مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 2

maseehe-maood-pbuh-zilli-baroozi-muhammad-pbuh-jawab

مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 2

انفاس العارفین ۔ شاہ ولی اللہ محدث دھلوی

كاتب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کے سائے (ضمن) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا، گویا میرا وجود آنحضرت مہ کے وجود سے مل کر ایک ہو گیا، خارج میں وجود کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی، بجز اس کے کہ میر اعلم مجھے اپنا شعور دلا رہا تھا۔ کا تب الحروف کے

 

برکات قرب نبوی

فرمایا : حضرت پیغمبر ہ کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذاتِ مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب و اتصال بخشا کہ جیسے ہم متحد الوجود ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا عین یا یا ۔ 

الطاف القدس مترجم

ہوائے دران منفوح گرو د در ہر دو صورت

بروز و کمون ظاہر شود و آن اجزاء را صورت

را احکامے دیگر باشند مستند بآن و این را نفس

حیوانے گویندو ہمیں قیاس نفسے ہست کہ 

نظام انسانی را تقاضا میکند و خواص انسان

از رائے کلی و لطائف خمس بتفصیل و توفرازان

منشعب میگردد و آنرا نفس ناطقہ گویند و این

مقامات  مظہری ۔ شاہ غلام علی دہلوی

اگر صوفیہ وحدت الشہود سے تعلق رکھتے ہیں تو اس نسبت کو اصل اور ظل کے تعلق سے ثابت کرتے ہیں ۔ جیسے سورج سے نکلنے والی شعاع کو سورج سے نسبت ہے ۔ یہاں ظل سے مراد تجلی ہے ۔ یعنی مرتبہ ثانیہ میں کسی چیز کا ظاہر ہونا اور یہ [ 10 ] کثرت ظلی بھی سورج کی حقیقی وحدت کا مقام نہیں ہو سکتی ( ۱۹ ) پہلی اور دوسری تعبیر میں اتنا فرق ہے کہ ظل کی کوئی اور حقیقت اپنی اصل سے الگ نہیں ہے ۔ وہی اصل ہے جس نے مرتبہ ، ثانی میں ظہور کر کے خود کو ظل ظاہر کیا ہے ۔

لیکن ایک کو دوسرے کے مشابہ خیال کرنا درست نہیں ، مگر یہ مشابہت موج اور دریا کی تشبیہ ) میں صحیح ہے ۔ اس لیے خود یہ اس تعبیر کے مطابق اثبات غیریت اس طرح کرتے ہیں کہ توحید وجود حقیقی میں خلل واقع نہ ہو اور کتاب و سنت سے یہ بات بآسانی استنباط کی جا سکے ۔

الشھاب الثاقب علی المسترق الکاذب ۔ حسین احمد مدنی دیوبندی 

اے قاسم فیض کہن اے ظل محمود الحسن 

اے یادگار اتقیاء ، خوش آمدی خوش آمدی

خلافت راشدہ ۔ ادریس کاندھلوی دیوبندی

خلیفہ خداوندی ، معاذ اللہ ندا نہیں ہوتا لیکن صفات خداوندی کا ایک ظل اور عکس ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں سے کہ خلق الله آدم علی صورتہ یعنی الہ تعالی نے حضرت آدم کو اپنی تجلی خاص کا مظہر خاص بنایا ہے

 

پس خلیفه ساخت صاحب سینہ 

تا بودش آبیش را آبگینتر 

دوم یہ کہ اس کا وجود باجود دنیا میں ربوبیت تشریعیہ کے اجراء اور تنفیذ کے لئے بمنزلہ جارحہ الہیہ کے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور اور علوم اور اصلاحات کو بنی نوع انسانی میں جاری کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اجراء اور نفاذ کے لئے اس نبی کو واسطہ تدبیر بناتے ہیں کہ جو کچھ بھی من جانب اللہ ظہور میں آئے اس کا ظہور اس پیغامبر کے ہاتھ سے ہو گویا کہ یہ نبی بلاتشبیہ توثیل تدبیر خداوندی کے ظہور کے لئے بمنزلہ جامعہ الہیہ کے ہوتا ہے جیسا کہ و مارمیت از هیت ولكن الله رضی میں اسی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔

خلافت راشدہ ۔ محمد ادریس کاندھلوی

خلافت النبیہ کے سمجھ لینے کے بعد اب خلافت نبوت کو سمجھتے کہ جس طرح تخلیفہ خداوندی خدا نہیں ہوتا اسی طرح خلیفہ نبی نبی اور رسول نہیں ہوتا مگر نبی کی صفات کا نمونہ اور کیل اور کس ہوتا ہے ، ہیں تخلیفہ راشد ود ہے کہ میں کا نفس ناطقہ اپنی دونوں قوتوں مینی قوت عقلیہ اور قوت محملیہ میں نبی کی قوت عاقلہ اور قوت حاملہ کے مشابہ اور بزر گئے اور جن اغراض اور مقاصد کے لئے نبی کی بعثت ظہور میں آتی ہو ان اغراض مقاصد کی تشکیل اس خلیفہ کے ہاتھ پر ہر عنی نبی اور رسول میں کام کی بنیاد رکھ گئے ہوں مگر وہ کام ابھی پورا نہ ہوا تھا کہ نبی دنیا سے رحلت فرما گئے تو اللہ تعالیٰ اپنی خاص تائید سے ان کا موں کو اس نبی کے خلیفہ خاص کے ہاتھ پر پورا فرماتے ہیں میں جو خلیفہ نبی کے باقی ماندہ امور کا علمی اور عملاً اور فتوحا مکمل اور یتیم ہو وہ اس کا خلیفہ خاص اور خلیفہ راشد ہے، ایسے موسیٰ علیہ السلام ک باقی ماندہ امور کی تکمیل یوشع علیہ السلام نے کی اور واد علیہ السلام کے باقی ماندہ اور کی تکمیل وتقسیم سلیمان علیہ السلام سے ہوئی ہوئی جل شانہ کے اس ارشاد اما نرينك بعض الذي نعد هم او نتوفينك فالينا يرجعون میں اسی طرف اشارہ ہے کہ جو وعدے ہم نے آپ سے کئے کچھ تو آپ کی وفات سے پہلے آپ کی زندگی ہی میں پورے ہو جائیں گے اور جو وعدے بائی رو جائیں۔ گے وہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر پورے ہو جائیں گے۔ جو وعدے آپ سے کئے گئے ہیں وہ اپنے اپنے وقت پر پورے ہو جائینگے۔

سر دلبراں ۔ شاہ سید محمد ذوقی 

ظل : مجله ظهورات و تعینات. وجود اضافی جو اعیان ممکنات وتعینات کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ وجود خارجی ظلمت و عدمیت ظلمت عدمی بعد ومات ظاہرہ جو انوار الہی سے ظہور پکڑتے ہیں۔

احکام ممکنات ہو کہ دراصل معدومات سے ہیں۔ اسم نور سے ظاہر ہوتے ۔ اس ظہور کو وجود اضافی اور وجود خارجی کہتے ہیں۔ یہ اضافی یا خارجی وجود معدومات کی طرف اس لئے منسوب ہے کہ محرومات میں ظلمت علمی ہے۔ وہ نور جو صور مع رومات میں ظاہر ہوا ظل ہے۔ کیونکہ موسوم ہے اور منقول ہے اور فی نفسہا معدومات کی عدمیت ہے۔ تو گویا میر ومات کا ظہور جس نور کے سبب سے ہوا اس نور کو فل کہتے ہیں۔

عالم کو حق تعالیٰ سے وہی نسبت ہے جو سایہ کو اس شخص سے ہے جس کا کہ وہ سایہ ہے۔ عالم جس پر کہ غیشہ حق کا اطلاق کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا قتل ہے۔ یہ عمل اپنی جسے کہ عالم کہتے ہیں اعیان ممکنات میں ظاہر اور ہمت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ فرقان میں فرماتا ہے کہ الم تر إلى ربك كيف مد العلل کیا تو نے اپنے رب کی ر نظر نہیں کی کہ اُس نے وجود اضافی کو ممکنات پر کس طرح پھیلایا۔ ووَلَوشَاء لَجَعَلَهُ سَاكِنا، اور اگر وہ چاہے تو ن کو ساکن کر دے یعنی وجود اضافی کو اپنی ذات میں بالفعل سے بالقوۃ کر دے گو یا حق تعالیٰ کی بستی ایسی نہیں کہ جب وہ مکنات میں تجلی منہ مادے تب ظاہر ہو اور تجلی نہ نہ پانے کی صورت میں مثل ممکنات کے ہو جاوے جن کا کوئی عین ی وجود میں ظاہر نہیں ۔ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلیلاً۔ پھر ہم نے اُس سایہ پر آفتاب کو دلیل در رہنما بنایا۔

نجاب سے خالی نمانی ظہور میں نہ آئی تو آفتاب کی روشنی کو کوئی نہ پہچانتا۔ اگر آفتاب ایک ہی حالت پرت تم رہتا اور صبح شام نہ ہوتی اور سایہ کی طوالت میں کمی و بیشی نہ واقع ہوتی رہتی تو نہ کسی کو نور کا شعور ہوتا نہ کوئی اُس نور کو آفتاب سے نسبت دیتا۔ گویا نور آفتاب سے سایہ پہچانا جاتا ہے اور سایہ سے اور آفتاب وہ آفتاب اسم نور ہے جس سے وجود خلاقی کی شناخت ہوتی ہے۔ ثُمَّ قَبَضْهُ إِلَيْنَا قَبَضًا سِير ا پھر ہم اس کو اپنی طرف تھوڑا تھوڑا اور آہستہ آہستہ کر کے لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ اُسی کا ظل ہے۔ اور اُسی کی طفہ جملہ امور پلٹے ہیں۔ کیونکہ وہ ہر چیش نہ کی اصل ہے پس جملہ تعینات باعتبار ھوتیتِ حق کے حق تعالیٰ ہی کا وجود ہے اور باعتبارصورتوں کے اختلاف کے وہ سب تعنیات صبح شام نہ ہوتی اور سایہ کی طوالت میں کمی و بیشی نہ واقع ہوتی رہتی تو نہ کسی کو نور کا شعور ہوتا نہ کوئی اس نور کو آفتاب سے نسبت دیتا۔ گو یا نور آفتاب سے سایہ پہچانا جاتا ہے اور سایہ سے اور آفتاب وہ آفتاب اسم نور ہے جس سے وجود خلاقی کی شناخت ہوتی ہے ۔ ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَيْنَا قَبَضًا يسيراً پھر ہم اس کو اپنی طرف تھوڑا تھوڑا اور آہستہ آہستہ کر کے لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ اُسی کا ظل ہے۔ اور اُسی کی طفر جملہ امور پلٹے ہیں۔ کیونکہ وہ ہر چیت نہ کی اصل ہے پس حمله تعینات باعتبار ھوتیتِ حق کے حق تعالیٰ ہی کا وجود ہے اور باعتبارصورتوں کے اختلاف کے وہ سب تعنیات اعیان ممکنات ہیں جس طرح صُورتوں کے اختلاف سے ظل کا نام اُس سے دُور نہیں ہو سکتا اسی طرح صورتوں کے اختلاف سے عالم اور غیب حق کے نام بھی اُس سے دُور نہیں ہو سکتے۔

ظل نوری کہتے ہیں۔ ہر شخص بوجہ نال ہونے کے محض خیال ہوتا ہے اور اُس بندہ کے جملہ مدرکات اور یہ تمام موجودات جس پر غیر حق کا اطلاق ہوتا ہے خیال در خیال ہے۔ وجود حق باعتبار اپنی ذات وعینیت کے اللہ ہی ہے نہ کہ باعتبار اسماء کے جن میں کثرت ہے بہتی ہیں احدیت ہے اور خیال میں کثرت جو کثرت پر قائم ہوا وہ عالم میں اسمار الہیہ اور اسمائے کو نیہ کانترین ہے۔ اور جو احدیت پر قائم رہا اُسے اُس ذات اقدس کی معیت حاصل ہوئی جو عَنِی عَنِ الْعَالَمِينَ ہے۔ استغنا اسماء سے بھی ہے اور سمیات سے بھی ۔ اللہ تعالیٰ کی وہ احدیت جو باعتبار اسماء الہیہ کے ہے احدیتہ الکثرت کہلاتی ہے اور وہ احدیت جوان اسمائے مستغنی ہونے کی جہت سے ہے احمدیت مین کہلاتی ہے۔ اور ان دونوں جہتوں پر اسیم احد کا اطلاق ہوتا ہے. ظلال ہی کی بدولت اور طلال کے داہنے بائیں کروٹیں لینے کے سبب سے بندہ کی رہنمائی ہوتی ہے اور بندہ پہچاننے لگتا ہے کہ اُس کو حق تعالیٰ سے اور حق تعالیٰ کو اس سے کیا نسبت ہے ، ماسویٰ کیون فقر و ناداری و نیستی سے متصف ہے اور حقیقت الہیہ کی جانب اُسے کیونکر احتیاج کھلی ہے اور حق تعالیٰ کے لوگوں اور عالموں سے مستغنی ہونے کی کیا حقیقت ہے ۔

عالم اللہ کا محتاج ہے بسبب اسمار الہی کے۔ اور اسمار الہی وہ اسماء ہیں جن میں عالم کے لوگ اور عالم کی

چیزیں بھی آپس میں ایک دوست کی یا عین ذات حق تعالیٰ کی محتاج ہیں کیونکہ ہمارے اسماء یا ہماری ذات بھی اللہ ہی کے اسمار ہیں اور ہمارے اعیان نفس الام میں اُسی کے خالی ہیں اور اُس کے غیر نہیں، باعتبار حقیقت کے وہ ہماری حقوقیت ہے لیکن باعتبار تقی کے وہ ہماری ھویت نہیں لہذا وہ من وجیہ بندہ کی ھویت ہے اور مین و خبر بندہ کی ھوتیت نہیں ۔

ظل الله : انسان کامل عالم

خل اول : – عقل اول – تعین اول مرتبہ وحدت .

لال وظلالا یا خلا لا وظلال :- اسمات الہی –

ظهور وبطون :

ظهور تلبس حقيقت بصور تعينات . بطون : عدم تلبیس حقیقت بصور تعینات –

پر تلیس عین کثرت ہے اور عدم تلیس عین وحدت

وحدت الوجود اور وحدت الشہود ۔ ابن عربی ، مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ اور عبید اللہ سندھی  کے نظریات

وحدت الوجود کی بنیا د ظل واصل کی عینیت پر ہے۔ شیخ مجدد کے نزدیک ظل شے عین شے نہیں ہو سکتا۔ ظل تو اصل کے مشابہ و مماثل ہوتا ہے، نخل واصل بین یک گر نہیں ہو سکتے۔ مثلا اگر کسی شخص کا سایہ لمبا ہو جائے تو نہیں کہ سکتے کہ شخص لمبا ہو گیا۔ شیخ مجدد کے ہاں اول تو کائنات خدا کا ظل ہی نہیں اور اگرا سے خدا کا ظل مان بھی لیا جاتے تو بھی عینیت ثابت نہیں ہوتی ۔

یہ آٹھوں صفات صفت وجود کی صورتیں ہیں۔ دیہاں پر اللہ کے وجود کامل اور اس کی اپنی ذات میں پیدا کی گئی صفت وجود میں فرق قائم کرنا لازمی ہے ) ۔ اب اس صفت وجود کے بالمقابل عدم محض ہے صفتِ حیات کے متقابل موت ہے۔ علم کے بالمقابل جبل دعلم کا عدم ، ہے ۔ قدرت کے بالمقابل عجز (قدرت کا عدم، ہے ۔ اسی طرح ان تمام صفات کے اعدام متقابلہ ہیں۔ خدا اپنے اس وجود محض کا ظل، پر تو با عکس اس کی عدم متقابل یعنی عدم محض میں ڈالتا ہے تو وجود ممکن پیدا ہو جاتا ہے (یعنی عدم محض کو وجود کی صفت نصیب ہو جاتی ہے اور وہ نیست سے بہت میں آجاتا ہے۔ اسی طرح وہ صفت حیات کا فل اس کے عدم متقابل یعنی موت میں ڈالتا ہے تو وہ موت حیات ممکن بن جاتی ہے۔ اسی طرح دو صفت علم کا ظل اس کے عدم یعنی جبل میں ڈالتا ہے تو علم مکن وجود میں آجاتا ہے۔

فرماتے ہیں کہ یہ عالم اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے ان عکوس و خلال سے عبارت ہے جو اعدام متقابلہ کے آئینوں میں مرتسم ہوتے ہیں۔ مثلا قدرت کا عدم حجز ہے۔ چنانچہ جب قدرت کا عکس یا ظل جب مجز کے آئینے میں پڑے گا تو اس سے قدرت ممکنہ طور پذیر ہو جائے گی ایسی طرح سے تمام صفات وجود کو قیاس کیا جاسکتا ہے اور تمام اشیاء اور موجودات کی توجیہ کی جاسکتی

مکتوبات امام ربانی ۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ۔ جلد اول 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحلت فرمانے سے ہزار اور چند سال کے بعد ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج فرماتی ہے اور حقیقت کعبہ کے مقام سے متحد ہو جاتی ہے اور اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہو جاتا ہے اور ذات احد جل سلطانہ کا مظہر بن جاتی ہے اور دونوں اسم مبارک اپنے مسمی کے ساتھ متحقق ہو جاتے ہیں اور پہلا مقام حقیقت محمدی سے خالی رہے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نزول فرما ئیں اور شریعت محمدی علیہ الصلوۃ والسلام کے موافق عمل کریں۔ اس وقت حقیقت عیسوی اپنے مقام سے عروج فرما کر حقیقت محمدی کے مقام میں جو خالی رہا تھا، قرار پکڑے گی۔

جانا چاہئے کہ شخص کی حقیقت اس کے تعین وجوبی سے مراد ہے کہ اس شخص کا تعین امکانی اس تعین کا عمل ہے اور وہ تعین و جوابی اسمائے الہی مثل علیم و قدیر و مرید و متکلم وغیرہ میں سے ایک اہم ہے اور وہ اسم الہی اس شخص کا رب اور اس کے وجودی فیوض کا مبدء ہے اور اس اسم کی

 

اور حقیقت محمدی شان العلیم سے مراد ہے اور حقیقت احمدی اس معنی سے کنایہ ہے جو اس شان کا مبدء ہے اور حقیقت کعبہ سبحانی بھی اسی معنی سے مراد ہے اور وہ نبوت جو حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش سے پہلے آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کو حاصل تھی اور اس مرتبہ کی نسبت خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ كُنتُ نَبِيًّا وَادَمُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطَّيْنِ میں نبی تھا جبکہ آدم ابھی پانی اور کیچڑ میں تھے۔ وہ اعتبار حقیقت احمدی کے تھی جس کا تعلق عالم امر سے ہے اور اس اعتبار سے حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے جو کلمتہ اللہ تھے اور عالم امر سے زیادہ مناسبت رکھتے تھے۔ آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری کی خوشخبری اسم احمد سے

رنگ میں رنگ دیا حتی کہ عالم خلق نے عالم امر کا رنگ اختیار کیا۔ پس ناچار حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عالم خلق سے جس چیز نے اپنی حقیقت کی طرف رجوع کی تھی۔ یعنی حقیقت محمدی عروج کر کے حقیقت احمدی سے لاحق ہو گئی اور حقیقت محمدی حقیقت احمدی سے متحد ہو گئی۔ اس جگہ حقیقت محمدی اور حقیقت احمدی سے مراد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خلق و امر کا تعین امکانی ہے۔ نہ تعین وجوبی کہ تعین امکانی اس کا مل ہے کیونکہ تعین وجوبی کے عروج کے کچھ معنی نہیں اور اس تعین کے ساتھ متحد ہونا معقول نہیں ہے۔

جب حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت کی متابعت کریں گے اور اپنے مقام سے عروج فرما کر تبعیت کے طور پر حقیقت محمدی کے مقام میں پہنچیں گے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دین کی تقویت کریں گے۔ گزشتہ شریعتوں کا بھی یہی حال تھا کہ اولوالعزم پیغمبروں کے رحلت فرما جانے سے ہزار سال کے بعد انبیائے کرام اور رسل عظام مبعوث ہوتے تھے جو ان پیغمبروں کی شریعت کو تقویت دیتے تھے اور ان کے کلمہ کو بلند کرتے تھے اور جب پیغمبر اولوالعزم کی دعوت و شریعت کا دورہ تمام ہو جاتا تھا تو دوسرا اولو العزم پیغمبر مبعوث ہو جاتا تھا اور نئے سرے سے اپنی شریعت ظاہر کرتا تھا اور چونکہ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کی شریعت شیخ و تبدیل سے محفوظ ہے اس لئے حضور کی امت کے علماء کو انبیاء کا مرتبہ عطا فرما کر شریعت کی تقویت اور ملت کی تائید کا کام ان کے سپرد فرمایا ہے بلکہ ایک اولو العزم پیغمبر کو حضور کا تابعدار بنا کر حضور کی شریعت کو ترقی بخشی ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے ۔ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ہم ہی نے قرآن مجید کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

اور جاننا چاہئے کہ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رحلت کر جانے سے ہزارسال بعد حضور کی امت کے اولیاء جو ظاہر ہوں گے اگر چہ وہ قلیل ہوں گے مگر اکمل ہوں گے تا کہ اس شریعت کی تقویت پورے طور پر کر سکیں۔

حضرت مہدی جن کی تشریف آوری کی نسبت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام نے بشارت فرمائی ہے۔ ہزار سال کے بعد پیدا ہوں گے اور حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام خود بھی ہزار سال کے بعد نزول فرمائیں گے۔

اور نیز رسالہ مبدء و معاد میں چند فقرے انبیائے او الوالعزم کے ایک دوسرے سے افضل ہونے میں لکھے گئے تھے۔ ان کے ایک دوسرے کے افضل ہونے کے معنی چونکہ کشف و الہام پرمبنی ہیں جو ظنی ہیں اس لئے اس کے لکھنے اور فضیلت میں تفرقہ کرنے سے ندامت اور تو یہ کرتا ہے کیونکہ قطعی دلیل کے سوا اس بارے میں گفتگو کرنا جائز نہیں۔ اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَآتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ جَمِيعِ مَا كَرِهَ اللَّهُ قَوْلاً وَفِعلاً میں ان تمام قول و فعل سے جو اللہ کو نا پسند ہیں تو یہ کرتا ہوں اور بخشش مانگتا ہوں۔

مکتوبات امام ربانی اردو ۔ مجدد الف ثانی 

کیونکہ ظل کی معرفت اصل کی معرفت کو مستلزم ہے اس لیے کہ ظل اپنے اصل کی صورت پر موجود ہے پس وہ اپنے اصل کے انکشاف کا سبب ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ کسی چیز کی صورت وہ ہے جس کے ساتھ یہ چیز منکشف ہو جائے ۔ 

آفتا ب نبوت ۔ قاری محمد طیت مہتمم دار العلوم دیوبند

اور ظاہر ہے کہ جب قرآن جامع کتب سابقین ہے جو آپ کے اخلاق کا مجموعہ ہے تو آپ کے اخلاق بھی جامع اخلاق سابق مین ثابت ہو گئے جو آپ کے خاتم کیا لات اخلاق اور منتہائے کمال خلق ہونے کی واضح دلیل ہے۔ اس سے خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ جو ذات بابرکات نبوت کی بنیادوں میں سب کی جامع اور سب پر فائق ہے

وہی ان بنیا دوں میں سب کی اصل بھی ہو سکتی ہے۔

چنانچہ اسی اصل ہونے کی بنا پر تمام انبیاء کرام سے آپ پر ایمان لائے اور آپ کی پیروی و نصرت کرنے کا عہد و میثاق لیا گیا۔ جیسا کہ آیت قرآنی کاذا خذ الله میثاق النبيين : سے واضح ہے اور پھر حضور نے اسی آیت کی روشنی میں انبیاء سابقین کے تابع خاتم ہونے کی مثال یہ ارشاد فرمائی کہ :-

Leave a Reply