مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 3

maseehe-maood-pbuh-zilli-baroozi-muhammad-pbuh-jawab

مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 3

خاتم النبیین ۔ محمد انور شاہ کشمیری 

ایک احتمال یہ ہے کہ انھوں نے یہ ارشاد اس وہم کو رفع کرنے کے لیے فرمایا ہو کہ آپ کے بعد معاذ اللہ آپ کی نبوت کا قصہ بھی ختم ہوا ، اور اب اس کا حکم بھی باقی نہیں رہا ۔ یا یہ کہ آپ کے بعد کا زمانہ ، زمانہ فترت کی مانند ہو گیا ۔ اس خیال باطل کی تردید کے لیے فرمایا کہ یہ تو صحیح ہے کہ آپ خاتم النبیینی بمعنی آخری نبی ہیں آپ پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا ، اب کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہو گا ، مگر اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ آپ کا دور نبوت بس آپ کی زندگی تک ہی محدود تھا، اور زمانہ مابعد کے لیے :

کوئی نبی ہے ، نہ کسی نبوت کا حکم باقی ہے، نہیں ! بلکہ خاتم النبی کی نبوت کا حکم باقی است جاری و ساری رہے گا) جیسا کہ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت عیسی السلام کی تشریف آوری کے پیش نظر فرمایا ہو (یعنی خاتم الانبیاء کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہو گا۔ یہ نہیں کہ آپ سے قبل کے تمام نبی مرچکے ہیں اور اب کوئی سابق نی بھی نہیں آئے گا ۔ بہر حال حضرت صدیقہ ان کے ارشاد سے قادیانی گروہ کا اجرائے نبوت پر استدلال کرنا حمق و عبادت ہے)

 اور معلوم رہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کے ذریعہ نبوت کا جاری ہونا اس آیت کریمہ میں عربیت کے لحاظ سے بھی باطل ہے ۔ کیونکه حرف لكن قصر قلب کے لیے آتا ہے اور اس کا ما بعد ، ما قبل کے بدل میں واقع ہوتا ہے ، اور وہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان دونوں کے درمیان تبادل اور تفریح

شرط ہے تا کہ بدل اور مبدل منہ جمع نہ ہو جائیں ۔ جیسا کہ کتب نحو و معانی میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں لکی سے ما قبل ابوت کی نفی ہے اور لکی کے بعد ختم نبوت کا اثبات ہے اور اہل فہم پر مخفی نہیں کہ ابوت اور ختم نبوت کے در میان بلا واسطہ کوئی تنافع نہیں کہ مؤخر الذکر ، اول الذکر کے بدل میں واقع ہو سکے اور کن کے استعمال کی شرط پوری ہو جائے ، بلکہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔ پس آیت کی تفسیر وہی ہے جو ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں ۔ یعنی ابوت سے اجرائے نبوت کا وہم ہو سکتا تھا ، اس لیے ابوت کی شفی کر کے اس کے بدل میں ختم نبوت کو رکھا گیا ۔ کیونکہ منست سابقہ کے مطابق بقائے اہرت اور ختم نبوت کے درمیان ایک طرح کا تدافع تھا نیوز مجھ لو 

بروز اہل تناسخ کی اصطلاح ہے جیسا کہ مزدک اور لامان نے دعوئی کیا تھا ، ادیانِ سمادی ، شریعت مطہرہ اور تحقیقات ملما یہ اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ اونہ ظلمت ہی دین اسلام کے محارہ میں آئی ہے اور جب تک (قرآن و حدیث نہیں کسی لفظ کا محاورہ جاری نہ ہو تب تک (اس لفظ کو مدار بناکر) نصوص میں تحریف کرنا

زندقه وانتحاد ہے ، اور محاورہ میں قیاس مسموع نہیں ، جیسا کہ کوئی شخص فارسیوں کے محاورہ پر قیاس کر کے عربی میں اکل الخلع یا اقتلى السراج کہنے لگے اور پیمرا سلام (صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دقتی و بروزی، حقیقت کو تسلیم فرمایا چنانچہ حضرت علی ہے، فرمایا ہے تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو ہارون کو مونٹی سے تھی ، مگر یہ کہ میرے بعد سے کوئی نبی نہیں ہیں اگر کسی ظلی و بروزی نبوت کی گنجائش ہوتی تو آپ اس کو مستثنی فرمادیتے) اور تیس و جالوں والی حدیث میں بھی آپ نے ظلی و بروزی کا استثناء کیے بغیر ہر مدعی نبوت کو دجال و کذاب قرار دیا) اور نہ قطر نبوت میں کسی اینٹ کی جگہ باقی چھوڑ می گفتی که علی بروز می نبوت کو وہاں رکھ دیتے ، اور حدیث و قالین میں مدار حکم بس دعوی نبوت ہے ، نہ کہ کسی خاص تعداد کا شمار

 مرن کو ظلی نبوت کا دھوئی ہے ، سوال یہ ہے کہ یہ ظلی نبوت ، واقعہ نبوت ہے یا نہیں ؟ اس ظلیت میں اگر نبوت واقعہ حاصل ہے تو مہر نبوت ٹوٹ گئی کیونکہ مہر نبوت کا مقصد تو یہ تھا کہ نبوت کسی حاصل دور ہو، یہ مقصد تو نہیں تھا کہ ظاہری صورت کے اعتبار ہر ٹوٹنے سے محفوظ رہے خواہ سر عمر صندوق کے اندر کی ساری چیز چرالی جائے ؟ اور اگر نبوت واقعہ حاصل نہیں تو دنبوت کا دعوی کرنا اور اس کے منکروں کو کافر کہنا بجائے خود کفر ہے۔

 

منصب امامت ۔ شاہ اسماعیل شہید

آئمہ کی شان بھی انتشار ہدایت کی قلت و کثرت کے بارے میں مختلف ہے باوجودیکہ شانِ امامت میں یکساں ہیں، کسی امام سے ظہور ہدایت کی قلت ان کے درجہ اعلی وارفع کے تنزل یا کمی کا باعث نہیں ہو سکتی۔ آئمہ اہل بیت میں سے

نکتہ اول ۔ امامت ظل رسالت ہے ۔ بناء اس کی اظہار پر ہے نہ کہ اخفاء پر برخلاف ولایت کے ۔ پس جیسا کہ منازل و وجاہت اور مقامات کا دعویٰ  اور معاملات ربانی و کشف و اسرار روحانی کا بیان ارباب ولایت  کے حق میں مظنہ سلب و زوال ہے ۔ 

منصب امامت ۔ شاہ اسماعیل شہید

امام رسول کا نائب اور امامت خل رسالت ہے۔ نائب کے احکام کو غیب سے پہچانا اور نکل کی حقیقت کو اصل سے معلوم کیا جاتا ہے . لہذا اس مقام پر انبیاء علیہم السلام کے ان کمالات کا ذکر کیا جاتا ہے جوامامت کے  مفہوم کو واضح کرتے ہیں ۔ 

اور ظاہر ہے کہ جب قرآن جامع کتب سابقین ہے جو آپ کے اخلاق کا مجموعہ ہے تو آپ کے اخلاق بھی جامع اخلاق سابقین ثابت ہو گئے۔ جو آپ کے خاتم کمالات اخلاق اور منتہائے کمال خلق ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اس سے خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ جو ذات بابرکات نبوت کی بنیا دوں میں سب کی جامع اور سب پر فائق ہے

وہی ان بنیا دوں میں سب کی اصل بھی ہو سکتی ہے۔

چنانچہ اسی اصل ہونے کی بنا پر تمام انبیا کرام سے آپ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی و نصرت کرنے کا عہد و مشاق لیا گیا۔ جیسا کہ آیت قرآنی واذا خذ الله میثاق النبيين : سے واضح ہے اور پھر حضور نے اسی آیت کی روشنی میں انبیاء سابقین کے تابع خاتم ہونے کی مثال یہ ارشاد فرمائی کہ :-

اس کا حاصل اس کے سوا اور کیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم اور صاحب شریعت پیغمبر بھی بصورت عدم موجودگی خاتم الانبیاء تو واجب الاطاعت میں مگر بہ صورت موجود گی خاتم مطاع ہونے کے بجائے مطیع کی حیثیت میں آجاتے میں اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ ان کا عہدہ خاتم ماتحت ہو، کیونکہ ماتحت کے سارے اختیار است و اقتدارات در حقیقت مافوق اور افسر اعلیٰ ہی کے ہوتے ہیں، جو اس کے دیئے سے

ماتحت میں آتے ہیں، اس لئے — – اصل کے موجود ہوتے ہوئے فرع کا حکم نہیں چلتا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسا کہ وزیر اعظم تمام وزراء سے یوں کہے کہ میرے سامنے آپ لوگوں کا حکم نہیں پچھلے گا۔ صرف میری عدم موجودگی میں آپ لوگوں کی آمریت بحال رہ سکتی ہے جس سے صاف نمایاں ہے کہ ماتحت کے ان تیارات ما فوق

رہ کے سامنے کا لعدم ہو جاتے ہیں، خواہ عہدہ بدستور باقی بھی رہے، یہ ایک اصول ہے جوائی کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ ہر دائرہ کے اصل وظل کا میہی حال ہے کہ اصل کے ہوتے ہوئے فروع کا اختیار نہیں چلنا، باپ سامنے آجائے تو صاحب اولاد بیٹا اپنے کو باپ کہتے ہوئے بھی شرمائے گا چہ جائیکہ اپنی ابوت کے حق کو جتائے اور استعمال کرے کیونکہ اس کی ابوت اپنے باپ کی ابوت کی فرع اور ظل ہے اور اصل کے سامنے فروع کی حیثیت مضمحل ہو جاتی ہے ، یا مثلاً سمندر سامنے ہو تو مہروں کو دریا کہتے ہوئے شرم آئے گی کیونکہ پانی کہیں بھی ہو، واسطہ بلا واسطہ سمندر ہی کا فیض ہے۔ اسلئے

یہ سارے بڑے بڑے دریا سمندر کے سامنے پہنچ کر سمندر ہی کے بہاؤ کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ خود ان کی اپنی رفتار باقی نہیں رہتی۔ سورج سامنے ہو تو تارے اپنے کو نورانی کہتے ہوئے بھی شرمائیں گے کہ ان کی اصل سامنے ہے اور اصل کے ہوتے ہوئے فروع اپنے وجود سے بھی شرما نے لگتی ہے۔ چہ جائیکہ وجود کی مدعی بنے۔ ٹھیک اسی طرح تمام بذات (انبیاء علیہم السلام ) کا آفتاب نبوت کے آجانے پر اپنی اپنی نبوتوں کا حکم چلانے یا چلانے کا حکم دینے کی بجائے خاتم نبوت ہی کے دہارے ہو لینا ایک قدرتی اور طبعی بات ہے نہ کہ اپنا حکم جاری کرنا یہی حقیقت ہے جسے حدیث مذکورہ میں نمایاں کیا گیا ہے کہ اگر بالفرض کوئی سابقہ نبی خاتم النبیین کا دور پا جائے تو اس پر اور اس کی امت پر ختم نبوت کا حکم چلے چلے گا نہ کہ خود اس کا اور وہ بھی خاتم پر جو در حقیقت خاتم کے اصل کمال ہونے اور تمام غیر خاتم انبیاء کے فروع کمال ہونے کی واضح دلیل ہے، پھر حدیث مذکورہ میں تو على سبيل الفرض ہی کو واقعہ کر کے دکھلایا گیا ہے کہ دورہ محمدی میں جب کہ حضرت

عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتار کر زمین پر لائے جائیں گے تو وہ النبی الخاتم ہی کے دین کی پیروی کریں گے بلکہ شاید اسی حقیقت کو دکھلانے کے لئے حضرت بلئے علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اُٹھا کر دنیا کے آخری دورہ میں آسمان سے زمین پر اتارا جاتے گا۔ تاکہ وہ اپنی نبوت کی ساری قوتوں کے ساتھ اس فتنہ زادور میں شریعت محمدی کی تجدید بھی کریں گے اور اس کی اطاعت بھی کریں گے اور اس طرح دورہ محمدی میں سابق نبی کی اطاعت محمدی محض عقیدہ ہی نہ رہے ، بلکہ عملی صورت بھی سامنے آجائے۔

بلکہ اس ایک واقعاتی مثال ہی سے عقیدے کے طور پر یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ ایک ہی اسرائیلی پیغمبر کا واقعہ نہیں، بلکہ سارے اسرائیلی انبیاء کی تابعیت کا عملی ثبوت ہے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام نما تم الانبیاء بنی اسرائیل اور اس اسرائیلی نبوت کی آخری کڑی میں ظاہر ہے کہ کسی مسلسل زنجیر کی آخری کڑی کو اگر کسی جانب کھینچا جائے گا تو قدرتاً پوری زنجیر ادھر ہی کی جانب کھینچ جائے گی اور جو آخر کا حکم ہوگا وہی پورے سلسلہ کا حکم شمار ہوگا۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا جو اسرائیلی نبوتوں کی آخری کڑی ہیں۔ بعد انہ نزول تابع فرمان محمدی ہو کر آنا اس سارے سلسلہ کے تابع فرمان ہو جانے کی دلیل نہ سمجھا جائے۔ بالخصوص جبکہ تو رات کی تصریح کے مطابق رجس کو احایث میں ذکر کیا گیا ۔ ہے) موسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا بھی تھی کہ اگر امت محمدیہ جیسی امت مرحومہ مجھے یہ بطور امت کے نہیں دی جا سکتی کہ وہ امت احمد ہے۔ تو پھر مجھی کو اس است میں شامل کرایا جائے تو ان کے سلسہ کے خاتم (حضرت مسیح علیہ السلام کو اس امت

آفتاب نبوت ۔ قاری محمد طیب  مہتمم دار العلوم دیوبند

 

شریعت و طریقت کا تلازم ۔ محمد زکریا کاندھلوی 

خدا یاد آئے جن کو دیکھ کر وہ نور کے پتلے

نبوت کے یہ وارث ہیں یہی ہیں ظل رحمانی

یہی ہیں جن کے سونے کو فضیلت ہر عبادت پر

انھیں کے اتقار پہ ناز کرتی ہے مسلمانی

مرثیہ ۔ رشید احمد گنگوہی کی وفات پر

جو تھا موصل الیٰ اللہ ہو گیا واصل بحق ہے ہے 

پھریں ہیں ڈھونڈتے  سرگزشتگان تیہ سیمانی

جنید و شبلی ثانی ابو مسعود و انصاری 

رشید ملت و دیں غوث اعظم قطب ربانی 

نسیم بحر رافت فضل رحماں منبع احساں 

قسیم فیض یزداں ابر رحمت ظل سبحانی

صراط مستقیم  ۔ احمد شہید ۔ اسماعیل دہلوی

یہ مٹیل کے طور پر ذکر کیا گیا ہے ورنہ ادوار انہیں میں منحصر نہیں ۔ حاصل کلام جب ایک دور ختم ہو جاتا ہے تو دوسرے دورے کی ابتدا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے شخص کے وجود سے پہلے دورے کی ہدایت کو کمال کی نہایت تک پہنچایا جاتا ہے اور اس کو ترجمان مقرر کر کے اس کی برکت والی زبان سے اللہ کی نازہ مہر بانیوں کی

طرف آدمیوں کو دعوت دی جاتی ہے اور اس دورہ کی امامت اس کو بخشی جاتی ہے ہو زمانے میں آدمیوں سے زیادہ باکمال اور اللہ تعالیٰ کے فیض کے زیادہ لائق ہوتا ہے اور یہ مقام مستقل طور پر تو حضرت خاتم النبوت اور فاتح الولایت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وکم کے لیئے مخصوص ہے اور آپ کی پیروی کی برکت سے اس مقام کانمونہ لعین بندرگل کو بھی عطا کیا جاتا ہے اور اصطلاح میں ان کو خانمین اور فاتحین کا لقب دیا جاتا یعنی ان لوگوں کے وجود سے گذشتہ دورہ کے نتیجہ کی نہایت اور آئندہ را دورہ کے کمال کا آغاز ہوتا ہے اور حضرت شیخ ولی اللہ کی اصطلاح میں اس مقام کا نام مقام قروانیت ہے اور اس دورہ میں جتنے اہل کیا پائے جاتے ہیں حقیقت میں وہ اسی

،کیولی کہ یہ تینوں مقام مستقلی طور پر انبله  اءعلیہم الصلوة والسلام کے لیے مانے گئے ہیں اور ان کے ماسوا اور ان لوگوں کے کمالات کے عمل اور ان مقامات کے نمونے کے سوا اور کسی چیز تک رسائی نہیں۔ باوجودیکہ ایسے بزرگ ان مفاخر کے اشباح کیساتھ کامیاب ہوئے ہیں تاہم کبریت احمر اور اکسیر اعظم کی طرح نادر الوقوع اور کم یاب ہیں اور اسی واسطے ان تینوں مقام کے مباحث میں اجمالی اشارات پر اکتفاء کر کے ان کی تفصیل کو دوسرے مقام کے حال کیا گیا ہے او نیزان مایت کی کہ وہ پہنچا با نام ملیں کی تحقیق ان خوبیوں کے حاصل ہونے اور ان مفاخر تک پہنچے بغیر ہی نہیں سکتی پس ان محقی بھیدوں کے ظاہر کرنے میں کوشش کرنا اور تکلیف اٹھانا لا حاصل ہے اور کے بے فائدہ فرد سے کو

صراط مستقیم ۔ سید احمد شھید ۔ شاہ اسماعیل 

عکس سے بہرہ در ہو جاتے ہیں جن کو قوم کی اصطلاح میں حج اللہ کہتے ہیں اور آپ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی اصطلاح میں اس مقام کا نام قرب ملکوت ہے ۔ 

مکاتیب رشیدیہ ۔ رشید احمد گنگوہی 

مکتوب نمبر 13

اور یہ اثر اسی نسبت یادداشت بیرنگ کا ہے جو مشکواۃ انوار حضرت سے پہنچا ہے۔ پس زیادہ عرمن کر ناگستاخی اور شوخ چشمی ہے ۔ یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے ۔ جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں تیرا ہی ظل ہے، تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں ۔ اور وہ جو میں ہے وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ استغفر الله استغفر الله استغفر الله لا حول ولا قوة إلا بالله ۔ اب عرض سے معذور فرما کہ قبول فرمائیں ۔

فضائل صدقات ۔ مولانا محمد زکریا

جو مشکوۃ انوار حضرت سے پہنچی ہے پس زیادہ عرض کرنا گستاخی اور شوخ چشمی ہے۔ یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں۔ تیرا ہی ظل ہے تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں اور جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ اَسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله ۔ اب عرض سے معذور فرما کر قبول فرمائیں۔ والسلام 

اشرف السوانح ۔ اشرف علی تھانوی 

و ھب لی علی الکبر اسماعیل و اسحاق ۔ 

ہمارے حاجی صاحب حجۃ اللہ فی الارض اور ظلل اللہ فی الارض تھے ۔ 

مکتوبات مجدد الف ثانی ۔ مترجم 

جب اللہ سبحانہ کی عنایت سے سالک کو اپنے اصول سے جو کہ خاص اس کے اصل کا ظل ہے عروج واقع ہوتا ہے تو ان اصولوں میں سے ہر ایک اصل میں اس کے اصول سے پہلے اس کو اس اصل میں فنا ہے اس کے بعد اس اصل میں بقا ہے۔ اس فنا و بقا سے اس کی انانیت کا اطلاق اس نکل سے زائل ہو کر اس کی اصل پر جس میں اس کو فنا و بقا حاصل ہوئی ہے اس کا اطلاق پائے گا اور اپنے آپ کو وہی مل جائے گا۔ اور اسی طرح جب اس صل سے حق تعالیٰ جل وعلا کے کرم سے اس کو عروج واقع ہو گا تو اس صل سے جو اس اصل سے بھی قوق ہے اور وہ اصل جو اس اصل کا ظل ہے تو خاص طور پر اس پہلے اصل کی فتاو بقا کو اس اصل میں حاصل کرے گا، اور آنا کا اطلاق اصل اول سے زائل ہو کر اصل ثانی پر لگ جائے گا اور اپنے آپ کو وہی صلِ ثانی پائے گا اور صلِ ثانی کو صل ثالث کے ساتھ بھی یہی نسبت ہوگی، اگر اور عروج واقع ہو جائے تو آنا کا اطلاق اس صل ثالت کرے قرار پائے گا کیونکہ اصل ثانی اس کا ظل ہے اور اسی طرح ہر نیچے والی اصل کی جو اوپر والی حل کے ظل

کی مانند ہے یہی نسبت ہوگی ۔ اور اگر محض فضل خداوند جھیل سلطانہ سے اس کو عروج واقع ہو جاتے اور ظل سے صل کی طرف لے جائیں تو آنا کا اطلاق ہر ظل سے دور ہو کر اس کی اصل کی طرف قرار پائے گا اور اپنے آپ کو وہی اصل جائے گا، استعداد کے درجات کے تفاوت پر اثر تعالی تجہاز تیک منظور ہے لے جائے۔

اور یہ اصول اس کثرت اور اس بلندی کے باوجود اس کے اجتمرا این جائیں گے اور قطرے کو دریا کر دیں گے اور تنکے کو پہاڑ بتا دیں گے ۔ اور جب یہ اصول اس کے اجتمرا بن جائیں تو لازمی طور پر ان کے کمالات و برکات سے بھی اس کو کامل حصہ مل جائے گا اور اس کا کمال ان اجزا کے کمالات کا جامع ہو جائے گا۔ اس بیان سے انسان کامل اور باقی تمام انسانوں کے درمیان فرق معلوم

حضرت القدس دفتر دوم  ۔ بدر الدین سرہندی 

یہ علم انوار مشکات نبوت سے ماخوذ ہے کہ ہزار سال کے بعد بہ تبعیت دوراثت  انبیا تازہ  ہوا ہے ۔ 

درجہ آنجاب قدس سرہ کو کمال اتباع سرور کائنات علیہ و علیٰ آلہ الف الف صلوٰۃ والتسلیمات کے سبب سے ایسے مقام سے جو مقام اجنبا سے بالا تر ہے ممتاز کیا گیا ۔ چنانچہ حضرت ؒ نے اس کی تفصیل مکتوب 2 جلد دوم میں فرمائی ہے 

درجہ اللہ تعالیٰ  نے آپ ؒ کو مکمل اور محدث بفتح دال بنایا چنانچہ حضرت ؒ نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا ہے ۔ 

واضح ہو کہ کلام حق مع البنشہ کیسی بالمشافہ ہوتا ہے اور یہ افراد انبیا علیہ ہم صلوة. والتسلیمات سے مخصوص ہے۔ اور کبھی بعض کامل پیروان انبیا کے ساتھ بطور اتباع وراثت ہوتا ہے۔ اور جب یہ کام کسی کی کے ساتھ کثرت سے ہونے لگے تو اُس کو محدث کہا جاتا ہے جس طرح کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو کہا گیا ۔ یہ کلام سوائے الہام اور القاب فی الروح کے ہے۔ اور اُس کلام سے بھی علاوہ ہے جو ملائکہ کے ساتھ خدا کا ہوتا ہے۔ ایسے کلام کے ساتھ انسان کامل مخاطب کیا جاتا ہے۔ جو عالم خلق اور عالم امر اور عالم روح اور عالمہ نفس اور آل عقل اور خیال کیا جامع ہو۔

درجہ ۔ آنجناب قدس سرہ کو ولایت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے مشرف کیا گیا ۔ اور ولایت ظلی کا ولایت اصلی کے ساتھ اتصال بخشا گیا ہے ۔ 

سوانح قاسمی  ۔ شمس الاسلام قاسم نانوتوی ۔ جلد دوم 

قبل اس کے کہ کچھ آگے بڑھوں، بے ساختہ اس وقت بھی ظل میں اصل کی زندگی کا عکس معلوم ہوتا ہے کہ جھانک رہا ہے۔ ۶۳ سال کی زندگی میں وہاں بھی دیکھا گیا تھا کہ انسانی تاریخ کے رخ کو پھیر دینے والے واقعات مدنی زندگی کے دس سال کی محدود مدت ہی میں پیش آئے تھے۔ گویا اسی دس سال میں قیام قیامت تک اسلام کی بلکہ کہئے تو کہہ سکتے ہیں کہ انسانیت کے مستقبل کی تاریخ پوشیدہ تھی صلی اللہ علیہ وسلم کھولنے والے جبیں کی راہ میں اپنا سب کچھ کھوتے ہیں دیکھ رہے ہیں، کن کن راہوں سے دوہ کیا کچھ نہیں پاتے ۔

گذشتہ صفحہ سے مقدر ہوتی ہے ان کے لئے تکوینی اور غیر اختیاری امور میں بھی مطابقہ و مشابہتہ کا دروازہ پہلے ہی سے کھول دیا جاتا ہے، تاکہ ظل اور اصل میں خلقی اور اختیاری تطابق کی سعادت بہم پہنچا دی جانے اور اصل کا پورا پورا عکس فل میں نمایاں ہو جائے۔ مثلاً تمہید میں حضرت مؤلف سوانح دام مجدہ نے نانوتہ کی جغرافیائی صورت کہ کھجوروں کے جھنڈ کے جھنڈ نانوتہ کو ڈھانپے ہوئے ہیں، مدینہ النبی سے مشابہ دکھلائی ہے۔ دیو بند کی حالت قبل از درود حضرت والا صاحب سوانح مخطوط نے انتہائی ظلم و جہل کی دکھلائی ہو جس کا تذکرہ تاسیس مدرسہ دیو بند کے ضمن میں آرہا ہے ، جو اشبہ ہے زمانہ جاہلیت کے ۔ پھر حضرت والا کے درود سے علم و عمل کا ماحول بن جاتا اور کمال کی روشنی پھیل جانا دکھلایا ہے جو شبہ ہے طلوع آفتا از رسالت کے یہاں حضرت مؤلف سوانح دام مجدہ حضرت والا کی مدت اصلاح و تربیت دس سال دکھلا ہے ہیں بلا شبہ ہے ونی زندگی کے دس سال کے ، اور حضرت شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ صاحب نے حضرت والا کے ایک خاص قلبی حال انتہائی ثقل وبوجھ سے زبان کے منون وزنی ہو جانے پر حضرت والا کو فرمایا کہ مبارک ہو ، حق تعالٰی آپ کو علوم نبوت سے سرفراز فرمائے گا جو حسب ارشاد حضرت حاجی صاحب اشبہ ہے نقل وحی کے، پھر صاحب سوانح مخطوطہ نے نور نبوت کے زیر سایہ حضرت والا اور ان کے تین ساتھیوں مولانا محمد یعقوب صاحب مولا نار فیع الدین صاحب اور حاجی محمد عابد صاحب کو خلفاء اربعہ سے تشبیہ دیتے ہوئے دینی اصلاح کے عناصر اربعہ سے تعبیر فرمایا اور لکھا کہ حضرت دالا علم و کرم، رحمت و شفقت اور دونو علم میں نسبیت صدیقی سے سرفراز تھے۔ مولانا محمد یعقوب صاحب جلال و شدت میں نسبت فاروقی سے ممتاز تھے مولا نا رفیع الدین صاحب انکار نفس اور حیاء میں نسبت عثمانی سے مشرف تھے اور حضرت حاجی محمد عابد صاحب قوت فیصلہ اور اصابت رائے میں نسبت مرتضوی رکھتے تھے ، نور ثبوت کی تربیت کے زیر سایہ وزیر سر کردگی حضرت والا حق تعالٰی نے ان ہی عناصر اربعہ سے تجدید و احیائے دین کا کام اس مدرسہ کے راستہ سے لیا۔ اس طرح حق تعالٰی نے قلبی میں اصل کا عکس ایک ہی جہت سے نہیں جہات متعددہ سر نمایاں فرمایا بی ثمرہ ہے عالم تکوین میں حضرت والا کے کمالاتباع سنت اور کال محبت نبوی کا گویا اختیاری اتباع چونکہ آپکی سرشت میں خلقہ ودیعت کر دیا گیا تھا جسے تایاں ہونا تھا۔ سلیم تکوینی طور پر حضرت والا کی طبیعت فطرت ہی نہیں بلکہ آپکے متعلقہ زمان مکان اور احوال و سوانح نے بھی میں کو متعلقا زمان مکان اور احوال سوانح کے عکس اتارنے کی سعادت پائی ۔ کوئی جاہل یا معاند اس مواد اللہ حضر والا کیلئے نبوت کا اثبات یا عیاذ باللہ ہی سر مستانہ مجھ سے بلکہ نبوت کی انتہائی لامی اور حکمی و به ختیاری در تکوینی شابی مصادر تصنیف کو نصیب کی ہر تیسری با سادات نہیں بلکہ انتہائی غلام اور پیروی نبوت کی دلیل بنای

Leave a Reply