| نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں | دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں |
| ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں | زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں |
| کیا کیا نہ ان کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں | جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں |
| آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں | پر ان کو اس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں |
| کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد | ان کے طریق و دھرم میں گو لاکھ ہو فساد |
| کیا حال کردیا ہے تعصب نے ہے غضب | پر تب بھی مانتے ہیں اسی کو بہر سبب |
| ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی | دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی |
| دنیائے دوں نماند و نماند بکس مدام | اے غافلاں و فانہ کند ایں سرائے خام |