پانچویں آیت ۔ اهدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولا الضالین
اهدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولا الضالین۔ سورۃ الفاتحہ آیت 6 ، 7
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
(الفاتحۃ:۶،۷)کہ اے اﷲ! ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اپنی نعمت نازل کی، گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو تو نے عطا فرمائیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں؟ قرآن مجید میں ہے:۔
(المائدۃ:۲۱)
موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔اے قوم! تم خدا کی اس نعمت کو یاد کرو۔ جب اس نے تم میں سے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا، ثابت ہوا کہ نبوت اور بادشاہت دو نعمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کسی قوم کو دیا کرتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں کی دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے اور دعا کا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی قبو لیت کا فیصلہ فرما چکا ہے۔لہٰذا اس سے امتِ محمدیہ میں نبوت ثابت ہوئی۔
ساتویں آیت ۔ وما کان لکم ان تؤذوا رسول الله ولا ان تنکحوا ازواجه من بعده ابدا ان ذلکم کان عند الله عظیما ۔ سورۃ الاحزاب 52
وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا
ساتویں آیت:۔
(الاحزاب:۵۴) تمہارے لئے یہ مناسب نہیں کہ تم اﷲ کے رسول کو ایذاء دو۔ اورنہ یہ مناسب ہے کہ تم رسول کی وفات کے بعد اس کی بیویوں سے شادی کرو۔
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اﷲ کے رسول تھے۔ حضور صلعم جب فوت ہوئے آپ کی بیویوں کے ساتھ کسی نے شادی نہ کی۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضورؐ کی ازواج مطہرات بھی فوت ہو گئیں۔ اب اگر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوت بند ہو گیا ہے۔ تو نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیں گی اور نہ ان کے نکاح کا سوال ہی زیر بحث آئے گا۔
تو اب اگر اس آیت کو قرآن مجید سے نکال دیا جائے تو کون سا نقص لازم آتا ہے ؟ اور اس آیت کی موجودگی میں ہمیں کیا فائدہ پہنچتاہے ؟ لیکن چونکہ قرآن مجید قیامت کے لئے شریعت ہے اور اس کا ایک ایک لفظ قیا مت تک واجب العمل اور ضرور ی ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے اورقیا مت تک کے انبیاء کے ازواج مطہرا ت ان کی وفات کے بعد بیوگی کی حالت میں ہی رہیں گی۔
نوٹ:۔ یہ آیت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے خاص نہیں بلکہ عام ہے۔ کیونکہ اس میں ’’اَلرَّسُوْلُ یَا اَلنَّبِیُّ‘‘ کالفظ نہیں کہ خاص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مراد ہوں۔ بلکہ یہاں ’’رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کا لفظ ہے جو عام ہے یعنی اس میں ہر رسول داخل ہے۔ لہٰذا دھوکہ سے بچنا چاہیئے۔ لفظ رَسُوْلَ اللّٰہِ قرآ ن مجید میں دوسر ے انبیاء کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔(دیکھو الصف:۲)
آٹھویں آیت ۔ ولقد جاءکم یوسف من قبل بالبینات فما زلتم فی شک مما جاءکم به حتی اذا هلک قلتم لن یبعث الله من بعده رسولا کذلک یضل الله من هو مسرف مرتاب ۔ سورۃ غافر 34
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ
آٹھویں آیت:۔
الخ (المؤمن: ۳۵،۳۶)
کہ اس سے قبل تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام کھلے کھلے نشان لے کر آئے۔ مگر تم ان کی تعلیم میں شک کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تم کہنے لگ گئے کہ اب خداتعالیٰ ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح سے خداتعالیٰ گمراہ قرار دیتا ہے ان لوگوں کو جو حد سے بڑھ جاتے ہیں اور (خدا کی آیات میں) شک کرتے ہیں۔وہ لوگ آیاتِ الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر اس کیکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو کوئی دلیل عطا ہوئی ہو۔
قرآن مجید میں پہلے انبیاء علیہم السلام اور ان کی جماعتوں کے واقعات محض قصے کہانی کے طور پر بیان نہیں ہوتے بلکہ عبرت کے لئے آتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی امت کا جو یہ عقیدہ بیان کیا ہے تو اس سے ہمیں کیا فائدہ ہے ؟ نیز یُضِلُّ اور یُجَادِلُوْنَ مضارع کے صیغے ہیں جو مستقبل پر حاوی ہیں۔
خداتعالیٰ فرماتا ہے (حم السجدۃ:۴۴)
یعنی اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم !آپ کے متعلق بھی وہی کچھ کہا جائے گا جو آپ سے پہلے رسولوں کے متعلق کہا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق جیسا کہ بتایا جاچکا ہے(المؤمن:۳۵)کہا گیا۔ مولوی عبدالستار اپنی مشہور پنجابی منظوم کتا ب’’ قصص المحسنین‘‘ (قصہ یوسف زلیخا) لکھتے ہیں
جعفر صادق کرے روایت اس وچہ شک نہ کوئی
اس ویلے وچہ حق یوسف دے ختم نبوت ہوئی
(قصص المحسنین صفحہ۲۷۹ مطبوعہ مطبع کریمی لاہور ۵ جنوری ۱۹۳۰ء جے۔ ایس سنت سنگھ تاجران کتب لاہور )
یعنی حضرت امام جعفر صادق روایت فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام پر نبوت ختم ہو گئی۔
پس ضرور تھا کہآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہی کہا جاتا کہ آپؐ کے بعد خداتعالیٰ کوئی نبی نہیں بھیجے گا۔
نویں آیت ۔ وانهم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث الله احدا ۔ سورۃ الجن آیت 7
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا
نویں آیت:۔
(الجن:۸)
بعض جِنّ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا وعظ سن کر اپنی قوم کے پاس گئے تو جا کر کہنے لگے۔ اے جنو! تمہاری طرح انسانوں کا بھی یہی خیال تھا کہ اب خدا تعالیٰ کسی نبی کو نہیں بھیجے گا مگر (ایک اور نبی آگیا۔)
گویا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ سے قبل پہلے نبیوں کی امتیں یہی عقیدہ رکھتی تھیں کہ نبوت کا دروازہ ہمارے نبی پر بند ہو چکا ہے۔ (حم السجدۃ:۴۴)کے مطابق ضرور تھا کہآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہی کہا جاتا۔ چنانچہ لکھا ہے:۔
ا۔اِجْمَاعَ الْیَہُوْدِ عَلٰی اَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدِ مُوْسٰی۔(مسلم الثبوت از مولوی محمد فیض الحسن خوالمنن صفحہ ۱۷۰ العظار علی شرح المحلّٰی علی جمع الجوامع جلد نمبر۲ صفحہ ۲۳۲ الکتاب الثالث فی الاجتماع من الادلۃ الشرعیۃ مسئلہ الصحیح امکان الاجماع)کہ یہود کا اجماع ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
ب۔ حضرت امام رازی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں کہ:۔
اَنَّ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ حُصِّلَ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ اَنَّ ھَاتَیْنِ الشَّرِیْعَتَیْنِ لَا یَتَطَرَّقُ اِلَیْھِمَا النَّسْخُ وَالتَّغْیِیْرُ وَاَنَّھُمَا لَا یَجِیْءُ بَعْدَھُمَا نَبِیٌّ۔ (تفسیر کبیر جلد ۴ صفحہ ۳۲ مصری زیر آیت الانعام:۲۲)کہ یہو داور نصاریٰ یہ کہا کرتے تھے کہ تورات اور انجیل سے ظاہر ہرتا ہے کہ یہ دونوں شیریعتیں کبھی منسوخ نہیں ہوں گی۔ اور ان کے بعد کبھی نبی نہیں آئے گا۔
دسویں آیت ۔ ولقد ضل قبلهم اکثر الاولین ۔ ولقد ارسلنا فیھم منذرین ۔ سورۃ الصافات آیت 37 ، 38
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ ۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِمْ مُنْذِرِينَ
دسویں دلیل:۔
(الصّٰفّٰت: ۷۲،۷۳)
کہ پہلی امتوں کی جب اکثریت گمراہ ہو گئی تو ہم نے ان کی طرف نبی بھیجے۔ گویا جب کسی امت کا اکثر حصہ ہدایت کو چھوڑ دے تو خداتعالیٰ کے انبیاء ان کی طرف مبعوث ہوتے ہیں۔ تاکہ ان کو پھر صراط مستقیم پر چلائیں۔
۲۔ (البقرۃ:۲۱۴)
ہم نے انبیاء رسل اور کتابیں بھیجیں تاکہ وہ (نبی) ان اختلافات کا فیصلہ کریں جو ان لوگوں میں پیدا ہوگئے تھے۔
ثابت ہواکہ اختلاف اور تفرقہ کا وجود ضرورتِ نبی کو ثابت کرتا ہے۔
۳۔ (الجمعۃ:۳)کہ ہم نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث کیا …… اور آپ کی آمد سے قبل یہ لوگ صریحاً گمراہی میں تھے۔
گویا جب گمراہی پھیل جائے تو خدا تعالیٰ نبی بھیجتا ہے۔
۴۔ (الروم:۴۲)کہ خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا۔ یعنی عوام اور علماء یا غیر اہل کتاب کی حالت خراب ہو گئی تو نبی بھیجا گیا۔
ان چار آیات سے ثابت ہے کہ جب دنیا میں گمراہی پھیل جاتی ہے۔ تفرقے پڑ جاتے ہیں۔ پہلے نبی کی امت کا اکثر حصہ اس کی تعلیم کو چھوڑ دیتا ہے تو اس وقت اﷲ تعالیٰ نبی اور رسول کو مبعوث فرماتاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ضلالت و گمراہی،امت محمدیہ کے اکثر حصہ کا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیم کو چھوڑ دینا۔ علماء اور عوام کا بگڑنا واقع ہوا یا نہیں ؟
خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی اُمَّتِیْ مَا اَتٰی عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ (وَ فِیْ رَوَایَۃِ شِبْرًا بِشِبْرٍ )حَتّٰی اِنْ کَانَ مِنْھُمْ مَنْ اَتٰی اُمَّہٗ عَلَانِیَّۃً لَکَانَ فِیْ اُمَّتِیْ مَنْ یَّصْنَعُ ذٰلِکَ وَاِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی اثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَ تَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَّ سَبْعِیْنَ کُلُّھُمْ فِی النَّارِ اِلَّا مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ۔
(ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فی افتراق ھٰذہ الامۃ)
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ البتہ ضرور آئے گا میری امت پر وہ زمانہ جیسا کہ بنی اسرائیل پر آیا تھا۔ یہ ان کے قدم بقدم چلیں گے۔ یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے علانیہ اپنی ماں کے ساتھ بد کاری کی ہوگی تو میری امت میں سے بھی ضرور کوئی ایسا ہوگا جو یہ کرے گا۔ اور بنی اسرائیل کے بہتر(۷۲) فرقے ہو گئے تھے اور میری امت کے تہتر(۷۳) فرقے ہو جائیں گے۔ سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔
۲۔ عَنْ عَلِیٍّ قِالِ قِالِ رِسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّأْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اِسْمُہٗ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہٗ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مِنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَ فِیْھِمْ تَعُوْدُ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیْ فِیْ شُعْبِ الْاِیْمَانِ۔
(مشکوٰۃ کتاب العلم باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا۔ جب اسلام میں کچھ باقی نہ رہے گا مگر نام۔ اور قرآن کا کچھ باقی نہ رہے گا مگر الفاظ۔ مسجدیں آباد نظر آئیں گی مگر ہدایت سے کوری۔ ان لوگوں کے مولوی آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے انہی سے فتنہ اٹھیں گے۔ اور ان ہی میں واپس لوٹیں گے۔
ان ہر دوحدیثوں سے ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ضلالِ مبین پھیلے گی۔ امت محمدیہ میں تفرقے پڑیں گے۔ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا۔ اور قرآن کے فقط الفاظ۔ اور پھر علماء اور عوام کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہو جائے گی۔ گویا کہ (الروم:۴۲)کا پورا نقشہ کھنچ جائے گا۔
پس قرآن کی بتائی ہوئی مندجہ بالا سب ضروریا ت اور احادیث کی بتائی ہوئی سب جملہ علامات موجود ہیں جو بعثتِ رسول کو مستلزم ہیں۔
پس آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعدنبوت کا امکان ثابت ہے۔
گیارھویں آیت ۔ وان من قریة الا نحن مهلکوها قبل یوم القیامة او معذبوها عذابا شدیدا کان ذلک فی الکتاب مسطورا ۔ الاسراء ۔ 58
وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا
(بنی اسرائیل:۵۹)
کہ قیامت سے پہلے پہلے ہم ہر ایک بستی کو عذابِ شدیدمیں مبتلا کریں گے اور یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
ب۔دوسری جگہ فرمایا:۔
(بنی اسرائیل:۱۶)کہ جب تک ہم نبی نہ بھیج لیں اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا کرتے (یعنی نبی بھیج کر اتمام حجت کر کے پھر سزا دیتے ہیں )
ج۔پھرفرمایا:۔(القصص:۶۰)
کہ خداتعالیٰ بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان میں کسی رسول کو مبعوث نہ فرمائے۔ تاکہ (عذاب سے قبل) وہ ان کو خدا تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے (اور ان پر اتمام حجت ہو جائے۔)
د۔ ایک اور مقام پر فرماتاہے۔(طٰہٰ:۱۳۵)
کہ اگر ہم نبی کے ذریعہ نشان کھانے سے قبل ہی ان پر عذاب نازل کر کے ان کو ہلاک کر دیتے تو وہ ضرور یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم اس رسول کی یوں ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی پیروی کر لیتے (اس آیت کا مضمون سورۃ القصص:۴۸ میں بھی بیان کیا گیا ہے )
ان سب آیات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکال کہ خداتعالیٰ انبیاء بھیجتا رہے گا۔ چونکہ عذاب سے قبل نبی آتا ہے اور عذاب آئے گا تو نبی بھی آئے گا۔
بارھویں آیت ۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ۔ المائدہ آیت 3
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
(المائدۃ:۴)کہ آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا ہے۔ گویا قرآن شریف کو مکمل شریعت قرار دیا ہے۔
شریعت کا کام دنیا میں انسان کا خدا کے ساتھ تعلق قائم کرانا ہوتا ہے جس قدر شریعت نا قص ہو گی اسی قدر وہ خدا کے ساتھ انسان کا ناقص تعلق قائم کرائے گی۔ اور جتنی وہ کامل ہوگی اتنا ہی وہ تعلق بھی جو انسان کا خدا سے قائم کرائے گی کامل ہوگا۔ اب قرآن مجید مکمل شریعت ہے اس لئے ثابت ہوا کہ یہ خداکے ساتھ ہمارا تعلق بھی کامل پیدا کرتی ہے اور سب سے کامل تعلق جو ایک انسان کا خدا کے ساتھ ہو سکتا ہے وہ نبوت ہے۔ اگر کہو کہ قرآن مجید کسی انسان کو نبوت کے مقام پر نہیں پہنچا سکتا تو دوسرے لفظوں میں یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن مجید کامل نہیں بلکہ ناقص شریعت ہے اور یہ باطل ہے اور جو مستلز م باطل ہو وہ بھی باطل ہے۔ لہٰذا تمہارا خیال باطل ہے کہ قرآن نبوت کے مقام تک نہیں پہنچا سکتا۔
تیرھویں آیت۔ واذ اخذ الله میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاءکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه ۔ آل عمران ۔ 81
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ
(اٰل عمران:۸۲)جب اﷲ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب تم کو کتاب اور حکمت دے کر بھیجا جائے اور پھر تمہارے پاس ہمارا رسول آئے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔
حضرت امام رازی رحمۃ اﷲ علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’فَحَاصِلُ الْکَلَامِ اَنَّہٗ تَعَالٰی اَوْجَبَ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ الْاِیْمَانَ بِکُلِّ رَسُوْلٍ جَآءَ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۷۲۶
نچلی طرف سے آٹھویں سطر مطبوعہ مصر زیر آیت اٰل عمران:۸۱)
یعنی خلاصہ کلا م یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر یہ بات واجب کر دی کہ وہ ہر اس رسول پر ایمان لائیں جو ان کی اپنی نبوت کا مصدق ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے بھی عہد لیا گیا یا نہیں۔قرآن مجید میں ہے۔
(الاحزاب:۸) کہ ہم نے جب نبیوں سے عہد لیا تو آپؐ سے بھی لیا اور حضر ت نوح اور حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے بھی یہی عہد لیا۔
اگرآپؐ کے بعد نبوت بند تھی تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے یہ عہد نہیں لینا چاہئے تھا۔ مگر آپ سے بھی اس عہد کا لینا امکان نبوت کی دلیل ہے۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.