یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے ۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔
مگر دیکھنا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اس میدان میں سب سے آگے بڑھ گئے اور خدا نے آئیندہ کے متعلق بھی گواہی دیدی کہ آپ آئیندہ آنے والی نسلوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔
اخبار الفضل قادیان دار الامان 17 جولائی 1922 ۔ شمارہ نمبر 5 جلد نمبر 10
صفحہ نمبر 5 تیسرا کالم دوسرا پیرا
اصل عبارت یہاں دیکھیں
یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص
روحانی ترقی کا میدان ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے
بڑا درجہ پا سکتا ہے جتنی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولیم
سے بھی بڑھ سکتا ہے ۔ مگر دیکہنا یہ ہے کہ آنحضرت
اس میدان میں سب سے آگے بڑھ گئے۔ اور خدا کے
آئندہ کے متعلق بھی گواہی دیدی کہ آپ آئیندہ آنے
والی نسلوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ پیغامی ہیں
کہکر لوگوں کو ہمارے خلات بھٹو کا تے ہیں اس نے رسول کہ ہم کیئے
بعد امت محمدیہ میں نبی نہیں آ سکتا ہے ۔ اور مسیح موعود
ابو ہریرہ سے بھی کم درجہ کے ہیں۔ یہ دلیل اب تو لوگوں
کو ہمارے خلاف پھڑکا سکتی ہے ۔ مگر آئیندہ زمانہ میں
پینجا سیبت کر رکھا جانے والی ہوگی۔ کیونکہ اگر روحانی
ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھے
بھی فائدہ نہیں ۔ اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں۔ کہ ایک کو
بڑھا دیا جائے ۔ اور دوسروں کو ٹر پہنے نہ دیا جائے۔
بای خوبی یہ ہے کہ موقع سب کو دیا جائے پھر آگے
جوہر ہو جائے ۔
( 2 جون 1922 وقت عصر )

ایک اور عبارت اور اس کی وضاحت
روزنامہ الفضل قادیان دار الامان مورخہ 16 جون 1944
جلد نمبر 42 شمارہ نمبر 139
بلکہ اگر کوئی شخص مجھ سے
پوچھے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی بخش بینال
درجہ حاصل کر سکتا ہے ؟ تمہیں کہا کرتا ہوں خدا نے
اس مقام کا دورہ ازہ بھی بند نہیں کیا۔ گریم میرے
سامنے وہ آدمی لولا وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے
مقامات قریب کے حصول میں زیادہ صرفت اور میری
کے ساتھ اپنا قدم اُٹھانے والا ہو۔ ہو سکتا اور چیز ہے
اور ہونا اور چیز ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب آپ کے فرماتا ہے کہ تو
عیسائیوں سے کہا ہے کہ اگر خدا کا بیٹا ہوتا تو
میں سب سے پہلے اس کی عیادت کرنے والا
ہوتا ۔ اب اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ واقعہ میں۔
خدا کا کوئی بیٹا ہے۔ اسی طرح ہم یہ نہیں کہنے کو

دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جو محمدرسول اللہ صلی الشہ
ہو کر پینے درجہ میں آگے نکل گیا ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ
اگر میں صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی شخص پڑھنا چاہیے
تو پڑھ سکتا ہے ۔ خدا نے اس دروازے کو سید
نہیں کیا۔ مگر عملی حالت ہی ہے کہ کسی ماں نے
کوئی ایسابچہ نہیں جنا اور نہ قیامت تک کوئی ایسا بچہ
جن سکتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
بڑھ سکے ۔ وہ شخص جو روحانی میدان میں لنگڑا ہے۔
جود و قدم بھی صحیح طور پر انہیں چل سکتا ۔
قرب کا میزان
تو اس کے لئے بھی کھلا ہے مگر وہ کہاں برقی رفتار
انسانوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ
خدا کا کوئی بیٹیا ہے۔ اسی طرح ہم یہ نہیں کہنے کو

قرب کا میدان
تو اس کے لئے بھی کھلا ہے۔ مگر وہ کہاں برقی رفتار
اندانوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم تو وہ انسان میں جو ایک سیکنڈ میں
کروڑوں میں خدا تعالٰی ہے کے قریب میں بڑھ جاتے
ہیں۔ اور لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ سالوں
پھر بھی ایک منزل طے نہیں کر سکتے ۔ اُن کا اور
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ہی کیا ہے
نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ گیا۔
اور چین ہے ۔ اور بڑھ جاتا اور چیز سے محمد
حصلي القدر عالیہ وسلم حسین شان اور شرکت کے ساتھ
خدا تعالٰی کے خوب اس بڑھے میں اس شان او
شر گشت کے ساتھ کوئی بھی پڑھ کر دکھائے گا۔

تو پھر یہ سوال کبھی پیدا ہو سکتا ہے ۔ مگر جب کوئی
تحض میں ایسا نظر نہیں آتا جو محمد رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مقامات قرب
طے کر سکتا ہو۔ یا آئین رہ کر سکتا ہو۔ تو بہر حال
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے افضل
رہے ۔ وہی سب کے سردار اور وہی سب کے
آتا ہے ۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحیفہ
سے تو یقینیا انسان زیادہ قرب حاصل کر سکتا ہے
اور یقینا ان سے بڑھ سکتا ہے ۔ آخر حضرت
مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے بڑھ کر دکھا دیا
یا نہیں مگر یہ مقام محض مند کی لانگنان سے

مزید تفصیلات یہاں پڑھ سکتے ہیں
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.