چھٹی آیت ۔ یا ایها الرسل کلوا من الطیبات ۔ المومنون ۔ آیت 51

چھٹی آیت ۔ یا ایها الرسل کلوا من الطیبات ۔ المومنون ۔ آیت 51

51 چھٹی آیت ۔ یا ایها الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم ۔ المومنون ۔ آیت

يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ

چھٹی آیت:۔

(المؤمنون:۵۲)اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔ یہ جملہ ندائیہ ہے جو حال اور مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور لفظ رُسُلْ بصیغہ جمع کم ازکم ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے۔ آنحضرت صلی اعلیہ وسلمتو اکیلے رسول تھے۔ آپ کے زمانہ میں کوئی بھی اور رسول نہ تھا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے بعد رسول آئیں گے۔ ورنہ کیا خدا تعالیٰ وفات یافتہ رسولوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ اٹھو! اور پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو۔

اس امرکا ثبوت کے یہ خطاب آنحضرت صلی اعلیہ وسلم سے پہلے رسولوں کو نہیں ہے:۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَالْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَ بِہٖ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (المؤمنون:۵۲ )وَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی(البقرۃ:۱۷۳)

(مسلم کتاب الزکوٰۃ باب قبول الصدقۃ عن الکسب الطیب بحوالہ محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۸۶ایڈیشن۱۹۸۹ء)

یعنی ابو ہریرہ رضی اعنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ اپاک ہے اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا اور اتعالیٰ نے مومنوں کو بھی حکم دیا ہے جو اس نے نبیوں کو دیا ہے۔ کہ اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور مناسب حال اعمال بجا لاؤ۔ ایسا ہی اتعالیٰ نے (مسلمانوں کو) فرمایا کہ اے ایمان والو اس پاک رزق سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔

یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ جس طرح (البقرۃ:۱۷۳ ) والا حکم آنحضرت رصلی اعلیہ وسلم سے پہلے فوت ہو چکنے والے مومنوں کو نہیں بلکہ موجودہ یا بعد میں ہونے والے مومنوں کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح کا خطاب بھی گزشتہ انبیاء کو نہیں بلکہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے زمانہ یا آپ کے بعد آنے والے رسولوں سے ہے۔ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے زمانہ میں تو کوئی اور رسول تھا نہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کے بعد پیدا ہونے والے ایسے رسولوں سے خطاب ہے جو قرآن کی شریعت کے تابع ہوں گے۔

غیر احمدی:۔ آیت میں ذکر پہلی امتوں کا ہے جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیا تھا۔ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم سے یہ خطاب نہیں ہے۔ بلکہ پہلے انبیاء سے ہے۔

جواب:۔ جی نہیں! یہ خطاب آنحضرت صلی اعلیہ وسلم سے پہلے انبیاء کو ہرگز نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر درج شدہ حدیث سے ثابت کیا گیا ہے۔ اب تفسیر بھی دیکھ لو۔ لکھا ہے:۔

۱۔ اما م ثعلبی رحمۃ اعلیہ کہتے ہیں:۔ کہ رُسُلُ اللّٰہ سے حضرت رسول کریم صلی اعلیہ وسلم مرا دہیں جیسے کہ میں لفظ جمع کے ساتھ انہی کی طرف خطاب ہے۔ اور یہ تعظیم کی راہ سے ہے۔ شرح معار ف میں لکھا ہے کہ جب تک حق تعالیٰ نے سب انبیاء علیہم السلام کے خصائل اور شمائل حضرت سیدالانبیائمیں جمع نہیں کئے۔حضرت کو آیت سے خطاب نہیں فرما یا۔

(تفسیر حسینی قادری جلد ۱ صفحہ ۲۸۵ زیر آیت مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ انعام ع ۱۵ نیز دیکھو جلد ۲ صفحہ ۵۷و صفحہ ۹۹ )

۲۔ تفسیر اتقان مصنفہ امام سیوطی رحمۃ اعلیہ میں ہے:۔

’’خِطَابُ الْوَاحِدِ بِلَفْظِ الْجَمْعِ نَحْوَ یَااَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ……فَھُوَ خِطَابٌ لَہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحْدَہٗ اِذْ لَا نَبِیَّ مَعَہٗ وَلاَ بَعْدَہٗ۔‘‘(تفسیر اتقان جلد ۶ صفحہ ۳۴ مصری زیرآیت المومنون:۵۲)

یعنی اس آیت میں کا خطاب صرف آنحضرت صلی اعلیہ وسلم ہی کو ہے۔ کیونکہ بخیال مصنف آنحضرتؐ کے زمانہ یا ما بعد کوئی نبی نہیں۔

۳۔ امام راغب رحمۃ اعلیہ لکھتے ہیں:۔

’’وَ قَوْلُہٗ یَا اَیُّھَا الرَّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا قِیْلَ عُنِیَ بِہِ الرَّسُوْلُ وَ صَفْوَۃُ اَصْحَابِہٖ فَسَمَّاھُمْ رُسُلًا لِضَمِّھِمْ اِلَیْہِ۔‘‘ (مفرداتِ راغب صفحہ ۱۹۴ حرف الراء مع السین زیر الفظ رُسُل )یعنی اس آیت میں خطاب آنحضرت صلی اعلیہ وسلم اور آپ کے چیدہ اصحاب سے کیا گیا ہے اور ان کوبھی آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے ساتھ وابستگی کے باعث ’’رسول‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

پس یہ ثابت ہے کہ یہ خطاب انبیاء سابقہ کو نہیں۔ باقی رہا یہ کہنا کہ لفظ رُسُل جو جمع کا صیغہ ہے وہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم واحد کے لئے آیا ہے تو یہ محض خوش فہمی اور ایک کو سوا لاکھ کے کہنے کے مترادف ہے۔ اور یہ ایساہی ہے جیسے شیعہ لو گ کہتے ہیں کہ قرآ ن مجید میں وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مراد حضرت علی ؓ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید قیامت تک کے لئے شریعت ہے اس لئے اس میں تمام ایسے احکام بیان فرمادیئے گئے جن پر قیامت تک عمل کیا جانا ضروری تھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اعلیہ وسلم کے بعد جو انبیاء آنے والے تھے ان کے لئے بھی مکمل ہدایات قرآن مجید میں نازل فرما دی گئیں۔ ان ہدایات میں سے ایک ہدایت پر مشتمل یہ آیت بھی ہے۔


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply