سلسلۃ-الحدیث-الصحیحہ-البانی" class="wp-block-heading">سلسلۃ الحدیث الصحیحہ ۔ البانی
سیدنا ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا۔ او فلاں کی آل! میں نے اشارۃً بات کئے بغیر اسے کہا ۔ تو اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے ( تو اسے ابو منذر نے کہا ۔ ) تو تو فحش گو نہیں تھا ( تجھے کیا ہوا ؟ ) میں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ۔
جو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوا، کوئی اشارہ کنایہ کئے بغیر اسے کہو تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے ۔
تخریج ۔ صحیح
الادب المفرد 936، 964 ۔ نسائی فی الکبریٰ ۔ 8864 ۔ احمد بن حنبل ۔ جلد 5 ص 136 ۔ ابن حبان ۔ 3153
فوائد : تعصب ذاتی ہو یا وطنیت کا یا خاندان قبیلے کا یہ اتحاد و اتفاق اجتماعیت کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے اسی وجہ سے اسلام میں
اسکی انتہائی حوصلہ شکنی کی گئی تاکہ ملت بیضاء اس زہریت کا شکار ہو کر کہیں ٹکڑوں میں نہ ہٹ جائے۔ کیونکہ اجتماعیت کی انتہا ذلت کی ابتداء ہوتی
ہے اور کفار کی بڑی کوشش ہی یہ ہے کہ انہیں منتشر رکھ کر انہیں اپنے زیر دست رکھا جائے جیسا کہ تاریخ کا سبق بھی ہے کہ جب تک اہل اسلام متحد
و متفق رہے غلبہ اور فتح ان کے گھر کی لونڈی رہی اور جب ان میں افتراق و انتشار آیا تو ذلت ورسوائی انکا مقدر ٹھہری لیکن ہمارے ذاتی مفادات و
تعصبات ہمیں اس بارے میں غور کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے جیسا کہ آج کل کے حالات اس بات پر شاہد ہیں۔ اسی لئے پیغمبر زمان نے
قوموں کے عروج وزوال کے اسباب کے بارے میں آگاہی رکھنے کے سبب اس بات کا حجتہ الوداع کے موقع پر انتہائی سختی سے رد کیا، کہا کہ آج
کے بعد کسی کالے کو گورے پڑ گورے کو کالے پر عربی کو عجمی یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہاں اگر فضیلت ہے تو وہ تقویٰ کی بناء پر ہے اور اس
حدیث میں بھی آپ سی انتہائی پاکیزہ اخلاق کے مالک ہونے کے باوجود اس بات کا رو اس انداز سے کرتے ہیں کہ سننے والا تعجب کا اظہار کرتا
ہے کہ اس قدر شدید الفاظ اور وہ بھی رحمت کا ئنات کی زبان ہے ۔ یہ فقط اس معاملے کی سنگینی کے سبب کہ اس بات کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ
قوموں کی ذلت و عظمت سے ہے۔ اس لئے آپ ملی ایم نے فرمایا کہ ایسے بندے کو اشارہ کنایہ نہ کرو بلکہ سید ھے کہو کہ تمہیں باپ دادا کی شرافت
پر بڑا ناز ہے تو ان کی شرمگاہ منہ میں لے کر چوس کس قدر سخت الفاظ ہیں کیونکہ معاملہ اس سے
کہیں سخت ہے۔
الادب-المفرد-باب-436" class="wp-block-heading">الادب المفرد ۔ باب 436
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ أُبَيٍّ رَجُلاً تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعَضَّهُ أُبَيٌّ وَلَمْ يُكْنِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، قَالَ: كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمُوهُ؟ فَقَالَ: إِنِّي لاَ أَهَابُ فِي هَذَا أَحَدًا أَبَدًا، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلا تَكْنُوهُ.“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَاَرَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنَ، عَنْ عُتَيٍّ، مِثْلَهُ.
عتی بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے آپ کو جاہلیت کی طرف منسوب کر رہا تھا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اپنا آلہ تناسل کاٹ کھانے کو کہا اور کنایہ نہ کیا بلکہ واضح طور پر کہا۔ ان کے ساتھیوں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے فرمایا: تم میری بات کو نا مناسب سمجھ رہے ہو؟ پھر فرمایا: میں اس معاملے میں کسی سے بھی نہیں ڈروں گا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جاہلیت کی طرف اپنی نسبت کرے تو اسے آلہ تناسل کاٹ کھانے کو کہو، اور کنایہ نہ کرو بلکہ واضح طور پر کہو۔“
ابن مبارک رحمہ اللہ کے واسطے سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «صحيح: مسند أحمد: 136/5»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الادب-المفرد-کی-حدیث-نمبر-963-کے-فوائد-و-مسائل" class="wp-block-heading">الادب المفرد کی حدیث نمبر 963 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عثمان منيب حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، الادب المفرد: 963
نسب کی بنیاد پر فخر کرنا جاہلانہ بات ہے۔ اسلام نے اس سے روکا ہے کیونکہ سب انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور سب ایک ذریعے سے اس دنیا میں آئے ہیں۔ اب جو شخص کافر، مشرک اور جاہل آباء و اجداد پر فخر کرتا ہے تو اس کا ذریعہ وجود تو آلہ تناسل ہے تو اسے کہنا چاہیے کہ اپنے باپ کا آلہ تناسل کاٹ کھاؤ تاکہ رشتہ اچھی طرح ظاہر ہو جائے۔ برادری ازم کو ہوا دنیا اور اس کی وجہ سے تعصب پیدا کرنا جاہلانہ عادت ہے۔
[فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 963]
الادب المفرد اصل کتاب کا سکین
٩٦٣ – حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ
الْحَسَنِ(٥) ، عَنْ عُتَيِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عِنْدَ أُبَي ) رَجُلًا
تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعَضَهُ أُبَيٌّ وَلَمْ يَكْنِهِ (۸) ، فَنَظْرَ إِلَيْهِ (۹)
أَصْحَابُهُ فَقَالَ (۱) : كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمُوهُ؟ فَقَالَ أُبَيَّ (۲) : إِنِّي لَا أَهَابُ
هَذَا أَحَدًا أَبَدًا؛ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ تَعَزَّى (۳)
بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ(٤) فَأَعِضُوهُ (٥) وَلَا تَكْنُوا (٦)(٧)
(…)- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ : حَدَّثَنَا المُبَارَكُ (۸) ، عَنِ الْحَسَنِ،
عَنْ عُتَيّ، مِثْلَهُ (۹)
دار-الافتاء-دار-العلوم-دیوبند-ا-فیشل-ویب-سائیٹ" class="wp-block-heading">دار الافتاء دار العلوم دیوبند آفیشل ویب سائیٹ
سوال نمبر: 154385
عنوان-كیا-اس-طرح-كی-حدیث-ہے" class="wp-block-heading">عنوان:كیا اس طرح كی حدیث ہے؟
سوال-ایک-شخص-نے-حضرت-مولانا-سید-سلمان-صاحب-ندوی-دامت-برکاتہم-کے-حوالہ-سے-جمعہ-کے-خطبہ-میں-یہ-بات-نقل-کی-ہے-کہ-مسند-احمد-کی-روایت-میں-ہے-کہ-کوئی-شخص-مسلمانوں-میں-تفرقہ-بازی-کرے-تو-اسے-کھلی-ماں-بہن-کی-گالی-دی-جائے-اور-صراحت-کے-ساتھ-بنا-جھجھک-ایسا-کیا-جائے-اس-کی-پوری-اجازت-ہے-اور-اس-کی-دلیل-میں-حضرت-مولانا-سید-سلمان-ندوی-دامت-براکاتہم-کی-ویڈیو-بھی-دکھایا-جس-میں-حضرت-دامت-برکاتہم-نے-بھی-ایسا-ہی-فرمایا-ہے-اور-یہ-روایت-پیش-کی-ہے-کما-في-حدیث-أبي-بن-کعب-عن-النبي-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-قال-من-سمعتموہ-یتعزی-بعزاء-الجاہلیة-فأع-ض-وہ-بھن-أبیہ-ولاتکنوا-رواہ-أحمد-اور-پھر-کسی-دوسرے-شخص-نے-اس-روایت-کے-ضعیف-ہونے-کا-دعوی-بھی-کیا-ہے-حضرت-درخواست-ہے-کہ-رہنمائی-فرمائیں-کہ-کیا-یہ-حدیث-صحیح-ہے-اور-اگر-صحیح-ہے-تو-کیا-ایسا-عمل-کرنا-جائز-ہے-جزاک-اللہ" class="wp-block-heading">سوال:ایک شخص نے حضرت مولانا سید سلمان صاحب ندوی دامت برکاتہم کے حوالہ سے جمعہ کے خطبہ میں یہ بات نقل کی ہے کہ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ کوئی شخص مسلمانوں میں تفرقہ بازی کرے تو اسے کھلی ماں بہن کی گالی دی جائے اور صراحت کے ساتھ، بنا جھجھک ایسا کیا جائے اس کی پوری اجازت ہے۔ اور اس کی دلیل میں حضرت مولانا سید سلمان ندوی دامت براکاتہم کی ویڈیو بھی دکھایا جس میں حضرت دامت برکاتہم نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے، اور یہ روایت پیش کی ہے: کما في حدیث أبي بن کعب عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال من سمعتموہ یتعزی بعزاء الجاہلیة فأعِضّوہ بھن أبیہ ولاتکنوا رواہ أحمد۔ اور پھر کسی دوسرے شخص نے اس روایت کے ضعیف ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ حضرت، درخواست ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اور اگر صحیح ہے تو کیا ایسا عمل کرنا جائز ہے؟ جزاک اللہ
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:431-475/B=5/1439
یہ حدیث شرح السنہ میں ہے، مشکاة شریف اور حدیث کی دیگر کتابوں میں بھی موجود ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا محدثین نے یہ مطلب بتایا ہے کہ جب اپنے نسب پر یعنی اپنے آباء واجداد پر فخر کرے اور دوسروں کو ذلیل سمجھے اور دوسروں کے نسب وبرادری پر طعن کرے تو تم اس سے کہو کہ تمہارے آباء واجداد بھی تو پہلے کافر ومشرک اور زانی وشراب خور تھے اور ان میں جاہلیت کی تمام برائیاں پائی جاتی تھیں، تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم اپنے نسب وحسب پر فخر کرو اور دوسروں کو حقیر وذلیل سمجھو۔ (حاشیہ مشکاة: ۴۱۸) موجودہ رواج کے مطابق اسے گالی بکنا مراد نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.