تیسری دلیل ۔ الذين آتيناهم الكتاب يعرفونه كما يعرفون ابناءهم وان فريقا منهم ليكتمون الحق وهم يعلمون ۔ البقرہ 146
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(البقرۃ: ۱۴۷) کہ نبی کو اس طرح سے پہچا نتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹے کو ۔
گویا جس طرح بیوی کی پاکیزگی خاوند کے لئے اس امر کی دلیل ہوتی ہے کہ پیدا ہونے والا اس کا ہی بچہ ہے ۔ اسی طرح مدعی نبوت کی قبل از دعویٰ پاکیزگی اس کے دعویٰ کی صداقت پر دلیل ہوتی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کاچیلنج اور محمد حسین بٹالوی کی شہاد ت دیکھو دلیل نمبر ۱ میں۔
چوتھی دلیل ۔ قالوا يا صالح قد كنت فينا مرجوا قبل هذا اتنهانا ان نعبد ما يعبد آباؤنا واننا لفي شك مما تدعونا اليه مريب ۔ ہود 62
قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ
’ ‘‘ کہ جب صالح علیہ السلام نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ان کی قوم نے کہا کہ اے صالح ؑ ! آج سے پہلے تیرے ساتھ ہماری بڑی بڑی امیدیں وابستہ تھیں ۔ تجھ کو کیا ہو گیا کہ تُو نبی بن بیٹھا ۔ (ہود:۶۳)
گویا جب نبی ابھی دعویٰ نہیں کرتا تو قوم اس کی مداح ہوتی ہے مگر جب دعویٰ کر دیتا ہے تو (القمر:۲۶)کہنے لگ جاتے ہیں ۔ کہ یہ اوّل درجہ کا جھوٹا اور شریر ہے ۔
ایک شُبہ کا ازالہ
بعض غیر احمد ی کہا کرتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی یا مولوی ثنا ء اﷲ صاحب نے حسنِ ظن کا اظہار کیا تو وہ بھی اسی طرح غلط تھا ۔ جس طرح خود مرزاصاحب کا خوا جہ کمال الدین اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کے متعلق اندازہ ان کی بعد کی زندگی سے غلط ہو گیا۔
الجواب: ۔ یہ قیاس مع الفارق ہے ۔
ہماری دلیل تو یہ ہے کہ جو مدعی ٔ نبوت ہو اس کی پہلی زندگی کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے ۔ نیز یہ کہ مخالفین کی بھی اس سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ۔ ہم نے کب کہا ہے کہ جس کی زندگی کے متعلق کسی کو حسن ظن ہو وہ ضرور نبی ہوتا ہے ۔ خواہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے ۔
حیرت ہے کہ مخالفین کی عقلیں حق کی مخالفت کے باعث اس قدر مسخ ہو چکی ہیں کہ وہ اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ کیا خوا جہ کمال الدین یا مولوی محمد علی صاحبان نے نبوت کا دعویٰ کیا؟ اگر نہیں تو پھر ان کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام کے اظہار خیال کو پیش کرنا بے معنی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خواجہ صا حب اور مولوی محمد علی صاحب کی تعریف کی ہے تو وہ بالکل ویسی ہی ہے جیسی کہ بیعت رضوان والوں کے متعلق آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ ’’شما بہترین از روئے زمین اند‘‘ کہ تم دنیا کے بہترین انسان ہو ۔ مگر ان میں سے اجد بن قیس بعد میں مرتد ہو گیا تھا ۔
لیکن اجد بن قیس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ان لوگوں نے یہاں نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔ جن کا نام تم لیتے ہو ۔
چھٹی دلیل ۔ قل يا ايها الذين هادوا ان زعمتم انكم اولياء لله من دون الناس فتمنوا الموت ان كنتم صادقين ۔ جمعہ 6
قُلْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
یعنی یہودی کہتے ہیں کہ ہم خدا کے دوست ہیں۔ اور یہ کہ خدا ہم سے پیار کرتا ہے۔ () فرمایا۔ ان سے کہہ دو کہ اے یہودیو! اگر تم اپنے آپ کو خدا کے دوست سمجھتے ہو تو اپنے لئے بد دعا کرو، موت کی تمنا کرو۔ مگر یاد رکھو کہ یہ لوگ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ یہ اپنی بداعمالیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور خدا ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ برے اعمال کرنے والے ظالم لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا کے دوست ہیں وہ موت کی تمنا نہیں کرتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں
اے قدیر و خالقِ ارض و سما
5اے رحیم و مہربان و راہ نما
9اے کہ مے داری تو بر دلہا نظر
7اے کہ از تو نیست چیزے مستتر
=گر تو مے بینی مرا پُر فسق و شر
9گر تو دیداستی کہ ہستم بد گہر
1پارہ پارہ کن من بدکار را
3شاد کن این زمرۂ اغیار را
5آتش افشاں بر در و دیوار من
7دشمنم باش و تباہ کن کارِ من
yمگر اس کے باوجود آپ کی جماعت نے ترقی کی۔ آپ کو خدا نے لمبی عمر عطا فرمائی اور اپنے دعویٰ کی تبلیغ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اولاد بڑھی۔ اور ہر قسم کے روحانی جسمانی فوائد حضور کو حاصل ہوئے۔
غیر احمدی:۔ ابوجہل نے بھی کی بد دعا کی تھی۔ (الانفال:۳۳)
جواب: سورۃ الجمعہ کی آیت میں تو یہ مذکور ہے کہ وہ شخص بد دعا نہیں کرتا جو خود اپنی ذات کے متعلق کوئی دعویٰ رکھتا ہو۔ مثلًا یہ کہتا ہو کہ خدا تعالیٰ میرا دوست ہے یا مجھ سے محبت کرتا ہے۔ یا اس نے مجھے مامور کیا ہے۔ مگر یہ کہنا کہ اے خدا! اگر قرآن سچا ہے تو مجھ پر عذاب آئے۔ یہ ایسی ہی بد دعا تھی جس طرح ایک بچہ اپنی نادانی سے آگ کے کوئلے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے مگر خدا تعالیٰ سزا ہمیشہ اتمامِ حجت کے بعد ہی مقرر فرمایا ہے۔
۲۔ یہ بد دعا ابوجہل نے کی تھی۔ جیسا کہ بخاری کتاب التفسیر باب و اذ قالوا اللھم ان کان ھٰذا ھوالحق میں مذکور ہے اور ابوجہل جنگ بدر میں مقتول ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس جنگ کے متعلق کا ارشاد فرمایا ہے۔ گویا کفار اُن آسمانی پتھروں کے ساتھ ہلاک کئے گئے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔ ابوجہل بھی انہیں کافروں میں سے تھا۔ اس نے ڈبل بد دعا کی تھی۔ (۱) (۲)۔ پہلی بد دعا کے مطابق وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ سے نکلے ہوئے آسمانی پتھروں کا نشانہ بنا اور ہلاک ہوا۔ اور دوسری بد دعا کے مطابق وہ مقتول ہوا۔ اور قرآن مجید نے مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارے جانے کو عذاب قرار دیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا۔ (التوبۃ:۱۴)کہ کافروں کو قتل کرو۔ خدا چاہتا ہے کہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے پس ابوجہل کی بد دعا کے مطابق خدا نے اس کو ڈبل ہی سزا دی۔ گویا آسمانی پتھر بھی اس پر پڑے اور عذاب الیم بھی آیا۔ یاد رہے کہ آیت (الانفال:۳۴) میں یہ صرف وعدہ تھا کہ جب تک آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ میں ہیں ان پر عذاب نہیں آئے گا، لیکن جب حضورؑ بعد از ہجرت مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو اس کے بعد ابوجہل اور اس کے ساتھیوں پر عذاب آیا۔ سے مراد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا مکہ میں موجود ہونا ہے۔
ساتویں دلیل ۔ فانجيناه واصحاب السفينة وجعلناها آية للعالمين ۔ العنکبوت 15
فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ
کہ ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھ کشتی میں بیٹھنے والوں کو بچا لیا۔ اور اس بچنے کو تمام جہان کے لئے بطور صداقتِ نوح علیہ السلام نشان مقرر کیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہند میں سخت طاعون پڑی اور پنجاب میں بھی بشدّت آئی۔ مگر حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے۔ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ وَ اُحَافِظُکَ خَاصَۃً (الہام ۱۹۰۲ء نزول المسیح روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۴۰۱) کہ میں ان تمام لوگوں کو جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے طاعون سے محفوظ رکھوں گا۔ خاص کر تیری ذات کو۔ چنانچہ آج تک حضور علیہ السلام کے گھر کے اندر کبھی کوئی چوہا بھی نہیں مرا۔ لہٰذا آپ کی صداقت ثابت ہے اور حضور علیہ السلام خود بھی طاعون سے اس تحدی کے باوجود محفوظ رہے۔
قادیان میں طاعون پڑنے کے متعلق تفصیل دوسری جگہ ’’پیشگوئیوں پر غیر احمدی علماء کے اعتراضات کے جواب‘‘ میں درج ہے۔ اس جگہ صرف اتنا بیان کرنا ضروری ہے کہ حضرت اقدسؑ نے کہیں بھی نہیں لکھا کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی۔ بلکہ ’’دافع البلاء‘‘ میں تو صاف لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون تو آئے گی مگر طاعون جارف یعنی بربادی بخش نہیں آئے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
نوٹ:۔ بے شک ایمان کامل والوں کو بھی اس وعدہ میں شامل کیا گیا ہے، لیکن کامل اور ناقص ایمان والوں میں امتیاز مشکل ہے۔ مگر ظاہری مکان کی چار دیواری میں رہنے والوں کے لئے کامل ایمان کی شرط نہیں۔ لہٰذا اسی کو اس جگہ دلیل صداقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جس کا تمہارے پاس سوائے بہانہ سازی کے کوئی جواب نہیں۔
نویں دلیل ۔ ظهر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدي الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون ۔ الروم 41
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
وآخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحكيم ۔ الجمعہ 3
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
کہ نبی اس وقت آتا ہے جب دنیا پر کفر و ضلالت کی گھنگھور گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔ اختلافات پھیل جاتے ہیں۔ روحانیت مر جاتی ہے فسق و فجور عام ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ زمانہ کی حالت کے متعلق شہادتیں ملاحظہ ہوں:۔
۱۔ ’’سچی بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے قرآن مجید بالکل اٹھ چکا ہے۔ فرضی طور پر ہم قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر واﷲ دل سے معمولی اور بہت معمولی اور بے کار کتاب جانتے ہیں۔‘‘
(اہلحدیث ۱۴؍ جون ۱۹۱۲ء)
۲۔ ’’اب اسلام کا صرف نام، قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے۔ مسجدیں ظاہر میں تو آباد ہیں لٰکن ہدایت سے بالکل ویران ہیں علماء اس اُمت کے بدتر ان کے ہیں۔‘‘
(اقتراب الساعۃ از نواب نور الحسن خان صفحہ ۱۲)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے:۔
’’نہ صرف یہ کہ میں اس زمانہ کے لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں بلکہ خود زمانہ نے مجھے بلایا ہے۔‘‘
(پیغام صلح۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۸۷)
جہاں میں چار سو گمراہیاں ہیں زمانہ خود ہی ہے طالب نبی کا
(خادم)
دسویں دلیل ۔ ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب بآياته انه لا يفلح الظالمون ۔ الانعام 6
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
کہ اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا خدا کی آیات کا انکار کرے اور خدا ان ظالموں کو کامیاب نہیں کرتا۔ (نیز دیکھو یونس:۷۰ و النحل:۱۱۷)
ع کبھی نصرت نہیں ملتی درِ مولیٰ سے گندوں کو
پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے مقصد میں کامیاب ہونا آپ کی صداقت کی زبردست دلیل ہے۔
تیرھویں دلیل ۔ الایات بعد الماتین ۔ مشکوٰۃ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ
اَلْاٰیَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِ
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْاٰیَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِ۔‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ) کہ مسیح و مہدی کے ظہو ر کی نشانیاں بارھویں صدی کے گزرنے پر ظاہر ہوں گی۔ چنانچہ ہم نے جو معنے کئے ہیں۔ حضرت ملا علی قاری نے بھی ان کی تائید کی ہے۔ وَیَحْتَمِلُ اَنْ یَّکُوْنَ اللَّامُ فِی الْمِأَتَیْنِ لِلْعَھْدِ اَیْ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِ بَعْدَ الْاَلْفِ وَھُوَ الْوَقْتُ لِظُھُوْرِ الْمَھْدِیِّ۔‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ۔نیز دیکھو حاشیہ ابن ماجہ جلد ۲ صفحہ ۲۶۱ مصری حاشیہ علامہ سندھی) کہ ممکن ہے اَلْمِأَتَیْنِ کا الف لام اس عہد کے لئے ہو جو ایک ہزار کے دو سو سال بعد کا ہے (یعنی ۱۲۰۰) اور وہی وقت ظہور مہدی کا ہے۔
چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی اپنی کتاب حجج الکرامہ صفحہ ۴۱ وصفحہ ۳۹۴ و صفحہ ۳۹۵ مطبع شاہجہانی بھوپال پر بہت سی روایات نقل کر کے یہی نتیجہ نکالا ہے۔ کہ مہدی تیرھویں صدی میں نازل ہونا چاہیے۔
نواب نور الحسن خاں لکھتے ہیں۔ ’’اس حساب سے ظہور مہدی کا شروع تیرھویں صدی پر ہونا چاہیے تھا مگر یہ صدی پوری گزر گئی مہدی نہ آئے۔ اب چودھویں صدی ہمارے سر پر آئی ہے۔ اس صدی سے اس کتاب کے لکھنے تک چھ مہینے گزر چکے ہیں۔ شاید اﷲ تعالیٰ اپنا فضل و عدل رحم و کرم فرمائے۔ چار چھ برس کے اندر مہدی ظاہر ہو جاویں۔‘‘
(اقتراب الساعہ از نواب نور الحسن خان صاحب صفحہ ۲۲۱ مطبع مفید عام الکائنۃ فی الرواۃ)
’’بَعْدَ الْمِأَتَیْنِ‘‘کے رو سے بارھویں صدی کے ختم ہونے پر تیرھویں صدی میں امام مہدی کا پیدا ہونا ضروری تھا۔ ایسے وقت میں کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر چالیس سال کا ہو کر دعویٰ کر سکے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ مہدی بارہویں صدی میں پیدا ہو۔ کیونکہ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِمیں لفظ بعد بتاتا ہے کہ وہ بارہویں صدی کے ختم ہونے سے پہلے پیدا نہیں ہو سکتا۔ پھر اس و جہ سے کہ امام مہدی نے اپنی صدی کا مجدد ہونا تھا اسلئے اسے تیرھویں صدی میں ایسے وقت میں پیدا ہونا تھا کہ اگلی صدی کے سر پر اس کی عمر چالیس سال کی ہو۔ پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں جو ۱۴؍ شوال ۱۲۵۰ھ مطابق ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء بروز جمعہ پیدا ہوئے اور ۱۲۹۰ھ کو چودھویں صدی کے سر پر آپ عین چالیس برس کی عمر میں شرفِ مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہو کر دعویٰ مہدویت کے ساتھ ظاہر ہوئے اور عین چودھویں صدی کے سر پر آپ نے دعویٰ کیا۔ گویا حدیث اور روایات کے عین مطابق آپؑ دنیا میں تشریف لائے۔ سچ ہے
وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اَور ہی آیا ہوتا!
(مسیح موعود ؑ)
چودھویں دلیل ۔ ان لمھدینا ایتین لم تکونا منذ خلق السموت والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ۔
(دار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ الصلوٰۃ الخسوف)
اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا اٰیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ
کہ ہمارے مہدی کی صداقت کے دو نشان ہیں۔ اور یہ صداقت کے دونوں نشان کبھی کسی کے لئے جب سے دنیا بنی ہے ظاہر نہیں ہوئے۔ رمضان میں چاند کو (چاند گرہن کی راتوں میں سے) پہلی رات کو اور (سورج گرہن کے دنوں میں سے) درمیانے دن کو سورج کو گرہن لگے گا۔
چنانچہ یہ گرہن ۱۸۹۴ء میں لگا۔ یعنی چاند کی ۱۳۔۱۴۔۱۵ تاریخوں میں سے ۱۳ تاریخ کو رمضان کے مہینہ میں چاند (قمر) کو اور ۲۷۔۲۸۔۲۹ تاریخوں میں سے ۲۸ تاریخ کو ماہ رمضان میں سورج کو گرہن لگا۔
رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن لگنا حدیث شریف میں مراد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے لفظ ’’قمر‘‘ بولا ہے اور ’’قمر‘‘ پہلی تین راتوں کے بعد کے چاند کو کہتے ہیں۔ پہلی رات کے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔
یُسَمَّی الْقَمَرُ لِلَیْلَتَیْنِ مِنْ اَوَّلِ الشَّھْرِ ھِلَالًا…… قَالَ الْجَوْھَرِیُّ اَلْقَمَرُ بَعْدَ ثَلَاثٍ اِلٰی اٰخِرِ الشَّھْرِ…… قَالَ ابْنُ السَّیْدَۃِ…… وَ الْقَمْرُ یَکُوْنُ فِی لَیْلَۃِ الثَّالِثَۃِ مِنَ الشَّھْرِ۔‘‘
(لسان العرب زیر لفظ قمر)
کہ جوہری کہتا ہے کہ قمر وہ ہوتا ہے جو دوسری رات کے بعد کا چاند ہو۔ اور اسی طرح ابن سیدہ نے بھی کہا ہے کہ مہینہ کی تیسری رات کو چاند قمر ہو جاتا ہے۔
۲۔ ’’وَھُوَ قَمَرٌ بَعْدَ ثَلَاثِ لَیَالٍ اِلٰی اٰخِرِ الشَّھْرِ وَ اَمَّا قَبْلُ ذَالِکَ فَھُوَ ھِلَالٌ۔‘‘
( منجد زیر لفظ قمر)
کہ تین راتوں کے بعد چاند قمر ہو جاتا ہے اور اس سے پہلے جو چاند ہوتا ہے اس کو ہلال کہتے ہیں۔ پس حدیث میں اول اور درمیانے سے مراد وہی ہو سکتی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ اس کا پورا ہونا خود اس کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔
۳۔ اس حدیث کو دار قطنی نے نقل کیا ہے جو خود ایک بڑا عالم اور علمِ حدیث میں یگانہ تھا۔ جیسا کہ ضمن نمبر ۱۲ میں نخبۃ الفکر کے حوالہ سے بتایا گیا ہے۔
(شرح نخبۃ الفکر للقاری۔ الموضوع جزء نمبر۱ صفحہ ۴۳۶)
نوٹ:۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس حدیث کی صحت کے متعلق خوب مفصل بحث ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں تحریر فرما دی ہے۔ وہاں سے دیکھی جائے۔
چاند کو یہ گرہن ۲۱؍ مارچ ۱۸۹۴ء کو لگا۔ دیکھو اخبار آزاد ۴؍ مئی ۱۸۹۴ء۔ نیز سول اینڈ ملٹری گزٹ ۶؍ اپریل ۱۸۹۴ء۔
۳۔ یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جاتی ہے۔ جس سے اس کی صحت کا پتہ چلتا ہے۔
(۱) دار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ الصلٰوۃ الخسوف۔
(۲) فتاویٰ حدیثیہ حافظ ابن حجر مکیؒ۔ مصنفہ علامہ شیخ احمد شہاب الدین ابن حجر الہیتمی مطلب فی علامۃ خروج المہدی و ان القحطانی بعد المہدی ۔
(۳) احوال الآخرۃ حافظ محمد لکھوکے صفحہ ۲۳ مطبوعہ ۱۳۰۵ھ۔
(۴) آخری گت مصنفہ مولوی محمد رمضان حنفی۔ مجتبائی مطبوعہ ۱۲۷۸ھ
(۵) حجج الکرامہ صفحہ ۳۴۴۔ مؤلفہ نواب صدیق حسن خان صاحب۔مطبع شاہجہانی واقع بلاہ بھوپال
(۶) عقائد الاسلام مصنفہ مولانا عبد الحق صاحب محدث دہلوی صفحہ ۱۸۲،۱۸۳ مطبوعہ ۱۲۹۲ھ
(۷) قیامت نامہ فارسی و علاماتِ قیامت اردو مصنفہ شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی۔
(۸) اقتراب الساعۃ نواب نور الحسن خان صفحہ ۱۰۶ و ۱۰۷ مطبوعہ ۱۳۰۱ھ۔
(۹) مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی جلد ۲ صفحہ ۱۳۲ مکتوب نمبر ۶۷
(۱۰) اکمال الدین صفحہ ۳۶۹ از شیخ الطائفہ صدوق علیہ الرحمۃ جلد دوم مطبوعہ کتاب فروشی تہران۔
(۱۱) حجج الکرامہ میں لکھا ہے کہ نعیم بن حماد، ابو الحسن خیری، حافظ ابو بکر بن احمد اور بیہقی اس کے راوی ہیں (صفحہ ۳۴۴)
(۱۲)علاوہ ازیں یہ حدیث دار قطنی کی ہے اور دار قطنی اس بلند پایہ کا محدث ہے کہ شرح نخبۃ الفکر میں لکھا ہے:۔ قَالَ الدَّارُ قُطْنِیْ یَا اَھْلَ بَغْدَادَ لَا تَظُنُّوْا اَنَّ اَحَدًا یَقْدِرُ اَنْ یَّکْذِبَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَاَنَا حَیٌّ۔ (شرح نخبۃ الفکر للقاری ۔ الموضوع جزء نمبر ۱ صفحہ ۴۳۶)
کہ امام دار قطنی نے فرمایا کہ اے اہل بغداد! یہ خیال نہ کرو کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی حدیث منسوب کر سکتا ہے جبکہ میں زندہ ہوں۔
اٹھارہویں دلیل ۔ ثم نبتهل فنجعل لعنت الله على الكاذبين ۔ آل عمران 61
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ کہ اگر مخالفین باوجود زبردست دلائل اور عظیم الشان نشانات کے پھر بھی خدا کے فرستادہ پر ایمان نہ لائیں تو آخری طریقِ فیصلہ ’’مباہلہ‘‘ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین اپنے جھگڑے کو اس احکم الحاکمین خدا کی عدالت میں لے جائیں جو اپنے فیصلہ میں غلطی نہیں کرتا۔ چنانچہ فرماتا ہے۔
۔(اٰل عمران:۶۲)
کہ اگر یہ لوگ باوجود دلائل بیّنہ اور براہین قاطعہ کے پھر بھی نہیں مانتے تو ان سے کہہ دے کہ آؤ! ہم دونوں فریق اپنے اہل و عیال اور جماعت کو لے کر خدا کے سامنے دعائے مباہلہ کریں اور جھوٹے پر *** اﷲ کہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے منکرین نے بھی جب باوجود دلائلِ بیّنہ کے آپ کی مخالفت کو نہ چھوڑا تو آپ نے ان کو مباہلہ کا چیلنج دیا لیکن حق کی کچھ ایسی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہوئی کہ بجز فرار کے ان کو کوئی چارہ کار نظر نہ آیا۔ اس پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔ ’’لَمَّا حَالَ الْحَوْلُ عَلَی النَّصَارٰی حَتّٰی یَھْلِکُوْا کُلُّھُمْ‘‘ (تفسیر کبیر از امام فخر الدین رازیؒ جلد ۲ صفحہ ۱۹۹ زیر آیت مذکور) کہ اگر وہ مباہلہ کرتے تو ایک سال کے اندر سب کے سب ہلاک ہو جاتے۔ پس مذہبی اختلافات کے لئے آخری فیصلہ ’’مباہلہ‘‘ ہے۔ فریقین احکم الحاکمین خدا کی عدالت سے صحیح اور سچے فیصلے کے لئے ملتجی ہوتے ہیں اور وہ ایک سال کے اندر جھوٹے کو برباد کر کے حق اور باطل میں ابدی فیصلہ صادر فرما دیتا ہے۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے پیارے آقا و سردار محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس سنت پر عمل کیا اور جب دلائل عقلی و نقلی اور نشانات ارضی و سماوی غرضیکہ ہر طریق سے ان پر اتمامِ حجت ہو چکی تو آپ نے ان کو آخری طریق فیصلہ (مباہلہ) کی طرف بلایا اور تحریر فرمایا:۔
’’سو اب اٹھو اور مباہلہ کیلئے تیار ہو جاؤ۔ تم سن چکے ہو کہ میرا دعویٰ دو باتوں پر مبنی تھا۔ اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر۔ دوسرے الہامات الٰہیہ پر۔ سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا توڑ کر پھینک دے۔ اب میرے بناء دعویٰ کا دوسرا شق باقی رہا۔ سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رد نہیں کرسکتا کہ اب اس دوسری بناء کے تصفیہ کیلئے مجھ سے مباہلہ کر لو۔‘‘ (انجام آتھم، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۶۵)
اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گااور دعا کروں گا کہ یا الٰہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میر اہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے۔ یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آ جائے۔ تامیری ذلت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔ اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔ لیکن اے خدائے علیم و خبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں۔ اور تیرے منہ کی باتیں ہیں۔ تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر۔ کسی کو اندھا کردے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا۔ اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔ اور جب میں یہ دعا کرچکوں تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔ ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہریک شخص جو مباہلہ کیلئے حاضر ہو جناب الٰہی میں یہ دعا کرے………… اور یہ دعا فریق ثانی کر چکے تو دونوں فریق کہیں ’’آمین‘‘۔ اس مباہلہ کے بعد اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا۔ یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہو گیا جس میں جانبری کے آثار نہ پائے جائیں۔ تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے۔ اور میں ہمیشہ کی *** کے ساتھ ذکر کیا جاؤنگا۔ لیکن اگر خدا نے ایک سال تک مجھے موت اور آفاتِ بدنی سے بچا لیا اور میرے مخالفوں پر قہر اور غضب الٰہی کے آثار ظاہر ہو گئے اور ہر ایک ان میں سے کسی نہ کسی بلا میں مبتلا ہو گیا اور میری بددعا نہایت چمک کے ساتھ ظاہر ہو گئی تو دنیا پر حق ظاہر ہو جائے گا۔ اور یہ روز کا جھگڑا درمیان سے اٹھ جائے گا۔‘‘
آپ ؑ نے یہاں تک لکھا کہ:۔
’’میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہوجائیں۔ اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اگرچہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر توبہ کروں گا۔ ‘‘ (انجام آتھم، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۶۷)
یہ دعوت مباہلہ تحریر فرما کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالف علماء کو نہایت غیرت دلانے والے الفاظ میں مخاطب فرمایا۔
’’گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی *** اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے ۔‘‘ (انجام آتھم، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۶۷)
یہ وہ آخری طریق فیصلہ تھا جس کے لئے حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ بالا پُرشوکت الفاظ میں اپنے مکفر علماء کو دعوت دی۔ رسالہ ’’انجام آتھم‘‘ ان کو بذریعہ رجسٹری بھیجا گیا۔ مگر ان میں سے ایک بھی میدان میں نہ آیا۔
انیسویں دلیل ۔ ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا ۔ مسلم باب نزول عیسیٰؑ
وَلَیُتْرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا
کہ مسیح موعودؑ کے زمانہ میں اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی اور ان پر تیز سفر نہیں کیا جائے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑ ایسے زمانہ میں آئے گا جبکہ ایسی ایسی سواریاں ایجاد ہوں گی کہ جن کے باعث اونٹنیاں لمبے اور جلدی کے سفروں میں متروک ہوجائیں گی۔ باربرداری یا معمولی مسافت کا کام اگر انٹوں سے لیا جاتا رہے تو وہ خلافِ حدیث نہیں کیونکہ یہ امر عقلاً محال ہے کہ کسی وقت کلّی طور پر سب کی سب اونٹنیاں بیکار کردی جائیں۔ حدیث میں ’’فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا ‘‘ کے الفاظ واضح ہیں۔ اور قرآن مجید میں ’’‘‘ کا لفظ ہے جس کے معنی حاملہ اونٹنی کے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی ایسی اعلیٰ سواریاں نکل آئیں گی کہ ہر سفر کے لیے اونٹوں کا لابدی ہونا باقی نہ رہے گا۔ یعنی جیسا کہ زمانہ قدیم میں شدّتِ ضرورت کے ماتحت حاملہ اونٹنیوں کو بھی کام کاج اور مشقت سے مستثنیٰ نہیں کیا جاتا تھا اب اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ایسا نہ ہوگا۔ نیز اس حدیث نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ قرآن مجید کی آیت ’’‘‘ بھی زمانۂ مسیح موعود کے متعلق ہے۔ کیونکہ َلَیُتْرَکُنَّ الْقِلَاصُ والی حدیث صریح طور پر مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق ہے۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.