اعتراض 4 ۔ مرزا صاحبؑ نے لکھا ہے کہ تورات اور انجیل زکریا 14/12 پرانا عہد نامہ میں طاعون کی پیشگوئی ہے۔ یہ جھوٹ ہے۔
جواب:۔جھوٹ نہیں بلکہ تمہاری اپنی بد قسمتی ہے کہ بے و جہ نبی کے منکر ہوگئے ہو۔ انجیل متی کا حوالہ حضرت ؑ نے دیا ہے اور یہ حوالہ درست ہے ۔ انجیل مطبوعہ ۱۸۵۷ء میں متی۲۴/۸پر مذکور ہے کہ مسیح کی ایک نشانی مری کا پڑنا بھی ہے۔ لیکن بعد میں عیسائیوں نے اس کو متی ۲۴/۸سے نکال دیا ہے۔ (النساء: ۴۷) لیکن اگر تم نے مزید تسلی کرنی ہو تو انجیل لوقا ۲۱/۱۰پر جو ۱۹۲۸ء میں چھپی ہے اس میں بھی موجود ہے۔ جابجا کال اور مری پڑے گی۔‘‘
(تفصیل دیکھو زیر عنوان ’’مسیح کی آمد ثانی کی علامات‘‘ پاکٹ بک ہذا)
توراتؔ:حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے تورات میں بھی طاعون کی پیشگوئی کا ذکر کیا ہے۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ۵ )چنانچہ اس کے لئے زکریا ۱۴/۱۲ دیکھو اور انگریزی بائیبل مطبوعہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ۱۸۸۵ء صفحہ۱۰۰۷میں تو لفظ پلیگ(PLAGUE)بھی موجود ہے۔
“And this shall be the plague where with the Lord will smite (زکریا ۱۴/۱۲)all the people.”
یعنی یہ پلیگ ہوگی جس سے خدا تعالیٰ خدا کے گھر کے خلاف لڑائی کرنے والوں کو ہلاک کرے گا۔
نوٹ:۔(۱)بائیبل کے اس حوالہ میں جو لفظ ’’پلیگ‘ ‘ استعمال ہوا ہے اس کا ترجمہ طاعون ہی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو انگریزی عربی ڈکشنری موسومہ بہ ’’القاموس العصری الانکلیزی عربی مؤلفہ الیاس انطون زیر لفظ طعن‘‘جہاں لکھا ہے۔طاعون PLAGUEیعنی پلیگ کے معنے طاعون ہیں۔
۲۔اسی طرح عربی سے انگریزی اور فارسی سے انگریزی ڈکشنریوں میں لفظ ’’طاعون ‘‘ کا ترجمہ پلیگ اور Pestilences لکھا ہے اور عجیب با ت یہ ہے کہ لفظ پلیگ تو تورات زکریا۱۴/۱۲ میں آتا ہے اور لفظ Pestilences مسیح کی آمد ثانی کی علامات میں لوقا ۲۱/۱۱ میں ہے۔
(دیکھو ’’مسیح کی آمد ثانی کی علامات‘‘ پاکٹ بک ہذا)
نیز حضرت اقدس ؑ نے متی ۲۴/۸کا حوالہ دیا ہے جو انگریزی انجیل متی۲۴/۸میں اب بھی موجو دہے۔ اور جیسا کہ ثابت ہوا ہر دو لفظوں کا ترجمہ طاعون ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو بائبل کا حوالہ درست دیا ہے۔ ذرا لگتے ہاتھ’’‘‘(الصّفّ:۷)اور (الاعراف:۱۵۸) کے مطابق تورات اور انجیل سے ’’احمد‘‘ کا نام اور ایک ’’اُمی نبی‘‘ کی پیشگوئی نکال دینا تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ انجیل وتورات محرفہ سے اگر کوئی حوالہ نہ ملے تو یہ مصنف کی غلطی نہیں۔ بلکہ عیسائیوں کی ہشیاری کا نتیجہ ہے کہ وہ ہر دس سال کے بعدانجیل کو تبدیل کردیتے ہیں۔ (دیکھو مضمون ’’تحریف بائیبل‘‘پاکٹ بک ہذا)
اعتراض 5 ۔ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ غلام دستگیر قصوری نے بددعا کی تھی ۔یہ جھوٹ ہے۔ اس کے ساتھ کوئی مباہلہ نہ ہوا تھا۔
الجواب:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ۷۰پر جن علماء کو مباہلہ کیلئے مقابل پر بلایا ہے اور اپنی طر ف سے ان کے لیے بد دعا کردی ہے ان میں مولوی غلام دستگیر کا نام بھی ہے۔(انجام آتھم ۔روحانی خزائن جلد۱۱صفحہ۷۰)اس کے بالمقابل ان میں سے جو شخص بھی بددعا کرے گا اس کا مباہلہ حضرت ؑ کے ساتھ متحقق ہوجائے گا۔ چنانچہ مولوی غلام دستگیر قصوری نے بددعا کی۔ اَللّٰھُمَّ یَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَامَالِکَ الْمُلْکِ جیسا کہ تو نے ایک عالم ربّانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحار الانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غرق کیا (جو ا ن کے زمانہ میں پیدا ہوا تھا)ویسا ہی دعا اور التجاء اس فقر قصوری کی ہے جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے کہ تو مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو توبۃ النصوح کی توفیق عطا فرما۔ اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت قرآنی کا بنا (الانعام:۴۶) اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ وَبِالْاِجَابَۃِ جَدِیْرٌ تَبًّا لَہٗ وَلِاَ تْبَاعِہٖ۔ ‘‘
(فتح رحمانی بہ دفع کید کادیانی لدھیانہ مطبع احمدی ۱۳۱۵ھ مؤلفہ غلام دستگیر قصوری صفحہ۲۷ و صفحہ ۲۸ و نیز حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۳۵۴)
اعترارض 6 ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۳۴۳ حاشیہ پر لکھا ہے۔
’’مولوی اسمٰعیل نے اپنے ایک رسالہ میں میری موت کے لئے بد دعا کی تھی پھر بعد اس بددعا کے جلد مر گیا اور اس کی بد دعا اُسی پر پڑگئی۔‘‘
جواب:۔تم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیوں یہ حوالہ طلب نہ کیا ۔ جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تم کو اصل بات کا علم ہے۔ بات یہ تھی کہ مولوی اسمٰعیل علیگڑھی نے ایک کتاب لکھی جس میں یہ بددعا تھی ۔ابھی وہ کتاب چھپ رہی تھی کہ علیگڑھی مر گیا۔ مولویوں نے اس کی کتاب میں سے وہ سب بددعائیں نکال ڈالیں تاکہ حضرت مسیح موعود ؑ کی صداقت پر گواہ نہ بن جائے۔ وہ کتاب جو ابھی زیر طبع تھی مولوی عبداﷲ صاحب سنوری نے دیکھی تھی اور انہوں نے اس کے متعلق شہادت بھی دی تھی کہ اس کتاب کا سائز ’’فتح اسلام‘‘ (مؤلفہ حضرت مسیح موعود ؑ )کا سائز تھا ۔ اگر اس نے کوئی ایسی بددعا نہ کی تھی تو تم نے حضرت مسیح موعو دؑ سے کیوں حوالہ نہ مانگا۔تمہاری تحریف کی تویہ حالت ہے کہ شرح فقہ اکبر مطبوعہ مصر کے صفحہ۹۹پر ’’لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا ‘‘ لکھ دیا ہے تاکہ کسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہ ہو۔ ع کچھ تو لوگو خدا سے شرماؤ
اعتراض 7۔ حدیث سو سال کے بعد قیامت آجائے گی اس کا حوالہ دو۔
جواب:۔یہ حدیث متعدد کتب حدیث میں ہے۔ (۱) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ لَمَّا رَجَعْنَا مِنْ تَبُوْکٍ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَی السَّاعَۃُ فَقَالَ لَا یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوْسَۃٌ الْیَوْمَ
(معجم صغیر طبرانی جز اوّل صفحہ ۳۱۔ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
ابو سعید ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم جنگ تبوک سے واپس آئے تو ایک شخص نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قیامت کب ہوگی؟ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام بنی آدم پر سو سال نہ گزرے گا مگر آج کے زندوں میں سے ایک بھی روئے زمین پر نہ ہوگا۔ یاد رہے کہ سائل کا سوال قیامت کے متعلق ہے۔
(۲)فَقَالَ اَرَأَ یْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْھَآ لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْم عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔ ‘‘(ترمذی ابواب الفتن باب لا تاتی مائۃ سنۃ و علی الارض نفس منفوسۃ الیوم) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا آج کی اس رات سے سو سال نہ گزرے گا کہ روئے زمین کے موجودہ زندوں میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔
(۳)اس حدیث پر یہ حاشیہ لکھاہے : ۔’’اِنَّ الْغَالِبَ عَلٰی اَعْمَارِھِمْ اَنْ لَّا تَتَجَاوَزَ ذٰلِکَ الْاَمْرُ الَّذِیْ اَشَارَ اِلَیْہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَکُوْنُ قِیَامَۃُ اَھْلِ ذٰلِکَ الْعَصْرِ قَدْ قَامَتْ۔ ‘‘ (ترمذی ابواب الفتن باب ۶۴ حدیث نمبر ۲۲۵۷ داراحیاء التراث العربی)
کہ ان کی عمر کے لئے غالب امر یہی تھا کہ وہ اس مدت سے جس کی تعیین آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی تھی تجاوز نہ کریں۔ پس اس زمانہ کے تمام لوگوں پر قیامت آگئی۔
(۴)صحیح مسلم میں ہے۔ ’’مَامِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ الْیَوْمَ یَأْتِیْ عَلَیْھَا مِائَۃُ سَنَۃٍ وَھِیَ یَوْمَئِذٍ حَیَّۃٌ۔ ‘‘(کنز العمال کتاب القیامۃ من قسم الاقوال حدیث نمبر ۳۸۳۴۰ ومسلم کتاب الفتن باب قرب الساعۃ)یعنی ’’سو سال نہیں گزرے گا کہ آج کے زندوں میں سے کوئی بھی زندہ جان باقی نہ ہوگی۔‘‘
(۵)مولوی ثناء اﷲ امرتسری لکھتا ہے:۔ آنحضرت فداہ امی وابی نے فوت ہوتے وقت فرمایا تھا کہ جو جاندار زمین پر ہیں ۔ آج سے سو سال تک کوئی بھی زندہ نہ رہے گا۔‘‘
(تفسیر ثنائی جلد ۲ صفحہ ۱۰۵)
اعتراض 8 ۔ مرزا صاحب نے تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۷۳میں یَخْرُجُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالٌ یَخْتَلُوْنَ الدُّنْیَا بِالدِّیْنِ۔ کو حدیث قرار دیا ہے اور یہ ’’دَجَّال‘‘ نہیں بلکہ ’’رجال‘‘ رؔکے ساتھ ہے۔
یَخْرُجُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالٌ یَخْتَلُوْنَ الدُّنْیَا بِالدِّیْنِ
الجواب:۔ یہ ’’دَجَّال‘‘ دال کے ساتھ ہی ہے ۔چنانچہ کنز العمال کتاب القامۃ من قسم الاقوال حدیث نمبر ۳۸۴۴۱ میں ’’دال‘‘ ہی کے ساتھ ہے۔
۲۔قلمی نسخہ میں بھی ’’دال‘‘ہی کے ساتھ ہے۔ چنانچہ مولانا مخدوم بیگ صاحب نائب شیخ الحدیث لکھتے ہیں:۔(کنز العمال کتاب القامۃ من قسم الاقوال حدیث نمبر ۳۸۴۴۱) یَخْرُجُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالٌ یَخْتَلُوْنَ الدُّنْیَا بِالدِّیْنِ الخ، عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرۃَ ؓ قلمی نسخہ میں دجّال بالدّال صاف طور پر لکھا ہے۔
(مخدوم بیگ عفی عنہ مدرس مدرسہ نظامیہ منقول از تجلیات رحمانیہ از مولانا ابوالعطاء جالندھری صاحب مطبوعہ سٹیم پریس دسمبر ۱۹۳۱ء صفحہ۹۲)
اعتراض 9 ۔ حضرے مسیح موعودؑ نے تحریر فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں یہ پیشگوئی ہے کہ جب مسیح آئے گا تو اس پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا ۔ یہ جھوٹ ہے
بعض غیر احمدی مولوی یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں یہ پیشگوئی ہے کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا ۔ یہ جھوٹ ہے۔
الجواب:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن آیات قرآنی سے استنباط فرما کر یہ تحریر فرمایا ہے کہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگے گا حضور ؑ نے اپنی تحریرا ت میں ان آیات کا حوالہ بھی دیا ہے۔
۱۔’’قرآن نے بہت سے امثال بیان کرکے ہمارے ذہن نشین کردیا ہے کہ وضع عالم دوری ہے اور نیکوں اور بدوں کی جماعتیں ہمیشہ بروزی طور پر دُنیا میں آتی رہتی ہیں وہ یہودی جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے۔ خدا نے دُعا سکھلاکر اشارہ فرمادیا کہ وہ بروزی طور پر اس اُمّت میں بھی آنے والے ہیں تا بروزی طورپر وہ بھی اس مسیح موعود کو ایذا دیں جو اِس اُمّت میں بروزی طور پر آنے والا ہے۔‘‘
(تریاق القلوب۔ روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ۴۸۳،۴۸۴)
۲۔’’(النور:۵۶)…… پس اس آیت سے سمجھا جاتا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی کیونکہ وہ خلافت کے اس آخری نقطہ پر ہے ۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ۱۹۰،۱۹۱بقیہ حاشیہ)
۳۔نیز دیکھو تحفہ گولڑویہ صفحہ۵۶،۱۰۳،۱۳۶ طبع اوّل
۴۔مفصل و مزید بحث دیکھو پاکٹ بک صفحہ۷۰۷ پر۔
اعتراض 10 ۔ دیکھو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افترا کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں
۔حضرت نے لکھا ہے:۔ ’’ دیکھو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افترا کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو پکڑتا ہوں۔‘‘(نشان آسمانی۔ روحانی خزائن جلد۴ صفحہ۳۹۷)
’’حالانکہ قرآن پاک میں کہیں نہیں لکھاکہ میں مفتری کو جلد ہلاک کرتا ہوں بلکہ اس کے الٹ ہے۔(یونس:۷۰،۷۱) (محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۱۵۱و صفحہ ۱۷۴ مطبوعہ یکم مارچ ۱۹۳۵ء)
الجواب:۔(۱)افترا علی اللّٰہ کرنے والے کو پکڑنے کے متعلق الٰہی قانون پر ہم نے مفصل بحث صداقت حضرت مسیح موعود ؑ کی دوسری دلیل کے ضمن میں کردی ہے۔ (دیکھو پاکٹ بک ہٰذ ا صفحہ۳۳۵)
(۲)مگر اس جگہ جو آیت تم نے پیش کی ہے اس کے مفہوم کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا ہے۔
سے مراد معترض نے غالباً ’’لمبی مہلت‘‘لی ہے تبھی تو اس کو ’’جلد پکڑے جانے‘‘ کے ’’الٹ‘‘ قرار دیا ہے ۔حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔تم خود اپنی محمد یہ پاکٹ بک صفحہ ۲۷۲وصفحہ ۲۴۷ مطبوعہ ۱۹۳۵ء پر اپنے ہاتھ کاٹ چکے ہو۔ جہاں پر قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت نقل کی ہے:۔
(النحل:۱۱۷،۱۱۸)
اور خود ہی یہ ترجمہ بھی کیا ہے۔ ’’تحقیق مفتری نجات نہیں پائیں گے انہیں نفع تھوڑا ہے۔ عذاب دردناک‘‘گویا پہلی آیت میں جو صرف ’’‘‘ کا لفظ تھا جس سے تم نے مغالطہ دینا چاہا کہ گویا مفتری کو ’’لمبی مہلت‘‘ ملتی ہے۔ اس آیت نے صاف کردیا کہ ’’‘‘ کہ لمبی مہلت نہیں بلکہ ’’تھوڑی مہلت‘‘ ملتی ہے۔
ہاں تمہارا یہ کہنا کہ ۲۳برس کی مہلت کو’’جلد‘ ‘(محمدیہ پاکٹ بک صفحہ۲۴۹)کیونکر قرار دیا جاتا ہے اور کیا ۲۳ سال کا ’’جلد‘‘ ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ۲۳ برس تو زیادہ سے زیادہ مہلت ہے جس تک کسی صورت میں بھی کوئی مفتری نہیں پہنچ سکتا۔ اور سچیکے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے خواہ سو سال جیئے۔ مگر ہاں بعض دفعہ ۲۳ سال کیا ۱۴۰۰ سال کا ’’جلد‘ ‘ہوا کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو:۔
۱۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ (ابن ماجہ کتاب الفتن باب اشراط الساعۃ) کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں جس طرح دو جڑی ہوئی انگلیاں۔ مگر ۱۳۷۲سا ل گزرگئے ابھی تک وہ ’’جلد‘ ‘ختم نہیں ہوا۔
۲۔ہاں سنو ! قرآن مجید میں ہے۔ ’’‘‘(القمر: ۲)کہ قیامت ’’قریب‘‘ آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ ۱۴۰۰ سال گزرنے کو آئے مگر ابھی تک قیامت نہ آئی۔ فرمائیے یہ ’’جلد‘ ‘کتنا طویل ہوگیا۔
اعتراض 11 ۔ اسلام کے موجودہ ضعف اور ۔۔۔ حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر
حضرت مرزا صاحب نے اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۳۷۱میں لکھا ہے کہ:۔
’’اسلام کے موجودہ ضعف اور دشمنوں کے متواتر حملوں نے اُس کی ضرورت ثابت کی اور اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا۔‘‘کسی نبی کے کشف کا حوالہ دو۔
جواب:۔ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ’’اربعین نمبر ۲‘‘ یاکسی دوسری کتاب میں اس ضمن میں ’’انبیاء گزشتہ‘ ‘کا لفظ نہیں لکھا بلکہ ’’اولیاء گزشتہ‘ ‘ لکھا ہے۔ چنانچہ اربعین (جو حضرت اقدس ؑ کے زمانہ میں چھپی تھی)اس کے دونوں ایڈیشنوں میں علی الترتیب صفحہ ۲۳ وصفحہ ۲۵ پر ’’اولیاء گزشتہ‘‘ہی کا لفظ ہے، ہاں اربعین نمبر ۲ کے ایک نئے ایڈیشن میں جو ’’بک ڈپو‘ ‘ نے شائع کیا ہے کاتب کی غلطی سے لفظ ’’اولیاء‘ ‘کی بجائے ’’انبیاء‘‘ لکھا گیا ہے۔ و ہ حجت نہیں۔ تمہیں شر م آنی چاہیے کہ محض کتابت کی غلطیوں کی بناء پر مخلوق خدا کو دھوکا دے کر حق کے راستہ میں روکاوٹیں پیداکرتے ہو۔ حالانکہ تم کو بارہا مناظرات میں اربعین نمبر ۲ ایڈیشن اوّل علیحدہ صفحہ ۲۳ اور مجموعہ نمبر ۱ و نمبر ۲ صفحہ ۲۵سے لفظ ’’اولیاء‘ ‘دکھایا بھی جاچکا ہے۔
اعتراض 12۔ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ہر نبی نے مسیح موعود کی آمد کی خبر دی ہے اس کا حوالہ دو؟
الجواب:۔بخاری شریف میں ہے:۔ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مَا بُعِثَ نَبِیٌّ اِلَّا اَنْذَرَ اُمَّتَہُ الْاَعْوَرَ الْکَذَّابَ (بخاری کتاب الفتن باب ذکر الدجال )کہ ’’آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجّال سے نہ ڈرایا ہو۔‘‘
پس جہاں تمام انبیاء دجّال کا ذکر کرتے رہے ضروری ہے کہ اس کے قاتل مسیح موعود کا بھی اس کے ساتھ ہی ذکر کرتے رہے ہوں۔
۲۔ذرا مہربانی کرکے پہلے تمام نبیوں کی کتابوں سے ’’کانے دجال‘ ‘ کا ذکر نکال کر دکھا دو۔ ہم وہیں سے مسیح موعود کی آمد کی پیشگوئی بھی نکال دیں گے۔
۳۔ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ انبیاء گزشتہ اپنی امتوں کے سامنے دجّال کی آمد کا ذکر تو کریں مگر اس کے قاتل مسیح موعود کا ذکر نہ کریں۔ اس کی تائید دلائل النبوت کے مندرجہ ذیل حوالہ سے ہوتی ہے۔
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ……قَالَ (مُوْسٰی ) یَا رَبِّ اِنِّیْ اَجِدُ فِی الْاَلْوَاحِ اُمَّۃً یُؤْتَوْنَ الْعِلْمَ الْاَوَّلَ وَالْاٰخِرَ فَیَقْتَلُوْنَ قُرُوْنَ الضَّلَالَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ فَاجْعَلْھَا اُمَّتِیْ قَالَ تِلْکَ اُمَّۃُ اَحْمَدَ۔ ‘‘
(دلائل النبوۃ لابی نعیم جلد۱ صفحہ ۱۴مطبوعہ ۱۳۲۰ھ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے اﷲ تعالیٰ کے سامنے عرض کی کہ اے اﷲ! میں نے اپنی الواح میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک ایسی قوم ہوگی جن کو اگلا او رپچھلا سب علم دیا جائے گا اور وہ گمراہی کی طاقتوں یعنی ’’دجال‘ ‘کو قتل کریں گے۔ اے خدا ! میری امت کو وہ قوم بنادے۔ اﷲ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ’’نہیں‘ ‘وہ قوم تو احمدؔ کی جماعت ہے۔
اس روایت میں دجالؔ کے خروج اور مسیح موعود کی بعثت کو علت و معلول اور لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجّال کا مقابلہ کرنے والی جماعت ’’احمدؔ‘ ‘کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہوگی۔ یعنی ’’جماعت احمدیہ‘‘ کہلائے گی۔
اعتراض 13 ۔ حضرت مسیحؑ جو حوالہ مکتوبات کا دیا ہے کہ جس پر کثر ت سے امور غیبیہ ظاہر ہوں۔ وہ نبی ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ مکتوبات میں لفظ نبی نہیں بلکہ محدث
بعض مخالفین کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے حقیقۃا لوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۴۰۶ پر جو حوالہ مکتوبات کا دیا ہے کہ جس پر کثر ت سے امور غیبیہ ظاہر ہوں۔ وہ نبی ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ مکتوبات میں لفظ نبی نہیں بلکہ محدث کا ہے۔
الجواب:مکتوباتِ امام ربّانی حضرت مجدد الف ثانی ؒ سرہندی رحمۃ اﷲ علیہ کی زبان فارسی ہے مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے حقیقۃا لوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۴۰۶ پر اردو عبارت لکھی ہے۔ پس حضرت اقدس علیہ السلام نے مکتوبات کی اصل عبارت نقل نہیں فرمائی۔ بلکہ مکتوبات کی کسی عبارت کا مفہوم درج فرمایا ہے اور مکتوبات میں ایسی عبارت موجود ہے جس کا مفہوم وہی ہے، جو حضرت اقدس علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی میں تحریر فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ عبارت در ج ذیل کی جاتی ہے:۔
’’متشابہات قرآنی نیز از ظاہر مصروف اند و بر تاویل محمول قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہٗ اِلَّا اللّٰ ہُ یعنی تاویل آں متشابہ را ہیچ کس نمے داند مگر خدائے عز و جل ۔پس معلوم شد کہ متشابہ نزد خدائے جل وعلا نیز محمول بر تاویل ست و از ظاہر مصروف و علمائے راسخین را نیز از علم ایں تاویل قلبی عطا می فرمائد۔ چنانچہ بر علم غیب کہ مخصوص بادست سبحانہٗ خاص رسل را اطلاع می بخشد آں تاویل را خیال نکنی کہ در رنگِ تاویل بدست بقدرت و تاویل ’’و جہ‘‘بذات حاشا وکلّا آن تاویل از اسرار است کہ بہ اخص خواص علم آں عطا می فرمائد۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی ؒ جلد ۱ صفحہ۴۴۶ مطبع نو لکشور مکتوب نمبر ۳۱۰)
یعنی قرآن مجید کے متشابہات بھی ظاہر ی معنی سے پھر کر محمول بر تاویل ہیں ۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ ’’ان کی تاویل سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا ۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ متشابہات خدا ئے بزرگ و برتر کے نزدیک بھی محمود بر تاویل ہیں اور ان کے ظاہری معنے مرا د نہیں اور خدائے تعالیٰ علمائے راسخین کو بھی اس علم کی تاویل سے حصہ عطا فرماتا ہے۔چنانچہ اس سے بڑھ کر علم غیب جو خدا تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس کی اطلاع صرف رسولوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔ اس تاویل کو ویسی نہ سمجھنا چاہیے جیسی کہ ’’ہاتھ‘ ‘سے مراد ’’قدرت‘‘ اور ’’وجہ‘ ‘سے مراد ’’ذات الٰہی‘ ‘ہے ۔ حاشا و کلّا ایسا نہیں۔ بلکہ اس تاویل کا علم تو وہ اپنے خاص الخاص بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔
اس عبا رت میں حضرت امامِ ربانی مجدد الف ثانی ؒ نے بتصریح تحریر فرمایا ہے کہ اسرار قرآنی کو اﷲ تعالیٰ اپنے الہام سے خواصِ امت پر کھولتا ہے ۔مگر جن کو اپنے مخصوص علم غیب سے اطلاع دیتا ہے وہ ’’رسول‘‘ ہوتے ہیں ۔پس تمہارا اعتراض بے محل ہے۔
اعتراض 14۔ تفسیر ثنائی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی درایت کمزور تھی۔ حالانکہ تفسیر ثنائی مصنفہ مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری میں یہ کہیں نہی
حضرت نے حمامۃ البشریٰ صفحہ ۴۷ طبع اوّل میں تفسیر ثنائی (از مولانا ثناء اﷲ پانی پتی)کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی درایت کمزور تھی۔ حالانکہ تفسیر ثنائی مصنفہ مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری میں یہ کہیں نہیں ملتا
الجواب:۔تجاہل عارفانہ سے کام نہ لو۔ تفسیر ثنائی سے مراد مولوی ثناء اﷲ امرتسری کی نام نہاد تفسیر نہیں۔ بلکہ جناب مولانا ثناء اﷲ صاحب پانی پتی کی مشہور و معروف تفسیر ہے۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسری جگہ معترض کی محولہ کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۲۳۴ طبع اوّل) سے کئی سال پہلے تصریح فرماچکے ہیں۔
’’قَالَ صَاحِبُ التَّفْسِیْرِ الْمَظْہَرِیِّ اَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ صَحَابِیٌّ جَلِیْلُ الْقَدْرِ، وَلٰکِنَّہُ أَخْطَأَ فِیْ ہٰذَا التَّأْوِیْلِ۔ ‘‘ (حمامۃ البشریٰ۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ۲۴۰)
کہ مصنف تفسیر مظہری نے لکھا ہے کہ گو حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں لیکن انہوں نے ’’اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ ‘‘ والی آیت میں اپنی طرف سے تاویل کرنے میں غلطی کھائی ہے۔
پس حضرت اقدس علیہ السلام نے جس تفسیر کا حوالہ دیا ہے وہ مولوی ثناء اﷲ امرتسری کی تفسیر نہیں بلکہ تفسیر مظہری مؤلفہ جناب مولوی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی ہے۔ اس تفسیر میں بعینہٖ آیت محولہ ’’وَ اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ‘‘کے نیچے لکھا ہے:۔
’’ تَأْوِیْلُ الْاٰیَاتِ بِاِرْجَاِع الضَّمِیْرِ الثَّانِیْ اِلٰی عِیْسٰی مَمْنُوْعٌ۔اِنَّمَا ھُوَ زَعْمٌ مِنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ لَیْسَ ذٰلِکَ فِیْ شَیْءٍ فِی الْاَحَادِیْثِ الْمَرْفُوْعَۃِ وَکَیْفَ یَصِحُّ ھٰذَا التَّأْوِیْلُ مَعَ اِنَّ کَلِمَۃَ’’اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ‘‘شَامِلٌ لِلْمَوْجُوْدِیْنَ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ……وَلَا وَجْہَ اَنْ یُّرَادَ بِہٖ فَرِیْقٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ یُوْجَدُوْنَ حِیْنَ نُزُوْلِ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلامُ۔ ‘‘(تفسیرمظہری تفسیر سورۃ النساء زیر آیت و ان من اھل الکتاب الا لیومننّ بہ(النساء:۱۶۰)یعنی آیت اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ میں قَبْلَ مَوْتِہٖ کی ضمیر کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرنا ممنوع ہے۔(حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اس سے حضرت عیسیٰ مراد لئے ہیں تو )یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا اپنا زعم ہے جس کی تصدیق کسی حدیث سے نہیں ہوتی اور ان کا یہ خیال درست ہو کیونکر سکتا ہے جبکہ کلمہ ’’اِنْ مِّنْ ‘‘میں تمام وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ اس سے مراد صرف وہ یہودی لئے جائیں جو حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔
اعتراض 15۔ حضرت اقدس میسح و مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے حضرت ابوہریرہؓ کے اجتہاد کو جو مردود قرار دیا ہے
باقی عبارت محولہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت ابوہریرہؓ کے اجتہاد کو جو مردود قرار دیا ہے تو یہ درست ہے۔ ملاحظہ ہو:۔
۱۔ اصول حدیث کی مستند کتاب اصول شاشی (علامہ نظام الدین اسحاق بن ابراہیم الشاشی) میں ہے۔
’’اَلْقِسْمُ الثَّانِیْ مِنَ الرُّوَاۃِ ھُمُ الْمَعْرُوْفُوْنَ بِالْحِفْظِ وَالْعَدَالَۃِ دُوْنَ الْاِجْتِھَادِ وَالْفَتْوٰی کَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَاَنْسٍ ابْنِ مَالِکٍ۔ ‘‘ (اصول شاشی مع شرح از محمد فیض الحسن الاصل الثانی بحث تقسیم الراوی ولی قسمین مطبوعہ کانپور صفحہ ۷۵) کہ راویوں میں سے دوسری قسم کے راوی وہ ہیں جو حافظہ اور دیانتداری کے لحاظ سے تو مشہور ہیں۔ اجتہاد اور فتویٰ کے لحاظ سے قابل اعتبار نہیں۔ جیسے ابوہریرہؓ اور انس بن مالکؓ۔
۲۔ ’’عَنْ اَبِیْ حَسَّانٍ اَنَّ رَجُلَیْنِ دَخَلَا عَلٰی عَائِشَۃَ فَحَدَّثَہَا اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلطَّیْرَۃُ فِی الْمَرْءَ ۃِ وَالْفَرْسِ وَالدَّارِ فَغَضِبَتْ غَضْبًا شَدِیْدًا فَقَالَتْ مَا قَالَہٗ اِنَّمَا قَالَ کَانَ اَھْلُ الْجَاھِلِیَّۃِ یَتَطَیَّرُوْنَ مِنْ ذَالِکَ۔ ‘‘ (اصول الشاشی مَا ثَبَتَ بِالسُّنَّۃِ صفحہ۲۹) کہ دو شخص حضرت عائشہؓ کے پاس آئے اور کہا کہ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ عورت، گھوڑے اور گھر میں بد شگونی ہوتی ہے۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سخت ناراض ہوئیں اور فرمایا کہ یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے قطعا ً نہیں فرمایا۔ بلکہ آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ان کو بد شگون سمجھتے تھے۔
۳۔ حضرت ابوہریرہؓ بے شک روزہ دار کے حق میں فتویٰ دیتے تھے کہ صبح ہونے سے پہلے غسل کر چکے اور عائشہ صدیقہؓ کی روایت چونکہ مرفوع ہے۔ اس لیے بحکم اصول حدیث وہ مقد م ہے۔ کیونکہ شارع علیہ السلام کا فعل ہے اور ابوہریرہ ؓ کا فتویٰ ان کا اجتہادی ہے۔
(اہلحدیث ۱۸؍ جولائی ۱۹۳۰ء)
۴۔ فقہاء میں بعض اس بات کے قائل ہیں کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ کے سامنے جب اس مسئلہ کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔ تو حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ نے کہا۔ اگر یہ صحیح ہو تو اس پانی کے پینے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا جو آگ پر گرم کیا گیا ہو۔
حضرت عبداﷲ بن عباس ؓحضرت ابوہریرہؓ کو ضعیف الروایت نہیں سمجھتے تھے لیکن چونکہ ان کے نزدیک یہ روایت درائت کے خلاف تھی اس لیے انہوں نے تسلیم نہیں کی اور یہ خیال کیا کہ سمجھنے میں غلطی ہو گی۔
(اہلحدیث ۲۲؍ نومبر ۱۹۲۹ء)
اعتراض 16۔ صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات پر مرزا صاحبؑ نے لکھا تھا کہ اس کی وفات کے متعلق میں پہلے سے پیشگوئی کر چکا ہوں کہ وہ بچپن میں فوت ہو جائےگا
جواب:۔ مبارک احمد کی وفات پر حضرت اقدس علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا۔ اسی حوالہ میں موجود ہے۔
’’اﷲ تعالی نے اس کی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی خبر دے رکھی تھی۔ تریا ق القلوب روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۲۱۳میں لکھا ہے۔ ’’اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَاُصِیْبُہٗ ۔‘‘ تذکرہ صفحہ ۲۷۸ مطبوعہ ۲۰۰۴ء مگر قبل از وقت ذہول رہتا ہے اور ذہن منتقل نہیں ہوا کرتا‘‘۔ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵)
۱۔ تریا ق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۲۱۳(جس کا حوالہ حضرتؑ نے دیا ہے) اس میں ہے۔
’’اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَاُصِیْبُہٗ۔ ‘‘ کہ میں اﷲ تعالی کی طرف سے آیا ہوں اور اسی کی طرف چلا جاؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تریاق القلوب میں اس الہام کو مع ترجمہ درج فرما کر اپنی طرف سے لکھتے ہیں:۔ ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لڑکا چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے گا۔ یا یہ رجوع بحق ہو گا‘‘۔
( تریا ق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۲۱۳)
۲۔ ۱۸؍ نومبر ۱۹۰۶ء:۔ ’’دیکھا کہ ہمارے باغ (بہشتی مقبرہ) میں کچھ لوگ ایک جڑھ لگا رہے ہیں ساتھ ہی الہام ہوا ’’مبارک‘‘
(الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۰۔ ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)
۳۔ ’’خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک عورت کو تین روپے دیئے ہیں اور اس سے کہتا ہوں کہ کفن کے لئے میں آپ دوں گا۔ گویا کوئی مر گیا ہے ۔ اس کی تجہیز و تکفین کے لئے تیاری کی ہے‘‘۔
(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۷۔ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۳)
حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ۱۶؍ ستمبر ۱۹۰۷ء کو فو ت ہوئے۔
۴۔ ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک گڑھا قبر کے اندازہ کی مانند ہے اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس میں ایک سا نپ ہے۔ اور پھر ایسا خیال آیا کہ وہ سانپ گڑھے میں سے نکل کر کسی طرف بھاگ گیا ہے اس خیال کے بعد مبارک احمد نے اس گڑھے میں قدم رکھا اس کے قدم رکھنے کے وقت محسوس ہوا کہ وہ سانپ ابھی گڑھے میں ہے اور اس سانپ نے حرکت کی‘‘۔
(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۶۔ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱)
۵۔ ’’اِنَّ خَبَرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَاقِعٌ ‘‘ رسول اﷲ نے جو خبر بتلائی تھی وہ واقع ہونے والی ہے۔ فرمایا:۔ کسی پیشگوئی کے ظہور کا وقت قریب آگیا ہے …… ایک بڑا ستارہ ٹوٹا ہے۔ ‘‘
(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۸۔ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۷ ء صفحہ ۳)
اعتراض 17 ۔ مرزا صاحب نے چشمۂ معرفت ضمیمہ صفحہ ۱۰ میں حدیث لکھی ہے کہ ’’کان فی الھند نبیا اسود اللون اسمہٗ کاھنا اس کا حوالہ دو۔
مرزا صاحب نے چشمۂ معرفت ضمیمہ صفحہ ۱۰ میں حدیث لکھی ہے کہ ’’کان فی الھند نبیا اسود اللون اسمہٗ کاھنا اس کا حوالہ دو۔ ب۔ مرزا صاحب نے ایسے شخص کو نبی کہا جس کا قرآن میں نام نہیں۔
کَانَ فِی الْھِنْدِ نَبِیًّا اَسْوَدَ الْلَوْنِ اِسْمُہٗ کَاھِنًا
الجواب:۔ (ا) یہ حدیث تاریخ ہمدان دیلمی باب الکاف میں ہے۔
(ب) قرآن مجید میں ہے ۱۔ ’’‘‘ (النحل:۳۷) کہ ہم نے ہر قوم میں نبی بھیجے ہیں۔
۲۔ (فاطر:۲۵)
۳۔ (الرعد:۸)
پس ان آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ قرآن مجید کے قبل بھی ہندوستان میں کوئی نبی ہو چکا ہے۔
(ج) باقی رہا ان کو نبی قرار دینا جس کا نام قرآن مجید میں بطور نبی نہ لکھا ہوا ہو تو آپ ہی کے علماء نے مندرجہ ذیل بزرگوں کو نبی کیسے قرار دیا۔
۱۔ ذوالقرنین نبی تھا۔ (تفسیر کبیر امام رازی زیر آیت ۔ الکہف:۸۳)
حالانکہ قرآن مجید میں کہیں نہیں لکھا کہ ذوالقرنین نبی تھا۔
۲۔ خضر (تفسیر کبیر زیر آیت ۔ الکہف:۶۵) حالانکہ قرآن مجید میں خضر کا نام تک نہیں۔
۳۔ لقمان (ابن جریر زیر آیت ۔ لقمان:۱۳)
۴۔ ’’‘‘ والی آیت سورۃ یٰسین کے متعلق مفسرین نے (خصوصاً حضرت ابن عباسؓ نے) (ا) یوحنا (۲) پولوس (۳) شمعون کو ’’ھُمْ رُسُلُ اللّٰہِ ‘‘ کہا ہے۔ (روح المعانی زیرآیت ۔یٰسٓ:۱۵)
۵۔ خالد بن سنان نبی تھا (جمل لابی بقاء جلد ۱ صفحہ ۴۹۹ و تفسیر حسینی جلد ۱ صفحہ ۱۲۹)
۶۔ نیز مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے بھی کرشن کو نبی مانا ہے۔
(دیکھو دھرم پرچار صفحہ ۸ و مباحثہ شاہجہان پور صفحہ ۳۱)
اعتراض 18۔ ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم۔ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو فارسی زبان میں مندرجہ بالا الہام ہوا۔ اس کا حوالہ ؟
ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم
مرزا صاحب نے لکھا ہے (البد ر جلد ۱ نمبر ۱۰ مورخہ ۲؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۸) کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو فارسی زبان میں مندرجہ بالا الہام ہوا۔ اس کا حوالہ دو؟
جواب:۔ یہ حدیث کتاب کوثر النبی ؐباب الفاء میں ہے جو قادیان کے کتب خانہ میں موجود ہے۔
باقی رہا نبی کو غیر زبان میں الہام ہونا۔ تو اس کا جواب بالتفصیل الہامات پر اعتراضات کے جوابات میں گز ر چکا ہے۔
اعتراض 19۔ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ حدیث میں ہے جس شہر میں وبا ہو۔ اس شہر کے لوگ بلا توقف شہر سے باہر نکل آئیں۔
(ریویو جلد ۶ نمبر ۹ ماہ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۶۵)
(الف) ’’یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ ھٰذَا الطَّاعُوْنَ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوْا عَنْہُ فِی الشِّعَابِ ‘‘۔ اے لوگو! یہ طاعو ن نہایت خبیث ہے۔ پس تم گھاٹیوں اور میدانوں میں پھیل جاؤ۔
(قول عمرو بن عبسہ کنز العمال جلد ۲ صفحہ ۲۲۴ بڑی تختی والی، مسند احمد بن حنبل حدیث شرجیل بن مسنہ حدیث ۱۷۷۵۳)
(ب) قرآن مجید میں ہے۔ (قٓ :۱۲) پس شہر یا گاؤں کی ملحقہ زمینیں شہر ہی میں شامل ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جو منع فرمایا ہے۔ وہ شہر سے باہر نکلنے سے ہے۔ اس امر سے منع نہیں فرمایا کہ شہر یا گاؤں کی ملحقہ اراضیات میں بھی نہ جایا جائے۔
اعتراض 20۔ حضرت مرزا صاحب نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۵ طبع اول میں لکھا ہے کہ حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت میں کسوف خسوف رمضان دو دفعہ ہو گا
اعتراض۔ حضرت مرزا صاحب نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۵ طبع اول میں لکھا ہے کہ حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت میں کسوف خسوف رمضان دو دفعہ ہو گا۔ چنانچہ امریکہ اور ہندوستان میں دو دفعہ یہ کسوف خسوف ہوا۔ جو میری صداقت کی دلیل ہے۔ حدیث و کتاب کا حوالہ دو جہاں دو مرتبہ خسوف کا ذکر ہو۔
اس کے حوالہ کے لیے دیکھو حجج الکرامۃ از نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہانی بھوپالی صفحہ ۳۴۴۔
’’پیش ازیں کہ ماہ رمضان گذشتہ باشد۔ دودے دو کسوفِ شمس و قمر شدہ باشد۔ انتہیٰ و دراشاعت گفتہ دو بار در رمضان خسوف قمر شود‘‘
وَکَمْ نَدِمْتَ عَلٰی مَا کُنْتَ قُلْتَ بِہٖ
وَمَا نَدِمْتَ عَلٰی مَا لَمْ تَکُنْ تَقُلٖ
اعتراض 21۔ حضرت مرزا صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سؤرکی چربی اس میں پڑتی ہے
اعتراض 22:۔ حضرت مرزا صاحب نے ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۶۲۹ طبع اوّل میں لکھا ہے کہ تورات میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبیوں کو شیطانی الہام ہوا تھا۔ ا۔ سلاطین باب ۲ ۲ آیت ۶ تا ۱۹۔ تورات میں ہر گز یہ نہیں لکھا۔ بلکہ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ وہ بعل بت کے پجاری تھے۔ (۱۔ سلاطین باب ۱۶ آیت ۳۱، ۲۔ سلاطین باب ۱۰ آیت ۱۹)
الجواب:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن چار سو نبیوں کا ذکر فرمایا ہے وہ جھوٹے نبی نہیں تھے۔ اور نہ وہ بعل بت کے پجاری تھے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے خود تورات کا حوالہ دیا ہے۔
’’مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب ۲۲ آیت ۱۹ میں لکھاہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارہ میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی ۔‘‘
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۳۹)
مگر جو جھوٹے نبی بعل بت کے پجاری تھے ان کا ذکر باب ۲۲ میں نہیں بلکہ ۱۶ میں ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے حوالہ باب ۲۲ کا دیا ہے۔ نہ کہ باب ۱۶ کا۔
۲۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہے:۔
’’بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا …… اور ایک پیغمبر جس کو حضرت جبرائیل سے الہام ملا تھا …… سو یہ خبر سچی نکلی۔ مگر اس چار سو نبی کی پیشگوئی جھوٹی ظاہر ہوئی۔‘‘
(ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۸۸)
اور یہ سب کچھ ۱۔ سلاطین باب ۲۲ آیت ۵ تا ۲۸ میں لکھا ہوا موجود ہے۔ اور یہوسفط نے شاہِ اسرائیل سے کہا۔ آج کے دن خداوند (نہ کہ بعل۔ خادم) کی مرضی الہام سے دریا فت کیجئے۔ تب شاہِ اسرائیل نے اس روز نبیوں کو جو چار سو کے قریب تھے اکھٹا کیا۔ اور ان سے پوچھا۔ پھر یہوسفط بولا۔ ان کے سوا خداوند کا کوئی نبی ہے؟ (اس کے بعد لکھا ہے کہ میکایاہ نبی کو بلایا گیا۔ خادم) اس نے (میکایاہ نے) جواب میں کہا …… دیکھ خداوند تیرے نے ان سب نبیوں کے منہ میں جھوٹی روح ڈالی ہے اور خداوند ہی نے تیری بابت (مجھ کو) خبر دی ہے۔‘‘ (ا۔ سلا طین باب ۲۲)
غرض باب ۲۲ والے نبی بعل والے نبی نہیں ہیں۔ بعل والے نبیوں کا ذکر باب ۱۶ میں الگ طور پر درج ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا ذکر نہیں فرمایا۔ اور ان کی تعداد چار سو نہیں بلکہ چار سو پچاس تھی۔ (ا۔ سلاطین ۲۲؍۱۸) پس حضر ت اقدس علیہ السلام نے ان کا ذکر نہیں فرمایا۔
۳۔ جہا ں تک حوالہ کا تعلق تھا وہ گذر چکا، لیکن ہمیں حیرت ہے کہ تورات کے ان نبیوں پر شیطانی الہام کے ذکر سے تم اتنا کیوں چمکتے ہو جبکہ تم ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے سردار آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے متعلق بھی مانتے ہو کہ ایک دفعہ آپؐ کو بھی شیطانی الہام ہو گیا تھا (نعوذ باﷲ) (دیکھو جلالین مجتبائی صفحہ ۲۸۲ و زرقانی شرح مواہب الدنیہ جلد ا صفحہ ۳۴۰ مفصل بحث کے لیے دیکھو پاکٹ بک ہذا مضمون حضرات انبیاء علیہم السلام پر غیر احمدی علماء کے بہتانات‘‘ آخری حصہ)
اعتراض 24۔ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ ۹ پر لکھا ہے کہ میں نے براہین احمدیہ کے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگراب صرف پانچ ہی لکھتا ہوں۔ پانچ بھی پچاس ہی کے برابر ہیں۔ صرف ایک نقطے کا فرق ہے۔
جواب:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو پانچ کو پچاس کے برابر قرار دیا ہے تو یہ حساب اپنی طرف سے نہیں لگایا۔ بلکہ خدا تعالی کا بتایا ہوا حساب ہے۔ اگر اعتبار نہ ہو تو بخاری کی یہ حدیث پڑھو۔
’’فَقَالَ ھِیَ خَمْسٌ وَ ھِیَ خَمْسُوْنَ ‘‘ (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب کیف فرضت الصلاۃ فی الاسراء) کہ معراج کی رات جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے پچاس نمازوں میں تخفیف کرانے کے لیے آخری مرتبہ اﷲ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوئے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ’’لیجیئے یہ پانچ! یہ پچاس ہیں۔‘‘
اور مشکوٰۃ کتاب الصلوٰۃ میں حدیث معراج کے یہ الفاظ ہیں ـ:۔
’’قَالَ ھٰذِہٖ خَمْسُ صَلٰوۃٍ لِکُلِّ وَاحِدٍ عَشْرٌ فَھٰذِہِ خَمْسُوْنَ صَلٰوۃً ‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الصلوٰۃ حدیث معراج) کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ پانچ نمازیں ہیں۔ ہر ایک دس کے برابر ہے۔ پس یہ پچاس نمازیں ہو گئیں۔ فلا اعتراض۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.