احمدیہ پاکٹ بک ۔ عیسائیت مسیحیت کا رد

احمدیہ پاکٹ بک ۔ عیسائیت مسیحیت کا رد

انجیل کا مندرجہ ذیل اقتباس عیسائی پادریوں کی تمام منطقیانہ موشگافیوں کے جواب کے لئے کافی ہے۔

’’اگرچہ انہوں نے خدا کو جان لیا۔ مگر اس کی خدائی کے لائق اس کی بڑائی اور شکر گزاری نہ کی بلکہ وہ باطل خیالات میں پڑ گئے اور ان کے بے سمجھ دلوں پر اندھیرا چھاگیا۔ وہ اپنے آپ کودانا جتا کر بے وقوف بن گئے اور غیر فانی خدا کے جلال کو فانی انسان اور پرندوں اور چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا۔‘‘ (رومیوں: ۲۱ تا ۱/۲۳)

۱۔ ’’ہم جو خدا کی روح سے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یسوع مسیح پر فخر کرتے ہیں۔‘‘ (فلپیوں ۳/۳)

۲۔ ’’مگر سچے پرستار روح اور راستی سے باپ کی پرستش کرتے ہیں۔‘‘ (یوحنا ۲۳،۴/۲۴)

۳۔ حواریوں کا ایمان مسیح کا باپ سے کمتر ہونے پر بہت صاف تھا۔ چنانچہ پولوس کا کلام شرک سمجھا۔ ’’تم مسیح کے ہو۔ مسیح خدا کا ہے۔‘‘ ’’ہر ایک مرد کا سر مسیح ہے اور مسیح کا سر خدا ہے۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں:۳/۲۳) (۱۔ کرنتھیوں: ۱۱/۳)

۴۔ حواری سوائے باپ کے کسی کو خدا نہ کہتے تھے۔

’’ہمارا ایک خدا ہے جو باپ ہے۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں۶،۴؍۸)

۵۔ اس اکیلے خدا کی تعریف۔ وہ مبارک اور اکیلا حاکم۔ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا ہے۔ فقط اسی کو ہے۔ وہ اس نور میں رہتا ہے جس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اور اسے کسی انسان نے نہ دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ اس کی عزت اور سلطنت ابد تک رہے۔ (۱۔ تیمتھیس ۱۵،۶/۱۶)

(اقبالی ڈگری)

مسیح نے خدا ہونے کا دعویٰ بالکل نہیں کیا۔ یہ صرف عیسائی صاحبان کی خوش فہمی ہے کہ ان کو خدا بنا رہے ہیں۔ بلکہ اگر حضرت عیسیٰ نے اپنے متعلق خدا یا ابن کا لفظ استعمال بھی کیا ہے تو صرف انہی معنوں میں کیا ہے جن معنوں میں تمام نبیوں اور بزرگوں پر اس لفظ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ثبوت اس کا سنیے:۔

ایک دفعہ حضرت مسیح نے یہودیوں کے سامنے دعویٰ کیا کہ میں ابن اﷲ ہوں۔ یہود یہ سن کر طیش میں آگئے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ مسیح پر پتھراؤ کریں۔ مسیح نے کہا کہ تم مجھے کس قصور پر سزا دیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ تو انسان ہو کر اپنے تئیں خدا بناتا ہے۔ اس کفر بکنے کی ہم سزا دیتے ہیں۔ مسیح نے جواب میں کہا:۔

’’کیا تمہاری شریعت میں نہیں لکھا کہ میں نے کہا تم خدا ہو۔ جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس کلام آیا خدا کہا۔ اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو۔‘‘ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ تا ۳۶)

اس عبارت کو سنا کر مسیح نے اپنے ابن اﷲ ہونے کی حقیقت کھول دی کہ تم ناحق مجھے کافر کہتے ہو جبکہ توریت میں لکھا ہے کہ تمام وہ لوگ جن کے پاس خدا کا کلام آیا یعنی یہود، خدا ہیں۔ تو پھر تم میرے ابن اﷲ کہلانے پر خفا کیوں ہوتے ہو۔ جبکہ تمہارے ہاں کتبِ انبیاء میں لکھا ہے کہ قضاۃ اور بزرگ لوگ الوہیم یعنی خدا ہیں۔ اسی طرح انہی معنوں میں مَیں بھی ابن اﷲ ہونے کا مدعی ہوں۔

۱۔جناب مولوی رحمت اﷲ صاحب مہاجر مکی اپنی کتاب ازالۃ الاوہام صفحہ ۳۷۰ میں فرماتے ہیں:۔

’’ہمراہ جناب مسیح بسیار زناں ہمراہ مے گشنتدومال خودمے خوار نیدندوزنان فاحشہ پایہاآنجناب رامے بوسید ندو آنجناب مرتاو مریم را دوست مے داشت و خود شراب برائے نوشیدن دیگر کساں عطا مے فرمود ند۔‘‘

۲۔مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی ٔ دیو بند لکھتے ہیں :۔

’’یہ نصاریٰ جو دعویٰ محبت حضرت عیسیٰ سے کرتے ہیں تو حقیقت میں ان سے محبت نہیں کرتے کیونکہ دارو مدار ان کی محبت کا خدا کے بیٹے ہونے پر ہے۔سو یہ بات حضرت عیسیٰ میں تو معدوم، البتہ ان کے خیال میں تھی۔اپنی خیالی تصویر کو پوجتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خداوند کریم نے ان کی واسطہ داری سے برطرف رکھا ہے۔‘‘

(ہدایۃ الشیعہ صفحہ ۳۳۵،۳۳۶ از مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی۔ ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان)

۳۔
جناب مولوی آل حسن صاحب فرماتے ہیں :۔

’’حضرت عیسیٰ کا معجزہ احیاء موتی کا بعض بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ ڈالا بعد اس کے سب کے سامنے دھڑ سے ملا کر کہا اٹھ کھڑا ہو۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔‘‘

(استفسار صفحہ۳۳۶ از مولوی رحمت اﷲ مہاجر مکی برحاشیہ ازالۃ الاوہام)

۴۔
’’اشعیا اور ارمیاہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی بہت سی غیب گوئیاں قوائد رمل و نجوم سے بخوبی نکل سکتی ہیں۔بلکہ اس سے بہتر۔‘‘ ( استفسار صفحہ۳۳۶ مصنفہ مولوی رحمت اﷲ مہاجر مکی برحاشیہ ازالۃ الاوہام)

۵۔
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں کو حد سے زیادہ جو گالیاں دیں۔تو ظلم کیا۔‘‘ (استفسارصفحہ ۴۱۹ مصنفہ مولوی رحمت اﷲ مہاجر مکی بر حاشیہ ازالۃ الاوھام)


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply