تفسیر سورت الجمعہ ۔ حکیم مولوی نور الدینؓ

tafsirsurahjumuah_0000

تفسیر سورت الجمعہ ۔ حکیم مولوی نور الدینؓ

مجھے اس سالہ سے متعلق کچھ کہنے کی خصوصا احمدی جماعت کے ترغیب یاری کیلئے مطلق ضرورت بند می کند و محض فضل خدا وند کریم طفیل سیدنا بنا نے مسیح موعود لو من الله الاحد الصمد قرآنکن میم کی عظمت اور کو کچھ کر پینے کی ضرورت اور ائے کے یہ ھے کا بخوبی سمجھنے لگی ہے مجھے انکی خدمت میں فراتنا کیا اے کہ اول تو کلام پاک حضر و ناحدیت قوم اس کا مفت اپنے پاس کا چینی شخص نے کی ہے
علمی قابلیت عملی خصوصیت احمد قیادت علا مخالفت دوستان میں ہے اکٹھا و غیر مں بھی مسلم ہے۔ سوئم پر شورہ پاک جسکی تفسیر علاج آپکے روبرو ہے۔ کلام خدا وند کریم الرحمن الرحیم کار مجیب غریت چسکا پڑھنا سمجھا سمجھا ناہر کیے من کی زندگی کا پہلا فرض معلوم ہوتا ہے خود شفتہ موصوف رفند کی لاکھ لاکھ میں سکے شامل حال ہوں نے اشع تو مبارک کی تفسیر کرتے ہوئے بے در دول سے جو کچھ فرمایا ہے وہ اسی صفحہ پر ملاحظہ فرماویں اسکے بعد خدا تعالے کے فضل سے اگر آپکا دل بقت در جوسی گواہی نے تھے اور بات کی ضرورتی و سم کہ اسکی اشاعت کی اک میں بھر دیتے تو آپکا رہے ہم فرض ہونا چاہئے کہ
جسطرح آپکے ہو سکے خواہ خود خرید کر خواہ ترغیب دیکر خواہ علان کر کے اپنے تمام دوستوں یا قائیوں، رشتہ داروں عزیزوں وغیرہ کے ہاتھ اسکی ایک ایک کاپی پنچائیں۔ والسلام وما علينا الا البلاغ

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿1﴾
اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ قدّوس ہے۔ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿2﴾
وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿3﴾
اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿4﴾

تفسیر رسول اللہ ﷺ

1 صحیح بخاری 65 65 كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں 62 62 سُورَةُ الجُمُعَةِ باب: سورۃ جمعہ کی تفسیر 4897
مرفوع متصل قولی صحيح
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ

حدثني عبد العزيز بن عبد الله قال حدثني سليمان بن بلال عن ثور عن ابي الغيث عن ابي هريرة رضي الله عنه قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فانزلت عليه سورة الجمعة وآخرين منهم لما يلحقوا بهم قال قلت من هم يا رسول الله فلم يراجعه حتى سال ثلاثا وفينا سلمان الفارسي وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على سلمان ثم قال لو كان الايمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هولاء
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا ، ان سے ثور نے ، ان سے ابو الغیث سالم نے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ” سورۃ الجمعہ “ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم الایۃ اور دوسرو ں کے لئے بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہادی اور معلم ہیں ) بیان کیا میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! یہ دوسرے کون لوگ ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ آخر یہی سوال تین مرتبہ کیا ۔ مجلس میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تب بھی ان لوگوں ( یعنی فارس والوں ) میں سے اس تک پہنچ جائیں گے یا یوں فرمایا کہ ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جائے گا ۔
وہابی تشریح : دوسری روایت کئی آدمی سے بغیر شک کے مذکور ہے۔ قرطبی نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ بہت سے حدیث کے حافظ اور امام ملک فارس میں پیدا ہوئے۔ میں کہتا ہوں ان لوگوں سے صرف حضرت امام بخاری اور امام مسلم اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ ہیں۔ یہ سب حدیث کے امام ملک فارس کے تھے اور رجل من ھٰولاء کی اگر روایت صحیح ہو تو اس سے حضرت امام بخاری مراد ہیں علم حدیث باسناد صحیح متصلہ اسی مرد کی ہمت مردانہ سے اب تک باقی ہے اور حنفیوں نے جو حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو اس سے لیا ہے تو ہم کو حضرت امام ابو حنیفہ کی فضیلت اور بزرگی میں اختلاف نہیں ہے مگر ان کی اصل ملک فارس سے نہ تھی بلکہ کابل سے تھی اور کابل بلاد فارس میں داخل نہیں ، اس لئے وہ اس حدیث کے مصداق نہیں ہو سکتے۔ علاوہ اس کے حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ مدت العمر فقہ اور اجتہاد میں مصروف رہے اور علم حدیث کی طرف ان کی توجہ بالکل کم رہی، اسی لئے وہ حدیث کے امام نہیں گنے جاتے اور نہ ائمہ حدیث جیسے امام بخاری وامام مسلم وغیرہ نے اپنی کتابوں میں ان سے روایت کی ہے بلکہ محمد بن نصر مروزی محدث کہتے ہیں حضرت امام ابو حنیفہ کی بضاعت حدیث میں بہت تھوڑی تھی اور خطیب نے کہا کہ امام ابو حنیفہ نے صرف پچاس مرفوع حدیثیں روایت کی ہیں، البتہ مجتہد امام مالک اورامام احمد بن حنبل اوراسحاق بن راہویہ اور اوزاعی اور سفیان ثوری اور حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہم ایسے کامل گزرے ہیں کہ فقہ اور حدیث میں بیک وقت امام تھے اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو اور ان کو درجات عالیہ عطا فرمائے۔ آمین ( وحیدی )

Leave a Reply