مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودؑ پر توہین عیسیٰ ؑ کے الزام کا جواب ۔ حصہ 4
تحقیق عارفانہ بجواب حرف محرمانہ ۔ قاضی محمد نذیر صاحب فاضل سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ
۱۴- گندی گالیوں کی وجہ سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کر لیا تھا۔
۱۵- آپ کی تین دادیاں اور نانیاں زناکارہ تھیں۔
( حرف محرمانه صفحه ۹۲ ، ۹۳)
پھر برق صاحب نے مقدمہ چشمہ مسیحی سے حاشیہ صفحہ ب طبع اوّل سے
حضرت بانی سلسلہ کی یہ عبارت بھی نقل کی ہے۔
”ہمارے قلم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان نکلا
ہے وہ التزامی جواب کے رنگ میں ہے۔ اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل
کئے ہیں۔“
پھر اسی جگہ اسی کتاب کا یہ حوالہ بھی درج کیا ہے۔ ” جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسی اور ان کی انجیل پر حملے کرتے ہیں اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس طریق بد میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔“
( چشمه مسیحی صفحه ج طبع اوّل)
ان ہر دو عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے یسوع مسیح کے متعلق جو سخت الفاظ لکھے ہیں وہ دراصل ” نقل کفر کفر نباشد “یہودیوں کے اعتراضات نقل کئے ہیں ورنہ آپ حضرت عیسی کو جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔ قرآن مجید کے مطابق خدا کا نبی اور رسول اور برگزیدہ مانتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ خدا میں وہ کچی محبت اس (مسیح) سے رکھتا ہوں جو تمہیں ہر گز نہیں اور جس نور کے ساتھ میں اسے شناخت کرتا ہوں تم ہر گزا سے شناخت نہیں کر سکتے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ خدا کا ایک پیارا اور برگزیدہ نبی تھا۔“
دعوت حق صفحہ ۵ مشمولہ حقیقۃ الوحی طبع اول)
مگر چونکہ عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر گندے اور ناپاک اعتراضات کر رہے تھے۔ اس لئے جب وہ اعتراضات میں حد سے بڑھ گئے تو پھر آپ نے مجبور ہو کر الزامی جواب کا طریق اختیار کیا۔ اور عیسائیوں کے سامنے ان کے مزعوم مسیح کی شخصیت کے متعلق از روئے انجیل بحث کی۔ یہ قرآن مجید کا واقعی احسان تھا کہ وہ حضرت مسیح کو راستباز اور خدا کا بر گزیدہ نبی پیش کرتا ہے۔ ورنہ اگر عیسائیوں کے معتقدات ملحوظ رکھے جائیں تو پھر واقعی ان کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی جب تک انجیل اپنی اصل روح میں نہ پڑھی جائیں۔ چونکہ عیسائیوں نے اپنے زعم میں انجیل کی رو سے انہیں خدا مان رکھا تھا اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ پر ناپاک حملے کر رہے تھے۔ اس لئے ان پر ان کے طریق اعتراضات کی قباحت واضح کر نے کے لئے ان کے سامنے یہودیوں کے اعتراضات پیش کئے گئے تا انہیں سمجھ آسکے کہ جس طرح یہودیوں کا مسیح پر اعتراضات کرنے کا طریق ایک نا پاک طریق تھا۔ اسی طرح عیسائی آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات کر رہے ہیں ان میں انہوں نے بھی یہودیوں کی ناپاک روش اختیار کر رکھی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کے اعتراضات کو عیسائیوں کے مقابل میں پیش کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ انہیں لینے کے دینے پڑ گئے۔ اور انہیں سمجھ آگئی کہ ان کا اسلام اور بانی اسلام پر ناپاک حملے کرنے کا طریق نامناسب تھا۔ اسی لئے انہیں وہ باتیں مسیح کے متعلق از روئے انجیل سنا پڑی ہیں۔ جن کا جواب ان کے لئے سخت مشکل ہے۔ حضرت اقدس نے ان اعتراضات میں اپنا کوئی عقید وبیان نہیں کیا تھا۔ بلکہ عیسائیوں کو صرف یہ سمجھانا مقصود تھا کہ جس قسم کے اعتراضات وہ اسلام اور بانی اسلام پر کر رہے ہیں ان سے بڑھ کر اعتراضات خود انجیل اور عیسائیوں کے معتقدات کی رو سے یہودیوں نے یسوع مسیح کے خلاف پیش کر رکھے ہیں۔ عیسائیوں کو اسلام اور بانی اسلام پر حملہ کرنے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لینی
چاہیے۔ اس طرح الزامی جواب کا طریق اختیار کرنے سے خاطر خواہ نتیجہ نکلا۔ کیونکہ عیسائیوں نے اس کے بعد اپنی روش میں تبدیلی کر لی۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے پہلے الزامی جوابات کا یہ طریق عیسائیوں کے مقابلہ میں خود مسلمان علماء بھی اختیار کرتے رہے ہیں۔ بلکہ برقی صاحب نے اپنی کتاب بھائی بھائی میں شیعوں کے بالمقابل خود بھی ایسے الزامی جوابات کا طریق اختیار کیا ہے۔ جو باتیں حضرت اقدس نے عیسائیوں کے یسوع کے متعلق یہودیوں کے اعتراضات عیسائیوں کے سامنے پیش کرنے کی صورت میں اسلام و آنحضرت ﷺ کی مدافعت میں لکھی ہیں ویسے ہی اعتراضات مولوی آل حسن صاحب نے اپنی کتاب استفسار میں عیسائیوں کے سامنے پیش کئے ہیں جنہیں ہم نقل کرنا نہیں چاہتے۔ جو صاحب یہ اعتراضات دیکھنا چاہیں ملاحظہ کریں۔ ” مباحثہ جھانگیری میں جو محمد جہانگیر خاں اور مسٹر مسیح داس کے مابین ۱۸۹۳۰ء میں آگرہ میں ہوا تھا اس میں حضرت اقدس کے الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ میں اعتراضات کئے گئے ہیں۔
اسی طرح مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی نے اپنی کتاب “اعجاز عیسوی“ میں حضرت مسیح کے متعلق اس قسم کے سخت اعتراضات تحریر کئے ہیں جیسے حضرت اقدس نے یہودیوں کے اعتراضات عیسائیوں کے سامنے پیش کئے ہیں تا وہ اسلام و آنحضرت ﷺ پر اپنے اعتراضات کی نا پسندیدہ اور مکروہ روش میں تبدیلی کریں۔ پس اسلام کی مدافعت میں حضرت اقدس نے جو طریق مجبورا اختیار کیا برق صاحب اس پر معترض ہوتے ہوئے لکھتے ہیں۔
اعتراض اگر عیسائیوں کے لئے یہود کے طریق ید کی پیروی نامناسب تھی تو جناب
مرزا صاحب کے لئے اس پیروی کا جواز کہاں سے نکل آیا۔“
( حرف محرمانه صفحه ۹۳)
یہودیوں نے یہ اعتراضات حضرت مسیح علیہ السلام پر از راہ شرارت کئے تھے کیونکہ عیسائیوں نے ان کے مسلمہ انبیاء پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ پس یہودیوں کا طریق جارحانہ اور ظالمانہ تھا۔ حضرت اقدس کے زمانہ میں عیسائی یہودیوں کے طریق پر اسلام اور بائی اسلام عے پر حملہ آور ہوئے تھے اس لئے آپ کو یہودیوں کے اعتراضات جارحانہ طور نہیں بلکہ مدافعانہ طور پیش کر نا پڑے آیت لايُحِبُّ الله الجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ (النساء : ١٤٩)
یعنی خدا تعالیٰ اعلانیہ بُری بات کو پسند نہیں کرتا بجز اس صورت کے کہ کوئی ں مظلوم ہو۔ (اور سخت الفاظ استعمال کرے ) اس مدافعانہ طریق کو جائز قرار دیتی خص ہے۔
خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں۔
” جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسی اور ان کی انجیل پر حملہ کرتے ہیں۔ اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس طریق بد میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔“
(چشمه مسیحی صفحه ج طبع اول)
پس عیسائی چونکہ اسلام اور بانی اسلام پر ظالمانہ طریق سے ناپاک حملے کرتے تھے ان کے مقابلے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نقل کفر کفر نباشد کے مطابق یہودیوں کے اعتراضات نقل کر کے عیسائیوں کو توجہ دلائی ہے۔ تا اس طریق
منہ بند کرنے والی ہو اس اصل کے ماتحت جائز ہے۔ اس لئے علمائے اسلام عیسائیوں وغیرہ کے بالمقابل الزامی جواب دیتے رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس طریق کلام کو اختیار کرنے کی وجہ نور القرآن نمبر ۲ ناظرین کے لئے ضروری اطلاع“ کے عنوان کے ماتحت خود یوں رقم فرماتے ہیں۔
ا ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا جس نے بجائے مہذبانہ کا نام کے ہمارے سید و مولی نبی ﷺ کی نسبت گائیوں سے کام لیا ہے اور اپنی خباثت سے اس امام الطیبین و سید المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔ لہذا محض ایسے یادہ گولوگوں کے علاج کے لئے جو اب ترکی بہتر کی دینا پڑا ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولی محمد مصطفی ﷺ پر دل و جان سے ایمان لائے تھے۔ اور حضرت موسیٰ کی شریعت کے صدہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم انکی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین اور آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا۔ یعنی ان بد کاریوں کا مر تکب خیال کرتا تھا۔ جن کی سز العنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔ قرآن نے ہمیں اس گستاخ اور بد زبان یسوع کی خبر نہیں دی۔ اس شخص کے چال چلن پر ہمیں نهایت حیرت ہے جس نے خدا پر مرنا جائز رکھا اور آپ خدائی کا دعوی کیا اور ایسے پاکوں کو جو ہزار درجہ اس سے بہتر تھے گالیاں دیں سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا
فرضی مسیح مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہر گز مراد نہیں یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔“ (نور القرآن نمبر ۲ ستمبر ۱۸۹۵ء تا اپریل ۱۸۹۶ء بعنوان ناظرین کیلئے ضروری اطلاع ۲۰ دسمبر ۱۸۹۵ء)
۲- پھر نور القرآن میں ”رسالہ فتح مسیح“ کے عنوان کے ذیل میں لکھتے ہیں۔ چونکہ پادری فتح مسیح فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نهایت گندہ بھیجا۔ اور اس میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفی ﷺ پر زنا کی تہمت لگائی۔ اور سوائے اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جائے لہذا یہ رسالہ لکھا گیا۔ امید که پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تا ہم ہمیں حضرت میں علیہ السلام کی شان مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے۔ کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت عﷺ کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے۔“ ( نور القرآن نمبر ۲ صفحه اطبع اول) ۔ پھر آپ اعجاز احمدی صفحہ ۳ پر لکھتے ہیں۔
یہود تو حضرت عیسی علیہ السلام کے معاملہ میں اور ان کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قومی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسٹی نبی ہے کیونکہ قرآن نے ان کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ابطالِ نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں یہ
احسان قرآن کا اُن پر ہے کہ ان کو بھی نہیوں کے دفتر میں لکھ دیا اسی وجہ سے ہم ان پر ایمان لائے کہ وہ بیچے نبی ہیں اور برگزیدہ ہیں اور ان تمتوں سے معصوم ہیں۔ جو ان پر اور اُن کی ماں پر لگائی گئی ہیں۔“
یہی بات ضمیمہ انجام آتھم میں یوں لکھی ہے۔
( اعجاز احمدی صفحه ۱۳ طبع اول)
بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی انہوں نے ناحق ہمارے نبی علیہ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے آنحضرت ﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں پس اسی طرح اس مُردار اور خبیث فرقہ نے جو مُردہ پرست ہے ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں۔ اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو اور بشمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ کہ اس کو نبی قرار دیں۔ نادان پادریوں کو چاہیے کہ وہ گالیوں کا طریق چھوڑ دیں۔ ورنہ نہ معلوم خدا کی غیرت کیا کیا ان کو دکھلائے گی۔“
پھر فرماتے ہیں :۔
(ضمیمه انجام آتھم حاشیه صفحه ۸، ۹ طبع اول)
اور یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بشمار کہا۔ اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نسبت بجز اس کے
کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“
( انجام آنقم صفحہ ۱۳ طبع اول)
تریاق القلوب کے حاشیہ صفحہ ۷ ۷ طبع اول پر تحریر فرماتے ہیں۔
حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے اولی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ ہاں چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گزرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں۔ راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔ لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے۔ اس پر ہم ایمان لاتے ہیں اور آیت حَادِلَهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن کا یہ منشا نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں که مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کریں کیا ہم ایسے شخص کو جو خدائی کا دعویٰ کرے اور ہمارے رسول کو پیشگوئی کے طور پر کذاب قرار دے اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو ر کھے راستباز کہہ سکتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا مجادلہ حسنہ ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ منافقانہ سیرت اور بے ایمانی کا ایک شعبہ ہے۔“
ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جو درشت الفاظ لکھے ہیں ان کا مرجع حضرت عیسی علیہ السلام نہیں بلکہ ان کا مرجع عیسائیوں کا ایک فرضی یسوع ہے۔ اور آپ نے اس کے متعلق بھی بعض باتیں مجبورا الزامی رنگ میں فرض محال کے طور پر لکھی ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام پر آپ صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں اور انہیں خدا کا برگزیدہ اور راستباز نبی یقین کرتے ہیں اور مخالفین کو آپ پر حضرت عیسی علیہ السلام کی بے اولی کا الزام لگانے کو ان مخالفوں کا افتراء قرار دیتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں۔
ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی ما نہیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں سو ہماری کتاب میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے بر خلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھو کہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“
م الصلح نائیٹل بینچ صفحه ۲ طبع اول و تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات جلد ۷ صفحہ ۷۷ )
ایام
پھر تحریر فرماتے ہیں۔
موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمد ی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہمنام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔“
پھر تحریر فرماتے ہیں۔
(کشتی نوح صفحه ۶ ۱ طبع اول)
” جس حالت میں مجھے دعوئی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بُرا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتلاتا کیونکہ اس سے تو خود میرا بیر ا ہو نا لا زم آتا ہے۔“
(اشتہار ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۸ء حاشیه و تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحہ ۷۰ حاشیہ)
پس یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے فرضی یسوع کے متعلق الزامی رنگ میں یہودیوں کے اعتراضات عیسائیوں کے سامنے پیش کئے ہیں۔
برق صاحب کا اعتراض
اس پر برق صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ ” قرآن کا عیسی انجیل کے یسوع سے
کوئی الگ ہستی نہ تھا۔“
الجواب
اصل حقیقت تو یہی ہے کہ قرآن کا عیسی اور انجیل کا یسوع ایک ہی انسان تھا۔ مگر الزام خصم کے لئے انجیلی یسوع کو قرآن مجید کے حضرت عیسی سے الگ فرض کرنا از بس ضروری تھا۔ کیونکہ عیسائیوں کا متصور یسوع بقول ان کے خدائی کا دعویٰ دار تھا۔ اور قرآن مجید کا پیش کردہ مسیح علیہ السلام خدا کا بندہ اور نبی اور رسول تھا۔
الزامی استدلال کے لئے خود جناب برق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام والا طریق اختیار کیا ہے۔ مگر خود اپنے طریق الزام کو نظر انداز کر کے اب محض اعتراض برائے اعتراض پر کمر بستہ ہیں۔
دیکھئے خود محترم برق صاحب نے بھی ”دو اسلام “ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ حالانکہ اسلام تو ایک ہی ہے مگر انہوں نے روائتی اسلام اور اپنے مزعوم و متصور اسلام کے لحاظ سے دو اسلام قرار دیدیئے ہیں اور پھر روائتی اسلام کی خوب مذمت کی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب بھائی بھائی کے صفحہ ۱۳، ۱۴ پر روائتی اسلام “ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔
روائتی اسلام ایک بڑا ہی دلچسپ اسلام ہے اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ آتش اختلاف کبھی بجھنے نہیں دیتا۔ دوسری یہ کہ انسان کو انسان کا بیر کی بنائے رکھتا ہے اور تیسری یہ کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یعنی عمل (محنت ) جد و جہد و نگاہو سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اہل سنت کے ہاں ہزاروں ایسی احادیث موجود ہیں جس کی رو سے خالی کلمہ پڑھنا یا کسی دعا کا ورد کرنا فلاح و نیوی واخروی کے لئے کافی ہے عمل کی ضرورت ہی نہیں ( تفصیل میری کتاب دو اسلام میں ملاحظہ فرمائیے ) اور شیعوں کے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب ۔ ہادی علی چودھری
پادری عماد الدین نے کتاب ۔ ھدایۃ المسلمین ۔1868 میں لکھی اس کی سخت زبان کے خلاف شمس الاخبار لکھنئو نے 15 اکتوبر 1975 ء میں لکھا
نوٹ۔ عماد الدین کی یہ کتاب اور دوسری اسلام مخالف کتب یہاں موجود ہیں
مندرجہ ذیل تین کتابیں آن لائن ملی ہیں جس دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے
1۔ تحقیق الایمان ۔ پادری عماد الدین ۔ 1870
3۔ عقوبت الضالین ۔ سید ناصر الدین محمد ابو المنصور در جواب ہدایت المسلمین ۔ پادری عماد الدین
اس کتاب 3 نمبر عقوبت الضالین میں کتاب ھدایت المسلمین کی عبارات لکھ کر اس کا جواب دیا ہے ہے ۔ جس کی کچھ مثالیں نیچے دی جا رہی ہیں
صفحہ 6۔ محمد ﷺ کا نہ کوئی معجزہ محمد ﷺ کاثابت ہو سکتا ہے نہ کوئی پیش گوئی ثابت ہوتی ہے ۔
ص 33 ۔ کرسچن یسوع کی خالی قبر کی زیارت کو جاتے ہیں
ص 42 ۔ محمد ﷺ کے بارے میں پچھلی کتابوں میں کوئی پیشگوئی نہیں ہے ۔ جواب ۔ یسوع کے بارے میں کوئی صاف پیشگوئی نہیں ہے
ص 54 ۔ انجیل مرقس یونانی میں لکھی تھی ۔ جواب ۔ مرقس نے انجیل روم میں اور رومی زبان میں لکھی ۔ مفتاح الکتاب۔ جو بعد میں بیان دے اس سے تاریخ کا وہ بیان زیادہ معتبر ہے جو تاریخ میں پہلے لکھا گیا ہو ۔
ص 62 ۔ محمد ﷺ کے پاس کتنی عورتیں تھیں ؟ سوال پاردری عماد الدین۔ جواب ۔ پادری کے کئی باپ ہیں
ص 87 ۔ محمد ﷺ سچے نبی ہوتے تو ان پر جادو نہ ہوتا ۔ جواب ۔ جادو کا اثر بدکاروں پر نہیں ہوتا کیونکہ شیطان شیطانوں کو تنگ نہیں کرتا
ص 36 کتاب ۔ عیسیٰ ؑ کے انجیلوں میں لکھے گناہ اور بدیا ۔ الزامی جواب
صفحہ ایضاً ۔ محمد ﷺ ماریہ قبطیہ عورت کے ساتھ ( معاذ اللہ ) گناہ کرنا اور زینب سے عشق لگانا یاد نہ آویگا۔۔۔۔ لوگوں کا مال مفت لوٹ کر کھانا ۔۔۔ کہاں چھپاویں گے ۔
ص 53 کتاب ۔ ص 176 ۔ 215 ۔ اس میں گالیاں اور محض فحش گوئی ہے میں اس کا جواب نہیں دوں گا ۔
ص 56 کتاب ۔ شاید راحاب فاحشہ اور یہوداہ کی بہو تمر اور روت موابی اور اوریاہ کی جورو جس نے پیشتر زنا کراوایا اور جعام کی مالغمہ اوس عمون کی نسل حضورت لوط کی دوسری بیٹی جنی تھی وغیرہ کی طرف اشارہ ہو گا ۔
ص 63 کتاب ۔ تیل یا عطر ملنے والی عورت کا واقعہ
ص 69 کتاب ۔ قرآن مجید پر پادری عماد الدین کے اعتراضات کا جواب
ص 70 کتاب ۔ پادری عماد الدین کا اعتراض ۔ کوئی پیشگوئی پوری نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔ چال چلن ان کا خراب تھا اور عورتوں کا بہت شوق تھا مال کی طمع پر لوٹ مار کر کے لوگوں کو دکھ دیتے ہیں تھے ۔
جواب ۔ ایسی گالیاں اس لیے دیتے ہو کہ کوئی مسلمان اس کا جواب نہ لکھے ۔
عورتوں کے لالاچ کا جواب یہ ہے کہ ابراھیم ، یعقوب اور داؤد کے بیویوں کو یاد کر لو
ص 72 ۔ جنت میں انزال نہ ہو گا ۔ جواب ۔ بائبل کے حوالے ۔ اللہ کی دو بیویاں ۔ بہن زوجہ ۔ چھاتیاں ملنا
یہوداہ نے اپنی بہو سے زنا کیا اور اوسی نسل سے عماد الدین کا خدا ( یعنی عیسیٰ ؑ ) پیدا ہوا ۔ اگر خدا فرماتا ہے کہ حرامی بچہ اور اوسکی دسویں پشت تک خداوند کی جماعت میں داخل نہو ۔
ص 78 ۔ شیعہ متعہ اور رنڈی بازی ۔ متعہ کے فضائل
ص 80 ۔ ہدایت المسلمین کی فصل سیوم ۔ قرآن کے نزول کے بیان میں
۔ محمد ﷺ کو مرگی کی بیماری تھی ۔ ( معاذ اللہ )
ص 81 ۔ قرآن انجیل اور توریت سے نقل کر کے لکھا گیا
ص 82 ۔ ہدایت المسلمین کی فصل چہارم محمد کی تعلیم کی بیان میں
ص 85 ۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی عبادت سکرمنٹ کے دن شراب پینا ہے
ص 87 ۔ ہدایت المسلمین کا باب ہشتم قرآن کی تردید میں
ص 126 ۔ ہدایت المسلمین کی فصل قرآن کی اون آیتوں کے بیان میں جو آپس میں مختلف ہیں ۔
ص 128 ۔ انی متوفیک و رافعک الی اے عیسیٰ میں تجھے مارونگا اور اپنی طرف اٹھالونگا پھر کہتا ہے ما قتلوہ ما صلبوہ و لاکن شبہ لھم ۔ عیسیٰ ؑ کو مارا اور نہ اوسے سولی دی مگر اونکو شبہ پڑ گیا ۔ بعض ملانے کہتے ہیں کہ لفظ متوفیک وفات سے مشتق نہیں ہے غلط اور بیجا ہے ضرور وفات سے مشتق ہے تفسروں میں دیکھو ۔ پادری عماد الدین
ص 166 ۔ ہدایت المسلمین کے فصل قرآن کے تحریف کے جھوٹے دعوے میں
ص 167۔ ہدایت مسلمین کا باب نہم مسیح کے بیان میں ۔
ص 176 ۔ ہندو اخباروں کی رائے کہ پادری عماد الدین کی کتابوں میں گالیاں دی گئی ہیں اور اشتعال انگیز ہیں
اس صورتحال میں مسلمان علماء نے پادریوں کی ہرزہ سرائیوں کا مربی بہ ترکی جواب دینے اور مسلمان عامتہ الناس کو مایوسیوں کی تاریکیوں سے نکالنے کے لئے ایک حکمت عملی اختیار کی۔ جو یہ تھی کہ انہوں نے دیکھا کہ قرآن کریم میں بیان شدہ عظیم المرتبت نبی اللہ مسیح عیسی ابن مریم علیہ السلام کے مقابل پر انا جمیل جس بیسوع کی تصویر پیش کرتی ہیں وہ در اصل حقیقی عیسی ابن مریم نہیں اور وہ شخص نہیں جو بنی اسرائیل کی طرف رسول بن کر آیا تھا اور خدا کا مقدس نبی تھا۔ اسلئے انہوں نے عیسائیوں کی اس مسلم شخصیت کو جو انا جیل میں میسوع کے نام سے موسوم ہے، اپنے اعتراضات کا ہدف بنایا اور اناجیل میں بیان شدہ واقعات اور احوال کو اس طرح پیش کیا
ہوئی آپ نے تمام مذاہب کے علماء کو لیا عرصہ یہ تلقین کی کہ مذہبی مناظرات میں بجائے اس کے کہ دوسرے مذاہب پر نا جائز گندا اچھالا جائے ، یہ اندازہ اختیار کیا جانا چاہیئے کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں ۔
ثانیاً آپ نے یہ اصول پیش کیا کہ اگر دوسرے مذہب کے عقائد کا رد مقصود ہو تو اس مذہب کے مسلمات کے اندر رہ کر دلائل پیش کئے جائیں ۔
گورنمنٹ عالیہ فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے دو تجویزوں میں سے ایک تجویز اختیار کر سے کہ یا تو ہر ایک فریق کو ہدایت ہو جائے کہ کسی اعتراض کے وقت بغیر اس کے کہ فریق مخالف کی معتبر کتابوں کا حوالہ دے ہر گز اعتراض کے لئے قلم نہ اُٹھا دے۔ اور یا یہ کہ قطعاً ایک فریق دوسرے فریق کے مذہب پر حملہ نہ کر ے بلکہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کریں ۔
( البلاغ – روحانی خزائن جلد ۱۳ ص۴)
کیا عیسائیوں کے اپنے مسلمات سے ہی بیان کیا ۔ پادریوں کو جب احساس شکست ہوا تو انہوں نے آپ پر یہ الزام لگا کہ آپ کو اس منظر سے ہٹانے کی کوشش کی کہ آپ نے دنعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کی ہے اور آپ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ آپ نے جواباً فرمایا :-آپ کا یہ فرمانا کہ گویا حضرت مسیح کے حق میں میں نے گالی کا لفظ استعمال کر کے ایک گونہ بے ادبی کی ہے۔ یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ میں حضرت مسیح کو ایک سچا نبی اور برگزیدہ اور خدا تعالیٰ کا ایک پیارا بندہ سمجھتا ہوں وہ تو ایک الزامی ہنے جواب آپ ہی کے مشرب کے موافق تھا اور آپ ہی پر وہ الزام عاید ہوتا ہے تہ کہ مجد پریا
(جنگ مقدس – روحانی خزائن جلد 4 منٹ )
نیز فرمایا :-
جب ہمارا دل بہ دکھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علہ وسلم پر طرح طرح کے ناجائز حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خاطر نہیں کی مسلمہ کتابوں سے الزامی جواب دیئے جاتے ہیں ان لوگوں کو چاہیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسی کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب کے لکھی ہو اور وہ انہیں میں موجود نہ ہو ۔ آخر یہ تو ہم سے نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سُن کر چپ رہیں ۔
الملفوظات
ناظرین کے لئے ضروری اطلاع
ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا ہے۔ جس نے بجائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سیدو مولا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطيبين وسيد المطهرين پر سراسر افتر اسے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔ لہذا محض ایسے یا وہ لوگوں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا ۔ ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کے بچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر دل و جان سے ایمان لائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے صدہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سز العنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں قرآن نے ہمیں اس گستاخ اور بد زبان یسوع کی خبر نہیں دی اس شخص کی چال چلن پر ہمیں نہایت حیرت ہے جس نے خدا پر مرنا جائز رکھا اور آپ خدائی کا دعوی کیا ۔ اور ایسے
پاکوں کو جو ہزار ہا درجہ اس سے بہتر تھے گالیاں دیں ۔ سو ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدائے تعالیٰ کا ایک عاجز بند عیسی ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔ بعض نادان مولوی جن کو اندھے اور نابینا کہنا چاہیے۔ عیسائیوں کو معذور رکھتے ہیں کہ وہ بے چارے کچھ بھی منہ سے نہیں بولتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بے ادبی نہیں کرتے ۔ لیکن یاد رہے کہ در حقیقت پادری صاحبان تحقیر اور توہین اور گالیاں دینے میں اول نمبر پر ہیں ۔ ہمارے پاس ایسے پادریوں کی کتابوں کا ایک ذخیرہ ہے جنہوں نے اپنی عبارت کو صدہا گالیوں سے بھر دیا ہے جس مولوی کی خواہش ہو وہ آ کر دیکھ لیوے اور یاد رہے کہ آئندہ جو پادری صاحب گالی دینے کے طریق کو چھوڑ کر ادب سے کلام کریں گے ہم بھی ان کے ساتھ ادب سے پیش آویں گے اب تو وہ اپنے یسوع پر آپ حملہ کر رہے ہیں ۔ کہ کسی طرح سب وشتم سے باز ہی نہیں آتے ہم سنتے سنتے تھک گئے اگر کوئی کسی کے باپ کو گالی دے تو کیا اس مظلوم کا حق نہیں ہے کہ اس کے باپ کو بھی گالی دے اور ہم نے تو جو کچھ کہا واقعی کہا۔ وانما الاعمال بالنیات ۔
خاکسار غلام احمد
۲۰ دسمبر ۱۸۹۵ء
تحقیق عارفانہ جواب حرف محرمانہ ۔ قاضی نذیر فاضل سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ
عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا تفصیلی جواب اس کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے اہم مقامات پر نشان بھی لگا دیا گیا ہے
ازالۃ الاوھام ۔ جلد دوم ۔ رحمت اللہ کیرانوی
انسانوں کو قتل کر دیا جنکا والی سکم کا باپ تھا۔ تمام اہلِ شہر کے بے گناہ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنالیا مگر انہوں نے اس پر کوئی مواخذہ نہ فرمایا ۔ اسی طرح جب آنجناب اللہ کے بڑے لڑکے نے انکی زوجہ بلہاہ سے زنا کیا اور دوسرے سعادت مند بیٹے یہوداہ نے اپنی بہو سے منہ کالا کیا وہ حاملہ ہوگئی اور فارص پیدا جو حضرت داؤد سلیمان و عیسی علیہم السلام کا جد بزرگوار ہے مگر حضرت یعقوب اللہ نے ان میں سے کسی کو کوئی سزا نہ دی بلکہ بعض مواقع پر صرف ظاہری طور زبانی اظہار غضب کیا۔ یہ تمام احوال پیدائش باب ۳۴ ۳۸٬۳۵ میں مفصل مذکور ہیں اور ابواب مذکورہ کے حوالے مقدمہ کتاب میں فائدہ اول کے تحت گذر چکے ہیں۔ لہذا اہل کتاب کے ذوق کے مطابق کیا تعجب ہے کہ آنجناب اللہ وہ راحیل کی چوری سے واقف ہوں، انہیں کے اشارے پر اس نے چوری کی ہو۔ چونکہ وہ آپ کی محبو ب تھی اور آپ اس پر دل گرفتہ تھے اس لئے انکو زبانی ملامت کرنا بھی گوارانہیں کیا بلکہ الٹا انکے والد سے جھگڑا شروع کر دیا اور اس بات کی تائید ایک اور واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ جب یعقوب ایک مذبع بنا۔ تب یعقوب نے اپنے گھرانے اور اپنے سب ساتھیوں سے کہا کہ بیگانہ دیوتاؤں کو جو تمہارے درمیان ہیں دور کرو اور طہارت کر کے اپنے کپڑے بدل ڈالو تب انہوں نے سب بیگانہ دیوتاؤں کو جو انکے پاس تھے اور مندروں کو جو انکے کانوں میں تھے یعقوب کو دے دیا اور یعقوب نے انکو اس بلوط کے درخت کے نیچے جو سکم کے نزدیک تھا دبا دیا‘ ان آیات میں صراحت ہے کہ حضرت یعقوب اللہ کے گھر والوں اور انکے ہمراہی ساتھیوں کے پاس بت ہوتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ انکی پوجا کرتے ہونگے
تو حضرت یعقوب اللہ نے انہیں بتوں کی عبادت سے منع کیوں نہ کیا اور بت توڑ کیوں نہیں ڈالے؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بتوں سے بڑھ کر اور کونسی چیز نجس ہوگی ۔ لامحالہ یہاں انہوں نے راحیل سے بھی وہ بت لئے ہونگے جو وہ اپنے والد کے گھر سے چرا کر لائی تھی۔
ازالۃ الاوھام ۔ جلد 1 ۔ رحمت اللہ کیرانوی
(۴) ظاہر ہے کہ پھوپھی سے نکاح حضرت موسی الفاظ سے پہلے جائز تھا تبھی اُنکے والد صاحب نے ایسا کیا پھر شریعت موسوی میں منسوخ ہو گیا کیونکہ اگر اس قسم کا نکاح حضرت موسی اللہ سے قبل بھی نا جائز مانا جائے تو ازم آئے گا کہ حضرت موسیٰ حضرت ہارون علیہما السلام اور انکی بہن مریم زنا کی اولاد تھے ( نعوذ باللہ من ذالک) اور ہ بھی لازم آئے گا کہ دس پشتوں تک انکی نسل کا کوئی شخص بھی خدا کے مقبول بندوں میں شامل نہ ہو سکے جیسا کہ استثناء باب ۲۳ آیت ۲ میں ہے کوئی حرام زادہ خداوند کی جماعت میں داخل نہ ہو۔ دسویں پشت تک اسکی نسل میں سے کوئی خداوند کی جماعت میں نہ آنے پائے اگر یہ باخدا لوگ خداوند کی جماعت سے نکال دیے جائیں تو پھر کون ہے جو اُس میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھے؟
رد نصاریٰ
سبب اوسکا یہ ہے کہ ہر ایک اہل کتاب کہ یہاں اپنی کتاب کی تعظیم و تکریم واجب ہوتی ہے ۔ بخلاف ان کے تم عیسوی تعظیم کے بدلے اپنی کتاب کو حقیر جان کر پایخانہ کے وقت اوسی کے ورقوں سے چوتڑ پونچتے ہو پاس جو لوگ اپنی کتاب کی تعظیم و تکریم نہ کریں سو وے دوسرے کی کتاب کی کیا تعظیم و تکریم کریں گے اور وے جو اپنی کتاب کی تحقیر کرتے ہیں سو مردود کافر ہیں یعنی کافر ٹھہرتے ہیں پھر ایسوں کے ہاتھ قرآن مقدس کیوں کر دیا جائیگا ا س لیے ہم اوس کو ہاتھ تک چھونے نہیں دیتے ۔
حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کی انجیل
پیشگوئی کنواری حاملہ ہو گی اور اس کا نام عمانوایل رکھے گی ۔ یہ بات یسوع پر ثابت نہیں ہوتی
مسیح ؑ کے حقیقی پیروکار مسیحی یا مسلمان ؟
مسیح ملعون ۔ جو کوئی لکڑی پر لٹاکایا گیا وہ لعنتی ہے ۔ گلتیوں کے نام خط ۔ باب 3 فقرہ 13
مصلوبی کی لعنتی موت ۔ کرسچن یسوع کی لعنتی موت کے قائل ہیں اور کفارہ کی بنیاد اسی پر ہے
مسیح کا تجرد ۔ جب مریم کی شادی اور بچے بھی تھے تو وہ کنواری کیسے تھے ؟
یعقوب کے بیٹے روہن نے اپنے باپ کی حرم او سوتیلی ماں بلہاہ سے زنا کیا۔ جس کا بعقوب کو کم ہو گیا۔ (پیدائش ۳۵ : ۲۶) یعقوب کے بیٹے یہوواہ نے اپنی ہو تمر سے زنا کیا ر پیدائش ۱۸:۳۸) جس نے تمر نے قارص اور ارج جڑواں حرامی بچوں کو جنم دیا۔ ( پیدائش ۳۸ : ۳۰)
اس نسب نامہ میں چار عورتوں کا بھی ذکر ہے ۔ جن میں سے تھر کو آپ جان چکے ہیں ۔ باقی تین کا تعارف حسب ذیل ہے ، راحاب غیر قوم کی تھی کیسی یعنی فاحشہ تھی ۔ (مائیل کتاب شیوع 4: 14) گروت بھی یہو دن نہیں تھی ۔ اس عورت نے بوعتر سے زنا کرانے کے لئے مقدور بھر جتن کئے ۔ اپنی ساس کی ہدایات کے مطابق نہا دھو خوشبو لگا کر اور اپنی پوشاک میں کر رات کے وقت چیکے چیکے گئی اور بو عزر کے پاؤں کھول کر لیٹ گئی ۔ (بائبل کتاب روت باب ۳)
(س) اور بیاہ کی بیوی بہت سیع نہایت خوب صورت تھی ۔ داؤد نے اپنے محل کی چھت پر ٹہلتے ہوئے اسے دیکھا تو وہ نہا رہی تھی ۔ داؤد نے بلا کر اس سے زنا کیا وہ حاملہ ہو گئی ۔ داؤد نے انتہائی کوشش کی کہ وہ حمل اس کے خاوند کے ذمے لگ جائے ۔ ناکامی پر اس بیچارے کو جنگ پر بھیج کر مروا دیا۔ بعد انہاں اس عورت سے باقاعدہ شادی کی ۔
بائیں کتاب کا مسموئیل ابواب
اب قارئین کرام ! انجیل متی کا نسب نامہ شروع سے ایک نظر پھر پڑھ لیں کہ میچ کا ایک جد امجد فارس، یہوواہ اور اس کی ہو تمر کے زنا سے پیدا ہونے والا بچہ تھا جس کی اولاد سے داؤد اور سی تھے جو از روئے تو رات اسرائیلی قوم سے بھی شمار نہیں کئے جاسکتے چہ جائیکہ میسیج کو نبی (متی ۲۱ : ۱۱) ہادی (متی ۲۴ : ۱۱) اور استاد در متی ۱۲ : ۱۳۹) تسلیم کیا جائے۔ نیز اگر خدا نے انسانی جامہ پہننا ہی تھا تو اسے مسیح کے علاوہ کوئی بھلا مانس نہ مل سکا ؟ قحط الرجال کی بھی آخر کوئی حصہ ہوتی ہے
مرات الیقین لاغلاط ہدایت المسلمین
قرآن وحی متلو اور حدیث وحی غیر متلو ہے
جو شراب پیے گا وہ بڑا گناہ گار ہے مثلا مسیح نے شراب خواری کی ہے تو مطابق اس اعتقاد کے وہ گناہگار تھے
یسوع بھی تورات کا پیرو تھا اور جہاد کا قائل تھا مگر مجبوری کی وجہ سے جہاد نہ کر سکا
موسیٰ اور دوسرے نبیوں نے بھی مال غنیمت لیا تو یہ نبوت کے خلاف نہیں
یسوع صلیب کے واقعہ تک کمزور رہا اس لیے جہاد نہ کیا اور مال غنیمت کی نوبت نہ آئی
ازالت الشکوک ۔ رحمت اللہ کیرانوی
ایک نبی نے خدا کا نام لیکر دوسرے نبی کو جھوٹ بتایا اور اسے دھوکہ دیا ۔
بنی اسرائیل کے نبی زنا ، بت پرستی اور گوسالہ پرستی کیا کرتے تھے
چار سو جھوٹے پیغمبروں نے کہ کہ بادشاہ فتح پائے گا
میخا نبی نے صریح جھوٹ بولا اور ایسے جھوٹ بولنا اس کی عادت تھی ۔
یرمیاہ نے بھی جھوٹ بولا ۔
رقیمہ الوداد در جواب ۔ پادری صفدر علی
راحاب فاحشہ ۔ تمر جو کسبی بنی تھی یہ حضرت مسیح ؑ کی پردادیاں ہیں۔
حضرت مسیح ؑ کی عزت کون کرتا ہے ؟ مسلمان یا عیسائی ۔ اسلامی مشن سنت نگر لاہور
۔ انجیل متی میں مسیح کے شجرہ نسب میں چار عورتوں کے نام بھی شامل ہیں ۔ جو بائبل کی رو سے فاحشہ تھیں ان کے نام تمر، راہب ، بت سبع اور روت ہیں
۔ جو صلیب پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب ۔ کتاب