قرآن میں یحیٰی کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا

Ahmady.org default featured image

عیسیٰ ؑ کی توہین کے الزام کے تناظر میں ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ قرآن میں مسیح عیسیٰ بن مریمؑ کا نام حصور نہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے بارے میں عورتوں سے تعلق رکھنے اور شراب پینے کی باتیں مشہور تھیں

وہ عبارت آپ یہاں دیکھیں پھر اس اعتراض اور الزام کا جواب درج کیا جائے گا ان شاء اللہ

روحانی خزائن جلد 18 ۔ صفحہ 220

روحانی خزائن جلد ۱۸
۲۲۰
دافع البلاء
قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہوا تھا اور
تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے
طور پر۔ خدا اُس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں
انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ
میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب
نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عطر ملا تھایا
ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُس کی خدمت کرتی
تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں بیٹی کا نام حضور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام
کے رکھنے سے مانع تھے۔ اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بیٹی کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے
ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور اُن کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے ۔ اور
یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو ببداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ
نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی۔ پس اُس کا معصوم ہونا بد یہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ
عیسی اور اُس کی ماں میں شیطان سے پاک ہیں اس کے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ
پلید یہودیوں نے حضرت عیسی اور اُن کی ماں پر سخت نا پاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذ باللہ
شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو اس افترا کارڈ ضروری تھا۔ پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی
معنے نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسی اور اُن کی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ ان معنوں کر کے وہ
مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نی کو کبھی پیش نہیں آیا۔ منہ

جیسا کہ آپ اس کتاب میں سیاق و سباق سے دیکھ سکتے ہیں یہ غیر مسلم مذاہب جیسے ہندو اور کرسچن ( عیسائی ) کے مقابلہ میں محمد ﷺ کے نجات دہندہ ثابت کیا جا رہا ہے ۔

اس لیے جو اس میں لکھا گیا ہے وہ کرسچن بائبل اور ان کے عقائد کی روشنی میں الزامی طور پر ہی لکھا گیا ہے ۔

یہ مضمون دافع البلا کے پہلے 3 صفحات پر ہے جو کتاب کا ابتدائیہ ہے ۔ اس کو کم از کم پڑھیں بات بالکل واضح ہو جائے گی

اس میں صاف طور پر کرسچن عقیدہ کہ یسوع ہی سب انسانون کا منجی یعنی نجات دہندہ ہے کا رد کیا جا رہا ہے جس کے عقل دلائل دیے جارہے ہیں اور کرسچن عقائد اور بائبل کے تناظر میں اس کے سب انبیاء اور نیکوں سے افضل نہ ہونے کی بات بیان کی جا رہی ہے ۔

اس سلسلے میں کرسچن عقائد کے رد کے ساتھ نام کے مسلمانوں بہتر فرقوں کو بھی سمجھھایا جا رہا ہے ان کو انسان نبی ہی رہنے دو اتنا نہ بڑھاؤ کہ ان میں خدائی ص۔ ت ثابت کرو یا محمد ﷺ سے بھی شان میں بڑھا دو۔

صفحہ 220 کے حاشیہ میں کرسچن عقائد کی بنیاد پر ان کو الزامی طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ محمد ﷺ کے مقابلہ میں منجی یعنی نجات دہندہ کیسے ہو سکتے ہیں ۔ حالانکہ تم مانتے ہو کہ وہ شراب پیتا تھا اورفاحشہ عورتوں سے تیل ملوایا تھا ۔

پھر طنزا کہا کہ شاید اسی وجہ سے یحییٰ کو تو حصورا قرآن نے کہا لیکن عیسیٰؑ کو حصور نہیں کہا

پھر یوحنا ( یحییٰ ) کے ہاتھ پر یسوع کے بپتسما لینے کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ کرسچن بائبل میں لکھاہے اور صاف طور پر یہاں کرسچن ہی مخاطب ہیں

پھر حدیث میں جو یہ کہا گیا کہ شیطان نے صرف مریم اور عیسیٰؑ کو نہیں چھوا یہ بھی مریمؑ پر معاذ اللہ بدکاری کے الزام لگانے والوں کو جواب دینے کی غرض سے تھا ورنہ اس سے وہ رسول اللہ ﷺ سے افضل نہیں ہو گئے۔

قرآن مجید میں یحییٰ علیہ السلام کو حصور کہا گیا ہے

فَنَادَتۡهُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَهُوَ قَآٮِٕمٌ يُّصَلِّىۡ فِى الۡمِحۡرَابِۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ ﴿39﴾

جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، کہ “اللہ تجھے یحییٰؑ کی خوش خبری دیتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے و الا بن کر آئے گا اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہوگی کمال درجہ کا ضابط ہوگا نبوت سے سرفراز ہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا”

سورت 3 آل عمران آیت 39

چار قسم کے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی جاتی ہے اور فرشتے آمین کہتےہیں ۔

جو مرد عورتوں کی صورت اختیار کریں یا جو عورتیں مردوں کی صورتیں اختیا کریں یا جو مخنث بن جائے

اور اللہ نے یحییؑ کے سوا کسی کو حصور نہیں بنایا

المعجم الکبیر للطبرانی جلد پنجم

عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر انسان کے ذمہ گناہ ہوں گے ، سوائے یحییٰ بن زکریاؑ کے ۔ راوی کہتے ہیں ہیں پھر حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین کی جانب بڑھایا اور ایک چھوٹی سی لکڑی پکڑی پھر فرمایا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مردوں والی چیز ( یعنی عضو تناسل ) صرف اس لکڑی جتنی تھی ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ

سیدا و حصورا و نبیا من الصالحین

اور سردار اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے ہے

یہی روایت کچھ فرق کے ساتھ مصنف ابن ابی شیبہ جلد نمبر 10 میں بھی موجود ہے

حصورا کے معنی جو عورتوں کے پاس نہ جا سکے

صحیح بخاری جلد ششم ۔ قرآن کی تفسیر 114

بائبل میں بھی یوحنا کے بارے میں ایسی باتیں لکھی ہیں

” وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز نہ مئے نہ کوئی شراب پئے گا۔ اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے روح القدس سے بھرجائے گا “۔

(لوقا۔ 1: 16)


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply