کسر صلیب ۔ کفارہ کی تفصیل اور اس کا رد

کسر صلیب ۔ کفارہ کی تفصیل اور اس کا رد

مسیحی مفہوم : اوّل:۔ ہر انسان گنہگار ہے۔ نہ صرف بلوغت سے لے کر بلکہ پیدائشی گنہگار ہے۔

دوم:۔ اس لئے کہ آدم وحوا نے گناہ کیا اور اولاد میں وراثتاً آیا۔ اس لئے ہر انسان گنہگا ر ہے۔

سوم۔ صفات الٰہی میں چونکہ خدا عادل ہے بلاوجہ بخش نہیں سکتا۔ اور وہ رحیم بھی ہے بوجہ عدل چھوڑ نہیں سکتا۔ بوجہ رحم اقنوم ثانی کو تجسم اختیار کرنا پڑا (نہ معلوم خود تجسم اختیار کیا یا باپ کے حکم سے کیونکہ سب اقنوم الوہیت میں مساوی ہیں۔خادمؔ)اور دوسری طرف خدا نے انسان بن کر اور مصلوب ہو کر جہان کے گناہ اٹھائے۔ جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں بو جہ مسیح کی اس تکلیف کے جو اس نے صلیب پر برداشت کی ۔

بنیاد کفارہ: گناہ پیدائش سے ہے عملوں سے نہیں۔ تمام لوگ پیدائش سے (مرد و عورت سے پیدا ہوئے۔ اس لئے )گنہگار ہوئے۔ مسیح بے گناہ (صرف عورت سے پیدا ہوا)تھا۔ اس لئے قربان ہوا اور دنیا کو گناہوں سے نجات دی۔

تعریف کفارہ: کفارہ کے لفظی معنی ڈھکنا ۔ڈھانپنا ۔خدا کا ایک بیٹا ہے اور وہ ایک بیٹا ہے۔ اس خدا کے بیٹے نے مریم کے پیٹ میں حلول کیا اور وہ خدا کا بیٹا انسان کے بیٹے کی شکل میں پیدا ہوا۔ خدائی کا دعویدار ہوا۔ یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر لٹکا کر جان نکال دی۔ یہ تکلیف خدا کے بیٹے نے محض انسان کے گناہوں کی وجہ سے اٹھائی اور اب وہ گناہوں کا کفارہ ہو گئے۔ اب کسی قسم کی سزا انسان کو نہ دی جائے گی ۔

ضرورتِ کفارہ: انسان گنہگار ہے اور گناہ کا نتیجہ موت ہے بلکہ جہنم کی سزا۔ مگر خدا رحیم ہے۔ اس کا رحم چاہتا ہے کہ انسان سزا سے بچ جاوے۔ پھر وہ عادل ہے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا ضرور دی جائے۔ اب رحم اور عدل ایک جگہ کس طرح جمع ہوں۔ خدا کا بیٹا گناہوں کو اپنے اوپر لے کر اپنا مارا جانا قبول کر کے تمام جہانوں کے لئے نجات کا ذریعہ ہو گیا۔



(۱)
’’اچھا گڈریا میں ہوں۔ اچھا گڈریا بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے۔‘‘

(۲)’’یسوع کے صلیب دیئے جانے کا دن قریب آیا تو ایک دن روٹی کھانے کے وقت روٹی اور انگور کا رس جماعت میں تقسیم کرتے ہوئے کہا ۔کھاؤ یہ میرا بدن ہے اور پیو، یہ میرا لہو ہے۔

ابطال: ۔۱۔ آدم سے زیادہ گنہگا ر حوا تھی۔ اس لئے جو صرف عورت سے پیدا ہوا وہ زیادہ گنہگار ہوا تو قربان کیسے ہوا؟ قربان تو معصوم ہو سکتا ہے بقول شما (دیکھو توریت۔کہ سانپ نے بہکا کر حوا کو دانہ کھلایا جس پر حوا نے آدم کو بہکایا ۔ (پیدائش ۱۳؍۳)

۲۔
 انجیل میں لکھا ہے کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے قبل یوحنا اور زکریا مع اپنی بیوی کے نہایت پاک راستباز تھے۔ ثابت ہوا کہ کفارہ پر ایمان لائے بغیر بھی آدمی راستبازہو سکتاہے۔ کفارہ ضروری نہ رہا۔ نیز یسوع سے پہلے جتنے انبیاء تھے ا ن کی نجات کس طرح ہوئی؟

الف۔ ’’زکریا اور اس کی بیوی وہ دونوں خداوند کے حضور راستباز اور خداوندکے سارے حکموں اور قانونوں پر بے عیب چلنے والے تھے۔‘‘ (لوقا۵،۱/۶)

ب۔
 ’’یو حنا خداوند کے حضور بزرگ۔‘‘ (لوقا ۱/۱۵)

ج۔
 ’’یوحنا بپتسمہ دینے والے سے کوئی بڑا نہیں۔‘‘ (متی ۱۱/۱۱)

د۔
 ’’یوحنا نبی سے بھی بڑا تھا۔‘‘ (لوقا ۷/۲۷)

۳۔
 اگر کفارہ صحیح ہو تو لازم آتا ہے کہ یہودا اسکریوطی مسیح کے پکڑوانے والے کو جزائے خیر ملے اور نجاتِ ابدی کو پہنچے۔

۴۔ یہ عدل نہیں کہ گنہگار دنیا میں اچھی طرح گناہ کریں اور عاقبت کو بھی جنت میں داخل ہوں۔ اور ان کے عوض حضرت مسیح بے گناہ صلیب پر چڑھائے جائیں اور دوزخ میں بھی رہیں۔ غرض یہ ظلم ہے۔

۵۔ اگر حضر ت عیسیٰ اپنی خوشی سے کفارہ قبول کرتے تو صلیب پر کیوں پکار پکار کر کہتے کہ ایلی ایلی لما سبقتانی یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ معلوم ہوا کہ جبراً صلیب دیا گیا۔ پس وہ کفارہ گناہوں کا کیسے ہوئے؟ (متی ۲۷/۴۶)

۶۔
 جب مسیح نے سب گناہ اٹھا لئے تو گویا وہ مجموعہ گنا ہوں کا ہوئے۔ پس گناہ گار آدمی اپنے گناہوں سے عذاب ابدی میں رہے گا۔ تو کیا حال ہے اس کا جس نے سب کے گناہ اٹھا ئے۔

۷۔ بتقدیر تسلیم کفارہ انبیاء جو پہلے مسیح سے گزرے ہیں لازم آتا ہے کہ کفارہ کے بغیر دوزخ میں رہے ہوں۔ کیونکہ تب تک کفارہ نہ ہو ا تھا ۔

۸۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کفارہ سب کا ہو ا ہے یا کہ موجودین کا ۔بر تقدیر ثانی آئندہ اور گزشتہ کے واسطے نیا کفارہ چاہیے ۔بر تقدیر اوّل جب لوگ اور گناہ پیدا نہ ہوئے تھے تو ان کے گناہ کیونکر ایک شخص نے اٹھا لئے؟

۹۔ جب مسیح نے سب گناہ اٹھا لئے تو وہ گویا اوّل نمبر پر گنہگاروں میں سے ہوئے۔ پس محتاج ہوئے طرف کسی منجی کے۔ کیونکہ بجز منجی کے نجات ممکن نہیں۔ پس وہ بھی محتاج کفارہ کا ہو گا اور تسلسل لازم آئے گا۔

۱۰۔ کفارہ لازم آتا ہے کہ قاتل اور چور وغیرہ مجرموں کو پھانسی کی سزا نہ دی جائے ۔ حالانکہ مسیحی لوگ سزا دیتے اور لیتے بھی ہیں۔

۱۱۔ جب کفارہ ہو گیا ۔ تو نیکی کرنے کی کیا حاجت رہی۔ باوجود اس کے مسیح نے چالیس روزے رکھے اور حواری بھی پا بندی نیکی کی کرتے رہے۔

۱۲۔ اگر مسیح نے گناہ اٹھائے بھی ہیں تو لازم آتا ہے کہ امور غیر متناہی واقع ہو ں۔

۱۳۔ مسیح اگر کفارہ ہو نے کو آئے تھے تو آتے ہی کفارہ کیوں نہ ہوئے ۔ بلکہ انجیل سے ثابت ہے کہ خلقت کو نصیحت کرنے آئے تھے۔ (لوقا ۳/۱۸)

۱۴۔
 اس کفارہ کے ہونے سے معافی گناہ کی تو نہیں ہوئی بلکہ زیادتی وقوع میں آئی ہے کیونکہ یہودی مسیح کی تحقیر کرنے کے باعث مستحق عذاب کے ہوئے ۔

۱۵۔ اگر کفارہ موافق مرضی خدا کے ہوتا تو علامت رحمت ظاہر ہوتیں حالانکہ چار انجیلوں سے ثابت ہے کہ بعد ُسولی کے اس طرح کی علامت خدا کے قہر کی ظاہر ہوئیں کہ کبھی نہ ہوئی ہوں گی۔مثلاً جہان میں اندھیرا ہو جانا اور مردوں کا قبروں سے نکلنا، زمین کا کانپنا ، ہیکل کا پر دہ پھٹ جانا۔ وغیرہ وغیرہ

۱۶۔ جبکہ باقرار مسیحیان حضرت عیسیٰ جزو خدا ہیں تو یہ ظاہر ہے کہ صلیب پر کھینچنے والا انسان تھا۔ پس اس سے غلبہ مخلوق کا خالق پر پایا جاتا ہے ۔

۱۷۔ کفارہ کو ماننے سے لازم آتا ہے کہ کسی بخشش کرنے والے کی حاجت نہ رہے۔ حالانکہ کتاب اعمال میں موجودہے کہ حواریین بخشیش دیتے تھے ۔ اور مسیح حواریوں کو فرماتے تھے کہ جس کو تم بخشو گے وہ بخشا جائے گا ۔

۱۸ ۔ اناجیل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ قیامت کو عدالت کریں گے۔ اگر یہ سچ ہے تو بطلان کفارہ میں کیا پیچ ہے ۔

۱۹۔ ہر ایک فرقے پر اطاعت و تقلید پیشوا ا پنے کی لازم ہے۔ پس اگر مسیح مصلوب ہوئے تو عیسائی کیوں صلیب پر نہیں چڑھتے۔

۲۰۔ اعتقاد کفارہ سے تحقیر شان متصور ہے۔ یہ تحقیر ان کے پیرو پولو س بھی کرتے رہے۔ قطع نظر مخالف کے۔ چنانچہ گلتیوں کے خط میں لکھا ہے جو سولی دیا گیا وہ *** ہے۔ (گلتیوں ۳/۱۳) مصلوب خدا کا ملعون ہوتا ہے ۔ (استثنا ۲۱/۲۳)

۲۱۔
 اگر مسیح کفارہ ہو نے آئے تھے تو دعا ردِّبلا کی نہ مانگتے۔حالانکہ انجیل میں موجود ہے کہ مسیح نے رات بھر بہت تضرع سے یہ دعا مانگی کہ یہ عذاب سولی کا مجھ سے ٹل جائے۔ دیکھو (متی۲۶/۳۹ ومرقس۱۴/۳۶ و لوقا ۲۲/۴۲۔)

۲۲ ۔
 مسیح من حیث الروح کفارہ ہوئے یا من حیث الجسم۔ بر تقدیر ثانی جسم ان کا بشریت کا تھا اور کل بشر گنہگار ہیں۔ بر تقدیر اوّل روح کو آپ خدا سمجھتے ہیں وہ سولی دئیے جانے سے مبرّا ہے دوسرے روح محسوس نہیں جو صلیب پر کھینچا جاتا ۔ اپنے جسم کے متعلق مسیح خود کہتا ہے جسم کمزور ہے۔ (مرقس ۱۴/۳۸)

۲۳۔
 الف۔ جو ایمان لاتا ہے نجات پائے گا ۔ ( یوحنا ۱۶تا۳/۱۹ و رو میوں ۳/۲۵ )

ب۔
 ایمانداروں کی علامتیں دیکھو:۔ (متی ۱۷/۲۰ و ۱۸/۹ و ۲۱/۲۱ و مرقس ۱۶/۱۷ و یوحنا۱تا۱۴/۱۱۔) پہاڑ ہٹانا، درخت سوکھانا، زہر کھانا، بیماروں کو شفا دینا۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر چونکہ کسی عیسائی میں یہ علامتیں نہیں، لہٰذا کوئی بھی ایماندار نہیں۔کسی کی نجات نہ ہوئی ۔ کفارہ باطل ۔

۲۴ ۔ مسیح کی قربانی خلافِ فطرت و عقل ہے۔ ہمیشہ چھوٹی چیز بڑی چیز پر قربان ہو تی ہے ۔ لفظ قربانی ’’قرب‘‘ سے نکلا ہے ۔

۲۵۔ کفارہ پر ایمان لانے کے بعد مسیحی لوگوں سے گناہ سر زد ہی نہیں ہوتے یا ہو تے ہیں، لیکن معاف ہو جاتے ہیں اگر سرزد نہیں ہوتے ، مشاہدہ کے خلاف۔ ہو جاتے ہیں اور معاف ہوتے ہیں، دلیل دو۔

۲۶۔ مسیح نے اپنی مرضی سے کفارہ ہو کر اپنے ذمے بندوں کے گناہ لئے یا باپ کی مرضی سے ۔ اگر باپ کی مرضی سے تو باپ غیر عادل۔ اگر اپنی مرضی سے تو خود غیر عادل۔

۲۷۔ انسان بوجہ گنہگار ہونے کے کفارہ ہو سکتا تھاوہ فطرتاً گنہگار ہے۔ تمام لوگ ابن آدم ہیں، مگر مسیح ابن اﷲ ہے اور پا ک ہے۔ اس لئے کفارہ ہوا۔ مگر ہم کہتے ہیں وہ ابن آدم بھی ہے ۔ پھر حوا نے بھی گناہ کیا تھا بلکہ آدم سے پہلے اسی نے گناہ کیا، اور مریم بھی اولاد آدم سے تھی ۔ مسیح ان سے پیدا ہوئے۔ ماں کے خواص بچے میں سرایت کرتے ہیں۔مسیح کی ماں بے گناہ نہ تھی نسل آدم سے تھی۔ اس لئے مسیح گناہ سے کیسے پاک ہوئے؟وہ بھی گناہگار ہوئے۔‘‘ جو عورت سے پیدا ہوا کیونکر پاک ٹھہرے۔ (ایوب ۲۵/۴ و ۱۵/۱۴)

۲۸۔
 آدم کی وجہ سے ساری نسل کا گنہگار ہونا خدا کے عدل کے خلاف ہے ۔

۲۹۔ موت گناہ کی سزا ہے ۔ جب گناہ معاف ہو چکا تو پھر موت کیسی ؟ (رومیوں ۶/۱۶)

۳۰۔
 عورت دردِزِہ سے بچہ جنے گی ۔ مرد پسینہ کی کمائی سے روٹی کمائے گا۔ مگر کفارہ پر ایمان لا کر بھی دردِزِہ ہوتا اور پسینہ کی کمائی سے روٹی نصیب ہوتی ہے۔

۳۱۔ یہودیوں نے احسان کیاکہ کفارہ ادا کر دیا ۔ پھر *** کیوں ہوئے؟

۳۲۔ چونکہ مسیح کا دعویٰ صرف بنی اسرئیل کی ہدایت کے لئے آنے کا تھا۔ اس کا کفارہ بھی صرف بنی اسرئیل کے لئے ہو گا ۔ تمہارا اس کی تبلیغ کرکے لوگو ں کو دھوکہ دینا کیونکر جائز ہے۔

الف۔ ’’میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (متی ۱۵/۲۴)

ب۔
 ’’ لڑکوں کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا اچھا نہیں۔ ‘‘ (متی۱۵/۲۶)

ج۔
 ’’ اس نے شاگردوں کو ہدایت کی کہ بنی اسرئیلیوں کے سوا اور کسی کو تبلیغ نہ کرنا۔‘‘ (متی۵،۱۰/۶)

د۔
 پولوس کا یسوع کی وفات کے بعد غیر قوموں کو تبلیغ کرنا محض غصہ کی وجہ سے تھا۔ (اعمال ۵تا۱۸/۷)

ا ور یسوع کے دوسرے شاگرد پطرس سے جھگڑے کہ تو نے غیر قوموں کے پاس جا کر کیوں منادی کی۔ (اعمال ۱۱/۳) اور اس کے جواب میں اس نے ایک بے معنی سا خواب سنا کر ان کو ٹالنا چاہا ۔ اگر یسوع نے کبھی غیر قوموں کی ہدایت کا بھی دعویٰ کیا ہوتا ۔ تو پطرس اپنی خواب سنانے کی بجائے یسوع کا وہ قول پیش کرتا جس سے ثابت ہوا کہ غیر قوموں میں تبلیغ محض پولوس کی ایجا د ہے۔ پس جب کفارہ بنی اسرئیل میں محدود ہو گیا تو خدا کی باقی ساری مخلوق اس سے محروم ہو گئی اور خدا کے بیٹے کی اتنی بڑی قربانی ’’ کوہ کندن و کاہ بر آوردن ‘‘ کی مصداق ہوئی ۔

۳۳۔ قول عیسائی کہ انسان کمزور ہے ۔ گناہ اٹھا نہیں سکتا۔ اس لئے خدا کے بیٹے نے وہ گناہ اٹھالئے ۔ یہ عدل کے خلاف ہے ۔دوسروں کے عوض میں کسی کو سزا کیو ں دی جاوے ۔ اس موقع پر تو ’’ اندھیر نگری چوپٹ راجہ ‘‘ والی مثال صادق آئے گی۔

۳۴۔ قول عیسائی کہ اگر خدا گناہوں کی سزا نہ دیوے اور وہ بخش دے تو یہ عدل کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں نے عدل کی تعریف غلط سمجھی ہے ۔ عدلؔ کہتے ہیں کسی کا حق نہ مارنا ۔ جیسے مزدور کو ایک روپیہ کی بجائے دو دے دیں تو یہ عدل کے خلا ف نہیں ۔ ہاں ایک روپیہ کی بجائے آٹھ آنے دے دیں تو خلافِ عدل ہے ۔ اسی طرح گناہ معاف کرنا عدل کے خلاف نہیں۔ ہاں بڑھ کر سزا دینا عدل کے خلاف ہے۔ ثواب میں انعام ہوتا ہے ۔ اگر اعمال سے زیادہ دیا جائے تو خلافِ عدل نہیں۔

اس کے متعلق انجیل کی شہادت۔صاحبِ مکان کے مزدوروں کا قصہ

نقلی دلائل

۱۔متی۶/۱۴۔
’’اگر تم آدمیوں کے گناہ بخشو گے تو تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہیں بخش دے گا۔‘‘پس جب خود خدا نہیں بخش سکتا تو وہ بندوں کو کیسے کہتا ہے کہ تم بخشو؟

۲۔استثنا۱۸،۹/۱۹۔اسرائیلیوں کی ہلاکت کو نبی کی دعا سے ٹال دیا۔ معلوم ہوا کہ گناہ بغیر کفارہ بھی معاف ہو سکتے ہیں۔

۳۔پیدائش ۲۰/۷۔’’نبی کی دعا ہمارے واسطے شفاعت کرتی ہے اور ہمیں زندگی بخشتی ہے۔‘‘ کسی کفارہ کی ضرورت نہ رہی۔

(۱) دعا کا مسئلہ فضول جاتا ہے
(۲) گناہ پر دلیری۔عیسائی گناہ کرے یسوع بخشوا دے گا۔ (یوحنا ۲/۱ )
(۳) 
نبی کو *** ماننا پڑتا ہے
(۴) توریت کا انکار کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اس میں کفارہ کا ذکر نہیں
(۵) خدا غیر عادل ٹھہرتا ہے کہ نا حق اپنے بیٹے کو سولی دی۔

۳۵۔(یسعیاہ ۵۵/۷)۔’’وہ جو شریر ہے اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکردار اپنے خیالوں کو۔اور خداوند کی طرف پھرے کہ وہ اس پر رحم کرے گا۔ اور ہمارے خدا کی طرف کہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔‘‘ اس میں گناہوں کی معافی کا ذریعہ ترکِ گناہ بتایا ہے نہ کہ کفارہ۔

۳۶۔ اگر کفارہ سچ ہے تو خدا رحیم نہیں۔کیونکہ اس نے بہر حال سزا دے لی۔پھر وہ رحم کہاں برتتا ہے؟عیسائیوں کے مزعومہ عدل کو پورا کر لیا۔

۳۷۔ سزا کی غرض بندہ کی اصلاح ہے۔ بیٹے کو سزا دے کر بندے کی کیا اصلاح ہوئی۔اس سے خدا تو خوش نہیں ہوتا ۔نہ نیکی سے اسے فائدہ ہے اور نہ بدی سے کوئی نقصان۔پس اصل غرض سزا کی اصلاح نفس ہے۔جب وہ نہ ہوئی تو کفارہ بے فائدہ۔نیز کفارہ ساز گناہ کی سزا کی غرض سے ناواقف معلوم ہوتا ہے۔

۳۸۔ یسوعی کہتے ہیں کہ کفارہ ہو سکتا ہے۔جیسے ایک بادشاہ کا قرض دار جب اپنا قرض ادا نہ کر سکے تو بادشاہ کا بیٹا اگر اس قرض کو ادا کردے تو وہ چھوٹ جاتا ہے ۔اسی طرح جب لوگوں کے گناہ بیٹے نے اٹھا لیے تو وہ سزا سے بری ہو گئے۔مگر اتنا نہیں سوچا کہ جب بیٹا اتنا اختیار رکھتا ہے کہ اپنے خزانے سے دے دے اور رحم کرتا ہے تو کیا بادشاہ رحم نہیں کرسکتا؟

۳۹۔ گناہوں کی معافی کے ذرائع۔ (۲تواریخ ۱۲تا۷/۱۴) اپنے تئیں عاجز کرنا، دعا مانگنا، خدا کا مونہہ ڈھونڈنا، برے راہوں سے پھرنا۔اگر یہ ذرائع انسان اختیار کرے تو بغیر کفارہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔

۴۰۔(متی ۱۲/۳۱)۔روح کے خلاف کا کفر معاف نہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ یسوع کے نزدیک گناہ دو قسم کے ہیں۔صغائراورکبائر۔کبائر بغیر سزا کے معاف نہیں ہو سکتے۔ پس کفارہ باطل۔کیونکہ کفارہ سب گناہوں کو یکساں معاف کرتا ہے۔

۴۱۔(متی ۷/۱۳)۔ نجات کی راہ مشکل اور تنگ بتایا ہے۔جو بہت محنت اور جانفشانی کا کام ہے حا لانکہ کفارے کی راہ تو تنگ نہیں جو مرضی آئے کرے پس کفارہ نجات کے لیے نہیں۔

۴۲۔ خدا قربانی پسند نہیں کرتابلکہ رحم پسند کرتا ہے۔(متی ۱۲/۷) لہٰذا کفارہ باطل ہے۔

۴۳۔ کفارہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ’’اعمال‘‘ کی قطعاً ضرورت نہیں۔مجرد’’ایمان‘‘ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کفارہ کے بانی (پولوس)نے شریعت کو ’’***‘‘ قرار دیا ہے۔جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے:۔

الف۔ ’’مسیح جو ہمارے لیے *** بنا۔اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی *** سے چھڑایا۔کیونکہ لکھا ہے جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ *** ہے۔‘‘ (گلیتوں ۳/۱۳)

ب۔
 ’’اب ہم جانتے ہیں کہ شریعت جو کہتی ہے اُن سے کہتی ہے جو شریعت کے ماتحت ہیں۔ تاکہ ہر ایک کا منہ بند ہو جائے اور ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ٹھہرے ……مگر اب شریعت کے بغیر خدا کی ایک راستبازی ظاہر ہوئی۔جس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔یعنی خدا کی وہ راستبازی جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔اس لیے کہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔مگر اس کے فضل کے سبب اس مخلصی کے وسیلے سے جو یسوع مسیح میں ہے مفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔اسے خدا نے اس کے خون کے باعث ایک کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو……کونسی شریعت کے سبب سے؟کیا اعمال کی شریعت سے؟نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے۔چنانچہ ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہرتا ہے۔‘‘ (رومیوں ۱۹ تا ۳/۲۹)

ج۔
 جھوٹ جائز:۔یہی وجہ ہے کہ پولوس کہتا ہے:’’اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی ۔اسکے جلال کے لیے ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم لگایا جاتا ہے۔‘‘ (رومیوں ۳/۷)

گویا اگر جھوٹ بول کر عیسا ئیت کی تبلیغ کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

د۔ کفارہ کی آزادانہ تعلیم ہی کا نتیجہ تھا کہ یسوع کے معاً بعد ہی عیسائیوں میں خطرناک طور پر بدکاری شروع ہوگئی تھی۔چنانچہ پولوس رسول عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے:۔

’’یہاں تک سننے میں آیا ہے کہ تم میں حرامکاری ہوتی ہے بلکہ ایسی حرامکاری جو غیر قوموں میں بھی نہیں ہوتی۔چنانچہ تم میں سے ایک شخص اپنے باپ کی بیوی کو رکھتا ہے اور تم افسوس تو کرتے نہیں تاکہ جس نے یہ کام کیا تم میں سے نکالا جائے بلکہ شیخیاں مارتے ہو۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں ۲،۵/۱)

پس عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ کفارہ گناہ کو جڑ سے کاٹتا ہے باطل ہے۔

عیسائی:۔قرآن میں بھی کفارہ ہے جیسا کہ لکھا ہے:۔ (المائدۃ: ۹۰)

احمدی :۔
 قرآن مجید میں لفظ کفارہ سزا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قسم توڑے اس کو سزا یہ ہے کہ وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے۔یا ان کو کپڑے پہنائے۔یا ایک غلام آزاد کرے۔مگر کفارہ کی سزا تو بے گناہ مسیح کو دی جاتی ہے اور گناہ کرنے والا آرام اور مزے سے پھرتا ہے۔

نوٹ:۔ بعض عیسائی’’حج بدل‘‘کو بھی پیش کر دیا کرتے ہیں۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ حج بدل میں روپیہ اسی شخص کا ہوتا ہے جس کو حج بدل کا ثواب ملتا ہے لیکن یسوعی کفارہ میں خون تو مسیح کا بہایا گیا اور گناہ عیسائیوں کے معاف ہوئے۔پس فرق ظاہر ہے۔ ( خادمؔ)


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply