الشافی ترجمہ اصول کافی جلد 4۔ محمد بن یعقوب کلینی شیعہ
شیعہ اثنا عشری یعنی بارہ اماموں کو ماننے والوں کی یہ بنیادی روایات کی 4 کتب میں سے ایک کا تیسرا حصہ ہے ۔ اصول کافی ، فروع کافی
حاصل مطالعہ اور حوالے
الشافی شرح اصول کافی ۔ باب دو سو پچھیسواں
تقیہ ۔
ص 143 ۔ تقیہ میں 90 حصے دین ہے ۔ ۔۔ ہر چیز میں تقیہ ہے
ص 144 ۔ تقیہ اللہ کا دین ہے ۔ یوسف نے قافلہ والوں کو چور کہا اللہ کی قسم وہ چور نہیں تھے ۔ ابراھیم نے کہا میں بیمار ہوں اللہ کی قسم وہ بیمار نہ تھے
۔ دنیا میں سب سے زیادہ مجھے تقیہ محبوب ہے ۔ امام غائب کے آنے پر تقیہ ختم ہو گا۔
۔ ص 145 ۔ تقیہ کا مطلب صریح جھوٹ ہے ۔ اپنے دشمن کو اپنا دوست ظاہر کرو
۔ میں کبھی سچ کہوں گا کبھی جھوٹ کہوں گا تو بعد والی بات پر عمل ہو ہم بھی جھوٹ بول کر تقیہ کرتے ہیں
۔ ص 146 ۔ اگر کوئی کہے کہ مجھے گالی دو تو گالی دے دو ۔ علی
۔ عمار بن یاسر نے قتل سے بچنے کے لیے جھوٹ بول دیا
۔ ص 147 ۔ تقیہ میرا اور میرا آبا کا دین ہے جو تقیہ نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں ( وہ کافر ہے ۔ میر )
۔ تقیہ ہر بات میں ہمیشہ کرو
۔ ص 148 ۔ جب وقت ظہور امام غائب قریب ہو تو اور سختی سے تقیہ کرو
۔ ص 149 ۔ ظاہر میں کچھ اور کرو باطن میں کچھ اور ( یعنی تقیہ پکا منافق بن جانا ہے ۔ میر )
ص 150 ۔ دوسو چھبیسواں باب ۔ راز کو چھپانا ۔ باب الکتمان
ص 150 ۔ جو جھوٹ بول کر چھپائے اسے عزت اور ظاہر کرنے والے کو عزت ملتی ہے
ص 151 ۔ جو ہماری روایت کرے اس پر قرآن سے دو دلیلیں دو
۔ ہماری امامت کو لوگوں سے چھپا کر رکھو ( تقیہ اور جھوٹ بولو ۔ میر )
۔ مخالفوں سے دوستی ظاہر کرو
۔ ناصبی ہمارا دشمن ہے اور جس کی دلیل موجودہ قراان میں نہیں وہ بیان کرنے والا ناصبیوں سے بد تر ہے
۔ ص 152 ۔ ابوحنیفہ اور حسن بصری کے ماننے والے ان کے غلط فتووں پر عمل کرتے ہیں ۔
۔ میں علم ما کان و ما یکون رکھتا ہوں ( علم غیب بلا وحی ؟ نبوت میر )
ص 153 ۔ ہماری بات کو ظاہر کرنے والا اسے اللہ زلیل کرے گا۔
۔ تقیہ میرے اکابر کا اور میرا دین ہے جس تقیہ نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں ֫
۔ اللہ نے محمد ﷺ کو ماکان و مایکون کا علم دیا اور وہ علی کو اور اہل بیت کو دیا گیا
۔ ہماری حدیث شائع نہ کرو
۔ ص 155۔ بنی عباس کے حکام فرعون ہیں
۔ ص 156 امام غائب کے آنے تک لڑائی نہ کرو اپنے عقیدے چھپاؤ ۔ زیدیہ اگر جہاد کرتے ہیں تو ان کو مصیبت میں چھوڑ دو ساتھ نہ دو
۔ ص 156۔ امام غائب کے ظاہر ہونے تک تقیہ کرو ورنہ زلیل ہو جاؤ گے
ص 157 ۔ تقیہ کرنا جہاد فی سبیل اللہ ہے
فہرست ص 7
ص 277 ۔ 259 واں باب ۔ بزاء زبان درازی ۔ گالیاں
ص 277 ۔ فحش گو کی پیدائش میں شیطان جماع میں شریک تھا ۔ یا وہ حرامزادہ ہے ۔ ( زنا زادہ )
ص 278 ۔ جو گالی دے وہ زنازادہ ہے یا اس کے نطفہ میں شیطان شریک ہے
ص 279 ۔ ایک امام کے دوست نے کسی کو حرامزادہ کہا تو امام نے کہا کہ میں تمہیں پرہیز گار سمجھتا تھا لیکن میں غلط تھا ۔ ( علم غیب کہاں گیا ؟ میر )
۔ غیر مسلموں کے نکاح بھی جائز ہیں
۔ ص 279 ۔ بدترین بندہ وہ ہے جس کی بدزبانی کی وجہ سے اس کی مجالست مکروہ ہوتی ہے
۔ ص 280 ۔ بدزبان منافق ہے
ص 281 ۔ عاشئہ رض کی حدیث جب ایک قوم کا فحش گو بندہ آیا ( یہ سنی صحیح حدیث بھی ہے )
باب دو سو اکسٹھ واں باب ۔ 261 ۔ بغاوت
ص 282 ۔ بغاوت جہنم میں لے جاتی ہے اور یہ شر ہے
۔ ایک عجیب عورت 20 انگلیاں ہر انگلی کے 2 ناخن ۔
ص 298 ۔ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے
۔ جھوٹ بولنے سے مراد اللہ رسول اور اماموں پر جھوٹ بولنا ہے
ص 299 ۔ جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ۔
ص 301 ۔ یوسف نے کہا قافلہ چور ہے حالانکہ وہ چور نہ اور یہ جھوٹ بھی نہیں ۔ ابراھیم نے کہا کہ میں بیمار ہوں حالانکہ وہ بیمار نہیں تھے ۔
۔ اصلاح کی غرض سے جھوٹ بولنا جائز ہے
۔ ص 301 ۔ تین جھوٹ حلال ہیں ۔ دشمن سے جنگ میں ۔ لوگوں کی اصلاح کے لیے ۔ اپنے اہل سے وعدہ کر کے پورا نہ کر سکے تو جھوٹ بولے
۔ ص 303 ۔ یوسف اور ابراھیم ؑ کی غلط بیانی جھوٹ نہیں تھی ۔ قرآن لسارقون ۔ بل فعلہ کبیرھم
باب 268 ۔ منافق دو زبانوں والا
۔ دو زبانوں والا قیامت کو آگ کی دو زبانوں کے ساتھ اٹھے گا
۔ ص 303 ۔ عیسیٰ کو اللہ وحی ( حوالہ ؟ )
ص 314 ۔ میں اپنے اولیاء کی مدد پر قادر ہوں ۔ ( امام ولی اللہ نہیں تھے ؟ جہاد ہی نہیں کیا ۔ میر )
ص 325 ۔ گالی باز ۔ باب 279
۔ سباب المومن فسوق و قتالہ کفر ۔ مومن کو گالی دینا فاسق بناتا ہے اور مومن کا قاتل کافر ہے
ص 326 ۔ گالی دینے میں پہل کرنے والا ظالم ہے ۔ اسے چاہیے مظلوم سے معافی مانگے
۔ جو دوسرے کو کافر کہے تو دونوں میں سے ایک کافر ہو گا ( فتویٰ کفر )
۔ لعنت اپنے مستحق کو ہی پہنچتی ہے
ص 327 ۔ جو کسی کو اپنا دشمن کہے کافر ہو جائے گا
ص 353 ۔ باب 293 ۔ کفر
ص 354 ۔ جو اللہ کی نافرمانی کرے اور گناہ کبیرہ پر آمادہ ہو وہ کافر ہے ۔ جو شیعہ کے علاوہ کوئی فرقہ بنائے وہ مشرک ہے ۔ کفر انکار ہے اور شرک سے بڑا
ص 355 ۔ جس نے علی سے جنگ کی وہ مشرک تھے ۔ کفر شرک سے بد تر ہے ۔ اللہ کا نافرمان کافر ہے
ص 358 ۔ زانی کافر نہیں لیکن تارک نماز کافر ہے کیونکہ اللہ کے حکم کی تحقیر کرتا ہے
ص 360 ۔ علی ھدایت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
ص 361۔ جو امام کی ولایت کا اقرار کرے وہ جنتی اور جو ان سے عداوت رکھے جہنمی ہے
ص 362 ۔ وجوہ کفر ۔ کفر کی وجوہات قرآن سے
ص 364 ۔ باب 295 کفر کے ستون اور شاخیں
ص 365 ۔ کفر کی بنیاد چار ارکان پر ہے فسق، غلو، شک و شبہ
ص 366 ۔ باب 296 ۔ صفت نفاق و منافق
ص 369 ۔ منافق نہ مومن ہے نہ کافر نہ مسلمان ۔ ایمان کو ظاہر کرتے ہیں اور عمل کافروں کا سا
ص 370 ۔ باب 297 ֫شرک
۔ جو کھجور کی گٹھلی کو پتھر کہے وہ بھی مشرک ہے
ص 370 ۔ جو نئی بات رائے سے ظن یا قیاس سے کرے اور محب یا بغض میں استعمال کرے وہ مشرک ہے
ص 371 ۔ جو شیعہ امام کے علاوہ کسی کو امام مانے وہ بھی مشرک ہے
اللہ نے ہماری اماموں کی اطاعت کا حکم دیا ہے ( تقیہ کے عقیدے چھپانے ہیں تو اطاعت کیسے ہو گی ؟ میر )
ص 372 ۔ جو اللہ کے علاوہ کسی کی بات مانے وہ مشرک ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے