اسلام اور ویدک دھرم مقدمہ
خدا تعالیٰ جو علیم اور حکیم ہے اس نے دنیا کو ظلمت و گمراہی کی تاریک و تار گھٹاؤں میں گھرا دیکھ کر اپنی سنّت قدیمہ کے مطابق دنیائے جہالت کومنوّر کر نے کرنے کے لئے نورِ اسلام ظاہر کیا۔یہ مذہب
’’فاران کی چوٹیوں پر‘‘(بائیبل استثناء باب ۳۳ آیت ۲)
سے تمام دنیا پر چمکا ۔اور کروڑہا انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کر کے منزلِ مقصود تک پہنچایا۔تمام دنیا کی متحدہ طاقتوں نے اس نورِ خداوندی کو بجھانے کی کوشش کی لیکن یہ بچہ تلواروں کے سایہ میں پَلا،پَھلا اور پھولا۔حتیٰ کہ ایک وقت آیا جب دنیا کا کونہ کونہ اس
وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذۡنِهِۦ وَسِرَاجً۬ا مُّنِيرً۬ا (٤٦) ’’سراج منیر‘‘ (الاحزاب:۴۷)
کی ظلمت سوز ضیاء سے منوّر ہوگیا۔ہزارہا مذاہب اس کے مقابل پر آئے مگراسلام کے دلائل بیّنہ و براہین ساطعہ کے آگے سرنگوں ہوئے بغیر ان کے لئے اور کوئی چارہ نہ تھا۔
وید جو ممکن ہے ابتدائے دنیا میں جب انسانی دماغ نے ابھی منازِل ارتقاء طے نہ کی تھیں (دیکھو ستیارتھ پرکاش باب ۷ دفعہ ۷۴) ابتدائی تعلیم دینے کے لئے نازل ہوئے ہوں،لیکن آج جبکہ ترقی ٔ علوم سے انسانی دماغ ارتقاء کے بلند ترین مقام پر پہنچ چکا ہے۔اس ویدک تعلیم کو عالمگیر اور قابل تتبّع قرار دینا دسمبر میں برف بیچنے کے مترادف ہے۔
(۱) عالمگیر کامل الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے عالمگیر اور الہامی ہونے کا پہلے خود دعویٰ کرے اور پھر اس کے دلائل بھی خود ہی بیان کرے۔قرآن کریم فرماتا ہے
وَإِنَّهُ ۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِينَ (١٩٢) (الشعراء:۱۹۳)
کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔پھر فرمایا
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَءَامَنُواْ بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ۬ وَهُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّہِمۡۙ كَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَيِّـَٔاتِہِمۡ وَأَصۡلَحَ بَالَهُمۡ (٢) (محمد:۳)
کہ یہ کتاب محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔پھر فرماتا ہے
تَبَارَكَ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَـٰلَمِينَ نَذِيرًا (١) (الفرقان:۲)
کہ قرآن مجید اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمام دنیا کے لوگوں کے لئے موجب ہدایت ہو۔مگر اس کے مقابل وید نہ تو اپنے الہامی ہونے کے مدعی ہیں اور نہ وہ اپنے ملہمین کا کچھ اتا پتہ بتاتے ہیں کہ وہ تھے کون؟انسان تھے یا آگ،پانی،ہوا،سورج؟ان کی زندگی کیسی تھی؟انہوں نے وید کی تعلیم پر کس طرح پر عمل کیا؟کس طرح تبلیغ کی؟تاکہ ہمارے لئے وید کی تحقیق کرنے کے لیے آسانی ہوتی مگر ویدوں نے ان سب باتوں کو نظر انداز کر کے اپنے غیر مکمل ہونے کا کافی ثبوت بہم پہنچا دیا ہے اندریں صورت آریہ صاحبان کا وید کو کامل الہامی اور عالمگیر کتاب ثابت کرنا ۹۹۹۹۹۹’’مدعی سُست گواہ چست ‘‘بلکہ’’مدعی مفقود اور گواہ موجود‘‘کا مصداق ہے۔
(۲) وہی کتاب مکمل الہامی کہلا سکتی ہے جو اس منبع ہدایت (خدا)کے متعلق نہایت اعلیٰ اور اکمل تعلیم دے۔جو کتاب خدا تعالیٰ کو نہایت بھیانک شکل میں پیش کرتی ہے وہ کبھی الہامی نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کی مختلف صفات بیان کر کے فرمایا
قُلِ ٱدۡعُواْ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُواْ ٱلرَّحۡمَـٰنَۖ أَيًّ۬ا مَّا تَدۡعُواْ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِہَا وَٱبۡتَغِ بَيۡنَ ذَٲلِكَ سَبِيلاً۬ (١١٠) (بنی اسرائیل:۱۱۱)
ہر قسم کی خوبیاں خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ ہر قسم کی برائی سے پاک ہے۔کیسی اعلیٰ اور اکمل تعلیم ہے۔
ویدوں کی خدا کے متعلق تعلیم ملاحظہ ہو :۔
لا علم خدا :۔ خدا کہتا ہے :۔’’اس دنیا میں پاپ اور پُن بھوگنے کے دو راستے ہیں ۔ایک عارفوں یا عالموں کا ۔دوسرا علم و معرفت سے معرّاانسانوں کا ۔میں نے یہ دو رستے سنے ہیں۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۱۹ منتر ۴۷ اردو ترجمہ عبدالحق ودیارتھیبحوالہ رگ وید آدی بھاش بھومکامترجم نہال سنگھ صفحہ (۱۲۲) پھر خدا پوچھتا ہے:۔’’اے بیاہے ہوئے مرد عورتو!تم دونوں رات کو کہاں ٹھہرے تھے اور دن کہاں بسر کیا تھا اور کھانا وغیرہ کہاں کھایا تھا۔ تمہارا وطن کہاں ہے۔جس طرح بیوہ (نیوگن) اپنے دیور (نیوگی خاوند)کے ساتھ شب باش ہوتی ہے اسی طرح تم کہاں شب باش ہوئے تھے۔‘‘ (رگ ویداشٹگ۷؍ادھیائے۸ورگ نمبر۱۸منتر۲بھومکا صفحہ ۱۲۵و ستیارتھ پرکاش باب ۴ دفعہ ۱۳۰)۔
چور خدا:۔ ’’اے اندر دولتوں سے مالا مال پرمیشور !ہم سے الگ مت ہو۔ہماری مرغوب سامانِ خوراک مت چُرا اور نہ کسی اور سے چُروا۔‘‘ (رگ وید اشٹگ سوکت نمبر۱۹ترقی نمبر۸ آریہ بھومی صفحہ ۵۸مصنفہ دیانند) تفصیل دوسری جگہ درج ہے۔ ع
قیاس کن زگلستان من بہار مرا
(۳) ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسانی ہاتھ کی ایجاد ہو دوسرا انسان اس کی تعمیر کی طاقت رکھتاہے۔مگر صانع قدرت کی مصنوعات کو بنانے کی کوشش تضیعِ اوقات ہے پس الٰہی کلام میں یہی مابہ الامتیاز ہے کہ وہ بے مثل ہوتا ہے۔قرآن شریف نے ببانگ دہل تمام دنیا کو اپنے مقابل پہ بلا کر کہا۔ (بنی اسرائیل :۸۹)کہ اگر تمام جن اور انسان جمع ہو کر بھی قرآن کریم کی نظیر لانے کی کوشش کریں تو بھی اس کی مثل نہیں لا سکیں گے ۔چنانچہ واقعات نے بتا دیا کہ قرآن کا یہ دعویٰ کس قدر وزنی تھااور ۱۳۰۰سال تک کوئی اس مطالبہ کا جواب نہ دے سکا۔پنڈت کالی چرن اور دھرم بھکشونے چند غلط فقرات لکھ کر اندھوں میں کانا را جہ بننا چاہا مگر ایسی منہ کی کھائی کہ بولنے کا نام تک نہ لیا۔مگر اس کے بالمقابل بر ہمنوں نے اتھروید کو اپنے پاس سے بنا کر رگ وید، سام وید اور یجروید کے ساتھ ایسا ملا دیا کہ آریہ صاحبان اتھر وید کو بھی باقی تینوں ویدوں کی طرح الہامی ماننے لگ گئے۔ حالانکہ باقی ویدوں میں اتھر وید کا کہیں ذکر نہیں بلکہ وہاں صاف طور پر تین ہی ویدوں کا ہونا لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو:۔
’’ایک ایک وید کو…………بارہ (۱۲) بارہ(۱۲) سال مل کر چھتیس (۳۶) سال میں ختم کریں ۔‘‘ (ستیارتھ پرکاش ب ۳ دفعہ ۲۶) فرمائیے جناب !وید تین ہیں یا چار۔بارہ سال میں ایک پڑھنے سے ۳۶ سال میں کتنے وید ختم ہوئے تین یا چار؟اور سنیے:۔جس سبھا میں رگ وید،یجر وید،سام وید کے جاننے والے تین سبھا سدھ ہو کر آئین باندھیں ۔‘‘(منوسمرتی ادھیائے ۱۲۔۱۱۲بحوالہ ستیارتھ پرکاش ب۶دفعہ)
پھر یجر وید ادھیائے ۳۶ کے پہلے منتر میں ’’رگ وید،سام وید اور یجر وید ‘‘کا نام ہے۔مگر اتھر وید کا کہیں ذکر نہیں ۔پس معلوم ہوا کہ اتھر وید بعد میں برہمنوں نے باقی تینوں ویدوں میں ملا دیا ہے۔پس وید بے مثل نہ رہے۔
(۴) کامل الہامی کتاب وہی ہو سکتی ہے جو عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم دے۔قرآن کہتا ہے
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفً۬اۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡہَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٲلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَڪۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ (٣٠) (الروم:۳۱)
کہ اسلام عین فطرت انسانی کے مطابق تعلیم دیتا ہے مگر اس کے بالمقابل ویدک دھرم کی تعلیم فطرت انسانی کے سخت خلاف ہے۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:۔
(الف) ’’بچوں سے لاڈ نہیں کرنا چاہیے بلکہ تنبیہ ہی کرتے رہیں‘‘ (ستیارتھ ب ۲ دفعہ ۲۰)
(ب) ’’پیدائش سے ہی گاتیری منتر پڑھنا اچھا ہے۔‘‘ (ستیارتھ ب۳دفعہ۱۴)
(ج) ’’بالکل شادی نہ کرنا اچھا ہے ۔ورنہ ۴۰ سال کی عمر میں (ستیارتھ ب۳دفعہ ۳۴۔۳۵)
(د) وید میں ہے:۔’’بادل جو بمنزلہ باپ کے ہے ۔زمین میں جو بمنزلہ دُختر کے ہے۔باران کی صورت حمل قائم کرتا ہے۔‘‘ (رگ وید منڈل نمبر۱ سکونت ۱۶۴منتر۳۳بحوالہ رگ وید آدی بھاش بھومکاصفحہ ۱۶۳)
علاوہ ازیں نیوگ کا حیاسوز مسئلہ ایسا ہے کہ فطرتِ انسانی اسے دھکے دے رہی ہے۔صرف ایک حوالہ نقل کرتا ہوں:۔
سوامی دیانند صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ جب ایک شادی ہوگی اور ایک عورت کے لئے ایک خاوند ہوگا ۔اگر مرد و عورت دونوں جوان ہوں اور عورت حاملہ ہو یا مرد مریض ہو تو ان صورتوں میں اگر حاملہ عورت کے خاوند یا ایک مریض خاوند کی جوان عورت یا ایک مریض عورت کے جوان خاوند سے رہا نہ جائے تو کیا کرے۔‘‘سوامی جی کا جواب ملاحظہ فرمائیے:۔
’’اگر حاملہ عورت سے ایک سال صحبت نہ کرنے کے عرصہ میں مرد سے یا دائم المریض مرد کی عورت سے رہا نہ جائے تو کسی سے نیوگ کرکے اس کے لئے اولاد پیدا کرے لیکن رنڈی بازی یا زناکاری کبھی نہ کریں۔ (ستیارتھ ب ۴ دفعہ۔۱۴۶)
حضرات!انسانی کانشنس کیا ایک لمحہ کے لئے بھی یہ قبول کر سکتی ہے کہ ایسی حیا سوز تعلیم دینے والی کتاب کبھی خدا کا کلام ہو سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا فقرہ میں ’’اس کے لئے اولاد پیدا کرے‘‘۔ محض ڈھکوسلہ ہے کیونکہ جس صورت میں عورت حاملہ ہوگی اولاد کے حصول کے لئے کہیں اور جاکر نیوگ کرنا تحصیل حاصل ہے ۔پس اصل علاج تو سوامی صاحب نے ’’رہا نہ جائے‘‘کا بتایا ہے۔
ہمارے گجرات (پنجاب)میں سوامی جی تشریف لائے اور آکر لیکچر دیا۔ ایک شخص نے سوامی جی سے سوال کیا۔’’جس عورت کا خاوند کنجری کے پاس جائے ۔اُس کی عورت کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا:۔اُس کی عورت بھی ایک مضبوط آدمی رکھ لے۔‘‘ (جیون چرتر مصنّفہ لیکھرام و آتمارام صفحہ ۳۵۵) حیرت ہے کہ اس تعلیم کو کامل، مکمل بلکہ اکمل اور عالمگیر الہامی قرار دیا جاتا ہے
گر یہی دیں ہے جو ہے ان کے خصائل سے عیاں
مَیں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار
(۵) خدا علیمِ کُل ہے ۔اس کے لئے تینوں زمانے یکساں ہیں۔وہ آئندہ کے حالات جانتا ہے کیونکہ وہی (الفرقان:۳)کا فاعل ہے مگر انسان ضعیف البنیان کمیٔ علم کی و جہ سے آئندہ کے حالات نہیں جان سکتا۔پس انسانی اور الہامی کلام میں ایک یہ مابہ الامتیاز ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو اسے انسانی کلام سے ممتاز و بالا ثابت کرتی ہیں۔ویدوں میں پیشگوئیوں کا نام تک نہیں مگر اس کے بالمقابل قرآن شریف نے آئندہ زمانہ کی اخبار بیان فرما کر آئندہ زمانوں کے لئے قرآن کی صداقت کے نئے نئے ثبوت مہیا فرمائے ۔قرآن شریف نے فرمایا کہ جب فرعونِ مصر دریائے نیل میں غرق ہونے لگا تو اس وقت خدا نے اسے کہا :۔ (یونس:۹۳)کہ اے فرعون!میں آج سے تیرے جسم کو محفوظ رکھوں گا نہ اس کو دریائی مچھلیاں یا پانی تلف کر سکے گا نہ زمین کے کیڑے یا مٹی اس کی تباہی کا موجب ہوں گے۔بلکہ یہ محفوظ رہے گا ۔تاکہ تیرے بعد کے آنے والوں کے لئے نشان بنے اور بہت سے لوگ ہمارے نشانوں سے غافل ہیں۔
قرآن شریف نے خدا تعالیٰ اور فرعون کی گفتگو کا ذکر فرمایااور اس کے ثبوت میں اپنا وعدہ بیان کر کے اس کو بطور پیشگوئی کے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آج ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد فرعون کی لاش صحیح و سالم برآمد ہوئی اور مصر کے عجائب گھر کی زینت ہو کر
فَٱلۡيَوۡمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ ءَايَةً۬ۚ وَإِنَّ كَثِيرً۬ا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَايَـٰتِنَا لَغَـٰفِلُونَ (٩٢) (یونس:۹۳)
کے مطابق ہمارے لئے بطور نشان بنی۔
کیا ایسی عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے کے بعد بھی قرآن کریم کے الہامی ہونے میں شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟مبارک وہ جو حق کو قبول کرتے ہیں۔
تردید قدامت وید
منقولی دلائل
آریوں کا دعویٰ ہے کہ وید ابتدائے عالم میں اترے تھے۔ویدوں کے نازل ہونے سے پہلے کوئی مخلوق نہ تھی۔
(۱)’’اے لوگو!جو عالم ہمارے بالتشریح کہتے تھے ۔مذکورہ بالاتعلیم کا اور ہی پھل و کام کئے تھے۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۴۰ منتر ۱۳صفحہ ۲۰۴)
(۲)زمانہ قدیم کے دیو یعنی صاحب علم و معرفت راستی شعار گزر چکے ہیں۔‘‘ (بھومکا صفحہ ۲۰و صفحہ۴۶)۔
(۳)’’پہلے زمانہ میں جو عالم و فاضل اور بے گناہ (پاک)تھے۔وے بہت جلدی عاجزی سے تعلیمی فائدہ کے لئے اپنی اولاد کی حفاظت کے لئے طلوع آفتاب یا صبح صادق کو (لکشیہ) مدّنظررکھ کر اپنے یگیہ آدی(مذہبی فرائض)شروع کرتے تھے۔‘‘ (رگ وید منڈل نمبر۷سوکت نمبر ۶۱ منتر۱) اس سے یہ معلوم ہوا کہ وید شروع دنیا میں نہیں اترے۔
(۴)’’اے دشمنوں کے مارنے والے،اصول جنگ میں ماہر ،بے خوف و ہراس،پُر جاہ و جلال عزیز جوانمردو !تم سب رعایا کے لوگوں کو خوش رکھو۔پرمیشور کے حکم پر چلو۔اور بد فرجام دشمن کو شکست دینے کے لئے لڑائی کاسر انجام کرو۔تم نے پہلے میدانوں میں دشمنوں کی فوج کو جیتا ہے۔تم نے اپنے حواس کو مغلوب اور روئے زمین کو فتح کیا ہے۔‘‘
(رگ وید بھاشا بھومکا صفحہ ۳۶منقول از اتھرون وید کانڈ نمبر۶ ۔انواک نمبر۱۰درک ۹۷منترنمبر۳)۔
خط کشیدہ عبارت ظاہر کرتی ہے کہ وید کے نزول سے پہلے لوگ گزرے اور لوگوں نے مخالفوں پر فتح پائی ۔ورنہ یہ عبارت الحاقی ثابت ہوگی۔
(۵)’’اے سورج کی طرح ایشورج اور ودّیا اور سُکھ کے داتا مہاتما عالم انسان جیسے سورج کے اکاش میں چلنے کے صاف راستے ہیں جو آپ کے پہلے مہاتما ؤں کے عمل میں آئے ۔بلا گردو غبار راستہ میں اُن پر آرام سے چلنے کے لائق راستوں سے آج ہم کو چلائیے اور ان طریقوں سے چلنے پر ہم لوگوں کی حفاظت بھی کیجئے اور ہم کو زیادہ تر ہدایت کیجئے اور اسی طرح سے سب کو خبردار کیجئے۔‘‘
(یجر وید صفحہ ۱۳۶ حصہ سوم ادھیائے ۲۴منتر ۲۷)
(۶)پارسی لوگ ژند اوستا کی ابتداء کروڑوں برس ویدوں سے پہلے بتاتے ہیں۔
وید کی حقیقت (قرآن یا وید ؟)
وید کی حقیقت
وید اور قرآن کا مقابلہ نہیں ہو سکتاکیونکہ مقابلہ کے لئے میدان میں آنا ضروری ہے اور وید میدان میں نہیں آیا۔کیونکہ خود تمہارا عقیدہ ہے کہ وید کی زبان کسی قوم کی زبان نہیں کیونکہ اس طرح پکش پاتھ یعنی طرفداری ہوتی ہے اور اس وقت بھی سنسکرت کسی ملک کی زبان نہ تھی اور نہ اترتے وقت کسی ملک اور قوم کی زبان تھی۔
سوال(۱) خاص ایشور کی زبان ہے تو سوال یہ ہے کہ جب کسی ملک اور قوم کی زبان نہیں تو اس کا انکشاف کیسے ہوا؟اگر کہو کہ ترجمہ کیا ہے۔تو پھر بھی طرفداری لازم آتی ہے کہ خدا نے کسی قوم کی زبان میں ترجمہ کیا۔تو حاصل کلام یہ کہ وید کا انکشاف حقیقتاً نہیں تو مقابلہ کیسے ہو۔
سوال (۲) سنسکرت مردہ زبان ہے اور اب بھی اس کا فہم مشکل ہے۔اگر اس کے معنی میں اختلاف ہو تو حل کس طرح کریں۔
سوال(۳) وید پستک ایسے پراچین (پرُانے) زمانہ کی بتائی جاتی ہے جس کی کوئی تاریخ محفوظ نہیں جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ وید کی کیا ضرورت تھی؟کون سی گمراہی تھی جس کے دور کرنے کے لئے آئی تھی کیونکہ تمہارے خیالات کے مطابق ابتدائے آفرینش سے لوگ مکتی خانہ سے نکلے تھے تو پھر اس کا اثر قوم پر کیا ہوا؟پھر ہم کہتے ہیں کہ اس کے نہ اترنے سے کیا نقصان ہونا تھا؟کیونکہ اگر اترنے سے فائدہ ثابت نہ ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اگر نہ ہوتا تو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔
سوال(۴) جن پر وید نازل ہوا تھا ان کا چال چلن کیسا تھا؟کوئی تاریخ نہیں جس سے ان کے ماں باپ اور قومیّت اور چال چلن معلوم ہوسکے۔
سوال(۵) خود ہندوؤں کے ہاں اختلاف ہے کہ کس پر اترے۔سناتن دھرمی برہما پرنازل شدہ اور آریہ رشیوں پر نازل شدہ مانتے ہیں۔پھر کہیں چار وید اور کہیں تین وید۔پس جب اصل کتاب میں ۰بھی اختلاف ہے تو وہ ہدایت کیا دے سکتا ہے؟
سوال(۶) وہ الفاظ جن سے وہ رشی کا ثبوت دیتے ہیں مثلاًاگنی ؔ۔وایوؔ۔ادتؔ۔انگرا ؔچار رشیوں کے نام پر جو الفاظ دلالت کرتے ہیں وہ کئی معانی میں مشترک ہیں۔اگنی آگ پر اور پرمیشورکا نام اور تیسرے نیوگی کا نام بھی اگنی ہے ۔وایوؔہوا پر۔انگراؔ پانی پر بھی اور ادتؔسورج پر بھی بولا جاتا ہے تو آیا یہ عناصر اربعہ کے نام ہیں یا اجرام کے نام ہیں یا رشیوں کے نام ہیں؟کوئی تاریخ ہوتی جو بتاتی کہ یہ رشیوں کے ہی نام ہیں۔
سوال(۷) وید کی تعداد میں اختلاف ہے کہ تین ہیں یا چار۔
سوال(۸) پھر وید یا اس کے حامل ناکام ہیں ۔کیونکہ اتنی میعاد اس کو ملی ہے کہ تمہارے قول کے مطابق ایک ارب یا ڈیڑھ ارب سال گزر چکے مگر اب تک نہ شائع ہوئی نہ ترقی ہوئی۔اور خود ماننے والوں کی تعداد بھی تھوڑی ہے یہ دھوکہ نہ کھائیے کہ ۳۰ کروڑ ہندو ہے کیونکہ جینی لوگ۔پھر برہمن لوگ جن سے بنگال بھرا پڑا ہے پھر دام مارگی سانیگی یہ سب وید کے منکر ہیں تو ان سب کو نکال کر محض چند لوگ ہی رہ جاتے ہیں۔
سوال(۹) پھر ماننے والے دو قسم کے ہیں ۔ایک آریہ دوسرے سناتن ان کا باہم عقائد میں بہت اختلاف ہے ۔مسلمانوں میں خواہ کئی فرقے ہوں لیکن اصول میں کوئی اختلاف نہیں۔ کلمہ شہادت،نماز،روزہ، حج، زکوٰۃقرآن وغیرہ سب ایک ہیں۔
الف۔ سناتن دھرم والے خدا کے حلول کے قائل مگر آریہ منکر۔
ب۔ سناتن دھرم روح و مادہ کو حادث اور آریہ لوگ انادی اور غیر حادث مانتے ہیں۔
ج۔سناتن دھرمی مورتی پوجا کے قائل اور آریہ منکر۔
د۔سناتن دھرمی نیوگ کو زنا کاری اور خلاف وید اور آریہ عین جائز اور حلال اور ضروری اور وید کی مقدس تعلیم کے مطابق مانتے ہیں۔
آریہ سماج کے معیاروں کے مطابق وید الہامی نہیں
(از جناب مہاشہ محمد عمر صاحب مولوی فاضل)
(۱) معیار۔ ایشور کا گیان ابتداء میں ہونا چاہیے کیونکہ جن چیزوں پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے پرماتما نے ان کو انسان کی پیدائش سے پہلے پیدا کیا اور مکمل پیدا کیا جیسے سورج۔
تردیدالف:۔ سورج کے ساتھ وید کی مثال نہیں دی جاسکتی کیونکہ سورج سے ہر ایک بشر بالغ و نابالغ،بوڑھا، جوان یکساں فائدہ حاصل کرتا ہے۔بخلاف وید کے جس کے پڑھنے کے لئے بڑے بڑے دھرماتما اور ودّوان کو شش کرتے ہیں ،لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔
ب:۔ ویدوں میں ایسے سینکڑوں منتر ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وید ابتدائے دنیا میں نہیں بنے بلکہ ویدوں کے نزول سے پہلے دُنیا میں مخلوق موجود تھی۔
ج:۔ ابتداء میں کامل گیان کا نازل ہونا پرماتما کے بتانے کے خلاف ہے کیونکہ ابتداء میں جب کہ پرماتما نے دنیا کو پیدا کیا لوگوں کی حالت بچوں کی طرح تھی اور اس کو سوامی جی نے اپنی کتاب اپدیش منجری میں تسلیم کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔’’ان سب کو صرف کھانا اور پینا اور بھوگ کرنا(جماع کرنا)صرف اتنا ہی یاد تھا۔آدی سرشٹی میں سب انسانوں کی حالت بچوں کی تھی۔ان کو پاؤں سے چلنا اور آنکھوں سے دیکھنا اس کے بغیر ان کو کچھ گیان نہ تھا۔‘‘(اپدیش منجری ہندی صفحہ ۸۹)پس پرماتما جو کہ علیم ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کو کامل گیان دے ۔ایسے بچوں کو جن کو سوائے کھانے اور بھوگ کے کچھ سمجھ ہی نہیں ۔اس لئے یہ ضروری ماننا پڑے گا کہ پرماتما نے ان رشیوں کو گیان دیا لیکن کامل نہیں بلکہ ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق۔
د:۔ سوامی جی نے اس کے آگے لکھا ہے کہ ’’یہ حالت ان رشیوں کی پانچ سال رہی۔پھر پرماتما نے ان کو ویدوں کا گیان دیا۔‘‘(اپدیش منجری ہندی صفحہ ۹۰)یعنی پیدائش کے ساتھ ہی ان کو ویدوں کا گیان نہیں دیا گیا بلکہ پانچ سال دنیا بننے کے بعد اُن کو گیان ملا۔
اعتراض:۔ اس پر ہمارے آریہ بھائی کہا کرتے ہیں کہ واقعی انسانوں کو اس وقت اتنا گیان نہ تھا کہ وہ کامل گیان کو جانتے لیکن پرماتما کا گیان تو کامل ہے۔اُس نے اپنے علم کے مطابق کامل گیان دیا۔
جواب:۔ یہ ٹھیک ہے کہ پرماتما کا گیان کامل ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ گیان دیتا تھا وہ کامل نہیں تھے کہ اس کو سمجھ سکتے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک کالج کا پروفیسر جو کہ ایم۔اے ہے۔ ایک بچے کے آگے جبکہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس جائے تو وہ اس کے آگے ایم۔اے کا کورس رکھ دے اور کہے کہ یہ لڑکا واقعی اتنی لیاقت نہیں رکھتا کہ یہ ایم۔اے کا کورس سمجھ سکے لیکن میں تو ایم۔اے ہوں اور علم کے لحاظ سے کامل ہوں۔تو سب لوگ اس کو بیوقوف کہیں گے اور جواب دیں گے کہ تیرا علم واقعی کامل ہے لیکن جس بچے کو تُو نے پڑھانا ہے وہ اس قابل نہیں کہ ایم۔اے کے کورس کو سمجھ سکے اس کے لئے تو وہی پہلا قاعدہ چاہیے جو یہ سمجھتا جائے۔
دوسرامعیار:۔ الہامی کتاب کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ایک لفظ کی بھی کمی و بیشی نہ ہو اور وہ محفوظ چلی آتی ہو۔
جواب:۔ وید اس اصول کے مطابق بھی الہامی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ جب ہم ویدوں کو غور سے دیکھتے ہیں تو ان میں اس قدر اختلاف ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ۔چنانچہ ہم پہلے اتھر وید کو لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس میں بھی لوگوں نے اپنے پاس سے منتر مِلا دئیے ہیں۔
اتھر وید (۱) سوامی دیانند نے رگ وید آدی بھاشیہ بھومکا ہندی کے صفحہ ۸۶پر لکھا ہے کہ اتھر وید کا پہلا منتر ’’اوم شنو دیوی‘‘ ہے۔
(۲) لیکھرام نے کلیات آریہ مسافر میں لکھا ہے کہ پہلا منتر’’اوم شنو دیوی ‘‘ہے۔
(۳) مہابھاشیہ کے مصنف کا یہ مذہب ہے کہ پہلا منتر’’اوم شنو دیوی ‘‘ہے۔
لیکن موجودہ وید کو اُٹھا ؤ تو یہ منتر چھبیسواں(۲۶) ہے۔تو کیا پہلے پچیس (۲۵) منتر کسی آریہ سماجی نے اتھر وید میں ملا دئیے ہیں۔
اتھر وید کے منتروں کی تعداد میں اختلاف
سائیں بھاشیہ ۵۹۷۷۔سیوک لال۵۹۴۷۔ ساتولیک۷۰۰۔ ویدک سدھانت۶۰۰۔
یجر وید میں ملاوٹ:۔ یجر وید بمبئی والے میں ۲۵ ادھیائے کے ۴۷ منتر ہیں لیکن دیانند نے جو اجمیر میں چھپوایا ہے اس میں ۴۸ ہیں۔
یجر وید کے ۴۰ادھیائے میں ’’اوم کھم برہم‘‘بمبئی والے میں منتر کا جزو نہیں ہے لیکن دیانند نے اس کو منتر میں شامل کر دیا ہے۔
یجروید تعداد منتروں میں اختلاف
یجر وید کلپ تر ۱۹۷۵ دیانندجی ۱۹۷۵
سالولیک ۱۴۰۰ شوشنکر کاویہ تیرتھ ۹۸۷
ویدک مت ۱۰۰۰ (منقول از وید سروسو صفحہ ۱۵۲)
سام وید تحریف:۔سام وید اجمیر والے میں ۶۵منتر زیادہ ہیں۔دیکھو نمبر۴۳اور کاشی میں چھپے سام وید میں یہ منتر نہیں۔صفحہ ۵۰
سام وید منتروں کی تعداد میں اختلاف
دیانند کا وید ۱۸۲۴ جیوانند ۱۸۰۸
شو شنکر ۱۵۴۹ دیاشنکر ۲۱۹
ساتولیک ۷۰
رگ وید میں تحریف:۔ سائیں اچاریہ ۱۰۰۰سے کچھ زیادہ ۔
پنڈت شوشنکر ۱۰۴۰۲ سوامی دیانند جی ۱۰۵۸۹
انوواک انوکر منی ۱۰۵۸۰ چھند سنگرہ شلوک کے مطابق ۱۰۴۰۲
گاتیری وغیرہ کے مطابق ۱۰۱۴۲ پنڈت جگن ناتھ ۱۰۴۵۲
چرن ویوہ کا ٹیکا کار ۱۰۴۷۲ مہتہ برت ۱۰۴۴۲
ورتمان سنگھتا کے مطابق ۱۰۴۴۰
(ویدسروسو مصنّفہ پنڈت ویدک منی جی صفحہ ۶۸ مطبوعہ اندر پریس دہلی)
تیسرا معیار:۔ اس میں عقل اور اخلاق کے خلاف تعلیم نہ ہو ۔
جواب۔ اس اصول کے مطابق بھی وید الہامی نہیں ہیں کیونکہ کئی وید منتر ہیں جن کی تعلیم انسانی اخلاق کو گرانے والی ہے۔مثلاً
ا۔ رگ وید کے ایک منتر کا ترجمہ سوامی جی اس طرح کرتے ہیں:۔
’’بادل بمنزلہ باپ قرار دیا ہے اور زمین کو بمنزلہ لڑکی۔بادل زمین میں اس طرح پانی ڈالتا ہے جیسے باپ لڑکی میں نطفہ۔‘‘ (رِگ ویدآدی بھاشہ بھومکاہندی صفحہ ۲۹۹)
ب۔ لِنگ کا صاف کرنا۔’’اس لنگ کو صاف کرتا ہوں جس سے رکھشا کی جاتی ہے۔اس گدا (پاخانہ کی جگہ ) اِندری کو پَوِتّر کرتا ہوں۔‘‘
آگے لکھا ہے کہ’’گرو پتنی(یعنی استاد کی عورت)کرتی ہے۔‘‘
اس پر یہ اعتراض ہے کہ گرو کی عورت کس طرح لڑکے کے لنگ اور گدا کو صاف کرے۔
ایک شُبہ کا ازالہ:۔ یہاں پر آریہ مناظر کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹی عمر کے لئے ہے۔حالانکہ یہ غلط ہے۔کیونکہ جتنی دیر بچہ گورو کل میں رہتا ہے اس وید منتر پر ان کو عمل کرنا ضروری ہے اور گورو کل میں ۲۵ سال کا جوان بچہ بھی ہوتا ہے۔اس کے لِنگ کو استاد کی عورت کس طرح صاف کرے گی۔
ج:۔’’ان دونوں منتروں کو پڑھ کر پُرش اپنی گربھنی(حمل والی)اِستری کے گربھاشیہ پر ہاتھ رکھے۔‘‘
(سنکار ودھی مع تفسیر ودیاکھیا باب پُنسون سنسکار از دیانند جی سرسوتی مترجم مطبع شہید دھرم مہاشہ راجپال اینڈ سنز مالک آریہ پستکالیہ ہسپتال روڈ انار کلی لاہور صفحہ۱۲۱)
آریہ سماجی دوست بتائیں کہ وہاں پر ہاتھ رکھنے سے کیا فائدہ؟
د:۔بیل سے بھوگ کرنا۔’’پانی کے لئے مینڈھا سے پرم ایشوریہ کے لئے بیل سے بھوگ کریں۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۴۱ منتر ۶۰)
ر:۔’’ہے انسانو!تم مضبوط گدا اِندری (پاخانہ کی جگہ)کے ساتھ موجودہ اندھے سانپوں اور کٹل (یعنی سخت موذی)سانپوں کو کام میں لاؤ۔
س:۔ ٹانگوں کے اوپر چڑھ۔ہاتھ کا سہارا دے۔اتم من کے ساتھ عورت کو ویریہ ڈالے۔‘‘ (اتھر وید ۱،۲،۳۹)
غرض آریہ سماج کے اپنے اصولوں کے مطابق بھی وید الہامی ثابت نہیں ہوتے۔
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.