پاکٹ بک ۔ مسیح و مہدی احمدؑ کی ذات پر اعتراضات کے جواب

پاکٹ بک ۔ مسیح و مہدی احمدؑ کی ذات پر اعتراضات کے جواب

الجواب۔ مینارہ والی حدیث پر علامہ سندی نے یہ حاشیہ لکھا ہے:۔

’’وَ قَدْ وَرَدَ فِیْ بَعْضِ الْاَحَادِیْثِ اَنَّ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ یَنْزِلُ بِبَیْتِ الْمُقَدَّسِ وَ فِیْ رَوَایَۃٍ بِالْاُرْدُنِ وَ فِیْ رَوَایَۃٍ بِمُعَسْکَرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔ ‘‘

(حاشیہ ابن ماجہ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ ابن مریم و مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجّال)

کہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں نازل ہوں گے اورایک روایت میں یہ ہے کہ اردن میں نازل ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں ، خدا جانے درست بات کونسی ہے۔‘‘پس جہاں مسیح نازل ہوا وہی درست اور صحیح ہے۔

جواب:۔الف۔ اس معاملہ میں بھی روایات میں شدید اختلاف ہے ملاحظہ ہو:۔

’’اَنْ یَّخْرُجَ مِنْ تَھَامَ ۃٍ (جواہر الاسرار صفحہ ۵۶)کہ مہدی تہامہ سے ظاہر ہو گا۔

ب۔ یَخْرُجُ الْمَھْدِیُّ مِنَ الْقَرْیَۃِ یُقَالُ لَھَا کَدْعَۃٌ۔ (جواہر الاسرار صفحہ ۵۶) کہ امام مہدی ایک گاؤں سے ظا ہر ہوگا جس کا نام کدعہ ہوگا۔ اور ا س کے پاس ایک مطبوعہ کتاب ہوگی جس میں اس کے ۳۱۳ اصحاب کے نام ہوں گے۔ (یہ کتاب جس میں حضرت اقدس کے ۳۱۳ اصحاب کے نام ہیں۔ انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۳۲۴ تا ۳۲۸ہے۔ (خادم)

مہدی کدعہ نامی گاؤں میں پیدا ہوگا۔(حجج الکرامہ صفحہ ۳۵۸از نواب صدیق حسن خان صاحب)

ج۔ ’’یَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ ھَارِبًا اِلٰی مَکَّۃَ۔ ‘‘ (ابو داؤد کتا ب المہدی ) ’’یعنی وہ مدینہ سے ظاہر ہو کر مکہ کی طرف جائے گا۔‘‘

۷۔مولد میں اختلاف

الف۔ مہدی کا مولد بلادِ مغرب ہے۔ (حجج الکرامہ از نواب صدیق حسن خان صاحب صفحہ۳۵۶تا ۳۵۸۔ اقتراب الساعۃ صفحہ ۶۲از نواب نورالحسن خان صاحب مطبع مفیدعام الکائنہ فی آگرہ)

ب۔’’تولِّد او در مکہ معظمہ باشد۔‘‘ (رسالہ مہدی مصنفہ علی متقی )

ج۔ مسند احمد بن حنبلؒ باب خروجِ مہدی میں ہے کہ۔ ’’مہدی خراسان کی طرف سے آئے گا۔‘‘

د۔ ’’مہدی حجاز سے آئے گا اور دمشق کی طرف جائے گا۔‘‘(حجج الکرامۃ صفحہ۳۵۸ )غرضیکہ اس معاملہ میں بھی اختلاف ہے درست وہی روایت ہے جس میں مہدی کہ کدعہ نامی گاؤں سے ظاہر ہونے کا ذکر ہے جو لفظ قادیان کی بدلی ہو ئی صورت ہے۔ بوجہ عدم احتیاط رواۃ۔

جواب:۔ ا۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی عاصم بن ابی النجود ہے جو ضعیف ہے۔ عاصم بن ابی النجود کے متعلق مفصل بحث مسئلہ حیات مسیح کے ضمن میں حضرت ابن عباس کی تفسیر متعلقہ آیت اِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ میں گزر چکی ہے وہاں سے دیکھی جائے۔ (پاکٹ بک ہذاصفحہ۲۱۵)

۲۔ ابنِ خلدون نے اس روایت پر نہایت مبسوط بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون مطبوعہ مصر ۲۶۱۔ و مترجم اردو مطبع نفیس اکیڈمی حصہ دوم صفحہ ۱۵۸ تا ۱۶۰)

۳۔ یہ روایت خلیفہ مہدی عباسی کو خوش کرنے کے لئے وضع کی گئی تھی۔ کیونکہ اس کا نام محمد اور اس کے باپ کا نام عبداﷲ تھا اور مہدی لقب تھا۔ چنانچہ امام سیوطیؒ نے اس روایت کا اطلاق اسی مہدی عباسی پر کیا ہے ملاحظہ ہو:۔ ’’تاریخ الخلفاء باب ذکر مہدی‘‘ (اردو ترجمہ موسومہ بہ محبوب العلماء مطبوعہ پبلک پرنٹنگ پریس لاہو ر ۳۴۱)

۴۔ بر بنائے تسلیم یہ استعارہ کے رنگ میں تھا۔ جس کامطلب یہ تھا کہ امام مہدی کا وجود اپنے آقا اور مطاع آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے الگ نہ ہوگا۔ جیسا کہ حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں:۔ اِنَّ بَاطِنَہٗ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ۔ (شرح فصوص الحکم صفحہ۵۱، ۵۳ مطبعۃ الزاہریہ مصریہ) کہ مہدی کا باطن محمد صلعم کا باطن ہو گا۔

۵۔ مہدی کے نام کے متعلق بھی روایات میں اختلاف ہے:۔

الف۔ مہدی کا نام محمد ہوگا۔(اقتراب الساعہ صفحہ۶۱از نواب نورالحسن خان صاحب)

ب۔مہدی کا نام احمد ہوگا۔ (اقتراب الساعہ صفحہ ۶۱از نواب نورالحسن خان صاحب) چنانچہ لکھاہے:۔

’’اکثر روایتوں میں اس کا نام محمد آیا ہے۔بعض میں احمد بتایا ہے۔‘‘

ج۔مہدی کا نام عیسیٰ ہو گا۔ (جواہر الاسرار صفحہ ۶۸)

یہ اختلاف بتاتا ہے کہ مہدی کے یہ نام بطور صفات کے ہیں نہ کہ ظاہری نام۔


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply