مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 1

maseehe-maood-pbuh-zilli-baroozi-muhammad-pbuh-jawab

مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ظلی بروزی محمد ﷺ ہیں ۔ جواب ۔ حصہ 1

خاتم النبیین ۔ انور شاہ کشمیری 

نہیں اور نہ اس پر کوئی واقعی حکم مرتب ہو سکتا ہے ، اس کی مثال ایسی سمجھتے کہ ایک شخص عوفی کرتا ہے کہ وہ بادشاہ کا کل و بروز ہے اور اس بروز می اتحاد کی وجہ سے اسے بادشاہ کا نام و مقام حاصل ہو گیا ہے لہذا شاہی محلات اور جسم و خدم اب اس کے زیر تصرف ہیں اور ملک کا تمام نظم و نسق اب بادشاہ کے بجائے اس کے سپرد ہے بظاہر ہے کہ ایسا شخص واقعت باد شاہ کا متب و عاشق نہیں کہلائیگا ، بلکہ اسے سرکش ، غدار اور باقی

تصور کیا جائے گا ، اور وہ سزائے بغاوت کا مستی ہو گا اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے گا۔ (ٹھیک اسی طرح جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خلقی اتحاد کا دعوی کر کے ثبوت کے نام و مقام اور حقوق کو اپنی طرف منسوب کر کے یہ کے اب میں محمد رسول اللہ ہوں، رحمۃ للعالمیں ہوں اور تمام دنیا کی نجات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بجائے اب میری اتباع میں منحصر ہے۔ ایسا شخص اگر پاگل اور دیوانہ نہیں تو اسلام کا فدار اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو باغی ہے اور وہ جرہم بغاوت وارتداد کی بنا پر قتل کا مستحق ہے؟ ۲۹ اور معلوم رہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کے ذریعہ نبوت کا جاری ہونا اس آیت کریمہ میں عربیت کے لحاظ سے بھی باطل ہے۔ کیونکہ حرف لكن قصر قلب کے لیے آتا ہے اور اس کا ما بعد ، ما قبل کے بدل میں واقع ہوتا ہے ، اور وہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان دونوں کے درمیان تبادل اور تاریخ شرط ہے تا کہ بدل اور مبدل منہ جمع نہ ہو جائیں ۔ جیسا کہ کتب نحو و معانی میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے آیت کریمہ میں لکی سے ما قبل ابوت کی نفی ہے اور لکھی، کے بعد ختم نبوت کا اثبات ہے اور اہل فہم پر مخفی نہیں کہ ابوت اور ختم نبوت کے در میان بلا واسطہ کوئی منافع نہیں کہ مؤخر الذکر ، اول الذکر کے بدل میں واقع ہو سکے اور

اور (مرزا قادیانی بروز و ظلمیت کے دعوئی میں منفرد نہیں بلکہ) بہت سے ز فریق ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں کہ کسی مشہور شخصیت کے بعد جس کا شہرہ چار دانگ عالم میں تھا ، یا تو اس کے حلول و بروز و علی کر دیا ، جیسا کہ (علی محمد) باب نے ( منظر تمہ ہونے کا نے دعوی کیا تھا اور یا بہاء اللہ کی طرح اپنے استقلال اور شریعت سابق کے نسخ کا دعوی کیا ، اور لطف یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے دو بخشتی نظریے میں ان دونوں طریقوں کو جمع کر لیا، اپنی آمد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بروزی آمد قرار دینے میں باب کے نقش قدم کا قبیح کیا ، اور آپ کی پہلی بعثت کے منسوخ ہونے کا اعلان کرنے میں بہاء اللہ کی پیروی کی، ہر حال یہ اپنی اعراض مشلومہ کی بجا آوری کا ایک ڈھنگ ہے جو شیطان وقتاً فوقتاً ہر قسمت اور بے توفیق لوگوں کو تلقین کرتا آیا ہے۔

چنانچہ حدیث میں البتہ ظل اللہ ایک محاورہ ہے ہے: السلطان ظلّ الله فی الارض یعنی عادل بادشاہ زمین پر خدا کا سایه ہے اور بادشاہ کو خدا کا سایہ کھنا یا تو سایہ درخت کے ساتھ تشبیہ دینے کے اعتبار سے ہے کہ (جس طرح دوخت کے سائے میں لوگ آرام کرتے اور تھک ہار کر پناہ لیتے

ہیں ، اسی طرح) اس کے سائے میں بنا لیتے اور آرام کمپڑتے ہیں ۔ یا یہ اضافت تشریف اور بیان بزرگی کے لیے ہے، جسطرح خدا کا گھر وغیرہ کے الفاظ اظہار شرف کیلئے بولے جاتے ہیں۔) ما مرنا کو ظلی نبوت کا دھوئی ہے ، سوال یہ ہے کہ یہ ظلی نبوت ، واقعہ نبوت ہے یا نہیں ؟ اس قلیت میں اگر نبوت واقعہ حاصل ہے تو مہر نبوت ٹوٹ گئی، کیونکہ مہر نبوت کا مقصد تو یہ تھا کہ نبوت کسی حاصل نہ ہو، یہ مقصد تو نہیں تھا کہ ظاہری صورت کے اعتبار مھر ٹوٹنے سے محفوظ رہ ہے خواہ سر عمر صندوق کے اندر کی ساری چیز چرا لی جائے ) اور اگر نبوت واقعہ حاصل نہیں تو نبوت کا دعوئی کرنا اور اس کے منکروں کو کافر کہنا بجائے خود کفر ہے۔

اور خیال ہے کہ اگر کسی کو کہا جائے کہ اس مقفل صندوق کو نہ کھون اور دوہ کھولے بغیر سالم صندوق ہی پھر ا لے جائے ، یا یہ کہا جائے کہ اس صندوق کو نہ چھرا نا ! اور وہ صندوق کو چھوڑ کر اس کے اندر سے سارا مال نکال لے جائے ۔ جس طرح کسی خانصاب کی قبا کا قصہ ہے تو کیا کوئی کر سکتا ہے کہ اس نے حکم کی تعمیل کی ہے اور قائل کے منشا کے مطابق عمل کیا ہے ؟ اور اگر اس کے باوجود دو اصرار کرے کہ میں نے تو حکم کی

مہر کو توڑنے کی جرات نکرے ۔ غلام احمد قادیانی نے کہا کہ میں نے سیرت و صدیقی کی کھڑکی سے گذر کر نبوت پائی ہے اور مجھ پر ظلی طور پر نبوت محمد می کی چادر چڑھائی گئی ہے، لہذا میرے دعوائے نبوت سے ختم نبوت کی شہر نہیں ٹوٹی۔ دیکھئے ایک غلطی کا ازار از مرزا غلام احمد قادیانی اور یہ در حقیقت قرآن و شریعت کے ساتھ تمسخر اور قائل (یعنی اللہ تعالی کی تحمیق ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم راس سے معلوم ہوا کہ خلیت بروز اور سیرت صدیقی و غیره الفاظ محض دعوائے نبوت کی پردہ داری کے لیے تاویل اور سخن سازی ہے اور اس قسم کی تا دملیں اور سمن سازیاں بے ایمانوں کا گروہ ہمیشہ اور خاتم کی یہ تحریف کو آنحضرت اعتبار تبریت کی شہر میں جس پر آپ کی مہر لگے گی آینده و بی نبوت معتبر ہوگی : ” یہ ان محذورات باطلہ کے ساتھ ساتھ ، جن کا ذکر اوپر گذر چکا ہے ، کلام کے ربط واتساق کے لیے فرت کنندہ ہے۔

ختم نبوت ۔ مفتی محمد شفیع

ظلی اور بروزی نبوت کی کہانی

اس کے بعد غلطی کے ازالہ ” کی غلطیاں دیکھئے :۔

اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع سے کوئی شخص ظلی یا بروزی طور پر معین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بن جاتا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو ہم دریافت کرتے ہیں کہ ابتداء اسلام سے مرزا صاحب کی پیرانش تک کیا کسی اور کو بھی یہ کامل اتباع نصیب ہوا یا نہیں ؟ صدیق اکبر، فاروق اعظم نے عثمان غنی ، علی مرتضیٰ جو خير الخلائق بعد الانبیاء کے مصداق ہیں ، اور حدیث میں لو كَانَ بَعْدِ نَى لَكَانَ عُمَرُ وغیرہ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں ، کیا یہ حضرات بھی اپنی عمر کی جان نثارانہ خدمات اور انتہائی پیروی کے باوجود قلی طور پر محمد مصطفے

بن گئے تھے یا نہیں ؟

ان کے علاوہ وہ صحابہ جنھوں نے اپنے جسموں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بنا کر دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں سے اپنے پورے بدن کو چھلنی بنا لیا جنھوں نے آپ کے ادنی اشارہ پر ساری دنیا کو چھوڑ دیا ، جنہوں نے آپ کی محبت پیروی کے لئے اپنے ماں باپ، بھائی، برادروں سے قتال کیا ، اور حضور کی ایک ایک سمنت پر جان دی، ان میں سے کوئی اس قابل نہ ہوا کہ ان میں محمدی چہرہ کا انعکاس ہو ؟ اور اگر ان بزرگوں کو بھی یہ درجہ حاصل ہوا ہے تو کیا مرزا صاحب ان میں سے کسی کی تاریخ میں دعوائے نبوت کا کوئی ادنی اشارہ بھی دکھا سکتے ہیں ؟ مرزا صاحب نے یہ ظل و بروز کی کہانی شاید ہنڈوں کے عقیدہ تناسخ و حلول سے اخذ کی ہے ، لیکن بڑے شرم کی بات ہے کہ انھوں نے اس کو بھی سمجھ کر نہ لیا ۔ در کفریم ثابت نئی زنا دار رسوا کن قل و بروزہ کے جو لوگ قائل میں کبھی اس کے قائل نہیں کہ بذریعہ تناسخ و شخص کسی دوسرے جون میں آجائے وہ بعینہ پہلا شخص ہوتا ہے ، اس کے احکام اور حقوق یہی ہوتے ہیں جو پہلے شخص کے تھے ، مثلاً فرض کر لو کہ زید مر گیا اور پھر وہ کسی دوسرے

جون میں آیا اس کا نام ماں باپ نے عمر رکھا ، تو کیسی مذہب و عقیدہ میں عمر کے جون میں آنے والے زید کو یہ حق نہیں کہ قدیم حقوق کا مطالبہ کرے ۔ اپنی سابق بیوی کو میوی سمجھے ، سابق ماں باپ کو ماں باپ کہیے ، وارثوں میں تقسیم شدہ جائداد کو اپنی ملک قرار دے دے ۔ مرزا صاحب کا فلسفہ سب سے نرالا ہے، کہ اسلامی عقیدہ کو تو خراب کیا ہی تھا ، ظل و بروز کے عقیدہ کا بھی ستیا ناس مار دیا، کہ جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل و بروزت رار دیا اس کو یہ حق بھی دے دیا کہ وہ اپنے کو رسول دنبی کہے، اور ساری دنیا کو اپنی نبوت ماننے پر مجبور بھی کرے ، اور جو نہ مانے اس کو کافر کہے این کار از تو آید و مردان چنین کنند اس کے بعد کوئی مرزا صاحب سے یہ پوچھے کہ نبوت ورسالت کے معاملہ میں آپ کے ظل و بروز کے فلسفہ پر کیا کوئی قرآن و حدیث کی شہادت بھی موجود ہے ؟ کہیں قرآن کریم نے قلی اور بروزی نبی کا ذکر کیا ہے ؟ یا کسی حدیث میں اس کا کوئی اشاد ہے؟

اور اگر ایسا نہیں تو پھر اسلام کا دعوئی رکھتے ہوئے اسلام کے بنیادی عقیدہ رسالت میں اس ہندوانہ عقیدہ کو ٹھونسنا کونسی دینی روایات یا عقل و شریعت ہے ؟ صرف یہی نہیں کہ بروز اور نبی بروزی کے پیدا ہونے سے احادیث دو سر آن کی نصوص خالی اور ساکت ہیں ، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث اس کے بطلان کا اعلان صاحت صاحت کر رہی ہیں۔

تحفہ قادیانیت ۔ جلد اول  ۔ محمد یوسف لدھیانوی

پھر اگر مرزا غلام احمد قادیانی ” بروز محمد ” ہونے کی وجہ سے قادیانی “عین محمد ہیں تو وہ بروز خدا ” ہونے کی وجہ سے عین خدا ” کیوں نہیں؟۔ … مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف ” بروز محمد ” ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ ” بروز خدا ” ہونے کا بھی دعوئی ہے۔ اب اگر ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ” بروز ” ہونے کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مع تمام صفات و کمالات کے حاصل ہے حتی کہ نام، کام مقام اور منصب و مرتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا حاصل ہو چکا ہے، تو ” بروز خدا” ہونے کی وجہ سے ان کو خدائی مع اپنے تمام صفات و کمالات کے کیوں حاصل نہیں؟

قادیانی کا بروز محمد ہونا ممکن ہے اور اس سے خاہمیت کی مہر نہیں ٹولتی۔ تو روح الله بروز خدا کیوں نہیں؟ اور اس سے توحید کی مہر کیونکر ٹوٹ جاتی ہے ، اگر مرزا قادیانی کا دعوئی ہے کہ ان کے نبی ہونے سے محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہتی ہے، تو عیسی علیہ السلام کے خدا کہلانے سے بھی خدا کی خدائی کسی اور کے پاس نہیں جاتی۔ استغفراللہ ۔

اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر صفت اور ہر کمال انہیں بروزی طور پر حاصل ہے، تو اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بروزی طور پر، نعوذ باللہ ، مرزا غلام احمد قادیانی سے منسوب ہیں، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں، اس سے گندی گالی ہو سکتی ہے اور کوئی مسلمان جس کے دل میں ذرا بھی شرم و حیا ہو وہ اس بدترین حملہ کو برداشت کر سکتا ہے۔ ؟

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف نبوت کا دعوے نہیں کیا بلکہ ظل و بروز کی آڑ میں رسالت محمدیہ کو اپنی جانب منسوب کیا ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں ، مگر میری نبوت کوئی نئی نبوت نہیں، نہ میں کوئی نیا نبی ہوں ، بلکہ بروزی طور پر بعینہ محمد رسول اللہ ہوں، جو پہلے مکہ میں مبعوث ہوا تھا اور اب قادیاں میں دوبارہ اسی کا ظہور ہوا ہے.

اس لئے مرزا غلام احمد کا جرم صرف یہ نہیں کہ اس نے نبوت کا دعوی کیا، بلکہ اس سے بھی بد تر جرم یہ ہے کہ اس نے کل و بروز کی منگھڑت اصطلاحوں کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز کو اپنی طرف منسوب کر لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ کا نام نامی ” خدیجہ ” تھا، مگر بے غیرتی اور بے حیائی کی حد ہے کہ مرزا غلام احمد نے محمد رسول اللہ بننے کے شوق میں ” خدیجہ ” کو بھی اپنی طرف منسوب کر لیا، مرزا کا الہام ہے : دیکھا۔ اؤ کر نعمتی رائیت خدیجتی میری نعمت کو یاد کر تونے میری خدیجہ کو تذکرہ طبع دوم ۳۸۷ طبع سوم ص ۳۷۷)

تذکرۃ الخلیل ۔ خلیل احمد المدنی مہاجر

رمضان لاء میں آپ نے بحالت اعتکاف خواب دیکھا کہ خریزه تراش کر حضرت امام ربانی کو کھار ہے اور لعاب جو اس کے کھانے میں حضرت کے دہن سے گر رہا ہے اس کو اپنی زبان پر لے رہے ہیں۔ حضرت کو خواب منا کر جب تعبیر پوچھی تو حضرت مسکرائے اور فرمایا ت خود مجھے ہوئے آخر نبت تو ایک ہی ہے اسی طرح ایک بار کسی تذکرہ میں حضرت کی زبان سے بے اختیار نکلا کہ جو ہیں وہی مولوی خلیل احمد دو خط جو حضرت امام ربانی نے آپ کے نام بھاولپور کیجے اور غیر اخط جو دیو بند آپ کے پاس بھیجا چونکہ اہل علم کے لئے نتائج مفیدہ پرمشتمل ہیں اس جگہ نقل کرتا ہوں جن سے اندازہ ہوگا کہ حضرت و طرق معائن میں بھی عمل کے لئے اعلحضرت کا یا لینے کی کس درجہ کش رہی تھی جو کام ہے بے عظمت شیخ کا اور قوم ہر اس شرک است سپردم به تو مایه خویش را تورانی حساب کم و بیش را

مثنوی مولوی روم مع شرح حضرت بحر العلوم 

گفت زین مسو بوی یاری میرسد

کاندرین وہ شہر یاری میرسد

گفتہ کہ ابو یزید تورس سرہ قطب الاقطاب  بود و قطب نمی باشد  بر قلب آنسرور ﷺ ایں بایزید بر قلب آنسرور بود ﷺ  بود

انفاس العارفین ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 

كاتب الحروف نے حضرت والد ماجد کی روح کو آنحضرت ﷺ کی روح مبارک کے سائے (ضمن) میں لینے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے یوں محسوس ہوتا تھا، گویا میرا وجود آنحضرت ﷺ کے وجود سے مل کر ایک ہو گیا، خارج میں وجود کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی، بجز اس کے کہ میر اعلم مجھے اپنا شعور دلا رہا تھا۔ کا تب الحروف کے نزدیک واقعہ مذکورہ میں آگ کے دریا کو مثالی صورت میں دیکھنے کے سر مخفی کا سمجھنا اس

فرمایا: حضرت پیغمبر ہ کو میں نے خواب میں دیکھا جیسے مجھے اپنی ذات مبارک کے ساتھ اس انداز سے قرب و اتصال بخشا کہ جیسے ہم متحد الوجود ہو گئے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کا عین پایا۔ کسی نے اس وقت آنحضرت ﷺ سے کوئی سوال کیا تو آپ نے میری طرف اشارہ فرمایا میں نے اسے وضاحت سے جواب دیا۔ بعد میں آپ مجھ سے جدا ہو گئے ۔ اس واقعہ سے پہلے مجھے نیند میں آنحضور ﷺ کی زیارت کا بہت شوق رہتا تھا۔ جب اتحاد و اتصال کی یہ دولت نصیب ہوئی تو وہ شوق پورا ہو گیا اور وہ بھر پور لذت و کیفیت حاصل ہوئی کہ پھر کوئی حسرت باقی نہ رہی۔

نقش دوام ۔ محمد انور شاہ کشمیری

فرمایا کہ بھائی کسی بہت بڑے عالم کی ی وفات ہوئی اور اس خواب کے چند روز بعد ہی مرحوم کا سانحہ وفات پیش آگیا۔ بلاشبہ آپ اپنے علم فضل کے اعتبار سے ایک درخشاں آفتاب تھے اور آپ کا حادثہ آفتاب علم کا ٹوٹ کر گرنا تھا۔ وفات کے بعد متعد دلوگوں نے ایسے خواب دیکھے جو آپ کی مغفرت کا ملہ اور نجات کی جانب مشیر ہیں۔ مولوی عبد الواحد صاحب نے ایک رات یہ خواب دیکھا کہ ایک جنازہ ہے اور اس کے پیچھے اتنا بڑا ہجوم جے شمار کرنا بھی ممکن نہیں۔ مخلوق جنازے کے پیچھے دوڑ رہی ہے اور ہجوم بڑھتا ہی جارہا ہے۔ میں بھی اسی ہجوم میں شریک ہو گیا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ بتایا گیا کہ یہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ ہے جسے لوگ تبر کا اور حصول برکت کے لئے کاندھا دینے کے لئے دوڑ رہے ہیں۔ میں نے ہجوم سے کہا کہ ذرد ٹھہر و شھرو ۔ میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کی زیارت کرنا چاہتا ہوں میری بیقراری پر جنازہ مبارک زمین پر رکھ دیا گیا اور ہجوم منعش مبارک کے قریب سمٹنے لگا۔ میں نے چہرہ مبارک سے چادر ہٹائی تو وہ بعینہ چہرہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ کا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا حکیم عبد الرشید صاحب محمود نے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا کہ حضرت مرحوم سبز پوشاک میں ہیں اور بے ریش و بروت۔

صحت کا بقیہ : – ہیں تو بے تکان بولے چلے جاتے ہیں۔ ناز میں پہلے ہوئے ، نیاز مندی سے بہت دور مرزا

مظہر جان جاناں علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ نازک مزاجی لازم صاحبزادگیست مرزا مرحوم کے اس قول کی تصدیق حکیم صاحب کو دیکھ کر کرنا پڑتی ہے مشہور مقولہ ہے کہ بیوی اور خادم کسی کے معتقد نہیں ہوتے۔ خاکسار کی جانب سے نا اسمیں صاحبزادوں کا بھی اضافہ کرنا چاہیے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ حکیم صاحب کو حضرت شاہ صاحب  رحوم سے بے پناہ عقیدت ہے۔ خاکسار سے فرمایا کہ میں جب دارالعلوم دیو بند میں پڑھتا تھا تو حضرت شاہ صاحب کو ارادہ پہروں دیکھتا اور یہ سوچتا کہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار و گفتار آپ کی نشست و برخاست قصود و قیام ، لباس و پوشاک، انداز کلام و گفتگو اس طرح ہو گا نہ یہ واقعہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب کے بارے میں حکیم صاحب کا یہ تاثر بر توثیقی سرٹیفکٹ ہے۔ حکیم صاحب علم دوست ، صاحب مطالعہ اور وسعت معلومات کے خزانہ ہیں۔ بدقسمتی سے ایک زمانہ میں جماعتاسلامی سے متائثر ر ہے اور اس کے کاروبار میں عملی حصہ بھی لیا۔ پھر نسبت حضرت گنگوہی نے اس قعر  لالت سے ہاتھ پکڑ کر نکالا تو علم ہزاری میں جماعت اسلامی سے متعلق اپنے تاثرات مکتوبات ثلاثہ کی شکل میں پیش فرمائے جسمیں تحریک کے ان علی خفی مکر وہ خد و خال کو نمایاں کیا جو عام لوگوں کی نظروں میں نہیں ۔ سید ابو الاعلیٰ صاحب ان مضبوط تعقبات کا کوئی معقول و سنجیدہ جواب نہ دے سکے تو حکیم گل بنفشہ نویس و مصروف ہوالشافی کی جلی کٹی سنا کر اپنے دل کو ٹھنڈا کر لیا۔ ایک بار حکیم صاحب کو دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا محب۔

نتخب کیا گیا۔ ہندوستان کے دینی ما تول میں یہ بہت بڑا اعزاز ہے لیکن موصوف کی بے نیا زیاں صرف ایک بار شوری میں شرکت فرمائی پھر مستعفی ہو کر گھر بیٹھ رہے عمومی مشغلہ مطالعہ ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے مطب کرتے ہیں اور روزمرہ کے اخراجات پورے ہونے پر مطلب سے اُٹھ کر بھی علم وتحت ٹھ کر پھر ظلم وتحقیق کے

دریا میں غواصی انکا محبوب شغل ہے۔

عافاه الله تعالى من الكروب والأفات

في الدنيا والأخرة

اسلام اور عیسائیت ۔ محمد   ادریس کاندھلوی 

اس لئے مناسب ہوا کہ کم از کم ایک مرتبہ آپ کے لئے بھی عروج الی السماء اور نزول الی الارض ہو تاکہ آپ کی فطرت کا مکی ہونا اور رفتہ روح القدس سے پیدا ہونا اور ظل جبرئیل ہونا خوب عیاں ہو جاتے بلکہ جس طرح حضرت جبرئیل کو روح کیا گیا اسی طرح جناب میسج کو بھی روح کہا گیا ہے ۔

تحذیر الناس ۔ محمد قاسم نانوتوی

کوئی امر بسیط نہیں سو جیسے جمال جملہ اعضاء ضروریہ کے مجتمع ہو جانے سے حاصل ہوتا ہے ایسے ہی کمال نبوت بھی تمام کمالات ضروریہ کے اجتماع سے حاصل ہوتا ہے ۔ مگر جیسے تناسب جمال کا کوئی ایک قاعدہ نہیں ہر حسین میں ایک عہدہ اپنی تناسب ہے۔ علی ہذا القیاس تناسب کمالات نبوت بھی ایک ہی انداز پر نہیں ہوتا کہیں کوئی تنا سب ہوتا ہے کہیں کوئی سو اگر دو نبیوں کے کی لات میں ایک ہی تناسب ہو تو ایک کی نبوت دوسرے کی نبوت کے ماثل ہوگی نہیں تو نہیں مگر جیسے اہل عالم میں دور جمال ایک تناسب کے نظر نہیں آتے اگر چہ فی عدوانہ ممکن ہو ایسے ہی دو کمال نبوت بھی ایک تناسب کے عالم نہیں معلوم نہیں ہوتے ہاں جیسے آئینہ میں عکس جمال کا تناسب بھی وہی ہوتا ہے جو اصل تبال کا تناسب ایسے ہی عکوس کمال نبوت کا تناسب بھی دہی ہوگا جو اصل کا تناسب ہے۔ اگر کہیں فرق پڑے گا تو آئینہ یا بیست معروض کیوجہ سے فرق پڑے گا جیسے تناسب عکس جمال میں آئینہ کی وجہ انعام تصور ہے اور اصل میں ہوتا

ہوتا ہے اور آئینہ سرخ و سبز میں عکس برہنگ اصلی نہیں رہتا۔ بلکہ الوان آئینہ کی تابع ہو جاتا ہے ایسے ہی کیفیات عکوس نبوت میں اگر فرق پڑے گا تو اس کا باعث کوئی کیفیت نامہ آئینہ ماہیت معروض نبوت ہوگا جب یہ بات ذہن نشین ہو گئی تو آگے سنے تقریر متعلق معنے ماتم النبیین سے یہ بات تو سب ہی اہل فہم سمجھے گئے ہونگے کہ موصوف بوصف نبوت بالذات تو ہمارے رسول اللہ مسلم ہی ہیں باقی اور انبیاء میں اگر کمال نبوت آیا ہے تو جناب ختم تاب مسلم ہی کی طرف سے آیا ہے مگر یا یں لحاظ کہ ہر نبی کی روح اس کی امتیوں کی ارواح کے لئے معدن اوراصل ہوتی ہے چنانچہ تقریر متعلق آینة النبی اوئے بالمؤ منین من انفسہم میں اونی قائل کیجئے تو اسپر شاہد ہے یوں سمجھے میں آتا ہے کہ اور انبیاء رسول اللہ صلعم سے فیض ہے کہ امتیوں کو پہنچاتے ہیں عرض بیچ میں واسطہ فیض میں مستقل بالذات نہیں مگر یہ بات بعینہ وہی ہے

جو آئینہ کی نور افشانی میں ہوتی ہے غرض جیسے آئینہ آفتاب اور اس دھوپ

میں واسطہ ہوتا ہے جو اس کے وسیلہ سے ان مواضع میں پیدا ہوتی ہے جو خود مقابل آفتاب نہیں ہوتی پہ آئینہ مقابل آفتاب کے مقابل ہوتی ہیں ایسے ہی انبیاد باقی بھی مثل آئینہ بیچ میں واسطہ فیض میں غرض اور انبیار میں جو کچھ ہے وظل اور عکس محمدی ہے کوئی کمال ذاتی نہیں پر کسی نجی میں دریکس اسی تنا سب پر سے جو جمال کمال محمدی میں تھا اور کسی نبی میں بوجہ معلوم وہ تناسب نہیں رہا ہو جہاں کہیں کن یکم فرمایا ہے اس میں بقا تنا سب کی جانب اشارہ ہے ہر حال بعد لحاظ معنے خاتم النبیین اور تشبیہ مندرجہ نبی کنیکم یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اور زمینوں میں علوم محمدی صلحم سے تناسب کے ساتھ ہیں اور مشہوم تناسب سے اس تشبیہ کا تشبیہ فی النبہ ہوتا بھی ظاہر ہو گیا یعنی کمالات اصل میں جو تشبیہ تھی وہی نسبت کمالات عکوس میں بھی محفوظ رہے اس صورت میں اگر اصل وظل میں تساوی بھی ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ افضلیت بوجہ اصلیت پھر بھی اوپر رہے گی اور اگر یوں کیلئے مشتبہ بذات محمدی ہے اور مشبہ فرادی فرادی برنجی کی ذات اس لیے اس تشبیہ کو تشبیہ مقرر کہنا چاہئے نہ مرکب سو ہماری طرف سے مجھی سلمنا، مگر بہر حال مشبہ بہ اور مشبہ کو واحد کہو یا متعدد وجہ

نسبة تناسب داخلی لینے تناسب بین الکمالات اور تناسب خارجی یعنے تنا سب ہیں الانبیاء دونوں ہی کو کہنا پڑے گا تا کہ اطلاق تشبیہ ہاتھ سے نہ جائے اور افضلیت محمدی کے لئے یہ وجہ اور ہاتھ آجائے کہ جیسا آئینہ میں عکس زمین کی دو ھوپ تکس آفتاب کا لطفیل ہے اور اس وجہ سے آفتاب ہی کی طرف منسوب ہونی چاہیے۔ ایسے ہی اور زمینوں کے خاتموں کے فیوض خواہ اردواج انبیاء ہوں یا ارواح است ان کے کمال ہوں یا ان کے سب آپ ہی کی طرف منسوب ہوں گے ان تمام مضامین کے مطالعہ کرنے والوں کو یہ بات بخوبی روشن ہو گئی ہوگی کہ در صورت تسلیم اراضی و دیگر بطور معلوم بشہادت قبلہ خاتم النبیین تمام زمینوں میں ہمارہ سے ینی نبی پاک کی جلوہ گری ہو گی ۔ اور وہاں کے انبیاء آپ ہی کے دریوزہ گریون گے۔ اور سب جانتے ہیں کہ اس میں جو فضیلت ہے در صورت انکار اراضی


Leave a Reply