جوشِ صداقت ۔ کیوں نہیں لوگو تمھیں حق کا خیال ۔ دل میں آتا ۔ کلام مسیح موعودؑ
جوشِ صداقت
| دِل میں آتا ہے مِرے سَو سَو اُبال | کیوں نہیں لوگو تمھیں حق کا خیال |
| کیوں دِلوں پر اِس قدر یہ گرد ہے | آنکھ تر ہے دِل میں میرے درد ہے |
| کِس بیاباں میں نکالوں یہ غبار | دِل ہوا جاتا ہے ہردم بے قرار |
| مَر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر | ہوگئے ہم درد سے زیر و زبر |
| کچھ تو دیکھو گر تمھیں کچھ ہوش ہے | آسماں پر غافلو اِک جوش ہے |
| چُپ رہے کب تک خداوندِ غیور | ہوگیا دیں کفر کے حملوں سے چُور |
| شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے | اِس صدی کا بیسواں اب سال ہے |
| افترا کی کب تلک بنیاد ہے | بدگماں کیوں ہو خدا کچھ یاد ہے |
| اِک جہاں کو لارہا ہے میرے پاس | وہ خدا میرا جو ہے جو ہر شناس |
| لعنتی کو کب ملے یہ سروری | لعنتی ہوتا ہے مَردِ مُفتری |
Post Views: 905