مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودؑ پر توہین عیسیٰ ؑ کے الزام کا جواب ۔ حصہ 5
ازالت الاوھام جلد 1 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
کوئی انگریزی قانون ان شبہات کے جواب کی تحریر سے مانع نہیں ہے بلکہ بعض پادری صاحبان نے تو خود اپنی تحریروں میں اردو زبان میں یہاں تک لکھا ہے کہ حکومت کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی حتی کہ اس حوالے سے نہ کسی کو انعام دیتی ہے اور نہ کسی کو سزا دیتی ہے پس مسلمان اور ہندو بغیر خوف و اندیشہ کے اپنے دلائل اور شبہات بیان کریں کہ حکومت انگریز اس پر ناراض نہیں ہوگی اور مسیحی حکمران مسلمان حکام کی طرح نہیں ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ وقت کے حکام ہر گز اس مسئلے میں دخل اندازی نہیں کرتے لیکن بظاہر علماء اہل اسلام کیلئے تین مسائل ہیں۔
ازالۃ الاوھام ۔ جلد 2 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
حضرت عیسی الہ کا نکاح نہ کرنا
حضرت عیسی اللہ کا نکاح نہ کرنا ھند کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ہمارا خیال یہ ہے کہ اتفاقی طور پر انکواسکی نوبت نہیں آئی کیونکہ صرف تینتیس سال کی عمر تھی کہ وہ آسمان پر اٹھا لیے
گئے اور رفع آسمانی سے قبل بعد از نبوت کے زمانہ میں یہودیوں کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے انکا دور انتہائی تنگی کے ساتھ گذرا بلکہ حضرت مسیح اللہ کی ذات گرامی کا انکار کرنے والا تو کہہ سکتا ہے (۱) کہ انکا نکاح نہ کرنا نہ تقوی وزحد پر محمول ہے اور نہ ہی یہ توجیہ کرنا درست ہے اسکا اتفاق نہیں ہوا کیونکہ لوقا باب ۷ آیت ۳۳ میں ہے کیونکہ یوحنا بپتسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہوا آیا نہ سے پیتا ہوا اور تم کہتے ہو کہ اس میں بد روح ہے ابن آدم کھا تا پیتا آیا اور تم کہتے ہو کہ دیکھو کھاؤ اور شرابی آدمی محصول لینے والوں اور گناہ گاروں کا یار… پھرکسی فریسی نے اس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا پس وہ اس فریبی کے گھر جا کر کھانا کھانے بیٹھا تو دیکھو ایک بد چلن عورت جو اس شہر کی تھی یہ جان کر کہ وہ اس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے سنگ مرمر کے عطروان میں عطر لائی اور اسکے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر اسکے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے انکو پونچھا اور اسکے پاؤں بہت چومے اور ان پر عطر ڈالا اسکی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اسے چھوتی ہے وہ کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے یسوع نے جواب میں اس سے کہا اے شمعون مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے تو نے میں آیا اس نے کہا اے استاد کہ تو نے مجھے کو بوسہ نہ دیا مگر اس نے جہ ہے. میرے پاؤں چومنا نہ چھوڑا. اسی لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اسکے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اس نے بہت محبت کی ….. اور اس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف
ہوئے اس پر وہ جو ا سکے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟ اتنی ملخصاً لوقا باب ۸ آیت امیں ہے وہ منادی کرتا اور خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سناتا ہوا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھرنے لگا اور وہ بارہ اسکے ساتھ تھے اور بعض عورتیں جنہوں نے بُری روحوں اور بیماروں سے شفا پائی تھی اور بہتری اور عورتیں بھی تھیں جو اپنے مال سے انکی خدمت کرتی تھیں (اپنی ملخصاً) اور یوحنا باب ۱۱ آیت ۵ میں ہے اور یسوع مرتھا اور اسکی بہن اور لعزر سے محبت رکھتا تھا ان آیات میں صراحت کیسا تھ تو معلوم ہوتا ہے کہ فریبی آنجناب اللہ کو کھاؤ پیو شراب کا رسیا سمجھتے تھے وہ عورت انکے پاؤں چومتی تھی، عطر ملتی تھی آنجناب اسلم کی تشریف آوری کے وقت عورت نے پاؤں چومنا بس نہ کیے حتی کہ فریسی وغیرہ یہ منظر دیکھ کر بد اعتقاد ہو گئے اور آنجناب اللہ نے ایسا کرنے پر اس عورت کے تمام گناہ بخش دئے۔ بہت سی عورتیں انکے ساتھ پھرتی تھیں، اپنے مال سے انکی خدمت کرتی تھیں اور آنجناب مرتھا اور کا انکار اور اعتراض کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ چونکہ آپ ایک خوبصورت جوان تھے۔ اس وجہ سے عورتیں ان پر مفتون و عاشق ہو گئیں انکے آگے پیچھے گھومنے لگیں، اپنے مال سے انکی خدمت کرنے لگیں اور بعض عورتوں سے تو آنجناب کا محبت کرنا پایہ تحقیق کو پہنچ چکا ہے لہذا شراب نوشی کے تقاضا سے ان عورتوں سے اپنی دوسری ضرورت بھی پوری کر لیتے تھے انہیں نکاح کرنے کی کیا حاجت تھی ؟ چنانچہ ہندوؤں کے ہزاروں سادھو گنگا و جمنا کے کنارے کے پاس کنارہ کش ہو کر اسی طریقہ کو اپناتے ہوئے نکاح کی ضرورت سے بے نیاز رہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ العظیم) اس بد چلن عورت کے قصہ میں ایک اور بات لائق سماعت ہے کہ اس عورت نے جس قدر حضرت مسیح اللہ کے پاؤں چومے آنسو بہائے اتنا ہی انہوں اسکی بہن کو دوست رکھتے تھے محبت کرتے تھے۔ اب حضرت مسیح ا
نے اسکے جملہ گناہ معاف کر دئے۔ سبحان اللہ ! مسیحی علماء کا حد درجہ تعصب دیکھئے کہ ایک طرف اگر کسی حدیث نبوی ﷺ میں یہ مضمون مل جائے کہ خدائے پاک اگر چاہیں تو گنہگار کو معاف فرمادیں وغیرہ تو فورا زبان طعن دراز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرین انصاف نہیں جبکہ دوسری طرف حضرت مسیح اللہ فاحشہ عورت کے گناہ کو اسکے محبت آمیز افعال مذکورہ عطر لگانا، چومنا آنسو بہانا وغیرہ کے بدلہ میں معاف کر دیں تو بالکل عدل کے وانصاف کے عین مطابق ؟
اس تعدد ازواج کو ہی ہے جو انہوں نے خیر البشر کون کون سی سید الورٹی ﷺ کے متعلق نہیں کی اور آج تک کر رہے ہیں اگر چہ دل کڑھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان تمام اعتراضات کو نقل کر کے با عکس الزامی جواب دوں مگر خوف طوالت مانع ہے اس لئے سب باتیں چھوڑ کر صرف ایک طعن کو نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں جسے ایک مسیحی متولف نے اپنی کتاب “دلائل اثبات رسالت مسیح میں لکھا ہے اور بزعم خود ایک آیت قرآنی استدلال بھی کیا ہے۔
موصوف اپنے رسالہ کے آخر میں ایک مسیحی مصنف کا گستاخانہ کلام سے موصوف مہ جی کوی نفس اس زمانے میں ہوتا تو کوئی آدمی اسے اپنے قریب پھینکنے کا موقعہ بھی نہ دیتا۔ کیا محمد نہیں جانتے تھے کہ تجرد و عدم ازدواج ایک اعلیٰ خوبی ہے۔ دوسری جانب وہ بیٹی کی صفت بیان کرتے ہوئے قرآن
رقیمت الوداد ۔ جواب کتاب نیازنامہ مصفنہ پادری صفدر علی
راحب فاحشہ ۔ تمر جو کسبی بنی تھی اور یہ سب حضرت مسیح ؑ کی پردادیاں ہیں
حقیقت مسیح ۔ تفسیر سورت اخلاص ۔ ساغر الواتقی
حاکم وقت کو نجومیوں سے معلوم ہوا کہ اسرائیلیوں کا آئیندہ بادشاہ ایک گھر میں تولد ہو چکا ہے اور وہ گھر مریم کے منگیتر یوسف نجار کا ہے ۔
بائبل سے قرآن تک ۔ اظہار الحق کا اردو ترجمہ اور شرح و تحقیق ۔ رحمت اللہ کیرانوی
جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو گئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی ۔
اعجاز عیسوی ۔ رحمت اللہ کیرانوی
جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو گئی تو اس سے پہلے کہ وہ ہم بستری کریں وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی ۔
ازالت الاوھام ۔ رحمت اللہ کیرانوی
سحر وغیرہ پرمحمول کرتے ہیں۔ کیا نہیں دیکھتے کہ یہود جناب مسیح اس کے معجزات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود آنجناب کا کس قدر سختی سے انکار کرتے تھے اور آنجناب کے جنات نکالنے کے بارے میں کہتے تھے کہ اس میں باعلز بول“ جو جنات کا بادشاہ ہے اسکا ہاتھ ہے (۱) اور یہ بات آج تک کہتے ہیں کہ مسیح اسلام کے خوارق عادات افعال نا پاک روحوں کے ذریعے ہوتے تھے اور اس ذات مصدر حسنات کو تکالیف پہنچاتے تھے۔ اسی طرح آنجناب کے حواریوں کو جو تکالیف پہنچائی گئیں رسولوں کے اعمال کے پڑھنے والوں پر خفی نہیں ہے۔ پس کسی واقعہ کا سچا ہونا مخالفین کی کتابوں میں مندرج ہونے پر موقوف نہیں۔ اگر چہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے لیکن اسلوب کتاب کو مد نظر رکھتے ہوئے عہد عتیق و جدید سے
بائبل سے قرآن تک ۔ اظہار الحق کا اردو ترجمہ ۔ رحمت اللہ کیرانوی
۔ مسیح سے کبھی بھی مردوں کو زندہ کرنے والا معجزہ صادر نہیں ہوا
۔ مسیح کا مردوں کےدرمیان اٹھ کھڑا ہونا محض باطل ہے
بائبل سے قرآن تک ۔ رحمت اللہ کیرانوی
اور اسی لئے اشعیار علیہ السلام نے شراب اور نشہ پینے والوں کی مذمت کی ہے ، اور شہادت دی ہے کہ انبیاء اور کا من شراب پینے کی بدولت گراہ ہوگئی کتاب اشعیاہ باب آیت ۲۲ میں ہے کہ : ان پر افسوس جو مے پینے میں زور آور اور شراب ملا نے میں پہلوان ہیں ؟ اور اسی کتاب کے باشت آیت ، میں ہے کہ : لیکن یہ بھی ہے خواری سے ڈگمگاتے اور نشہ میں لڑکھڑاتے ہیں، کا مہین اور بنی بھی نشہ میں چور اورقے میں غرق ہیں، وہ نشہ میں جھومتے ہیں ، وہ رویا میں خطا کرتے اور عدالت میں لغزش کھاتے ہیں ؟ اس فصل کے شروع میں آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ نوح علیہ السلام نے شراب پی، اور ان کے ہوش و حواس جاتے رہے، اور اس حالت میں برہنہ بھی ہو گئے ، اور لوط علیہ السلام نے شراب پی اور وہ بھی ہوش و حواس کھو بیٹھے، اور اس سیاست
میں اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ وہ شرمناک حرکت کی ، جو کبھی کسی شرابی اور مکنید انسان نے بھی نہ کی ہوگی ، انجیل یوحنا باب ۱۳ آیت سم میں ہے کہ : دستر خوان سے اُٹھ کر کپڑے اتارے، اور رومال لے کر اپنی کمر میں باندھا، اس کے بعد برتن میں پانی ڈال کر شاگردوں کے پاؤں ہے کمر میں بندھا تھا اس سے پونچھنے شروع کئے ، اور اس موقع پر ہمارے ظریف و خوش طبع بزرگ نے الزامام کہا یہ بات مشبہ میں ڈالتی ہے کہ اس وقت علیمی علیہ السلام میں شراب اپنا پو را تسلط کئے ہوئے تھی ، یہاں تک کہ ان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں، اور کیا کرنا چاہتی کیونکہ پاؤں دھونے کے لئے بھلا کپڑے اُتارنے کی کیا ضرورت ہے ؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شراب کی مذمت میں اپنی کتاب کتاب امثال باب میں فرمایا اورکتا
جب کے لال لال ہو ، جب اس کا عکس جام پر پڑے ، اور جب وہ روانی کے ساتھ نیچے اُسترے تو اس پر نظر نہ کر، کیونکہ انجام کا روہ سانپ کی طرح کاٹتی اور افعی کی طرح ڈس جاتی ہے ۔ اور اسی طرح نوجوان اجنبی لڑکیوں کا نوجوان مردوں کے ساتھ اختلاط تو بہت ہی خطر ناک اور آفت ہو، اور اس حالت میں پاک دامنی کی توقع بہت مشکل ہوا بالخصوص جبکہ وہ مرد نوجوان غیر شادی شدہ اور شرابی بھی ہو، اور عورت فاحشہ اور محبوبہ بھی ہو، اور ہر وقت اس کے آگے گھومتی پھرتی ہو، اور اپنی جان ومال کے سے اس کی خدمت کرتی ہو، داؤد علیہ السلام کی مثال سامنے رکھتے کہ محض ایک اُڑتی ہوئی نگاہ ایک اجنبی عورت پر پڑ جانے کا کیسا خطر ناک انجام ہوا، حالانکہ ان کے پاس کی عمر میں اس وقت بیویاں تھیں، اور پچاس سے زیادہ ہو بچی تھی، اسی طرح سلیمان علیہ السلام کا حال بھی پیش نظر رکھئے کہ ان کو عورتوں نے کس حد تک مغلوب کر دیا تھا، کہ نبی اور عہد جوانی میں نیک وصالح ہونے کے باوجود بڑھاپے میں ان عورتوں نے ان کو مرتد اور بہت پرست تک بنا ڈالا، اور جب ان کو اپنے ماں باپ اور بھائی بہن ریعنی امنون و تمر، اور اپنے بزرگوں روبیل و یہوداہ کے حالات سے پے درپے تجربات حاصل ہوئے اور خاص طور پر اپنا تجر به پیش آیا تب انھوں نے اس معاملہ میں سختی اور تشدد کافی کیا کتاب امثال باثت میں ہے کہ : تو عورت کے مکر بیکان مت دھر، کیونکہ بیگانہ عورت کے ہونٹوں سے
اسی طرح بے ریش لڑکوں کا اختلاط بڑا خطرناک ہو، بلکہ عورتوں کے اختلاط سے بھی زیادہ خطر ناک قبیح ہے ، جس کی شہادت تجربہ کار لوگوں نے دی ہے ، اس کے بعد آپ خود کریں کہ عینی علیہ السلام جبکہ شراب نوشی میں حد اعتدال سے اس قدر آگے نکلے ہوئے تھے کہ خود ان کے معاصرین ان کی نسبت یہ الفاظ کہتے ہیں کہ بہت کھانے والا اور بے انتہا شرابی ہے ، پھر آپ کنوارے نیز نوجوان بھی تھے، پھر جب مریم آپ کے قدموں کو اپنے آنسوؤں سے دھوتی ہے ، اور جس وقت سے آپ کے پاس آتی ہے برابر آپ کو بو سے دیتی اور چومتی رہتی ہے، اور آپ کے پاؤ کو اپنے سر کے بالوں سے صاف کرتی جاتی ہے، بالخصوص اس حالت میں کہ وہ اس زمانہ میں مشہور فاحشہ اور رنڈی تھی ، ایسی حالت میں عیسی علیہ السلام نے اپنے
بزرگوں میہوداہ، داود وسلیمان کے واقعات کو کیسے فراموش کر دیا ؟ اور سلیمان کی مذکور نصیحتیں کیسے بھول گئے ؟ اور کس طرح انھوں نے یہ بات نہ سمجھی کہ عورت کی قیمت تو محض ایک روٹی ہے، اور اس کو ہاتھ لگانے کے بعد بچنا ممکن نہیں ہے، جس طرح بغل میں آگ ہوتے ہوئے کپڑوں کا نہ جلنا غیر مکن ہے ریا آگ کے انگاروں پر چلنے کے باوجود پاؤں کا نہ جلنا ناممکن ہو، تو پھر آپ نے اس عورت کو ان حرکات کی اجاز) کیسے دیدی؟ یہاں تک کہ فریسی کو اعتراض کرنے کی نوبت آئی، اور کیونکر مانا جا سکتا ہے کہ یہ سب کام مقتضائے شہوت کے مطابق نہیں ہو رہے تھے ؟ اوران حرکات کے باوجود آپ نے اس کے گناہ کو کس طرح بخش دیا ؟ کیا اس قسم کے افعال و حرکات خدائے پاک و عادل کی شان کے لائق ہو سکتے ہیں ؟ اسی بناء پر وہی ظریف بزرگ فرماتے ہیں کہ : اس زمانے میں حرام کاری اور زنا کاری جائز تھی تو کیا آج کوئی شریف عیسائی اگر اپنے کسی دوست کے یہاں مہمان ہو تو وہ بھرے مجمع میں کسی اللہ رنڈی کو اس بات کی اجازت دینے کے لئے تیار ہو گا کہ وہ اس کے پاؤں ہوں حالانکہ اس سے قبل اس فاحشہ کا اپنے افعال و حرکات تو بہ کرنا ثابت نہیں ادھر شیخ، مریم سے بیحد محبت کرتے اور اپنے بارہ شاگردوں کے ساتھ دورہ کیا کرتے تھے، جن کے ہمراہ بہت سی عورتیں بھی رہتی تھیں، جو اُن کی اپنے اموال سے خدمت کرتیں، ایسی حالت میں تصور نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے پاؤں صحیح راستہ سے نہ ڈگمگائے ہوں، اور اس قدر شدید ملاپ اور اختلاط کے باوجود وہ نا شائستہ حرکت سے بچے رہی ہوں ، اس کے بر عکس اُن کے پھسل جانے کے
امکانات اسی طرح میں جس طرح روبن کے پاؤں کو لغزش ہوئی، اور اس نے اپنی سوتیلی ماں سے زنا کر لیا ، اسی طرح یہوداہ کے قدم کو لغزش ہوئی، اور اس نے اپنے بیٹے کی بیوی سے زنا کیا، اور داؤد کے پاؤں ڈگمگاتے تو ا دریا کی بیوی سے زنا کیا ، امنون کے قدم لڑکھڑائے تو اپنی بہن سے زنا کیا، اسی لئے وہی ظریفت بزرگ فرماتے ہیں کہ : اس سے زیادہ عجیب و غریب وہ واقعہ ہے جو لوقا بیان کرتا ہے ، کہ عیسی مع اپنے شاگردوں کے دہیات میں دورہ کرتے اور ان کے ساتھ عورتیں ہوتیں جس میں مریم نامی مشہور زانیہ اور حرام کار عورت بھی تھی، یہ بات بھی معلوم ہے کہ مشرقی ملکوں میں بالخصوص دیہات میں ہر شخص کے لئے یہ بات ممکن نہیں ہوتی کہ وہ کسی خاص مقام پر اکیلا سوئے، تو لازمی بات ہے کہ یہ اولیا ر بھی ان ولیات کے ساتھ سوتے ہوں گے ، کے مطابق حراره ان کے حق میں زناکاری سے محفوظ رہنا کوئی ضروری نہیں،
کرسچن گرجے زنا اور حرام کاری کے اڈے اور چکلے بنے ہوئے ہیں
اس لئے یہ کنوارے رہنے والے پادری بزرگ شادی شدہ لوگوں سے زیادہ نفع میں رہتے ہیں، غرض منکرین کے نزدیک عیسی علیہ السلام تو شادی سے مطلقاً بے نیاز تھے، رہے ان کے شاگرد تو یا تو وہ بھی عینی کی طرح مطلقاً بے نیاز تھے۔ یا اس قدر کثیر مفت کی بیویاں ہونے کی وجہ سے ان کو شادی کی ضرورت نہ تھی جبیبیا که کیتھولک اساقفہ اور ڈیکنوں کا حال ہے ، یا جو پوزیشن ہندوستانی جوگیوں کی ہو اسی طرح عیسی علیہ السلام کا اپنے شاگر دلڑکے سے محبت کرنا محل تہمت ہو ان لوگوں کے نزدیک جو اس فعل قبیح میں مبتلا رہ چکے ہیں، اسی لئے وہی ظریف الطبع بزرگ کہتے ہیں کہ : انجیل کا یہ قول کہ پھر اس شاگرد نے یسوع کے سینہ پر تکیہ لگایا، گویا اسکی پوزیشن اس عورت کی طرح تھی جو اپنے عاشق سے کسی چیز کی طالب ہوتی ہو، اور اس کو اس سلسلے میں غمزہ دعشوہ اور ناز و نخرہ دکھلاتی ہے ، اس موقع پر اس قسم کی حرکت اس سے صادر ہوتی ہے یہ
ازالۃ الاوھام ۔ جلد 1 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
عیسائیوں کو چاہئے کہ مجزات موسو یہ جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا’ پانی کا خون بن جانان چیزوں کو معجزہ قرار نہ دیں اس دن مصر پر مینڈکوں اور جوؤں کہ جادوگروں نے بھی اس طرح کیا تھا۔ اسی طرح اُنکو چاہیئے کہ اکثر معجزات عیسوی کو بھی معجزات قرار نہ دیں کیونکہ جادو گر بھی تو اس طرح کر لیتے ہیں بلکہ یہود جو آنجناب کو نبی نہیں مانتے انکے معجزات کے متعلق ساحر ہونے کا کہتے ہیں۔ اگر انجیل کے کلام الہی ہونے کا کوئی منکر اپنے انکار میں یہ کہے کہ آئمیں تو اکثر امثال وزریں اقوال ہیں جو ذی عقل شخص کہہ سکتا ہے اور آئمیں مندرج پیشنگوئیوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے جیسا کہ باب سوم ) تھا میں آپ جان لیں گے تو معلوم نہیں مسیحی حضرات کیا جواب دیں گے؟
ازالۃ الاوھام ۔ جلد 1 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
عیسیٰ ؑ نے شراب بنائی
(بقیہ حاشیہ) جس سے پر ہیز کرنے کو خدا کے حضور بزرگ ہونے کا نشان کہا گیا ہے (لوقا 1: ۱۵) جس کے پینے کو بد چلنی کا سبب بتایا گیا ہے (افسیوں ۱۸:۵) جسے پی کر انسان خدا کے حضور خیمہ اجتماع میں حاضر ہونے کا اہل نہیں رہتا ( اخبار ۸:۱۰) مگر حضرت مسیح اس کے پہلے منجزے کی برکت سے جو چیز وجود میں آتی ہے وہ سے ہی سے شراب ہی شراب ہے۔ ایک خوش طبع شخص نے بڑی ظریفانہ بات کہی کہ آج سارا یورپ شراب کے سمندر میں غرق ہے۔ مگر اسمیں کوئی برائی نہیں، یہ چیز بالکل قابل تعجب نہیں کیونکہ انکے خدا کا پہلا مجزہ ہی شراب تھا۔ جو چیز انکے آقا کیلئے اچھی تھی وہ ان کیلئے کیسے بری ہو سکتی ہے۔ ایک مسیحی مفسر اس معجزے پر شیخی بگھارتے ہوئے لکھتا ہے موسیٰ کا پہلا معجزہ پانی کو خون بنانا تھا۔ اس میں زبر دست تباہ کن اثر تھا ۔ مگر مسیح کا پہلا معجزہ پانی کو سے بنانا تھا ۔ اسکا اثر تسکین بخش اور آسودہ کرنے والا تھا ” ( تفسیر الکتاب۔ ولیم میکڈونلڈ ۔ ص ۲۶۱) ہو سکتا ہے کہ یہ مے نوشی وقتی طور پر کچھ تسکین بخش ہو یا تھوڑی دیر کیلئے آسودہ حالت کر دے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ عقل سے اس طرح محروماور شہوانیت اس طرح غالب کر دیتی ہے کہ انسان انتہائی گھناؤنے کرتوت کر بیٹھتا ہے۔ اسکی ساری راستبازی خاک میں مل جاتی ہے اور بنے بنائے تشخص کا خانہ خراب ہو جاتا ہے۔
ازالۃ الاوھام ۔ جلد 2 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
ایک مسیحی مصنف کا گستاخانہ کلام موصوف اپنے رسالہ کے آخر میں لکھتے ہیں اگر حمد جیسا کوئی شخص اس زمانے میں ہوتا تو کوئی آدمی اسے اپنے قریب پھنکنے کا موقعہ بھی نہ دیتا۔ کیا محمد نہیں جانتے تھے کہ تجرد و عدم ازدواج ایک اعلیٰ خوبی ہے۔ دوسری جانب وہ بیٹی کی صفت بیان کرتے ہوئے قرآن میں لکھتا ہے (۱) کہ وہ سردار ہوگا عورت کے قریب نہ جائے گا نبی ہوگا اور نیکو کاروں میں سے ہوگا ۔ (۲) خود انکا کہنا ہے کہ بیچی ان باتوں سے پاک اور بزرگ تھا۔ حقیقت میں محمد کو یدار باب ۱۰ آیت ۸ میں ہے اور خداوند نے ہارون سے کہا کہ تو یا میں کہتا
رہتے تھے جبکہ حضرت مسیح اللہ بہت ہی عورتوں کے ساتھ گھومتے تھے وہ اپنا مال انکو کھلاتی تھیں فاحشہ عورت انکے قدم چومتی ہے خود وہ مر تھا و مریم سے محبت کرتے ہیں دوسروں کو بھی پینے کیلئے شراب عطا فرماتے ہیں چنانچہ قانائی گلیل میں شادی کی ایک تقریب میں آنجناب اللہ اور انکے شاگردوں کو جب مدعو کیا گیا۔ شراب کم پڑ گئی تو انکی والدہ نے سفارش کی تب انہوں نے پتھر کے چھ ملکے جن میں دو دو تین تین من کی گنجائش تھی پانی سے دو کی بھروا کر اپنے پاس منگوائے اور انکو شراب بنادیا اور لوگوں کو اس کے پینے کی اجازت دی جیسا کہ یوحنا باب دوم میں مفصل مذکور ہے۔ اس طرح عید صبح جو آنجناب الفیل کے حق میں آخری عید ثابت ہوئی اسکے موقعہ پر اپنے شاگردوں کو شراب کے جام پینے کیلئے عطا فرمائے
الزامی جواب
اگر چہ ہمارا اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح لطیف حضرت میکنی الفین سے اور انکے انکے حواریوں سے افضل ہیں لیکن ہم اس مسیحی مصنف کو جس نے اپنی کتاب “دلائل اثبات رسالت بیچ میں دیانت و حیا دونوں کا جنازہ نکال دیا ہے محض الزامی جواب کے طور پر اسی تقریر کا عکس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا حضرت مسیح اللہ ہو اور انکے حواری کتاب احبار قضاۃ کے احکام سے واقف نہ تھے کہ اتنا ہی جان لیتے کہ شراب اس قدر پلید و نا پاک چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون اللہ اور انکی اولاد جو مقدس خدمات بجالاتے ہیں ان پر ہمیشہ کیلئے حرام کر دی اور فرشتے کے ذریعے منوحہ کی بیوی کو شراب نوشی سے منع کیا تا کہ مولود طاہر پر اسکا اثر نہ پڑے بلکہ اپنی انجیل میں حضرت کی اللہ کی تعریف کرتے ہوئے خود ی لکھا ہے کہ وہ شراب نہیں پیئے گا نیز یسعیا ، شراب کی خدمت فرماتے ہیں اور لکھنے والے الہام رحمانی کے طور پر باب ۲۸۵ میں میں اسکو درج کرتے ہیں۔ کیا حضرت مسیح الط د حواری حضرات کو معلوم نہیں تھا کہ ریاضت و مجاہدہ اور روزہ رکھنا ایک اعلیٰ خوبی ہے جیسا کہ حضرت بیٹی اللہ اور انکے حواری اس پر عمل کرتے تھے ؟ انہوں نے کیوں اپنی زندگی کے دن اس طرح بے ریاضت گزار دئے اور ہمیشہ کھانے پینے کے حریص رہے؟ کیا حضرت ح اللہ کو اتنا خیال بھی نہیں تھا کہ نامحرم خواتین بالمنصوص فاحشہ عورت سے اجتناب ضروری ہے نا محرم عورتوں سے محبت نہیں کرنی چاہیئے ۔
ازالت الاوھام ۔ جلد 1 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
(۱) یہ یوسف نام کے آدمی حضرت مسیح اللہ کی والدہ کے شوہر بتائے جاتے ہیں پیشہ کے لحاظ سے بڑھئی تھے
ناصرہ شہر میں رہتے تھے متی نے واقعہ کی تفصیل اس طرح لکھی ہے اب یسوع مسیح کی پیدائیش اس طرح ہوئی کہ جب اسکی ماں مریم کی منتی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو اسکے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔ پس اسکے شوہر یوسف نے جور استباز تھا اور اسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اسے چپکے سے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔ وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتہ نے اسے خواب میں دکھائی دیکر کہا اے یوسف ابن داؤد! اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اسکے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے۔ اسے بیٹا ہوگا اور تو اسکا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو انکے گناہوں سے نجات دیگا۔ یہ سب کچھ اس ہوگا تو اسکانام رکھنا کو انکے لئے ہوا کہ جو خدا وند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنیکی اور اسکا نام عمانوایل رکھیں گے جس کا ترجمہ ہے خدا ہمارے ساتھ ۔ پس یوسف نے نیند سے جاگ کر ویسا ہی کیا جیسا خداوند کے فرشتہ نے اسے حکم دیا تھا اور اپنی بیوی کو اپنے ہاں لے آیا۔ اور اسکو نہ جا یسوع رکھا (متی ۱: ۱۸ تا ۲۵) متی بتا رہے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کنواری تھیں او رستے بنا نہ ہوا اور اسکا نام سے حاملہ ہوئیں مگر وہ خود اپنی بات کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا۔ یہ اس مریم کا شوہر تھا جس سے یسوع پیدا ہوا جو مسیح کہلاتا ہے” (متی ۱۶:۱) جب حضرت مریم علیہا السلام کنواری تھیں انکی با قاعدہ شادی نہیں ہوئی تھی تو پھر شوہر کہاں سے آگیا اور اگر مریم کا شوہر تھا تو پھر مریم کے بیٹے عیسی بن باپ کے کیسے ہوئے؟ جب ایک عورت کا شوہر تجویز کر دیا جائے تو اولاد کا اسکی طرف منسوب ہونا بہت واضح ہے۔ قرآن مجید حضرت مریم علیہا السلام کو صدیقہ طاہرہ مومنہ والیہ خدا کی برگزیدہ قرار دیتا ہے اور طرح طرح سے انکے فضائل و مناقب ذکر کرتا ہے۔ جبکہ بائبل مقدس انکے بارے میں کوئی قابل تعریف بات ذکر نہیں کرتی صرف یہی بتاتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے پینے کیلئے شراب “مانگ رہی ہیں (یوحنا ۳:۲) بلکہ ایک بیان سے تو انکا محض مومنہ ہونا ہی ثابت نہیں ہوتا کسی اور چیز کا تو ذکر ہی کیا چنانچہ لکھا ہے ” جب وہ بھیڑ سے یہ کہہ ہی رہا تھا تو دیکھو اسکی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اس سے بات کرنا چاہتے تھے۔ کسی نے اس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی یا ہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟۔ اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے ہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے” (متنی ۴۶:۱۲تا۵۰) دیکھئے! (بقیہ اگلے صفحہ پر)
(بقیہ حاشیہ) حضرت مسیح اللہ کس طرح اپنی والدہ صاحبہ سے بالکل بے رخی پوری بے التفاتی مکمل اعراض کر رہے ہیں اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر فرماتے ہیں کہ یہی لوگ میری ماں اور میرے بھائی ہیں کیونکہ یہی لوگ مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتے ہیں۔ ان آیات کی وضاحت میں مفسر کا تشریحی نوٹ بھی ملاحظہ فرمالیں اس واقعہ کے بیان کو ختم کرنے سے پہلے ہم یسوع کی ماں کے بارے
میں دو اہم نکات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ اول ۔ جہاں تک یسوع کی حضوری میں رسائی حاصل کرنے کا تعلق ہے مریم کو کوئی امتیازی استحقاق حاصل نہیں تھا۔ دوم۔ یسوع کے بھائیوں کا ذکر مریم کے دائی کنوار پن کی تعلیم پر ضرب کاری لگاتا ہے۔ یہاں یہ مفہوم بہت مضبوط ہے کہ وہ مریم کے حقیقی بیٹے تھے ۔ اس لئے ماں کی طرف سے یسوع کے بھائی تھے۔ صحائف کے دوسرے متعدد والے اس نظریہ کو تقویت دیتے ہیں ۔ دیکھتے زبور ۶۹: ۸ متی ۵۵:۱۳ مرقی ۳: ۳۱ ۳:۶٬۳۲ یوجنا ۷: ۵۳ اعمال ۱۱۴:۱۔ کرنتھیوں ۹: ۵ گلتیوں ۱۹:۱ ( تفسیر الکتاب۔ ولیم میکڈونلڈ ۔ جلد اول ص ۱۳۲) قرآن حکیم حضرت مریم بتول کا کنوارہ پن ہی بتاتا ہے۔ نہ انکے لئے کوئی شوہر ذکر کرتا ہے ہے نہ کوئی اولا وثابت کرتا ہے اور حضرت عیسی اللہ کی معجزانہ پیدائش کو خدا کی قدرت کی دلیل بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے محض اپنی نشانی کے طور پر انہیں بغیر باپ کے پیدا کیا۔ اسکے برعکس بائبل بتاتی ہے کہ یوسف مریم کے شوہر تھے بلکہ یسوع کو یوسف کا بیٹا بھی کہا اور سمجھا جاتا تھا ( لوقا ۲۳:۳) ان بیانات کے درست مان لینے کی صورت میں ان کا بن باپ پیدا ہونا غلط یا کم از کم مشکوک ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کیلئے شوہر ڈھونڈنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بائیل یوسف کو حضرت عیسی اللہ کا باپ بار بار کیوں بتاتی ہے (لوقا ۳: ۴۸٬۳۱ وغیرہ ) اور انکے حقیقی بھائی خاندان کا تفصیلی خاکہ کیوں پیش کرتی ہے؟ ایک مفسر گرہ کشائی اور حکیمانہ نکتہ آفرینی کرتے ہوئے اس سوال کا جواب یوں دیتا ہے۔ مریم کی نیک نامی کو بچایا گیا اور نہ اس پر بہت انگلیاں اٹھتیں ۔ مناسب تھا کہ شادی کے وسیلہ سے حمل کو تحفظ دیا جائے تاکہ دنیا کی نگاہ میں جائز بھہرے تا کہ مبارک مریم کو ایک مددگار ساتھی میسر ہو ( تفسیر الکتاب میںتھو بیزی – ج ۳ ص۴) قارئین یہ ہے اس واقعہ کا پس منظر اور یوسف سے تعلق جوڑنے کی ضرورت کہ مریم نیک نام راستباز عورت تھیں ۔ کنواری حاملہ ہو گئیں ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں ان پر بہت انگلیاں اٹھتیں اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ انکی یوسف نامی شخص سے شادی کروادی جائے اور شادی کے وسیلہ سے حمل کو تحفظ دیا جائے۔ مسیحی قوم کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ یہودیوں کے بہتان اور اس محقق عیسائی مفسر کے اعتراف میں کیا فرق ہے؟
ازالہ اوہام ۔ جلد 1 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
۔ یسوع لوگوں کو شریر اور زناکار کہتا تھا
۔ اے سانپو اور سانپ کے بچو تم جہنم کی سزا سے کیسے بچو گے ؟
۔ یسوع یہودیوں کو گالیاں بھی دیتا تھا
۔ تم اپنے باپ ابلیس سے ہو
اغاثۃ الھفان مصاید الشیطان ۔ ابن قیم جوزی
دوسرا خالق کے مرتبہ میں تنقیص اور کسی کی اور کالی دینے لگے اور اس کو بڑی بڑی تہمتیں لگانے لگے چنانچہ انہوں نے کہا ۔ حالانکہ اللہ تعالی ان کی اس بات سے بہت برتر اور بلند ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کے ساتھ عرش سے اور کرسی سے اترا اور ایک عورت کی شرم گاہ، پیٹ اور رقم میں داخل ہو گیا پھر جہاں سے داخل ہوا تھا، وہاں سے ہی نکلا جبکہ چھوٹا سا دودھ پیتا بچہ تھا، ماں کا پستان چوس رہا تھا پھر اس کو چادر میں لپیٹ کی چار پانی پر رکھ دیا گیا اور وہ اور ہا تھا بھوک پیاس پیشاب اور پاخانہ کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ اُسے ہاتھوں پر اور کاندھوں پر اٹھا کر بڑا کیا گیا۔ جب بڑا ہوا تو یہودیوں نے اس کے رخساروں پر تمانچہ مارا ، ہاتھ باندھ لیے اس سہ کے منہ پر تھوکا اور گدی پر تھپڑ مارا، پھر اور پورا ہواں کے درمیان علانیہ پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ اس کو کانوں کا تاج پہنایا گیا اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونکی گئیں ۔ اور اس کو شدید تکالیف پہنچا ئیں گئیں.
حضرت آدم علیہ سے حضرت عیسی علی) تک سجین میں ابلیس کی قید میں تھیں۔ حضرت ابراہیم، موسیٰ ، نوح، صالح اور خود میلہ حضرت آدم علی نام کی غلطی اور درخت سے پھل کھانے کی وجہ سے جہنم میں قید تھے۔ اور جب بھی ان بنی آدم میں سے کوئی فوت ہو جا تا تو اس کے باس کے گناہ کی وجہ سے اس کو ابلیس قید کر کے جہنم میں قید کر دیتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی کرنا اور عذاب سے خلاصی دینا چاہا تو انہیں سے ایک حیلہ کیا کہ اپنی عظمت کی کرسی سے اتر کر حضرت مریم کے پیٹ کے ساتھ گوشت کا ٹکڑا بن کر جڑ گیا۔ پھر اس سے پیدا ہوا، بڑا ہوا یہاں تک کہ مرد بن گیا۔ تو یہود نے اس پر غالب آ کر اس کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا اور کانٹوں کا تاج سر پر سجایا، تو اُس نے اور اپنے انبیاء اور رسولوں کو چھڑالیا اور اپنی جان اور خون کا فدیہ دے کر انہیں چھڑالیا، پھر تمام بنی آدم کو راضی کر کے اپنا خون بہا دیا کیونکہ سب کی گردنوں پر حضرت آدم علیہ) کا گناہ باقی تھا انہوں نے سب کو اس گناہ سے نجات دلا دی وہ اس طرح
مقالات شبلی ۔ جلد اول ۔ علامہ شبلی نعمانی
ما ہوم یا ماہون یا با فومید یا ماہو مید ہے ، دوسرا ابلین ، تیسرا تر فاجان، ان لوگوں کا خیال تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دین میں اپنے آپ کو بھی خدا قرار دیا تھا . لطف یہ ہے کہ محمد صلی الله علیه وسلم ( جو در حقیقت بہت کے دشمن اور بتوں کے برباد کرنے والے تھے ) نے اپنی صورت کا ایک زرین بت بنایا تھا اور لوگوں سے اس کی پوجا کراتے تھے ، جیسا کہ لرلو قنجبیون کا اعتقاد تھا ، یہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب عیسائیوں نے مسلمانوں پر فتح پائی اور ان کو سر قوسطہ کی دیوار تک ہٹا لے گئے تو مسلمانوں نے جا کر اپنے تمام بہت جن کو وہ پوجتے تھے ، توڑ ڈالے، چنانچہ عہد وسطی کے ایک نشہ کا بیان ہے کہ مسلمانوں کا خدا ابلین ایک غار میں تھا ، مسلمانوں نے اس پر پتھر برسائے اور خوب دل کھول کر اس کو گالیاں دیں ، پھر سولی پر چڑھایا اور خوب پامال کیا اور مارے ڈنڈوں کے اس کے ریزے ریزے کر دئے ۔ ما ہو مد کو جو دوسرا خدا تھا ، ایک گڑھے میں پھینک دیا ، یہاں تک کہ سور اور کہتے اس کو نوچتے اور روندتے تھے ، اس طرح کی اہانت کبھی کسی خدا کی نہیں ہوئی تھی، لیکن مسلمانوں نے پھر توبہ کی اور اپنے خداؤں سے معافی چاہی اور ان کی مرمت و اصلاح کی، اسی بنا پر اسپر د کارلوس جب سر قوسطہ میں داخل ہوا تو اس نے حکم دیا کہ یہ مارے بہت برباد کر دئے جائیں، چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے کہ امپرر نے فریج کو حکم دیا کہ وہ شہر کے تمام گلی کوچوں میں پھرے اور مسجدوں اور جامع مسجدوں میں گھس کر چنین گرزوں سے ما ہو مد اور اور تمام بتوں کو توڑ ڈالے ریشار نے بھی اپنے اشعار میں یہ روایت بیان کی ہے کہ یہ اشعار فی نفسہ بہت اچھے ہیں، لیکن سرتا پا قسمت اور افتراء ہیں، ان میں خدا سے یہ دعا مانگی ہے لہ ما ہوم کی پرستش کرنے والے برباد ہو جائیں ، پھر شرفائے ملک کو جنگ مقدس کی ترغیب دی ہے اور ان کو ان الفاظ میں نصیحت کی ہے ” اٹھو اور ما ہو مید، ترفا جان کو برباد کردو ، ان کو آگ میں ڈال دو اور خدا کے آگے ۲۰ قربانی پیش کرد، ان شعراء کا خیال تھا کہ ما ہو م کا بت نہایت اعلیٰ درجہ کی کاری گری کے ساتھ قیمتی پتھروں اور جواہرات سے بنایا جاتا تھا ، چنانچہ اگر کوئی شخص
رولان کے اشعار پڑھے تو عجب نہیں کہ قسم کھانے پر تیار ہو جائے کہ شاعر چشم دید واقعات بیان کر رہا ہے ان اشعار میں بیان کیا ہے کہ یہ بہت خالص سونے چاندی کے تھے اور اگر تم ان کو دیکھتے تو تم کو یقین آجاتا کہ ان سے بڑھ کر خوبصورت ، شاندار ، لطريف الصنعة، پر رعب ہونا عقل میں نہیں آ سکتا ، ما ہو م بالکل خالص چاندی اور سونے کا بنا ہوا تھا اور اس کی چمک دمک سے آنکھیں خیرہ ہو جاتی تھیں. وہ ایک ہاتھی پر دھرا ہوا تھا ، جس کا ہودج اعلیٰ سے اعلیٰ کاریگری کا بنا ہوا تھا۔ وہ اندر سے خالی تھا اور اس وجہ سے اس کی چمک پھوٹ کر نکلتی تھی، اس میں نہایت قیمتی جواہرات جڑے ہوئے تھے اور اس کا اندر کا حصہ چک کی وجہ سے باہر سے نظر آتا تھا ، یہ ایک ایسی کاریگری تھی جو بالکل بے نظیر تھی، چونکہ دیوتاؤں کا قاعدہ ہے کہ مشکل کے وقت وحی بھیجتے ہیں. اس لئے جب مسلمانوں نے ایک معرکہ میں شکست کھائی تو ان کے سردار مسلہ نے بکہ میں مدد مانگنے کے لئے قاصد بھیجا ، اس وقت ان کا دیوتا ما هو مد بڑی شان و شرکت سے دمامہ و نقارہ کے ساتھ آیا ، جس کی گونج دور دور تک جاتی تھی ، بعض بانسری بجاتے آتے تھے اور بعضوں کے ہاتھ میں چاندی کی جھا تجھ تھی اور یہ سب کے سب ما ہو م کے گردا گرد ناچتے اور بڑے زور سے گاتے آتے تھے ، اس ساز و سامان کے ساتھ فرودگاہ میں پہنچے ، جہاں خلیفہ اسلام ان کا انتظار کر رہا تھا ، جب خلیفہ نے ما ہو مد کو دیکھا تو نہایت محضوع اور ادب کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور بندگی بجا لایا۔ اس کے بعد ریشار نے بیان کیا ہے کہ یہ بت پرست کیوں کر اس مجوف بت سے جس کے اندر کی چیزیں باہر سے نظر آتی تھیں ، دعائیں مانگتے تھے، ریشار کا بیان ہے کہ اس بت کے اندر جادو گروں نے ایک عفریت کو بند کیا تھا ، وہ اچھلتا کودتا تھا اور پھر اس نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر باتیں کیں۔ عیسائی شعراء اس (فرضی) بت سے نہایت عداوت رکھتے تھے ، چنانچہ جس طرح صلیب عیسائیوں کی مذہبی علامت ہے ، ان لوگوں نے اس بت کو مسلمانوں کی علامت قرار دیا، چنانچہ بوردوان نے یونیو کے متعلق جو نظم لکھی ہے اس میں لکھا ہے کہ ۔ جب
یونیو نے سلطان صلاح الدین کے سامنے اسلام قبول کرنا چاہا تو کہا کہ اگر محمدؐ کا بت میرے سامنے لایا جائے تو میں اس کی عبادت بجا لاؤں ، چنانچہ جب وہ لایا گیا تو یو نیتو سجدہ میں گر پڑا ۔ ایک اور نظم سے جو اسی نظم کا ستمہ ہے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دو خدا اور بھی ہیں، باراتون اور جو بین، اتنا فرق ہے کہ وہ پہلے تین خدا به طور سردار کے ہیں، اس کے اس نظم میں بیان ہے کہ جب عیسائی سردار نے مسلمانوں کی فوج کو جو مکہ سے چلی تھی ، شکست دی تو مسلمان نہایت بدحواس ہوئے ، وہ چیختے چلاتے شور مچاتے دوڑتے پھرتے تھے اور نہایت زور سے پکارتے تھے کہ دبائی ترفان کی دباقی ما ہوم کی ۔ مع ہذا ، ایک اور نظم جو اسی زمانہ کی ہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہودا کسی بت کا نام نہ تھا، یہ نظم بشپ الگزنڈر دویون کی ہے ، جو اس نے ۱۲۵۵ء میں لکھی تھی، یہ نظم ایک مسلمان کے خیالات سے ماخوذ ہے ، جو عیسائی ہو گیا تھا ، تمام لوگ اس نظم کو بالکل سچا اور صحیح تاریخی واقعہ خیال کرتے تھے، اس کا مضمون یہ ہے ۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ ….. (۱) کو قریب ، خیانت، دھوکا دنیا خوب آتا ہے ” ( نعوذ باللہ ) اس کے بعد شاعر نے محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ایک ایسے سردار سے تشبیہ دی ہے، جس کے گرد اس کے پیرو جمع ہیں اور وہ اپنے مذہب کو سادہ طریقہ سے تعلیم کر رہا ہے ، یہاں تک کہ لوگوں کو اس پر اس سے زیادہ اعتقاد ہو گیا کہ جتنا کہ روما کے امام پر ہوا تھا “ ۔ ان بے ہودہ اقوال کے نقل کرنے میں میں نے زیادہ تطویل کی جس کی وجہ یہ ہے کہ الگزنڈر مذکور کی تاریخ نے ان بے ہودہ روایتوں کو معدوم نہیں کیا بلکہ ان کا اثر دلوں میں اب بھی موجود ہے اور اسی وجہ سے پغمبر اسلام اور قرآن کے متعلق آج بھی لوگوں کی نہایت مختلف رائیں ہیں، اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ یہ شعراء ، ان قصوں کو (1) جہاں جہاں اس طرح کے نقطے دئے گئے ہیں وہاں نہایت بے ہودہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھے ، اس لئے میں ان کو نقل نہ کر سکا۔
کیا در حقیقت سچ سمجھتے تھے تو میں نارمنڈ والوں کی طرح جواب میں ہاں بھی کہوں گا اور نہیں بھی، کیونکہ یہ قطعی ہے کہ چونکہ مسلمان اور عیسائی باہم ملتے جلتے رہتے تھے ، اس لئے مذہب اسلام کی حقیقت سے واقف ہونا مشکل نہ تھا، لیکن وہ در حقیقت یہ چاہتے ہی نہ تھے کہ اپنے اشعار میں تاریخی سچے واقعات بیان کریں ، ان کا مقصد صرف عیسائیوں میں بغض اور نفرت کی روح کا پھونکنا تھا ، اس لئے ان کو ضرورت تھی کہ مسلمانوں اور ان کے پیغمبر اور ان کے مذہب کے ایسے اوصاف بیان کریں ، جو ان لوگوں کے مذاق اور معلومات کے موافق ہوں ، جن کے سامنے یہ اشعار پڑھے جاتے تھے۔ ان شعراء سے قطع نظر کر کے جب ہم زمانہ ما بعد کی ان متکلمین کی تصنیفات پڑھتے ہیں ، جن کی رائیں اعتدال کی طرف مائل ہوتی ہیں تو یہ تصنیفات بھی خرافات اور سب وشتم سے مملو نظر آتی ہیں، طرہ یہ کہ گروہ مصلح یعنی پروٹسٹنٹ کا تعصب اور زیادہ بڑھا ہوا ہے، چنانچہ یبلنڈر نے محمد (رسول اللہ صلی الله علیه وسلم ) کو (نعوذ بالند ) سے تشبیہ دی ہے اور قرآن و شریعت اسلام کو بھی انھیں لفظوں سے یاد کیا ہے ، ہم کو اس دعوے پر دلیل لانے کی ضرورت نہیں ، بلکہ صرف یہ کہنا کافی ہے کہ ناظرین کو اپنی توجہ ریلان کی کتاب کے دیباچہ کی طرف مبذول کرنی چاہئے ، یہ کتاب ہ میں چھپی ہے اور اس کا موضوع یہ ہے “مذہب اسلام کے متعلق لوگوں کو کیوں بہت کم واقفیت ہے “۔ مصنف مذکور کہتا ہے کہ ارباب بحث کو اگر یہ مقصود ہو کہ کسی مذہب یا طریقہ پر ذلت دعار کا داغ لگائیں تو ان کو صرف یہ کھنا چاہئے کہ وہ مذہب محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف منسوب ہے ، بشپ دون مار تینو انفانسو قیقا لو نے ایک کتاب لکھی ہے، جس کا نام ” کلیسائے مقدس و رزین کا چراغ ” ہے ، اس کتاب ں وہ لکھتا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی کتاب کو پڑھنا نہیں چاہئے ، بلکہ انسان کا یہ فرض ہے کہ اس کے ساتھ استہزاء کرے اور آگ میں جلا دے، اس کو محفوظ رکھنا جانوروں کا کام ہے “. بعضوں کی یہ رائے ہے کہ جلانا نہیں چاہئے ، لیکن ایسے لغو
مزخرفات کے یاد کرنے میں انسان کو اپنا وقت صرف نہ کرنا چاہئے جو ایک آدمی کے خیالات ہیں۔ یہ رائیں تو قرآن مجید اور بانی اسلام کے متعلق ہیں، باقی مسلمان تو ان کو ان تصنیفات میں ان الفاظ سے یاد کیا گیا ہے ، پلید ست ، گدھے ، فر صحرائی ، قابل نفرت وہ لوگ جن کا یہ کام ہے کہ رات کو اپنا گھر عورتوں سے بھر لیتے ہیں اور صبح کو ان کو طلاق دے دیتے ہیں اور اگر تم کو گالیوں کا خزانہ دیکھنا ہو تو ایک عیسائی کی کتاب دیکھو جس کا نام بروشار ہے، اس کتاب کا نام رہنمائے سفر ہے ، مصنف نے یہ کتاب امیر فلپ ردو قالو کی خدمت میں ۳۲ یہ میں پیش کی تھی ، اس میں اس نے بیان کیا ہے کہ کروسیڈ کی لڑائیاں کن اسباب سے ظہور میں آئیں ، چنانچہ کہتا ہے کہ کون ہے ، جو یہ دیکھ کر آنسو نہ بہائے گا کہ جو زمین ہماری میراث نہیں ، ان پر اس قوم نے قبضہ کر لیا ہے ، جن کے نہ خدا ہے ، نہ مذہب ، نہ شریعت ، نہ اقرار نہ رقم، یہ لوگ دنی اور کمینہ ہیں اور سچائی اور صفائی ، نیکی اور عدل کے دشمن ہیں ، خدا کے منکر ہیں . عیسائیوں پر جبر کرتے ہیں، نہایت کثرت سے شادیاں کرتے ہیں ، لڑکوں سے بدکاری کرتے ہیں، بے زبان جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔ فطرت انسانی کے مخالف ہیں ، فضائل کے قاتل ہیں ، اخلاق کے مار ڈالنے والے ہیں ، گناہوں اور برائیوں مستغرق ہیں . شیطان کے دوست ہیں، کمینہ باتوں کے حامی ہیں، کینہ در ہیں ، پست خیال ہیں ، ان کے افعال مبتذل ، زندگی پست ، باتیں فحش ، معاشرت حقیر اور جانورانہ ہے ، ان کے ارادے اور حوصلے جب مائل ہوتے ہیں تو صرف حیوانانہ خواہشوں کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہم لوگوں کو ان مقامات سے نکال دیا اور چھوٹی سی جگہ میں بھی جہاں ہم رہتے ہیں، ہم کو ستاتے ہیں ، ہمارے ساتھ اور ہمارے مذہب کے ساتھ مسخرا پن کرتے ہیں، انھیں لوگوں نے خدا کے گھر کو برباد کر دیا اور اس پاک شہر پر قابض ہو گئے ، جو ہماری شریعت کا فرود گاہ ہے اور ان پاک مقامات کو نجس کردیا ۔
اس قسم کے خیالات عیسائیوں میں ایک مدت تک پھیلے رہے ،میاں تک کہ اور سیٹ پریڈو نے ۱۴۳۳ میں ایک کتاب ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حالات میں تصنیف کی اور اس کے دیباچہ میں اس تصنیف کا مقصد یہ بیان کیا ، اس کتاب کی تصنیف کا مقصد اس آدمی کی سوانح عمری کے لکھنے کے ذریعہ سے ، عیسائی حکیمانہ مقصد کی خدمت گزاری ہے ، ان مصنفوں نے در حقیقت اپنا مقصد تاریخ لکھنا نہیں قرار دیا بلکہ اس کا مقصد جیسا کہ خود ان کا بیان ہے ، عیسائی مذہب کی خدمت گزاری ہے ، یہ لوگ اپنے مبتذل دلائل کی تائید میں جو ہتھیار استعمال کرتے تھے ، وہ محض دشنام دہی اور سخت کلامی تھی ، اس کے ساتھ روایت اور نقل میں جس قدر تحریف ہو سکتی تھی کر سکتے تھے ، صرف داما سین نے یہ قصد کیا کہ ان عام تصنیفات کی مخالف کرے ، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شام میں پلا تھا اور خلفائے اسلام کا مقرب تھا ، چنانچہ اس نے مذہب اسلام کے رد میں جو کچھ لکھا بلا تعصب لکھا ۔ اس نے یہ رائے ظاہر کی کہ اسلام عیسائی مذہب کی بگڑی ہوئی صورت ہے ، جیسا کہ اریوی کا خیال تھا ، با ایں ہمہ یورپ پر اس کی تصنیف کا کچھ اثر نہ ہوا اور ان کے جو بیہودہ خیالات پیغمبر اسلام اور قرآن کی نسبت تھے ، اسی طرح قائم رہے ، پیشوایان مذہب ( یعنی پادری اور بشپ وغیرہ) بھی انہی خیالات کو قوت دیتے تھے اور لوگوں کے ذہن میں بٹھاتے تھے . اسی پالیٹیکس کا نتیجہ ہے کہ لوگ اسلام کے ساتھ مسحرا اپن کرتے ہیں ، ان خیالات کی اشاعت نے پولوں کو مذہبی لڑائیوں سے بے نیاز کر دیا ، چنانچہ لاطینی چر چ آٹھویں صدی میں اور کاموں میں مشغول تھا، کیوں کہ شرقی چرچ دو ضرر رساں مصیبتوں میں گھرا ہوا تھا ، ایک یہ کہ ایک ہی روح کے دو جسم بن گئے ، دوسرے یہ کہ ایک روح تھی اور ایک ہی جسم بھی تھا ۔ اسلام کے متعلق آزادانہ اور غیر متعصبانہ بحث ہمارے زمانہ سے آغاز ہوئی ، کیوں کہ انیسویں صدی میں لوگوں نے اس مسئلہ کو ایک محقق کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے متعلق مختلف رائیں قائم ہو گئیں، کچھ لوگ
الوحی المحمدی ۔ علامہ سید رشید رضا ۔ مدیر المنار
ه موسیو در منکم اپنی کتاب “حیات محمد ” میں رقمطراز ہیں (اس کے عربی ترجمہ از ڈاکٹر محمد ھیکل کے ذریعہ یہ ترجمہ منقول ہے۔ جب اسلام اور عیسائیت میں جنگ شروع ہوئی تو قدرتی طور پر مخالفتوں اور غلط فہمیوں کی خلیج وسیع ہوتی گئی اور یہ معاملہ بڑھتا گیا۔ انسان کو اس بات کا اعتراف کر لینا چاہئے کہ مغربی لوگ ہی مخالفت میں آگے بڑھے تھے۔ جان داماسن کے علاوہ بازنطینی (رومی) مناظرہ بازوں نے اسلام کے مطالعہ کی زحمت اٹھائے بغیر اسے حقارت کا نشانہ بنالیا۔ ان کے مصنفوں نے اور شعراء نے مسلمانان اندلس کے ساتھ بدترین گالیوں کے ساتھ جنگ کی۔ انہوں نے فرض کر لیا کہ حضرت محمد ال م ( نعوذ باللہ) اونٹنیوں کے چور تھے۔ عیش و عشرت کے دلدادہ اور جادو گر تھے۔ وہ آپ کو ڈاکوؤوں کی ٹولی کا سردار بھی سمجھتے تھے بلکہ یہ بھی فرض کیا گیا تھا کہ آپ ایلیم ایک رومی پادری تھے جو اس لئے ناراض ہو گئے تھے کہ انہیں پاپائیت کی کرسی کے لئے نہیں منتخب کیا گیا تھا۔ بعض کے خیال میں آپ تم جھوٹے خدا تھے۔ جس پر انسانوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ گیبر ڈنو جن جیسا سنجیدہ اہل قلم بھی یہ ذکر کرتا ہے کہ محمد ( ) ( نعوذ باللہ) کی وفات نشے کی حالت میں ہوئی اور ان کی نعش کوڑے میں پائی گئی۔ جسے جابجا سوروں نے کھا لیا تھا۔ اس نے یہ اس لئے لکھا تھا تا کہ اسلام میں شراب اور اس جانور کے حرام ہونے کا سبب بتا سکے۔ گیتوں میں تو یہاں تک لکھا گیا ہے کہ محمد کام کا طلاقی میت بنادیا گیا اور اسلامی مساجد کو بت خانہ قرار دیا گیا جو بتوں اور تصویروں سے لبریز رہتی ہے۔ انکا کی گیتوں کے مؤلف نے اس آدمی کی گفتگو نقل کی ہے جس نے ماھوم ( محمد ) کا بت خالص سونے اور چاندی کا ڈھلا ہوا دیکھا تھا اور جڑانی ہاتھی پر سوار تھا۔ رولاں کے گیتوں میں دکھا یا گیا ہے کہ بادشاہ شارلمان کے شہوار اسلامی بتوں کو توڑ رہے ہیں۔ اس شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلمانان اند کس ایک تالوث کی عبادت کرتے تھے جو تر فاجان ماحوم ( محمد ) اور ابولون سے مرکب تھا۔ قصہ محمد کا مولف کہتا ہے کہ اسلام عورت کو متعدد شوہر (بیک وقت) کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ الغرض اسی طرح بغض و کینہ اور خرافات کا دور دورہ رہا۔ روڈلف داد ہم کے زمانے سے لے کر آج تک نیکولاڈ نیز ، فیفس ، راتشی، ہو گنگر بیلیا، تلارا، برہد وغیرہ بہت سے لوگ ہوئے، سب نے یہی کہا کہ محمد دجال تھے اور اسلام شیطانی کام ہے۔ مسلمان وحشی ہیں اور قرآن خرافات کا مجموعہ ہے۔ ان کی مراد یہ ہے کہ اس کے ترجمہ میں ابہام ہے۔ مزید ملاحظہ ہو ترجمه کتاب الاحلام خواطر و سواخ عربی ترجمه لناحمد فستی اغلول نقل کفر کفر نباشد (مترجم)
تفسیر حقانی ۔ عبد الحق حقانی
و مانده و غیر پاسورتیں نازل ہوئیں۔ سب سے پچھلی سورۃ بعض کے نزدیک سورة برارت ہے بعض کہتے ہیں سورۃ نصیر علی قرآن تینتیس برس میں تدریجا لوگوں کی سہولت کے لئے نازل ہوا۔ اپنی حیات میں آپ کل ایک بار قافلہ کے شمع تجھے نبوت سے پہلے بقصد تجارت شام کو تشریف لے گئے تھے سو بعض راہوں نے آپ کو بسبب علامات اور کرا ہات کے پہچان لیا نپس مصلحت ہوئی کہ آپ واپس جاویں تب آپ واپس تشریف لائے۔ اب میں پادریوں کی ایمانداری اور انصاف کو دیکھتا ہوں کہ وہ اس امر میں کیا کہتے ہیں۔ پادری عماد الدین نے اپنی کتاب ہدایت المسلمین کے باب مفتیم فصل اول میں صفحہ ۲۵۱ سے لے صفحہ ۲۶۱ تیک جو آنحضرت علیہ السلام کا حال خلاف واقع بیان کیا ہے۔ اس کے رڈ کرنے کے لئے چند عیسائی محققین کے قول کافی ہیں۔ اب میں بیشتر عماد الدین کی عبارت کو ملخص کر کے لکھتا ہوں تاکہ اُن کی ایمانداری اور انصاف کا حال معلوم ہو جائے قولہ عرب میں ایک شہر مکہ ہے کہ جس میں ایک مندر یعنی بت خانہ تھا جس کا نام کعبہ ہے وہاں ہر سال میلہ لگا کرتا تھا محمد صاحب کے باپ دادا وہاں کے بیجاری تھے جب محمد صاحب پیدا ہوتے اور جوان ہو گئے جب روزگار اور کمائی کی فکر میں کئی جگہ کا سفر اختیار کیا د بالکل جھوٹ ، آخر کار خدیجہ منہ کے نوکر ہو کر شام میں گماشتے کے طور تجارت کے لئے گئے چونکہ محمد صاب نے کتنی جگہ کے عیسائیوں کی گفتگوشتی تھی اور ثبت پرستی کے عیوب اُن پر ظاہر ہو گئے تھے کیونکہ ذرا غور سے بت پرستی کے عیوب ظاہر ہو سکتے ہیں (افسوس اس وقت کے عیسائی تو بقول آپ کے بت پرست ہی تھے مگراب کیے عیسائیوں پر بھی ثبت پرستی کے عیوب بڑے غور سے ظاہر نہ ہوئے بندے کو خدا بنا کے پوجنا اس سے زیادہ کی بہت پرتی گی پس محمد صاحب نے کار تجارت اختیار کیا اور یہودیوں اور رومن کنتھولک عیسائیوں سے اور پارسیوں سے
اور شہریوں اور پریوں اور بحریوں سے ملاقات کی اور اُن کے ساتھ معاملہ کیا اس لئے طبیعت کی وہ تاریکی جو بت پرستی کا سبب ہے دُور ہو گئی اس لئے محمد صاحب دین حق کے متلاشی ہوئے چنانچہ سورہ والضحی میں لکھا ہے دوجدت ضالاً فہدے ۔ اے محمد ! تو گمراہ تھا پس تجھے ہدایت دی (یہ بالکل جھوٹ ۔ اول تو آپ نے یہودیوں اور
سریوں اور پارسیوں سے ملاقات نہیں کی البتہ بقول یہود حضرت عیسی علیہ سلام تو مصر میں شعبدہ بازی سیکھنے تھے، العیاذ باللہ۔ دوم بقول آپ کے یہ لوگ تو خود شرک میں گرفتار تھے چنانچہ تواریخ بھی اس کی شاہد عدل
اٹھائیں تو یہ قطعی دلیل آپ کے برحق ہونے کی ہے مگر آپ کی آنکھوں پر کولہو کے بیل کی طرح تعصب کی پٹی بندھی ہوئی ہے، چونکہ کوئی بھی نبوت کی نشانی ان میں نہ تھی نہ معجزہ کر سکتے تھے اور نہ پیشین گوئی کر سکتے تھے اور نہ اچھی تعلیم کر سکتے تھے (یہود بھی بعینہ یہی تقریر حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت کرتے ہیں بلکہ مسیح ہونے کا دعوا کرنا بالخصوص انھیں پر زیادہ صادق آتا ہے کیونکہ جاہل آدمی تھے اور چال چلن اُن کا خراب تھا اور عورتوں کا بہت شوق تھا مال کی طمع پر لوٹ مار کر کے لوگوں کو دکھ دیتے تھے اور بہت سے کام بے رحمی کے اُن سے سرزد ہوتے تھے اس لئے یہود نے ہرگز قبول نہ کیا لاچار پھر عرب کے مندر یعنی کعبہ کی طرف متوجہ ہوتے (یہ بالکل جھوٹ اور صریح کفر ہے اگر خدانفہ کے راہ میں جہاد کرنا ہی چال و چلن خراب کرنا ہے پھر آپ کے نزدیک حضرت موسی بڑے بد چلن نہیں جنھوں نے متعدد مقامات میں جہاد کیا (1) رفیدیم میں قوم عمالقہ سے سفر خروج باب (۲) اموریوں کے بادشاہ سیمون شہر حسبون کے رہنے والے کو تہ تیغ کر کے اُس کا مال و ملک لیا (۳) بسن کے بادشاہ عوج سے بمقام اور کی جنگ کرکے اُس کو معہ اہل و عیال قتل کیا سفر عدد باب ۲۱ وسفر استثنا۔ باب ۳ بلکہ یہاں ایسی بے رحمی کی گئی کہ اُن کے مرد اور عورت اور لڑکے بالے سب کو بلا دعوت دینِ الہی قتل کیا اور ان کا مال و اسباب اپنے لئے لوٹ لیا ورس ۱۹۵ (م ) سفر استثنار باب میں حضرت موسی کو صاف حکم ہے کہ بت پرستوں کو اپنی تلوار کی دھار سے ضرور قتل کریگا بلکہ وہاں کے خورد و کلاں باشندوں اور بے گناہ مواشی کو بھی قتل کرے بلکہ بقول آپ کے حضرت لیٹوں ابن نون کہ جو حضرت موسی کے خلیفہ تھے اور بنی اسرائیل کے پیغمبر نہایت خراب چال چلن کے تھے کہ جنھوں نے شہر کے شہر غارت کر دیئے اور مال لوٹا اور زن و مرد کسی کو زندہ نہ چھوڑا دیکھو شہر پر یجو کی بابت کتاب لیٹو کے باب میں یہ ہے۔ اور ایسا ہوا کہ جب لوگوں نے رنگے کی آواز سنی اور جماعت نے زور سے للکارا تو دیوار سراسر گر پڑی یہاں تک کہ سب آدمی شہر میں گھس آئے اور شہر کو لے لیا (۳۱) اور اُنھوں نے ان سب کو جو شہر میں تھے کیا مرد کیا عورت کیا جوان کیا بوڑھا کیا بیل اور گدھا کیا بھیڑ سب کو تہ تیغ کر کے حرم کیا انتہے۔ اور کیا اس سے بھی کوئی اور زیادہ بے رحمی
جو اس نے یشوع کو فرمایا ۔ انتہے۔ اگر اس پر بھی دل شرمندہ نہ ہو تو کہو اور جہادات انبیا تے بنی اسرائیل جو بیل مقدس میں مذکور ہیں نقل کر دوں بلکہ ہمارے پیغمبر علیہ السلام کے جہاد کو اس قتل سے کچھ نسبت ہی نہیں۔ آنحضرت صلی شد علیہ وسلم کا جہاد محض مفسدوں اور شریروں کا فساد دفع کرنے کے لئے ہوتا تھا کہ جس کو ہر گورنمنٹ نے بل بھی سپند کرتی ہے اسی لئے اول ان کو فہمائش کی جاتی تھی اگر وہ لوگ باز آتے تھے تب ان کو معاف کیا جانا تھا ورنہ مقابلہ ہونا تھا مگر یہ بھی جب کہ وہ لوگ امن کے خواہاں نہ ہوتے تھے اور کسی شرط پر اطاعت قبول نہ کرتے تھے اور اس جنگ میں یہ تاکید ہوتی کہ عورتوں اور بچوں کو نہ مارو درخت نہ جلا و مواشی کو قتل نہ کرو بلکہ بعد غلبہ کے بھی وہ لوگ راہ پر آجانے سے آزاد کئے جاتے اور مال واپس دیا جاتا تھا۔ اور عورتوں کی رغبت پر جس کو اعتراض ہو تو وہ پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام پر اعتراض کرلے کہ جو خدائے بنی اسرائیل کے پہلوٹھے بیٹے تھے جن کے پاس چا بیویاں تھیں جن میں آپس میں دو حقیقی بہن تھیں اور پھر حضرت لوط علیہات سلام پر اعتراض کرے کہ جس نے بقو ان کے شراب پی کر اپنی دونوں بیٹیوں سے زنا کیا جیسا کہ تو رات میں موجود ہے اور پھر حضرت ابراہیم علیات لام پر بھی لعن کرے کہ جن کی دو بیویاں تھیں اور ایک کے کہنے سے ایک کو مع اس کے معصوم بچے کے لگنے کے بیابان میں چھوڑا اور پھر حضرت داؤد علیہ السلام پر اعتراض کرے کہ جو عیسائیوں کے خلا کے جد امجد ہیں کہ جس نے باوجود متعدد بیویوں اور لونڈیوں کے بیچارے اور یا کی بیوی سے زنا کیا اور اس کے خاوند کو فریب سے مروا ڈالا اور پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی بڑا ہے کہ جس کے پاس بہت سی عورتیں تھیں ۔ عماد الدین اور فنڈ ر یہ بائیں صرف آپ کے جیل مقدس میں لکھی ہیں ہمارا اعتقاد نہیں پھر آپ ان کو نبی جانتے ہیں اور سمارے حضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر چند نکات کرنے سے کیا کیا منہ آتے ہیں اور جھوٹی باتیں نکاری زینب اور ماریہ کی بابت بنات ہیں۔ علاوہ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام اور ان کے حواریوں کے ساتھ جو ان جوان عورت میں رہا کرتی تھیں جس پر یہود کو بد گمانی ہوئی ۔ تعجب ہے کہ یہود سے تو آپ کا دم بند ہوتا ہے اور مسیح علی اسلام کے دوستوں کو برا کہتے ہو اور آپ کا یہ کہنا کہ یہود نے حضرت علیہ السلام کو قبول نہ کیا بالکل لغو ہے عبداللہ بن سلام اور کعب احبار جیسے جلیل القدر علماء یہود مشرف باسلام ہوتے۔ علاوہ ان شہادات علمائے مسیحین کے جو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہونے کی بابت ہم نقل کریں گے یہ بات اہل انصاف کو کیا کم ہے۔ اگرمعاذ اللہ بقول پادری صاحب آپ ایسے بد چلن اور طامع اور شہوت پرست اور بے رحم تھے تو پھر باوجود اس غریبی کہ نہ آپ کے پاس ملک
عماد الدین کو ایسی ایسی ناپاک اور گندی باتیں انبیاء علیہم السلام کی نسبت کہلاتا ہے ۔ اس پر ھبی سچا عیسائی کوئی نہیں دکھائی دیتا
اگر یہ نبوت کا اثر نہیں تھا تو پھر کونسی شراب کا نشہ تھا
جنت پر اعتراض ہمارے سید صاحب نے کیا اور مدت سے پادری فنڈر وغیرہ اسی کو پیش کئے چلے جاتے ہیں
کافی نہیں علاوہ اس کے مکاشفات یوحنا میں بھی تو ایسی چھوٹی دہشت مذکور ہے اور اکثر انبیاء علیہم السلام کے کلام میں مسطور لیکن آپ کو جیل پر نظر نہیں جس لئے یہ جھوٹا غرور ہے۔ قولہ غرض کہ ایسی ایسی ترغیبات . عرب کے عوام اُن کے معتقد ہو گئے الخ پس جب کہ ابو بکر و عمرہ وغیرہ چند رئیس یعنی بستی کے چودھری ایمان لاتے تو پھر کیا کہنا تھا تھوڑے ہی عرصہ میں اقتدار حاصل ہو گیا ۔ افسوس محمدی یہ خیال نہیں کرتے کہ عمریضہ نےاپنی بیٹی حفصہ یہ کس طمع پر دی تھی اور ابو بکر نے الخرج جس طبع پر کہ آپ کے جد فاسد نے آپ کے با وا تا جو صاحب کو آپ کی والدہ دی تھی۔ ہمارا کلام بیہودہ گوئی نہیں مگر چونکہ آپ نے سوال کیا ہم کو جواب دینا پڑا۔ قولہ جب محمد صاحب مرگئے تو یہ سب لوگ ان کا گاڑنا دینا بھی بھول گئے اور وراثت کی ام میں ایسے
بریلویت کا شیش محل ۔ سید طاہر حسین گیاوی
عیسائیوں میں سے کسی نے مسلمانوں پر تنقید کرنے کے ارادے سے سوال کیا کہ تمہارے پیغمبر کی بیوی (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ اس کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا تو قاضی ابو بکر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دو عورتوں پر بدکاری کا الزام لگایا گیا
ہے حضرت مریم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما مگر حضرت مریم کو لڑکا پیدا ہوا جب کہ وہ غیر شادی شدہ تھیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بچہ نہ ہوا جب کہ وہ شوہر والی بھی تھیں ۔ پس وہ عیسائی حیران و ششدر ہو گیا اور واضح ہو گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی برات حضرت مریم کی بہ نسبت زیادہ ظاہر ہے۔
امام ابوبکر باقلانی کی جلالت علمی اور اہل سنت کے درمیان جوان کا مقام ہے اس کو سامنے رکھئے اور اس واقعے کو دیکھئے۔ اگر کوئی شخص قاضی ابو بکر کے متعلق اس واقعہ کی وجہ سے یہ استفتا کر لے کہ ایک شخص حضرت مریم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جب ان پر زنا کی تہمت لگائی گئی تھی تو وہ غیر شادی شدہ تھیں اور اس کے بعد لڑکا بھی پیدا ہو گیا لہذا شخص مذکور کے نزدیک بدکاری کا الزام حضرت مریم پر درست ہے تو کیا ایسا استفتاء کرنے والا قاضی ابوبکر باقلانی کے سر پر الزام تھوپنے والا مجرم نہیں کہا جائے گا؟ ہر باشعور یہی کہے گا کہ ضرور یہ شخص مجرم ہے اس لیے کہ قاضی ابو بکر نے اپنا عقیدہ یہ نہیں بتایا ہے بلکہ عیسائیوں پر الزام عائد کرنے کے لیے ان کے جواب میں یہ بات کہی ہے جس کا ان کے عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پس اسی طرح قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو بات اپنی کتاب اسلام اور مغربی تہذیب کے اندر تحریر کی ہے اس کا تعلق اپنے عقیدہ سے نہیں ہے بلکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں عیسائیوں کے عقیدہ کے خلاف ایک الزام عاید کرنا ہے لیکن مستفتی نے اس کو مصنف کا عقیدہ بنا کر پیش کیا ہے اس لیے جواب میں جو کچھ مفتی نے لکھا وہ اگر چہ سوال کے لحاظ سے بالکل صحیح
اخبار اہل حدیث ۔ 24 مارچ 1939 ۔ ثناء اللہ امرتسری
یسوع صلیب پر مرنے پر راضی نہ تھے ۔ کفارہ کا عقیدہ غلط ہے
مسیح انجیلی حوالوں سے پاک باز ثابت نہیں ہوتا ۔
۔ مسیح نیک انسان نہیں تھا
۔ مسیح نے اجنبی عورتوں سے اپنے سر پر عطر ڈلوایا ۔
۔ اجنبی فاحشہ اور بد چلن عورت سے عطر اور تیل لگوانا شریعت کے خلاف ہے ۔
۔ معجزہ سے شراب بنائی
۔ مسیح جھوٹ بولنے کا جائز سمجھتا تھا
۔ مسیح اپنی والدہ کی تعظیم نہیں کرتا تھا
۔ یسوع یہود کے علماء کو گالیاں بھی دیتا تھا
آئینہ اہلسنت ۔ ابوکلیم محمد صدیق فانی
مصنف رضا مذہب درج ذیل عنوان کے تحت لکھتا ہے ۔ عیسیٰ مسیح فیل ہو گئے
۔ یہ الزامی جواب ہے لہٰذا اس کو گستاخی اور کفر قرار نہیں دیا جا سکتا
پادری صاحب نے سوال کیا کہ تمہارے پیغمبر حبیب اللہ ہیں، آپ نے فرمایا ہاں ، پادری صاحب نے کہا تمہارے پیغمبر نے بوقت قتل امام حسین علیہ السلام کی فریاد نہ کی حالانکہ حبیب اللہ کا محبوب زیادہ تر محبوب ہوتا ہے، خدا تعالٰی ضرور ہر دفرماتا۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے جواب دیا۔ پیغمبر صاحب واسطے فریاد کے جو تشریف لے گئے پردۂ غیب سے آواز آئی ہاں تمہارے تو اسے پر قوم نے ظلم کر کے شہید کیا لیکن ہم کو اس وقت اپنے بیٹے معینی کا صلیب پر چڑھانا یاد آیا ہوا ہے۔ سن کر پیغمبر صاحب خاموش ہو گئے۔ (مجموعہ کمالات عزیزی صفحہ نمبر ۴) کیا کوئی معقل کا اندھا کہہ سکتا ہے کہ شاہ عبد العزیز علیہ الرحمہ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی کا بیٹا تسلیم کر لیا۔ نیز انہوں نے قرآن کریم کے ارشاد کے بر عکس ان کو سولی
یوسف علیہ السلام کے زلیخا رضی اللہ عنہ کے ساتھ عقد نکاح کی تحقیق ۔ محمد اشرف سیالوی
جب یوسف ؑ نے ان کے ساتھ زفاف فرمایا تو ان کو باکرہ اور کنواری پایا ۔ آپ نے ان کے ساتھ ہم بستری فرمائی اور مہر بکارت کو توڑا
اس بندڈیا کی چابی اپنے تر و تاز و یا قوت (رنگ شرمگاہ) کو بنایا اس ڈبیا کا قفل کھوں اور اس میں مادہ تولید والا گو ہر داخل کیا
سیاحت الجنان بمناکحت اھل الایمان ۔ عبد الشکور عبد القادر
اہل حدیث وہابی جنتی اور باقی سب جہنمی فرقے ہیں ۔
آمدم بر سر مطلب جب جب یہ نام روشن ہو چکا کہ حق مذہب اہلحدیث ہے اور باقی جھوٹے اور جہنمی ہیں تو اہلحدیثوں پر واجب ہے کہ ان تمام گمراہ فرقوں سے بچیں اور ان سے خلا ملا اختلاط میل جول دینی تعلقت نہ رکھیں یعنی باطل مذہب والوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اور ان کے جنازہ میں شامل نہ ہوں ان سے سلام نہ لیں ۔ ان سے مناکحت نہ کریں نہ ان کو اپنی لڑکیاں دیں اور نہ ان سے نہیں۔ یہ خادم الموحدین اپنے موحد اہل حدیث بھائیوں پر اظہار افسوس کرتا ہے۔ کہ وہ با وجود اپنے مذہب کو حق پر سمجھنے کے اور دوسر تمام فرقوں کو گمراہ اور جنہی قرار دینے کے پھر ان سے دینی میل جول رکھتے ہیں ۔ بالخصوص یہ امر کہ ان سے مناکحت کرتے ہیں باقی گمراہ فرقوں سے تو نکاح کرنے اور کروانے کا رواج کم ہے زیادہ رواج مناکمت کا مقلدین کے ہر دو فرقوں دیوبندیوں اور بریلیوں سے ہے اور ہمارے بھائی ان بھول بھلیوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ جیسے ہم مسلمان ہیں ویسے ہی یہ بھی مسلمان ہیں حالانکہ یہ
سراسر غلط ہے ۔ مقلدین حنیفہ کے ہر دو فرقے دیوبندی اور بریلوی بلاشبہ گراہ ہیں اور المحمدیوں جیسے سلمان نہیں ہیں چنانچہ ہر فریق کے عقائد و اعمال سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو چکی ہے ۔ ہر فرقہ کی تصنیفات دنیا میں موجود ہے۔ اشتہارات چھپ چکے ہیں مناظ کے ہو چکے ہیں اب یہ امر کسی عالم پر پوشیدہ نہیں رہا ہے کہ اہلحدیث اور مقلدین حنفیہ کے عقائد و اعمال میں زمین و آسمان یا دن ورات کا فرق ہے ۔ خواص تو جانتے ہیں، میں عوام کی خاطر کچھ عرض کرتا ہوں کہ مقلدین موجودہ دس وجہوں سے گراہ ہیں۔ اور فرقہ ناجیہ سے خارج ہیں جن سے مناکحت جائز نہیں ہے ۔ وجه اول یہ کہ موجودہ حفیوں میں تقلید شخصی پائی جاتی ہے جو سراسر حمام او نا جائز ہے اور فرقہ بندی کا موجب ہے اور یہ وہ بدعت ہے جس نے ملت اسلامیہ کا نقشہ بدل دیا۔