دلائل امکان نبوت رد ختم نبوت ازروئے احادیث نبویہ ﷺ

دلائل امکان نبوت رد ختم نبوت ازروئے احادیث نبویہ ﷺ

پہلی حدیث ۔ لما مات ابراہیم ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقال ان لہٗ مرضعا فی الجنۃ ولو عاش لکان صدیقا نبیا

وَرَوَیَ الْبَیْھَقِیْ بِسَنَدِہٖ اِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ اِنَّہٗ لَمَّا مَاتَ اِبْرَاہِیْمُ ابْنُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ لَہٗ مُرْضِعًا فِی الْجَنَّۃِ تَتِمُّ رَضَاعَہٗ وَ لَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا

(تاریخ ابن عساکر جلد ۱ صفحہ ۲۹۵ سطر ۴ مطبوعہ دار المسیرۃ بیروت)

وَ عَنْ جَابِرٍ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ مَرْفُوْعًا لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ نَبِیًّا۔

(تاریخ ابن عساکر جلد ۱ صفحہ ۲۹۵ مطبوعہ دار المسیرۃ بیروت) نیز الفتاوی الحدیثیہ مصنفہ امام ابن حجر الہیثمی صفحہ ۱۵۰ مطبوعہ مصر)

پانچویں حدیث:۔ فَیَرْغَبُ نَبِیُّ اللّٰہِ عِیْسٰی وَ اَصْحَابُہٗ (مسلم کتاب الفتن باب صفت الدجال) آنے والے مسیح کو نبی اﷲ قرار دیا ہے، پہلا مسیح فوت ہو چکا اور اس کا حلیہ آنے والے مسیح کے حلیے سے مختلف ہے لہٰذا یہ آنے والا بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسٰی ابن مریم) اسی امت میں سے نبی ہونا تھا۔

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اَبُوْبَکْرٍ اَفْضَلُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ نَبِیٌّ (کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق از امام عبد الرؤف مناوی ؒ صفحہ ۴ بار اوّل ۱۹۳۰ء مطبوع گیلانی سٹیم پریس لاہور) کہ ابوبکرؓ اس امت میں سب سے افضل ہے سوائے اس کے کہ امت میں سے کوئی نبی ہو۔ یعنی اگر نبی ہو تو حضرت ابوبکرؓ اس سے افضل نہیں لہٰذا امکانِ نبوت فی خیر الامت ثابت ہے (نیز دیکھو جامع الصغیر السیوطی مصری حاشیہ صفحہ ۶ طبع بالمطبعۃ المیمنیۃ بمصر)

اَبُوْ بَکْرٍ خَیْرُ النَّاسِ اِلَّا یَکُوْنَ نَبِیٌّ۔ (طبرانی و ابن عدی فی الکاہل بحوالہ جامع الصغیر السیوطی جز اوّل صفحہ ۲۸ مکتبہ نزار مصطفی الباز الطبعۃ الثانیۃ ۲۰۰۰ء) کہ ابو بکرؓ سب انسانوں سے بہتر ہیں۔ ہاں اگر کوئی نبی انسانوں میں سے ہو تو اس سے بہتر نہیں۔ (نیز کنز العمال جلد ۶ صفحہ ۱۳۷ عن سلمہ بن الاکوع)

اگر انسانوں میں سے کوئی نبی ہونا ہی نہ تھا۔تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو استثناء فرمانے کی کیا ضرورت تھی؟ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَبِیٌّ کے الفاظ صاف طور پر بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبی کی آمد کا امکان ہے۔

نوٹ:۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ’’نَبِیٌّ‘‘ حدیث مذکورہ بالا میں کَانَ یَکُوْنَ کی خبر واقع نہیں ہوا کہ یہ خیال کیا جا سکے کہ حضرت ابوبکرؓ کی نبوت کی نفی مقصود ہے اگر ’’کَانَ‘‘ کی خبر ہو تا۔ تو ’’ نَبِیٌّ‘‘ کی بجائے نَبِیًّا ہونا چاہئے تھا۔ پس چھٹی اور ساتویں حدیث کا ترجمہ سوائے اس کے جو ہم نے بیان کیا قواعد عربیہ کے لحاظ سے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

’’تَکُوْنُ النَّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَا شَاءَ اللّٰہُ …… ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النَّبُوَّۃِ مَا شَاءَ اللّٰہُ …… ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًا فَتَکُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰہُ …… ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النَّبُوَّۃِ۔‘‘ (رواہ احمد و البیہقی فی دلائل النبوۃ، مشکوۃ کتاب الرقاق، باب الانذار والتحذیر صفحہ۴۶۱ مطبع اصح المطابع نیز محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۱۷ ایڈیشن اوّل) ترجمہ:۔ تم میں نبوت رہے گی جب تک کہ اﷲ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر اس کے بعد منہاج نبوت پر خلافت ہو گی اور وہ رہے گی جب تک کہ اﷲ تعالیٰ چاہے گا پھر اس کے بعد بادشاہت شروع ہو گی اور وہ بھی رہے گی جب تک اﷲ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر اس کے بعد خلافت ہو گی منہاج نبوت پر۔

اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت زمانہ میں دوبارہ منہاج نبوت پر خلافت ہو گی۔ جس طرح ابتدائے اسلام میں منہاج نبوت پر خلافت قائم ہوئی تھی۔ ظاہر ہے کہ منہاج نبوت پر خلافت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی ہوئی تھی تو لازم آیا کہ آخری زمانہ میں بھی نبی ہو جس کی وفات پر دوبارہ خلافت شروع ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مندرجہ بالا حدیث مندرجہ مشکوٰۃ کتاب الرقاق صفحہ ۴۶۱ مطبع اصح المطابع میں بین السطور لکھا ہے:۔ ’’الظَّاھِرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِہٖ زَمَنُ عِیْسٰی وَالْمَھْدِیْ‘‘ کہ ظاہر ہے کہ منہاج نبوت پر دوبارہ خلافت قائم ہونے کا زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہو گا۔


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply