تفصیل نیچے دی گئی ہے اور یہ وہ حقیقت ہے جس کو وہابی ہمیشہ چھپاتے ہیں
3 اپریل کو جو لاہور کے جلسے میں میری تقریر
ہوئی۔ اُس کا عنوان تھا ” ہمارا تمدن” اس تقریر کو
لا ہور کئے اخباروں نے اپنے اپنے مذاق اور فہم کے
مطابق مختلف الفاظ میں شائع کیا۔ بعض نے کچھ ۔
بعض نے کچھ۔ اس لئے ضروری ہوا کہ میں اپنی تقریر
کو مختصر لفظوں میں خود شائع کر دوں۔
میں نے شروع میں آیت کریمہ محمد رسول الله
وَالَّذِينَ معه أشداو على الكفار رحماء بینهم
پڑھی۔ اس آیت کی تفسیر میں میں نے کہا کہ محمد رسول للہ
کے ساتھ ہونے کے معنے یہ ہیں کہ اُن کی رسالت
کا قائل ہو۔ اس کی ادنےٰ پہچان یہ ہے کہ آج اگر ہم
سن پاویں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم
مدینہ منورہ میں قبر شریف سے نکل کر خود جماعت
کراتے ہیں تو کون کلمہ گو ہے جس کا دل نہ تڑ پیگا کہ
میں اڑ کر مدینہ منورہ میں پہنچوں جس دل میں یہ
شوق پیدا ہو پس وہ اس آیت کے مطابق والذین
معہ میں داخل ہے ۔ یہ بھی کہا ، یہ سچ ہے کہ ان
ساتھ والوں میں کوئی اعلیٰ درجہ کا متقی ہے کوئی
میرے جیسا ہیچ کا بھی ہے ۔ مگر اس وصف (معه)
میں سب شریک میں اس کی تفسیر کے بعد میں نے کہا
یہی لوگ جو والَّذِينَ مَعَہ میں ان کی بابت الله
تعالے لئے فرمایا ہے کہ وہ آپس میں رحماء (سلوک
مروت کرتے ہیں۔
اسلامی فرقوں میں خواہ کتنا بھی اختلاف ہو مگر
آخر کار نقطه محمدیت پر جو درجہ ہے والذین معہ
کا سب شریک ہیں اس لئے گوان میں باہمی سخت شقاق
ہے مگر اس نقطہ محمدیت کے لحاظ سے اُن کو باہمی
رحما ہونا چاہئے ۔ مرزائیوں کا سب سے زیادہ
مخالفت میں ہوں مگر فقط محمدیت کی وجہ سے میں
اُن کو بھی اس میں شامل جانتا ہوں۔
پھر میں نے اور ترقی کر کے کہا کہ حدیث شریف میں
آیا ہے المسلمون کو جل واحد ان اشتکے عینہ
اشتکی کلہ ان اشتکی راسه اشتکی کله ، یعنی
تمام دنیا کے مسلمان ایک شخص کے جسم کی طرح ہیں۔
جسکی آنکھ دکھے تو سارا دکھتا ہے۔ سر دُکھے تو سارا دکھتا
ہے کیا مسلمانوں نے اسپر عمل کیا؟ لاہور والو تمہارے
شہر کو باہر والے اسلامی ملک جانتے ہیں۔ کیا تم ایسے ہو
تمھارے اختلافات علماء کے اختلافات سے بھی بڑھ گئی
ایک مسلمان کے گھر میں آگ لگتی ہے تو دوسرا خوش
ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کسی ناگہانی بلا میں مبتلا ہوتا ہو
تو دو سرے خوش ہوتے ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اپنے
اختلافات چھوڑ دو نہیں نہیں لڑو اور خوب لڑومگر
ایک محلے کے کتوں سے تو زیادہ نہ لڑو جو با وجود
لڑنے کے مشترک دشمن کے مقابلہ میں ایک ہو جاتے
ہیں۔ بھائیو! ہمارا بھی کوئی مشترک دشمن ہے اگر
کوئی نہیں شیطان تو ہے ۔ پس بحکم والذین معہ
نقطہ مجھے یہ پر نظر ڈال کمک حماء بينهم کا خیال
رکھا کرو یا درکھو ایک مسلمان کو ایران میں تکلیف
ہے میرے دل میں اُس کا صدمہ نہیں تو مجھے ایمان
کی فکر ہونی چاہئے ، غرض مختصر یہ ہے کہ مسلمان
سارے کے سارے ایک جسم کی مانند ہیں جس کو کسی
حصے کو تکلیف ہو تو سارا بدن دکھتا ہے ۔ اخیر میں مولانا
حالی کا مسدس پڑھ کر ختم کر دیا۔
ہمارا یہ حق تھا کہ ہم یار ہوتے
مصیبت میں یاروں کے غمخوار ہوتے
سب ایک اک کے باہم مددگار ہوتے
غم قوم میں سینہ فگار ہوتے
جب الفت میں یوں ہوتے ثابت قدم ہم
تو کہہ سکتے اپنے کو خیر الامم ہم
یہ ہے اختصار اس تقریر کا جو جلسہ میں میں نے کی تھی
ہمیشہ سے میرا یہی مذہب اور یہی مسلک اور یہی برتاوہے ۔
الحمد لله
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.