رد بریلویت ۔ دیوبندی وہابی شیعہ چکڑالوی اور نیچری پر احمد رضا خان بریلوی صاحب کا کفر کا فتوی ۔ ملفوظات اعلی حضرت
یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ رافضی یا رافضیہ جس سے شادی کی جائے بعض اگلے روافض کی طرح صرف بد مذہب ہو، دائرہ اسلام سے خارج نہ ہو۔ آجکل کے روافض تو عموماً ضروریات دین کے منکر اور قطعائر تد ہیں ، ان کے مرد یا عورت کا کسی سے نکاح ہو سکتا ہی نہیں ۔ ایسے ہی وہابی ، قادیانی ، دیو بندی ، نیچری ، چکڑالوی جملہ (یعنی سب) مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یا عورت کا تمام جہان میں جس سے نکاح ہوگا، مسلم ہو یا کافر اصلی یا مرتد محض باطل اور زنائے خالص ہوگا اور اولا دولد الزنا۔ عالمگیریہ میں ظهیریہ سے ہے : ” اَحكَامُهُمُ احْكَامُ الْمُرْتَدِین (یعنی ان کے احکام مرتدین کی مثل ہیں) (الفتاوى الهندية، كتساب السير، مطلب موجبات الكفر، ج ۲، ص ٢٦٤) اس میں ہے، لَا يَجُوزُ لِلْمُرْتَدِ أَن يَتَزَوَّجَ مُرْتَدَّةً وَلَا مُسْلِمَةٌ وَلَا كَافِرَةٌ أَصْلِيَّةٌ وَكَذلِكَ لَا يَجُوزُ نِكَاحُ الْمُرْتَدَّةِ مَعَ اَحَدٍ ( یعنی مرتد مرد کا نکاح مردہ عورت سے جائز ہے نہ مسلمان عورت سے اور نہ ہی کا فرہ اصلیہ سے ، اسی طرح مردہ عورت کا نکاح بھی کسی سے جائز نہیں۔)

