسواں مشاہدہ
سے آگاہ فرمایا ۔ اور نیز خود اپنی ذات اقدس کی حقیقت مجھے بتائی۔ اور اس ضمن میں آپ نے اجمالی طور پر مجھے بہت بڑی مدد دی ۔ چنانچہ آپ نے مجھے بتایا کہ میں کس طرح اپنی ضرورتوں میں آپ کی ذات سے استمداد کروں ۔ اور آپ نے مجھے اُس کیفیت سے بھی آگاہ فرمایا۔ کہ آپ کس طرح اُن لوگوں کو جو آپ پر درود بھیجتے ہیں ، جواب دیتے ہیں۔ اور جولوگ آپؐ کی مدح و ثنا کرتے اور آپ کی جناب میں عجز و نیاز مندی کرتے ہیں ، اُن سے آپ کس طرح خوش ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے نبی علیہ الصلوۃ والتسلیمات کو دیکھا کہ آپ اپنے جو ہر روح ، اپنی طبیعت ، اپنی فطرت اور جبلت میں سرتا سر نظر بن گئے ہیں اس عظیم الشان تدلی کا ، جو کہ تمام بنی نوع بشر پر حاوی ہے ۔ اور میں نے دیکھا کہ اس حالت میں یہ پہچاننا مشکل ہو گیا ہے کہ ظاہر اور منظر یعنی ظاہر ہونے والی چیز اور جس چیز میں کہ اُس کا اظہا ہو رہا ہے ، ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ چنانچہ یہی وہ ترتی ہے، جسے صوفیاء نے ” حقیقت محمدیہ ” کا نام دیا ہے ۔ اور اس کو وہ قطر الافتاء اور نبی الانبیاء کا بھی نام دیتے ہیں۔ غرضیکہ یہ حقیقت محمدیہ عبارت ہے اللہ تعالے کی اس ترقی کے منظر بشیری میں ظہور ہے ۔ چنانچہ جب کبھی عالم مثال میں اس ترقی کی حقیقت متمثل ہوتی ہے تاکہ وہ عالم مثال سے بنی نوع انسان کے لئے عالیہ اجسام میں ظاہر ہو تو حقیقت محمدی اس بروز کو قطب یا نبی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ہوتا یہ ہے
کہ اللہ تعالے کی طرف سے جب کوئی شخص لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتا ہے تو حقیقت محمدیہ کا اس شخص کی ذات کے ساتھ اتصال ہو جاتا ہے۔ اور جب وہ اس زندگی میں اپنا فرض پورا کر لیتا ہے اور لوگوں سے منہ موڑ کر اس دنیا سے اپنے رب کی رحمت کی طرف لوٹتا ہے تو یہ حقیقت محمدیہ اُس کی ذات سے الگ ہو جاتی ہے لیکن ان سب کے برعکس جہاں تک ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا تعلق ہے ، یہ حقیقت محمدیہ اُن کی اصل بعثت میں داخل ہے۔ اور یہ اس نئے تاکہ آپ قیامت کے دن تمام بنی نوع انسان کے لئے شاہد ہوں اور نیز اس لئے کہ آپ ذریعہ نہیں اللہ تعالے کے لطف وکریم کا اُس کے فرمانبردارہ بندوں کی طرف ، اور وہ اس طرح کہ آپ قیامت کے دن اُن سب کی شفاعت کریں۔ الغرض یہ ہیں وہ وجوہ جن کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے عظیم الشان تہمت کا ضور عمل میں آیا۔ چنانچہ آپ کی اس ہمت کا تقاضہ یہ ہوا کہ تمام کے تمام انسانوں کو آپ کی رحمت اپنے دامن میں لے لے۔ اور ان سب کی ملکی قوتوں کو بہیمی قوتوں سے امان دلا دے۔ اور اس طرح آپ کا وجود تمام اقوام کے لئے اللہ کی رحمت کا واسطہ بن جائے ۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ قدرت کو نسلوں کی بقاء اور تسلسل منظور تھا تو اس کے لئے اُس نے انسانوں میں قوت تناسل پیدا کر دی ۔ یا جیسے ہر نوع کو اپنے آپ کو خطرات سے بچانے کی ضرورت تھی تو اُس کے لئے قدرت کی طرف سے ہر نوع میں مدافعت کی کوئی نہ کوئی چیز پیدا کر دی گئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ کو بھی ایک واسطہ کی ضرورت تھی جس کے ذریعہ وہ تمام افراد انسانی کو مستفید کر سکتی ، چنانچہ ہمارے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی ذات اقدس یہ واسطہ بنی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ آپ موت کے بعد بھی ہمیشہ خلقت کی طرف متوجہ رہتے ہیں، اور سب کا خیال رکھتے ہیں۔ اور اسی بنا پر آپ ہی کی ذات تمام انبیاء سے زیادہ اس امر کی مستحق تھی کہ وہ اس ترتی انہی کا جو کہ تمام نوع بشر پر حاوی ہے ، اور جسے صوفیاء نے “حقیقت محمدیہ ‘ کا نام دیا ہے ، مستقر بنتی۔ اور اس ترتی انہی کی مثالی شکل جو عالمہ مثال میں قائم ہے، آپ کی ذات سے اس طرح متصل ہوتی کہ ظاہر اور منظر میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ، گویا کہ ظاہر ہی تین منظر ہے ۔ اور دونو اس طرح مل جاتے کہ ان کو کسی طرح جبرانہ کیا جا سکتا ۔ چنانچہ اس مشہور شعر کے ایک معنی
یہی ہیں :-
ا خَلَتْ للعموسُ الاولين وثمنا
أبدا على أفق العلى لا تغرب
الغرض حقیقت محمدیہ کے ساتھ نبی علیہ الصلواۃ والسلام کی ذات اقدس کا اتحاد و اتصال میں نے اپنی روح کی آنکھ سے دیکھا۔ اور اس کی کیفیت کو میں سمجھ گیا ۔ علاوہ ازیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اُسی ایک ہی حالت پر قائم ہیں ۔ اور آپ کی اس حالت میں نہ تو کوئی نیا ارادہ محتل ہوتا ہے ۔ اور نہ کوئی اس میں رخنہ ڈالتا ہے۔
اس کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ آپؐ سے مبادی وجود کے مسائل ، جود کے مراتب اور فنا و بقا کے مقامات کے بارے میں سوال کروں ۔ لیکن اُس وقت میں نے دیکھا کہ نبی علیہ الصلوۃ واسلام اللہ تعالے کی اُس مدتی کی طرف پوری طرح متوجہ ہیں ، جس ترتی کا ذکر اویر ہو چکا ہے۔ چنانچہ جب کبھی میں آپ سے ان مسائل کے متعلق پوچھنے کا ارادہ کرتا تو ہمیں خود بھی تدتی مذکور کی طرف آپ کی توجہ کی اسی کیفیت میں کھو جاتا۔ اور یہ چیز آپ سے سوال کرنے میں مانع آتی ۔ اس ضمن میں آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کے سامنے بیٹھوں اور اپنے رب سے ان مسائل کے بارے میں اپنی اس زبان میں سوال کروں جو زبان کہ طاء اعلیٰ کے مقابل میں ہوتی ہے ۔ نہیں اس حالت میں تھا کہ آپؐ کے نور نے مجھے پوری طرح سے گھیر لیا۔ پھر میں نے سوال کرنا چاہا تو آپ کے نور نے پھر مجھے گھیر لیا ۔ اس کے بعد پھر میں نے سوال کرنا چاہا تو پھر آپ کے ٹور نے مجھے حلقہ میں لے لیا ۔ الغرض یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ میرا سوال اور آپ کی ہمت عالی دو نومل گئے ۔ اور اس طرح تیر نشانے پر جا کر لگا۔ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اللہ تعالے کی ترتی مذکور کے محل اور ظرف بھی ہیں۔ اور
آثار الاحسان فی سیر السلوک والعرفان ۔ جلد اول ۔ ڈاکٹر علامہ خالد محمود
(۳۰) بروز و کمون
یہ دو اصطلاح میں بیشتر تاریخ کی بحث میں زیر حث آتی ہیں ہم پہلے بروز پر کچھ گفتگو کریں گے اسکے ضمن میں
تاریخ پر بھی بحث ہو جائے گی عربی میں زیبرز کے معنی نکلنے اور ظہور کرنے کے ہیں۔ بروز کیا ہے ؟ اللہ تعالی نے جنوں کو طاقت دی ہے کہ وہ دوسرے ابدان میں ظاہر ہو کر انکے اپنے احساس کو سلاد میں اور خود اس دوسرے بدن سے لوگوں سے ہمکلام ہوں یہ جن کسی دوسرے مردہ جسم میں داخل نہیں ہوتے دوسرے زندہ بدن میں
آتے ہیں اور اس میں اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں اگر اللہ تعالی بعض کا ملین کی ارواح کو بھی یہ طاقت بخش دیں تو اس میں تعجب نہ کرنا چاہیے۔ یہ ایک انسان کا دوسرے انسان میں پروز ہو گا جنات کا یا ارواح کا ان دوسرے ابدان میں ظہور یہ انکا روز ہے جو اس بدن میں ظاہر ہوا ہے اب اس بدن سے وہ جن بھی ہل رہا ہے نہ کہ وہ شخص بول۔ اسکی روح اس وقت کہاں ہوتی ہے ؟ یہ ایک دوسرا موضوع ہے عام انسانی ارواح اور انکے پر ان کا جو تعلق ہے ان میں ایک جہت تعلق حیات کی بھی ہے اس بدن میں ہے وہ اس جن کے صفات و حرکات و سکنات کا ظہور ہے لیکن مشائخ مستقیم – الاحوال کمون دیروز کا ہر گز میان نہیں کرتے اور نا قصوں کو بلاو فتنہ میں نہیں ڈالتے
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب ظلی بروزی نبی ہونے کا دعوی کیا تھا تو اسکی مراد بھی یہ تھی کہ آنحضرت کی روحانیت مجھ میں نفوذ کر گئی ہے جس طرح جن کسی انسان میں اگر اسکی نہیں اپنی ہولی ہوتا ہے جب کہتا ہے کہ میں نبی ہوں یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں یہ آواز حضور کی روحانیت کی ہے اور میں تو ان کا صرف بروز
ہوں اس دعوے کے باعث قادیانی یہ کہتے سنے گئے کہ محمد ہی اتر آئے ہیں ہم میں اور پہلے سے بڑھ کر اپنی شان میں نہایت افسوس ہے کہ ابھی ایک نادان نے وحدت الوجود کی بحث میں ہندو جوگیوں عیسائی راہبوں اور مسلمان صوفیوں کو ایک ہی لائن میں لاکھڑا کیا ہے اور پھر مولانا روم کو بھی اسی صف میں کھڑار کھایا ہے
وہ لکھتا ہے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہندو صوفی عیسائی صوفی اور مسلمان صوفی کے بیانات کو ذہن میں رکھ کر پھر آگے کا سفر اختیار کیا جائے (مجلہ الد عودلا ہور تو میرے ۱۹۹ء)
اس نادان کو اتنا بھی علم نہیں کہ صوفی کا لفظ کبھی بھی ہندو جوگیوں اور عیسائی راہیوں کیلئے نہیں بولا گیا۔ محمد ثین نے ان کو اخبار در بیان کہہ کر پکارا ہے۔ محمد ثمین قرآن وسنت کے سایہ میں چلنے والے ان سالکین کو ہمیشہ صوفی کہہ کر ذکر کرتے رہے ہیں۔ غور کیجئے کس طرح صوفی کا لفظ جو محمد تین کے ہاں
اہل زہد کیلئے کثرت سے استعمال ہوا ہے کسی بے دردی سے اسے ہندوؤں اور عیسائیوں کو دے دیا گیا ہے
انا لله وانا اليه راجعون
ہم اس وقت اس پر بحث نہیں کر رہے ہیں کہ اہل حدیث ( باصطلاح جدید ) نے قرآن وحدیث کو سمجھنے میں کہاں کہاں ٹھوکریں کھائیں ہیں اور اسلام کے کتنے جلی عنوانوں کا نادانی میں خون کیا ہے۔ ہم نے اس وقت صرف چند اصطلاحات تصوف کا ایک اجمالی نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے ۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ صوفیہ کرام کے ہاں جو اصطلاحات رائج ہیں وہ کبھی اپنے ظاہر پر ہوتی ہیں اور کبھی وہ تفصیل کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان اصطلاحات کو سمجھنا ہر کسی کے بس کا کام نہیں۔ اس سے وہی واقف ہوتے ہیں جنہوں نے اس راہ کو سمجھنے کی کبھی دیانت داری سے کوشش کی ہو وہی ان الفاظ کے معانی کو سمجھ سکتے ہیں۔ کسی لفظ کو سامنے رکھ کر لغات سے اسکے معانی تلاش کرنا اور پھر صوفیہ کرام پر بر سائل دانش کا کام نہیں ہے۔ فقہ اور تصوف دو حقیقتیں ہیں کہ انکا علمی پہلوت کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔