ہستی باری تعالیٰ کے دلائل پی ڈی ایف
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر پہلی دلیل
اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ
(١٤) وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ (١٥) بَلۡ تُؤۡثِرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا (١٦) وَٱلۡأَخِرَةُ خَيۡرٌ۬ وَأَبۡقَىٰٓ (١٧) إِنَّ هَـٰذَا لَفِى ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ (١٨) صُحُفِ إِبۡرَٲهِيمَ وَمُوسَىٰ (١٩)(الاعلٰی:۱۵تا۲۰)
یعنی مظفر و منصور ہوگیا وہ شخص کہ جو پاک ہوا۔اور اس نے اپنے رب کا زبان سے اقرار کیا اور پھر زبان سے ہی نہیں بلکہ عملی طور سے عبادت کر کے اپنے اقرار کا ثبوت دیا،لیکن تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو حالانکہ انجام کا رکی بہتری ہی اصل بہتری اور دیرپا ہے۔اور یہ بات صرف قرآن شریف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ سب پہلی کتابوں میں یہ دعویٰ موجود ہے۔چنانچہ ابراہیم ؑو موسیٰ ؑنے جو تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اس میں بھی یہ احکام موجود ہیں ۔ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مخالفین قرآن پر یہ حجت پیش کی ہے۔کہ اپنی نفسانی خواہشوں سے بچنے والے خدا کی ذات کا اقرار کرنے والے اور پھر اس کا سچا فرمانبردار بننے والے ہمیشہ کامیاب و مظفر ہوتے ہیں اور اس تعلیم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ بات پہلے تمام مذاہب میں مشترک ہے۔چنانچہ اس وقت کے بڑے بڑے مذاہب مسیحی، یہودی اور کفار مکّہ پر حجت کے لئے حضرت ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کی مثال دیتا ہے کہ ان کو تو تم مانتے ہو۔انہوں نے بھی یہ تعلیم دی ہے۔پس قرآن شریف نے ہستی باری تعالیٰ کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ بھی پیش فرمایا ہے کہ کل مذاہب اس پر متفق ہیں اور سب اقوام کا مشترکہ مسئلہ ہے چنانچہ جس قدر اس دلیل پر غور کیا جائے نہایت صاف اور سچی معلوم ہوتی ہے۔
حقیقت میں کل دنیاکے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ہستی ہے جس نے کل جہان کو پیدا کیا۔ مختلف ممالک اور احوال کے تغیّر کی و جہ سے خیالات و عقائد میں بھی فرق پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے جس قدرتاریخی مذہب ہیں سب اﷲ تعالیٰ کے وجود پر متفق اللسان ہیں۔گو اس کی صفات کے متعلق ان میں اختلاف ہو۔موجودہ مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت، یہودیت، بُدھ ازم، سکھ ازم، ہندو ازم اور عقائد زرتشی تو سب کے سب ایک اﷲ، خدا، الوہیم، پرمیشور، پرماتما، ست گُرو یا یزدان کے قائل ہی ہیں مگر جو مذاہب کہ دنیا کے پردہ سے مٹ چکے ہیں ان کے متعلق بھی آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب ایک خدا کے قائل اور معتقد تھے خواہ وہ مذاہب امریکہ کے جُداشدہ ملک میں پیدا ہوئے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں، خواہ روما میں،خواہ انگلستان میں ۔خواہ جاوا اور سماٹرا میں،خواہ جاپان و چین میں، خواہ سائبیریا و منچوریا میں ۔یہ اتفاق مذاہب کیونکر ہوااور کون تھا جس نے امریکہ کے رہنے والے باشندوں کو ہندوستان کے عقائد سے آگاہ کیا؟پہلے زمانہ میں ریل و تار و ڈاک کا یہ انتظام تو تھا نہیں جو اَب ہے۔نہ اس طرح جہازوں کی آمدورفت کی کثرت تھی۔گھوڑوں اور خچروں وغیرہ کی سواری تھی اور بادبانی جہاز آجکل کے دنوں کا سفر مہینوں میں کرتے تھے۔اور بہت سے علاقے تو اس وقت دریافت بھی نہ ہوئے تھے۔پھر ان مختلف المذاق اور مختلف الرسوم اور ایک دوسرے سے ناآشناممالک میں ایک عقیدہ پر کیونکر اتفاق ہو گیا؟مَن گھڑت ڈھکونسلوں میں تو دو آدمیوں کا اتفاق ہونا مشکل ہوتا ہے۔پھر کیا اس قدر قوموں اور ملکوں کا اتفاق جو آپس میں کوئی تبادلۂ خیالات کے ذرائع نہ رکھتی تھیں اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ عقیدہ ایک امر واقعہ ہے اور کسی نامعلوم ذریعہ سے جسے اسلام نے کھول دیا ہے ہر قوم اور ہر ملک میں اس کا اظہار کیا گیا ہے۔اہل تاریخ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ پر مختلف اقوام کے مؤرخ متفق ہو جائیں اس کی راستی میں شک نہیں کرتے۔پس جب اس مسئلہ پر ہزاروں لاکھوں قوموں نے اتفاق کیا ہے تو کیوں نہ یقین کیا جائے کہ کسی جلوہ گر کو دیکھ کر ہی سب دنیا اس خیال کی قائل ہوئی ہے۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر دوسری دلیل
دوسری دلیل جو قرآن شریف میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق دی ہے۔ان آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ
وَتِلۡكَ حُجَّتُنَآ ءَاتَيۡنَـٰهَآ إِبۡرَٲهِيمَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦۚ نَرۡفَعُ دَرَجَـٰتٍ۬ مَّن نَّشَآءُۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ۬ (٨٣) وَوَهَبۡنَا لَهُ ۥۤ إِسۡحَـٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ ڪُلاًّ هَدَيۡنَاۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُ ۥدَ وَسُلَيۡمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَۚ وَكَذَٲلِكَ نَجۡزِى ٱلۡمُحۡسِنِينَ (٨٤) وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلۡيَاسَۖ كُلٌّ۬ مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (٨٥)وَإِسۡمَـٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطً۬اۚ وَڪُلاًّ۬ فَضَّلۡنَا عَلَى ٱلۡعَـٰلَمِينَ (٨٦)
(الانعام:۸۴تا۸۷)
پھر کچھ آیات کے بعد فرمایا کہ :
أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَٮٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَـٰلَمِينَ (٩٠)
(الانعام:۹۱)
یعنی یہ ایک دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابل میں دی اورہم جس کے درجات چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں۔تحقیق تیرا رب بڑا حکمت والا اور علم والا ہے اور ہم نے اسے اسحق ؑ اور یعقوب ؑ دیئے۔ہر ایک کو ہم نے سچا راستہ دکھایا اور نوحؑ کو بھی ہم نے سچا راستہ دکھایا ان سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد ؑ اور سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو بھی اور ہم نیک اعمال میں کمال کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا کرتے ہیں ۔اور زکریاؑ،یحییٰ ؑ، عیسیٰ ؑاور الیاسؑ کو بھی راستہ دکھایااور یہ سب لوگ نیک تھے۔ اور اسمٰعیل ؑ، الیسعؑ، یونس ؑ اور لوط ؑ کو بھی راستہ دکھایا اور ان سب کو ہم نے اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی تھی اور پھر فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے کہ جن کو خدا نے ہدایت دی۔پس تو ان کے طریق کی پیروی کر۔ان آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس قدر نیک اور پاک لوگ جس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ مانی جائے یا وہ بات جو دوسرے ناواقف لوگ کہتے ہیں اور اپنے چال چلن سے ان کے چال چلن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔سیدھی بات ہے کہ انہی لوگوں کی بات کو وقعت دی جائے گی جو اپنے چال چلن اور اپنے اعمال سے دنیا پر اپنی نیکی اور پاکیزگی اور گناہوں سے بچنا اور پرہیز کرنا ثابت کر چکے ہیں۔پس ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ وہ انہی کا تتبّع کرے اور ان کے مقابل میں دوسرے لوگوں کی بات کا انکار کر دے ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر نیکی اور اخلاق کے پھیلانے والے لوگ گزرے ہیں اور جنہوں نے اپنے اعمال سے دنیا پر اپنی راستی کا سکّہ بٹھا دیا تھا وہ سب کے سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک ایسی ہستی ہے جسے مختلف زمانوں میں اﷲ یا گارڈیا پرمیشورلکھا گیا ہے۔ہندوستان کے راستباز رامچندرؑ،کرشنؑ۔ ایران کا راستباز زرتشتؑ۔مصر کا راستباز موسیٰؑ ۔ناصرہ کا راستباز مسیحؑ۔ پنجاب کا ایک راستباز نانکؒ۔ پھر سب راستبازوں کا سرتاج عرب کا نور محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جس کو اس کی قوم نے بچپن ہی سے صادق کا قول دیا اور جو کہتا ہے کہ (یونس:۱۷)میں نے تم میں اپنی عمر گزاری ہے کیا تم میرا کوئی جھوٹ ثابت کر سکتے ہو؟اور اس کی قوم کوئی اعتراض نہیں کر سکتی اور ان کے علاوہ اور ہزاروں راستباز جو وقتاً فوقتاًدنیا میں ہوئے ہیں یک زبان ہو کر پکارتے ہیں کہ ایک خدا ہے اور یہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے ملاقات کی اور اس سے ہم کلام ہوئے۔بڑے سے بڑے فلاسفر جنہوں نے دنیا میں کوئی کام کیا ہو وہ ان میں سے ایک کے کام کا ہزارواں حصہ بھی پیش نہیں کر سکتے۔بلکہ اگر ان لوگوں اور فلاسفروں کی زندگی کا مقابلہ کیا جائے تو فلاسفروں کی زندگی میں اقوال سے بڑھ کر افعال کے باب بہت ہی کم نظر آئیں گے۔وہ صدق و راستی جو انہوں نے دکھلائی وہ فلاسفر کیوں نہ دکھلا سکے؟وہ لوگوں کو راستی کی تعلیم دیتے ہیں مگر خود جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتے لیکن اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کا میں نام اوپر لے چکا ہوں صرف راستبازی کی خاطرہزاروں تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے ہیں لیکن کبھی ان کا قدم اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ان کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے ، ان کو وطنوں سے خارج کیا گیا، ان کو گلیوں اور بازاروں میں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی،ان سے کُل دنیا نے قطع تعلق کر لیا مگر انہوں نے اپنی بات نہ چھوڑی اور کبھی نہ کیا کہ لوگوں کی خاطر جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بچا لیتے اور ان کے عمل نے، ان کی دنیا سے نفرت نے ،نمائش سے علیحدگی نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ بے غرض تھے اور کسی نفسانی غرض سے کوئی کام نہ کرتے تھے۔پھر ایسے صادق ایسے قابل اعتبار یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کی ۔اس کی آواز سنی اور اس کے جلوے کا مشاہدہ کیا تو ان کے قول کا انکار کرنے کی کسی کے پاس کیا و جہ ہے۔جن لوگوں کو ہم روز جھوٹ بولتے سنتے ہیں وہ بھی جب چند ملکر ایک بات کی گواہی دیتے ہیں تو ماننا ہی پڑتا ہے ۔جن کے احوال سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں وہ اخباروں میں اپنی تحقیقاتیں شائع کرتے ہیں تو ہم تسلیم کرلیں گے مگر نہیں مانتے تو ان راستبازوں کا کلام نہیں مانتے ۔دنیا کہتی ہے کہ لنڈن ایک شہر ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔جغرافیوں والے لکھتے ہیں کہ امریکہ ایک براعظم ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔سیّاح کہتے ہیں کہ سائبیریا ایک وسیع اور غیر آباد علاقہ ہے اور ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔کیوں؟اسی لئے کہ بہت سے لوگوں کی گواہی اس پر ہوگئی ہے حالانکہ ہم ان گواہوں کے حالات سے واقف نہیں کہ وہ جھوٹے ہیں یا سچے۔مگر اﷲ تعالیٰ کے وجود پر عینی گواہی دینے والے وہ لوگ ہیں کہ جن کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔انہوں نے اپنے مال و جان ،وطن،عزت و آبرو کو تباہ کرکے راستی کو دنیا میں قائم کیا۔پھر ان سیاحوں اور جغرافیہ والوں کی بات کو ماننا اور ان راستبازوں کی بات کا انکار کرنا کہاں کی راستبازی ہے۔اگر لنڈن کا وجود چند لوگوں سے سن کر ثابت ہو سکتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کا وجود ہزاروں راستبازوں کی گواہی پر کیوں ثابت نہیں ہو سکتا؟
غرضیکہ ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی رد کے قابل نہیں ہو سکتی۔تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب بالاتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانو ہماری مانو کہ خدا نہیں ہے۔حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دو برابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کو دیکھا اس کی گواہی کو اس کی گواہی پر جو کہتا ہے میں نے اس چیز کو نہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی۔کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر تیسری دلیل
تیسری دلیل جو قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی فطرت خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہے کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ جن کو فطرت انسانی قطعی طور پر ناپسند کرتی ہے، ماں، بہن اور لڑکی کے ساتھ زنا،پاخانہ ،پیشاب اور اس قسم کی نجاستوں سے تعلق ہے ۔جھوٹ ہے۔ یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے ایک دہریہ بھی پرہیز کرتا ہے۔مگر کیوں؟اگر کوئی خدا نہیں تو کیوں وہ اپنی ماں، بہن اور دوسری عورتوں میں فرق جانتا ہے۔جھوٹ کو کیوں برا جانتا ہے؟کیادلائل ہیں کہ جنہوں نے مذکورہ بالا چیزوں کو اس کی نظر میں بدنما قرار دیا ہے اگر کسی بالائی طاقت کا رعب اس کے دل پر نہیں تو وہ کیوں ان سے احتراز کرتا ہے؟اس کے لئے تو جھوٹ اور سچ ،ظلم اور انصاف سب ایک ہی ہونا چاہئے۔ جو دل کی خوشی ہوئی کر لیا۔وہ کون سی شریعت ہے جو اس کے جذبات پر حکومت کرتی ہے۔وہ خداکی حکومت ہے جس نے دل پر اپنا تخت رکھا ہے اور گو ایک دہریہ زبان سے اس کی حکومت سے نکل جائے لیکن وہ اس کی بنائی ہوئی فطرت سے باہر نہیں نکل سکتا۔اور گناہوں سے اجتناب یا ان کے اظہار سے اجتناب اس کے لئے ایک دلیل ہے کہ کسی بادشاہ کی جواب دہی کا خوف جو اس کے دل پر طاری ہے گو وہ اس کی بادشاہت کا انکار ہی کرتاہے۔
قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
لَآ أُقۡسِمُ بِيَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ (١) وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ (٢)
(القیامۃ :۲،۳)
یعنی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ خدا ہے نہ کوئی جزا سزاہے ۔ایسا نہیں بلکہ ہم ان امورکی شہادت کے لئے دو چیزیں پیش کرتے ہیں ۔ایک تو اس بات کو کہ ہر بات کے لئے ایک قیامت کا دن مقرر ہے جس میں اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بد مل جاتا ہے۔اگر خدا نہیں تو یہ جزا سزا کیونکر مل رہی ہے اور جو لوگ قیامت کُبریٰ کے منکر ہیں وہ دیکھ لیں کہ قیامت تو اس دنیا سے شروع ہے۔زانی کو آتشک و سوزاک ہوتا ہے ۔شادی شدہ کو نہیں ہوتا۔حالانکہ دونوں ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں ۔دوسری شہادت نفس لوّامہ ہے ۔یعنی انسان کا نفس خودایسے گناہ پر ملامت کرتا ہے کہ یہ بات بری ہے اور گندی ہے۔دہریہ بھی زنا اور جھوٹ کو برا جانیں گے۔تکبر اور حسد کو اچھا نہ سمجھیں گے مگر کیوں ؟ان کے پاس تو کوئی شریعت نہیں ۔اسی لئے نا کہ ان کا دل برا مناتا ہے اور دل اسی لئے برا مناتا ہے کہ مجھے اس فعل کی ایک حاکم اعلیٰ کی طرف سے سزا ملے گی۔گو وہ لفظوں میں اسے ادا نہیں کرسکتا۔اسی کی تائید میں ایک اور جگہ قرآن شریف میں ہے کہ
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَٮٰهَا (٨)
(الشمس:۹)
اﷲ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الہام کر دیا ہے۔پس نیکی بدی کا احساس خود خدا کی ایک زبردست دلیل ہے اگر خدا نہیں تو کوئی و جہ نہیں کہ ایک چیز کو نیک اور ایک کو بد کہا جائے۔اور لوگ جو دل میں آئے وہ کر لیا کریں۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر چوتھی دلیل
چوتھی دلیل جو قرآن شریف سے ذاتِ باری کے متعلق ملتی ہے یہ ہے کہ
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَہَىٰ (٤٢) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَضۡحَكَ وَأَبۡكَىٰ (٤٣) وَأَنَّهُ ۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحۡيَا (٤٤) وَأَنَّهُ ۥ خَلَقَ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰ (٤٥) مِن نُّطۡفَةٍ إِذَا تُمۡنَىٰ (٤٦)
(النجم:۴۳تا۴۷)
یعنی یہ بات ہر ایک نبی کی معرفت ہم نے پہنچا دی ہے کہ ہر ایک چیز کا انتہا اﷲ تعالیٰ کی ذات پر ہی جا کر ہوتا ہے اور خواہ خوشی کے واقعات ہوں یا رنج کے وہ خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں اور موت و حیات سب اسی کے ہی ہاتھ میں ہیں۔اور اس نے مرد اور عورت دونوں کو پیدا کیا ہے ایک چھوٹی سی چیز سے جس وقت وہ ڈالی گئی۔
ان آیات میں اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہر ایک فعل کا ایک فاعل ہوتا ہے اور ضرور ہے کہ ہر کام کا کوئی کرنے والا بھی ہو۔پس اس تمام کائنات پر اگر غور کرو گے تو ضرور تمہاری رہنمائی اس طرف ہوگی کہ سب اشیاء آخر جا کر ذات باری پر ختم ہوتی ہیں۔اور وہی انتہا ہے تمام اشیاء کی اور اسی کے اشارہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی حالت کی طرف متوجہ کرکے فرمایا کہ تمہاری پیدائش تو ایک نطفہ سے ہے اور تم جوں جوں پیچھے جاتے ہو کمزور ہی ہوتے جاتے ہو۔تم کیونکراپنے خالق ہو سکتے ہو؟جب خالق کے بغیر کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی اور انسان اپنا آپ خالق نہیں ہے کیونکہ اس کی حالت پر جس قدر غور کریں وہ نہایت چھوٹی اور ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اس حالت کو پہنچتا ہے۔اور جب وہ موجودہ حالت میں خالق نہیں تو اس کمزور حالت میں کیونکر خالق ہو سکتا تھا۔تو ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق کوئی اور ہے جس کی طاقتیں غیر محدود اور قدرتیں لا انتہا ہیں۔ غرضیکہ جس قدر انسان کی درجہ بدرجہ ترقی پر غور کرتے جائیں ۔اس کے اسباب باریک سے باریک تر ہوتے جاتے ہیں اور آخر ایک جگہ جا کر تمام دنیاوی علوم کہہ دیتے ہیں کہ یہاں اب ہمارا دخل نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کیوں ہو گیا اور وہی مقام ہے کہ جہاں اﷲ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہوتا ہے اور ہر ایک سائنس دان کو آخر ماننا پڑتا ہے کہ
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَہَىٰ (٤٢)
(النجم:۴۳)
یعنی ہر ایک چیز کی انتہا آخر ایک ایسی ہستی پر ہوتی ہے کہ جس کو وہ اپنی عقل کے دائرہ میں نہیں لا سکتے اور وہی خدا ہے۔یہ ایک ایسی موٹی دلیل ہے کہ جسے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔
کہتے ہیں کسی نے کسی بدوی سے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے ۔اس نے جواب دیا کہ جنگل میں ایک اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہو تو میں دیکھ کر بتا دیتا ہوں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے،پھر اتنی بڑی مخلوق کو دیکھ کر کیا میں معلوم نہیں کر سکتا کہ اس کا کوئی خالق ہے۔واقعی یہ جواب ایک سچااور فطرت کے مطابق جواب ہے۔اور اس مخلوقات کی پیدائش کی طرف اگر انسان توجہ کرے تو آخر ایک ہستی کو ماننا پڑتا ہے کہ جس نے یہ سب پیدا کیا
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر پانچویں دلیل
پانچویں دلیل ہستی باری تعالیٰ کی جو قرآن شریف نے دی ہے گو اسی رنگ کی ہے لیکن اس سے زیادہ زبردست ہے اور وہاں استدلال بالا ولیٰ سے کام لیا گیا ہے چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
تَبَـٰرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىۡءٍ۬ قَدِيرٌ (١) ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلاً۬ۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ (٢) ٱلَّذِى خَلَقَ سَبۡعَ سَمَـٰوَٲتٍ۬ طِبَاقً۬اۖ مَّا تَرَىٰ فِى خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ مِن تَفَـٰوُتٍ۬ۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ۬ (٣) ثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنقَلِبۡ إِلَيۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئً۬ا وَهُوَ حَسِيرٌ۬ (٤) وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَـٰبِيحَ وَجَعَلۡنَـٰهَا رُجُومً۬ا لِّلشَّيَـٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ( الملک:۲تا۵)
یعنی بہت برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں ملک ہے ۔اور وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم میں سے کون زیادہ نیک عمل کرتا ہے اور وہ غالب ہے بخشندہ ہے۔اس نے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے ہیں اور ان میں آپس میں موافقت اور مطابقت رکھی ہے ۔تُو کبھی کوئی اختلاف اﷲ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔پس اپنی آنکھ کو لَوٹا۔کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے۔دوبارہ اپنی نظر کر لَوٹا کر دیکھ تیری نظر تیری طرف تھک کر اور درماندہ ہو کر لوٹے گی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہوگئی اور اتفاقی طور سے مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ کر بن گیا۔اور سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا خود بخود جُڑ کر آپ ہی چلتی جائے اور اس کی کَل پھرانے والا کوئی نہ ہو لیکن ان کا جواب اﷲ تعالیٰ ان آیات میں دیتا ہے کہ اتفاقی طورپرجڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اورانتظام نہیں ہوتابلکہ بے جوڑی ہوتی ہیں۔ مختلف رنگوں سے مل کر تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔اینٹوں سے مکان بنتا ہے۔لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا؟بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقاً بھی ہوجاتے ہیں لیکن نظام عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہوگیا۔مانا کہ خود بخود مادہ پیدا ہوگیا، مانا کہ خود بخود ہی مادہ سے زمین پیدا ہوگئی۔اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاقًاہی انسان بھی پیدا ہوگیا،لیکن تم انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ کیا ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے؟
عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اس کے صنّاع کا پتہ لگتا ہے۔ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فوراً خیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصور نے بنائی ہے۔ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے۔پھر کیونکر تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایسی منظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہوگئی!
ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قویٰ ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کے لئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے۔ چونکہ اس کو محنت سے روزی کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کراپنا رزق پیدا کرے۔درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اس کے اندر سے پیٹ بھرے۔اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کے لئے ناخن دئیے۔اور اگر گھوڑے اور بیل کے لئے گھاس کھانا مقرر کیا توان کو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے۔اور اگر اونٹ کے لئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اس کی گردن بھی لمبی بنائی۔کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا؟اتفاق نے اس بات کو معلوم کر
لیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پنجے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں۔ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہو گیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو۔پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوابھی پیدا کی ۔اگر پانی پر اس کی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ اور بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا ۔اور اگر آنکھیں دیں تو ان کے کارآمد بنانے کے لئے سورج کی روشنی بھی دی تاکہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے ۔کان دئیے تو ساتھ اس کے خوبصورت آوازیں بھی پیدا کیں۔زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطا فرمائیں ۔ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیّا کردی۔ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کردیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیونکر پیدا ہو گیا؟ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن وہعجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا کہ تا وہ اپنا کام کر سکیں۔اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کر دئیے تھے تو یہ کون سی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کردی۔برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے اور ریچھ تو اتفاق نے پیدا کردئیے لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گئے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں اور اتفاق ہی نے ان کے علاج بنا دئیے۔اتفاق ہی نے بچھو بوٹی جس کے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اگا دیا کہ اس کا علاج ہو جائے۔یہ دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ طوالت کا سلسلہ بھی قائم کردیا۔اورجن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہ رکھا۔انسان اگر پیدا ہوتا مگر نہ مرتا تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہوجاتا۔اس لئے اس کے لئے فنادی،لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں ۔کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا ہے کہ آپس میں ٹکرا نہ جائیں۔کیا یہ سب باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ ان سب چیزوں کا خالق وہ ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیر محدود علم والا بھی ہے۔اس کے قواعد ایسے منضبط ہیں کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں اور نہ کچھ کمی ہے۔مجھے تو اپنی انگلیاں بھی اس کی ہستی کا ثبوت معلوم ہوتی ہیں۔مجھے جہاں علم دیا تھا اگر شیر کا پنجہ مل جائے تو کیامیں اس سے لکھ سکتا تھا۔شیر کو علم نہیں دیا اسے پنجے دئیے۔مجھے علم دیا۔لکھنے کے لئے انگلیاں بھی دیں۔
سلطنتوں میں ہزاروں مدبر ان کی درستی کے لئے دن رات لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے۔بلکہ بعض اوقات وہ بالکل تباہ ہو جاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں ،لیکن یہ اتفاق غلطی نہیں کرتا۔سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔اب جس طرف نظر دوڑا کر دیکھوتمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئے گی اور ہر ایک چیز میں ایک نظام معلوم ہوگا۔نیک جزا اور بدکار سزا پا رہے ہیں۔ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کر رہی ہے اور دم کے لئے سُست نہیں ہوئی۔یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن میں اسے یہیں ختم کرتا ہوں۔ عاقل را اشارہ کافی است۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر چھٹی دلیل
قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے منکر ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں اوریہ بھی ایک ثبوت ہے ان کے باطل پر ہونے کا۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ فتوحات دیتا ہے اور وہ اپنے مخالفوں پر غالب رہتے ہیں۔اگر کوئی خدا نہیں تو یہ نصرت و تائید کہاں سے آتی ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرعون اور موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے:۔
(٢٤) فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلۡأَخِرَةِ وَٱلۡأُولَىٰٓ (٢٥) إِنَّ فِى ذَٲلِكَ لَعِبۡرَةً۬ لِّمَن يَخۡشَىٰٓ
(النٰزعٰت:۲۵۔۲۶)
یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو اطاعت الٰہی کی نسبت کہا تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ خدا کیسا؟خدا تو میں ہوں ۔پس اﷲ تعالیٰ نے اسے اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی ذلیل کر دیا۔چنانچہ فرعون کا واقعہ ایک بیّن دلیل ہے کہ کس طرح خدا کے منکر ذلیل و خوار ہوتے رہے ہیں۔علاوہ ازیں دنیا میں کبھی کوئی سلطنت دہریوں نے قائم نہیں کی بلکہ دنیا کے فاتح اور ملکوں کے مصلح اور تاریخ کے بنانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو خدا کے قائل ہیں۔ کیا جہان کی ذلت ونکبت اور ایک قوم کی صورت میں کبھی حکومت نصیب نہ ہونا کچھ معنی نہیں رکھتا؟
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر ساتویں دلیل
ساتویں دلیل اﷲ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ہے کہ اس کی ذات کے ماننے اور اس پر حقیقی ایمان رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی۔خدا تعالےٰ کی ہستی کے منوانے والے ہر ایک ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور جس قدر ان کی مخالفت ہوئی ہے اتنی اور کسی کی نہیں ہوئی لیکن پھر دنیا ان کے خلاف کیا کر سکی؟رامچندرکو بَن باس دینے والوں نے کیا سکھ پایا اور انہوں نے کونسی عشرت حاصل کر لی۔کیا رامچندر کا نام ہزاروں سال کے لئے زندہ نہیں ہو گیا اور ان کا نام ہمیشہ کے لئے بدنا م نہیں ہوا؟اور پھر کرشن کی بات کو رد کر کے کیا فائدہ حاصل کیا؟کیا وہ کرو چھتر کے میدان میں تباہ نہ ہوئے؟فرعون سا بادشاہ جو بنی اسرائیل سے اینٹیں پتھواتا تھا اس نے موسیٰ ؑ سے بے کس انسان کی مخالفت کی مگر کیا موسیٰ ؑکاوہ کچھ بگاڑ سکا۔ وہ غرق ہوگیا اور موسیٰ ؑبادشاہ ہوگئے۔ حضرت مسیحؑ کی دنیا نے جو کچھ مخالفت کی وہ بھی ظاہر ہے اور ان کی ترقی بھی جو کچھ پوشیدہ نہیں۔ان کے دشمن تو تباہ ہوئے اور ان کے غلام دنیا کے بادشاہ ہوگئے۔ہمارے آقا ؐبھی دنیا میں سب سے زیادہ اس پاک نام کے پھیلانے والے تھے۔یہاں تک کہ ایک یورپ کا مصنف کہتا ہے کہ ان کو خدا کا جنون تھا(نعوذ باﷲ)ہر وقت خدا خدا ہی کہتے رہتے تھے۔اُن کی سات قوموں نے مخالفت کی ۔ اپنے پرائے سب دشمن ہوگئے مگر کیا پھر آپ کے ہاتھ پر دُنیا کے خزانے فتح نہیں ہوئے؟اگر خدا نہیں تو یہ تائید کس نے کی؟اگر یہ سب کچھ اتفاق تھا تو کوئی مبعوث تو ایسا ہوتا جو خدا کی خدائی ثابت کرنے آتا اور دنیا اسے ذلیل کر دیتی۔مگر جو کوئی خدا کے نام کو بلند کرنے اٹھاوہ معزز و ممتاز ہی ہوا چنانچہ اﷲ تعالےٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ:
وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَـٰلِبُونَ (٥٦) (المائدۃ:۵۷)
اور جو کوئی اﷲ اور اس کے رسول ؐاور مومنوں سے دوستی کرتا ہے ۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہی لوگ خدا کے ماننے والے ہی غالب رہتے ہیں۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر آٹھویں دلیل
آٹھویں دلیل جو قرآن شریف سے اﷲ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بات کسی خاص زمانہ کے متعلق نہیں ہے بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نظارے موجودہوتے ہیں ۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ :
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِى وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِى لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ (١٨٦) (البقرۃ:۱۸۷)
یعنی جب میرے بندے میری نسبت سوال کریں تو انہیں کہہ دو کہ میں ہوں اور پھر قریب ہوں اور پکارنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ کیونکر معلوم ہوکہ وہ خدا سنتا ہے۔کیوں نہ کہا جائے کہ اتفاقاًبعض دعا کرنے والے کے کام ہو جاتے ہیں۔جیسے بعض کے نہیں بھی ہوتے اگر سب دعائیں قبول ہوجاتیں تب تو کچھ بات بھی تھی لیکن بعض کے قبول ہونے سے کیونکر معلوم ہو کہ اتفاق نہ تھا بلکہ کسی ہستی نے انہیں قبول کر لیا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اپنے ساتھ ایک نشان رکھتی ہے۔چنانچہ ہمارے آقا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام نے ثبوتِ باری کی دلیل میں یہ پیش کیا تھا کہ چند بیمار جو خطرناک طور سے بیمار ہوں چُنے جائیں اور قرعہ سے بانٹ لئے جائیں اور ایک گروہ کا ڈاکٹر علاج کریں اور ایک طرف میں اپنے حصہ والوں کے لئے دعا کروں۔پھر دیکھو کہ کس کے بیمار اچھے ہوتے ہیں۔اب اِس طریق امتحان میں کیا شک ہو سکتا ہے چنانچہ ایک سگ گزیدہ جسے دیوانگی ہو گئی تھی اور جس کے علاج سے کسولی کے ڈاکٹروں نے قطعاً انکار کر دیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ۔اس کے لئے آپ نے دعا کی اور وہ اچھا ہو گیا۔حالانکہ دیوانہ کتّے کے کٹے ہوئے دیوانے ہو کر کبھی اچھے نہیں ہوتے ۔پس دعاؤں کی قبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انہیں قبول کرتی ہے اور دعاؤں کی قبولیت کسی خاص زمانہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔جیسے پہلے زمانہ میں دعائیں قبول ہوتی تھیں ویسی ہی اب بھی ہوتی ہیں۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر نویں دلیل
نویں دلیل قرآن شریف سے وجود باری کی ’’الہام‘‘معلوم ہوتی ہے۔یہ دلیل اگرچہ میں نے نویں نمبر پر رکھی ہے لیکن درحقیقت نہایت عظیم الشان دلیل ہے جو خدا تعالےٰ کے وجود کو یقینی طور پر ثابت کر دیتی ہے۔چنانچہ اﷲ تعالےٰ فرماتا ہے کہ:
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِى ٱلۡأَخِرَةِۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّـٰلِمِينَۚ وَيَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ (٢٧) (ابراھیم:۲۸)
یعنی اﷲ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس دنیا اور اگلی دنیا میں پکّی باتیں سنا سنا کر مضبوط کرتا رہتا ہے ۔پس جبکہ ہر زمانہ میں اﷲ تعالیٰ ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہمکلام ہوتا رہتا ہے ۔تو پھر اس کا انکار کیونکر درست ہو سکتا ہے اور نہ صرف انبیاء اور رسولوں سے ہی ہمکلام ہوتا ہے بلکہ اولیاء سے بھی بات کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے کسی غریب بندہ پر بھی رحم کرکے اس کی تشفی کے لئے کلام کرتا ہے۔چنانچہ اس عاجز (حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اﷲ)سے بھی اس نے کلام کیا اور اپنے وجود کو دلائل سے ثابت کیا۔پھر یہی نہیں بعض دفعہ نہایت گندہ اور بد باطن آدمیوں سے بھی ان پر حجت قائم کرنے کے لئے بول لیتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ چوہڑوں ،چماروں،کنچنیوں تک کو خوابیں اور الہام ہو جاتے ہیں۔اور اس بات کا ثبوت کہ وہ کسی زبردست ہستی کی طرف سے ہیں یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان میں غیب کی خبریں ہوتی ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہو کر بتا دیتی ہیں کہ یہ انسانی دماغ کا کام نہ تھا اور نہ کسی بد ہضمی کا نتیجہ تھا اور بعض دفعہ سینکڑوں سال آگے کی خبریں بتائی جاتی ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ موجودہ واقعات خواب میں سامنے آگئے۔اور وہ اتفاقاًپورے بھی ہوگئے۔چنانچہ توریت اور قرآن شریف میں مسیحیوں کی ان ترقیوں کا جن کو دیکھ کر اب دنیا حیران ہے پہلے سے ذکر موجود تھا اور پھر صریح لفظوں میں تفصیل کے ساتھ بلکہ ان واقعات کا بھی ذکر ہے جو آئندہ پیش آنے والے ہیں۔مثلاً
اوّل:۔ وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ (٤) (التکویر:۵)
یعنی ایک وقت آتا ہے کہ اونٹنیاں بے کار ہوجائیں گی۔اور حدیث مسلم میں اس کی تفصیل یہ ہے کہ وَلَیُتْرَکُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب نزول عیسی ابن مریم حاکمًا بشریعۃ نبینا محمدؐ، مسند احمد بن حنبل جلد۲ صفحہ۴۹۴ مطبوعہ بیروت) یعنی اونٹنیوں سے کام نہ لیا جائے گا۔چنانچہ اس زمانے میں ریل کے اجراء سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ریل کے متعلق نبی کریم ﷺ کے کلام میں ایسے ایسے صاف اشارے پائے جاتے ہیں جن سے ریل کا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ کلام نبوت میں یہی سواری ہے جو حبس ماء سے چلے گی اور اپنے آگے دھوئیں کا ایک پہاڑ رکھے گی اور سواری و باربرداری کے لحاظ سے حِمَارکی جابجا ہو گی۔ اور چلتے وقت ایک آواز کرے گی۔و غیر ذالک۔ ۱
دوم:۔ وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتۡ (١٠) (التکویر:۱۱)
یعنی کتابوں اور نوشتوں کا بکثرت شائع ہونا۔ آجکل بباعث چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت ِاشاعت کتابوں کی ہوئی اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔
سوم:۔ وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ (٧) (التکویر:۸)
نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہوجانا کہ موجودہ زمانے سے بڑھ کر متصور نہیں۔
چہارم:۔ يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ (٦) تَتۡبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ (٧) (النٰزعٰت:۷،۸)
متواتر اور غیر معمولی زلزلوں کا آنا یہانتک کہ زمین کانپنے والی بن جائے۔سو یہ زمانہ اس کے لئے بھی خصوصیت سے مشہور ہے۔
پنجم:۔ وَإِن مِّن قَرۡيَةٍ إِلَّا نَحۡنُ مُهۡلِڪُوهَا قَبۡلَ يَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ أَوۡ مُعَذِّبُوهَا عَذَابً۬ا شَدِيدً۬اۚ كَانَ ذَٲلِكَ فِى ٱلۡكِتَـٰبِ مَسۡطُورً۬ا (٥٨) (بنی اسرائیل:۵۹)
یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے کچھ مدت پہلے ہلاک نہیں کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے ۔چنانچہ اسی زمانہ میں طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔
پھر اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ ہر صدی میں اس کے ماننے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو الہام الٰہی سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں اور خارق عادت نشانات سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک قادر و توانا مدبّر بالا رادہ عالم الغیب ہستی ہے ۔چنانچہ اس زمانہ کے مامور پر نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے وحی نازل کی کہ
اوّل:۔ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔۔۔۔۔یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔۔۔۔ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ۔
(دیکھو براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۶۷۔۲۶۸)
کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور ایسی کثرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں جن پر وہ چلیں گے عمیق ہو جائیں گی۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ القا کریں گے مگر چاہیے کہ تو خدا کے بندوں سے جو تیرے پاس آئیں گے بدخلقی نہ کرے اور چاہیے کہ تو ان کی کثرت دیکھ کر ملاقاتوں سے تھک نہ جائے۔ایک شخص ایک ایسے گاؤں میں رہنے والا جس کے نام سے بھی مہذب دنیا میں سے کوئی آگاہ نہیں یہ اعلان کرتا ہے۔پھر باوجود سخت مخالفتوں اور روکوں کے ایک دنیا دیکھتی ہے کہ امریکہ و افریقہ سے لے کر تمام علاقوں کے لوگ یہاں حاضر رہتے ہیں اور آدمیوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ان سب سے مصافحہ و ملاقات کرنا کسی آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔پھر ایک مقتدر جماعت اپنے پیارے وطن چھوڑ کر یہاں رہنا اختیار کرتی ہے اور قادیان کا نام تمام دنیا میں مشہور ہوجاتا ہے۔کیا یہ چھوٹی سی بات ہے؟اور کیا یہ ایسا نشان ہے جسے معمولی نظر سے ٹال دیا جائے؟
دوم:۔ عیسائیوں میں سے ڈوئی نے امریکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا ۔اور اپنے یہ ناپاک کلمات شائع کئے کہ ’’میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آئے کہ اسلام دنیا سے نابود ہوجائے ۔اے خدا!تو ایسا ہی کر۔اے خدا!اسلام کو ہلاک کر۔‘‘تو صرف یہ حضور مسیح موعود ہمارے امام علیہ السَّلام ہی تھے جنہوں نے اس کے مقابلہ میں اشتہار دیا کہ ’’اے جومدعی نبوّت ہے آاور میرے ساتھ مقابلہ کر۔ہمارا مقابلہ دعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالےٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذّاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔‘‘(ٹیلیگراف امریکہ ۵جولائی ۱۹۰۳ء The Sunday Herald Boston June) لیکن اس نے رعونت سے کہا ۔’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھّیوں کا جواب دوں گااگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھوں تو ان کو کچل کر مار ڈالوں گا۔‘‘ تھیں ملا(ڈوئی کا پرچہ نیوز آف ہیلنگ دسمبر۱۹۰۳ء) مگر حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام نے اسی اشتہار ۲۳؍اگست ۳ا۱۹۰ء میں شائع کیا تھا ۔کہ ’’اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقیناً سمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر آفت آنے و الی ہے ۔اے خدا اور کامل خدا!یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کردے۔‘‘
پھر اس کے بعد سنو کیا ہوا۔وہ جو شہزادوں کی زندگی بسر کیا کرتا تھا ۔جس کے پاس سات کروڑ روپیہ تھا ۔اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے دشمن ہوگئے اور باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے۔ آخر اس پر فالج گرا۔پھر غموں کے مارے پاگل ہوگیا۔آخر مارچ ۱۹۰۷ء میں بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ جیسا کہ خدا نے اپنے مامور کو پہلے سے اطلاع دی اور جیسا کہ حضرت اقدس علیہ السَّلام نے ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ء کے اشتہار میں شائع فرما یا تھا۔’’خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گاجس میں فتح عظیمہ ہوگی۔وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا۔‘‘ہلاک ہو کر خدا کی ہستی پر گواہی دے گیا۔یہ عیسائی دنیاپرانی اور نئی دنیا دونوں پر حضور کی فتح تھی۔
سوم:۔ آریوں کا ایک نامی لیڈر لیکھرام تھا۔رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر۱۳۰۸ھ میں یہ پیشگوئی درج کی کہ لیکھرام کی نسبت خدا نے میری دعا قبول کر کے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہوگا۔اور اس کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے نبی ﷺ کو گالیاں دیتا تھااور بُرے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا۔پھر ۲۲؍فروری۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اُس کے مرنے کی صورت بھی بتا دی عِجْلٌ جَسَدٌ لَہ‘ خَوَارٌ لَہ‘نَصَبٌوَعَذَابٌ(اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء مشمولہ آئینہ کمالات اسلام )یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے جو بے جان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں۔اس لئے اس کو عذاب دیا جائے گا جو گوسالہ سامری کو دیا گیا تھا۔ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گوسالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور دریا میں ڈالا گیا تھا۔پھر ۲؍اپریل ۱۸۹۳ء کو آپ نے ایک کشف دیکھا (برکات الدعا حاشیہ صفحہ ۴ طبع اوّل )کہ ایک قوی مہیب شکل جو گویا انسان نہیں ملائک شدّاد و غلّاظ سے ہے وہ پوچھتا ہے کہ لیکھرام کہا ں ہے؟پھر کرامات الصادقین(روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۹۶) کے ایک شعر سے دن بھی بتا دیا
وَبَشَّرَنِیْ رَبِّی وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ یَوْمَ الْعِیْدِ وَالْعِیْدُ اَقْرَبٗ
یعنی عید سے دوسرے دن یعنی ہفتہ والے دن اور
اَلا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ ِ بُرّانِ محمدؐ
پانچ سال پہلے شائع کر کے قتل کی صورت بھی بتا دی۔آخر لیکھرام ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل کیا گیا اور سب نے متفق اللفظ ہو کر بیان کیا کہ یہ پیشگوئی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر اﷲ کی ہستی کے لئے حجّت ِ ناطقہ ٹھہری۔پس الہام ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خدا کا انکارکرنا انتہائی ہٹ دھرمی ہے۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر دسویں دلیل
دسویں دلیل جو ہر ایک نزاع کے فیصلہ کے لئے قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے اس آیت سے نکلتی ہے کہ
وَٱلَّذِينَ جَـٰهَدُواْ فِينَا لَنَہۡدِيَنَّہُمۡ سُبُلَنَاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ (٦٩) (العنکبوت:۷۰)
یعنی جو لوگ ہمارے متعلق کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیتے ہیں۔اور اس آیت پر جن لوگوں نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ نفع میں رہے ہیں ۔وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا منکر ہو اُسے تو ضرور خیال کر لینا چاہیے کہ اگر خدا ہے تو اس کے لئے بہت مشکل ہوگی ۔پس اس خیال سے اگر سچائی دریافت کرنے کی اس کے دل میں تڑپ ہو تو اسے چاہیے کہ گڑ گڑا کر اور بہت زور لگا کر وہ اس رنگ میں دعا کرے کہ اے خدا!اگر تو ہے اور جس طرح تیرے ماننے والے کہتے ہیں تو غیر محدود طاقتوں والا ہے تو مجھ پر رحم کر اور مجھے اپنی طرف ہدایت کر اور میرے دل میں بھی یقین اور ایمان ڈال دے تاکہ میں محروم نہ رہ جاؤں۔اگر اس طرح سچے دل سے کوئی شخص دعا کرے گا اور کم سے کم چالیس دن تک اس پر عمل کرے گا تو خواہ اس کی پیدائش کسی مذہب میں ہوئی ہو وہ کسی ملک کا باشندہ ہو رب العالمین ضرور اس کی ہدایت کرے گا اور وہ جلد دیکھ لے گا کہ اﷲ تعالیٰ ایسے رنگ میں اس پر اپنا وجود ثابت کردے گا کہ اس کے دل کی شک و شبہ کی نجاست بالکل دور ہو جائے گی۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس طریق فیصلہ میں کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہو سکتا۔پس سچائی کے طالبوں کے لئے اس پر عمل کرنا کیا مشکل ہے؟
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر گیارھویں دلیل
دنیا میں تمام اشیاء جس قدر ہمیں دکھائی دیتی ہیں سب مرکّب ہیں۔ہوا کو لو وہ بھی مرکّب ہے ۔پانی بھی مرکّب ہے۔لہٰذا جب سب مرکّب ہوئیں تو ان کو ترکیب کرنے والا بھی ضروری ہے۔ اگر کہو کہ وہ خود بخودمرکّب ہو سکتی ہیں تو یہ بات مشاہدۃً غلط ہے مثلاً درخت سے پھل یا پتّے توڑ کر پھینک دیئے جائیں تو وہی پھل اور پتّے دوبارہ خود بخود اس درخت سے نہیں لگتے۔جس سے ثابت ہوا کہ مرکّب ہونا اُن کا خاصّہ نہیں ورنہ جب توڑے جاتے پھر لگ جاتے۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر بارہویں دلیل
نظامِ عالم میں ترتیب ہے۔مثلاً سورج روشنی دیتا ہے۔کھیتیاں پکاتا ہے۔ وغیرہ۔چاند رات کی مشعل ہے۔پانی پیاس بجھاتا ہے۔غرض دنیا میں بہت سی چیزیں انسان کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔اب ان کے متعلق تین ہی صورتیں عقل میں آسکتی ہیں
- یا تو کہا جائے کہ یہ سب اتفاقی ہیں لیکن یہ بات غلط ہے کیونکہ اتفاقی وہ ہوتی ہے جو کبھی ہو کبھی نہ ہو۔
- دوسری صورت یہ ہے کہ وہ سب اپنی مرضی سے ایسا کرتے ہیں ۔تو اس صورت میں بجائے ایک خدا کے کئی خدا تسلیم کرنے پڑیں گے ۔
- تیسری صورت یہ ہے کہ ہم کہیں ۔نہ یہ سب اتفاقی ہیں نہ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں بلکہ سب کے سب ایک حکمران کے قبضۂ قدرت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
غرض تینوں صورتوں سے دہریوں کا مذہب باطل ہے۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر تیرھویں دلیل
دنیا یا خود بخود ہے یا کسی نے بنائی ہے ۔اگر کہو کہ خود بخود ہے تو یہ بات درست نہیں کیونکہ عدم سے وجود میں آنا ایک فعل ہے اور کوئی فعل بغیر فاعل کے نہیں ہوتا اور فاعل کا وجود فعل سے پہلے موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔سو اگر عدم سے وجود میں آنے کا فاعل دنیا ہے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ دنیا اپنے خودبخود بننے سے پہلے موجود تھی جو بالبداہت باطل ہے۔رہی دوسری بات کہ کسی نے بنائی ہے تو یہی درست ہے اور اس بنانے والے کو ہم خدا کہتے ہیں۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر چودھویں دلیل
دہریوں کا یہ دعویٰ کہ ہم خود بخود ہیں ترجیح بلا مرجّح ہے۔اگر وہ کہیں کہ ہم خود مرجّح ہیں تو یہ بات غلط ہے کیونکہ مرجّح ترجیح سے پہلے ہوتا ہے۔اگر یہی بات ہے تو عدم سے وجود میں آنا کیسا؟اور جب ہم نہ ہوئے تو کوئی اورمرجّح ہوگا۔پس اسی کو ہم خدا کہتے ہیں۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر پندھرویں دلیل
دنیا قدیم ہے یا حادث۔اگر کہو قدیم ہے تو یہ بات غلط ہے۔کیونکہ قدیم وہ ہوسکتی ہے جو کسی کی محتاج نہ ہو۔اور دنیا کی ہر چیز دوسری کی محتاج ہے۔مثلاً بارش نہ ہو تو زمین اکیلی کچھ نہیں اگا سکتی۔پس ثابت ہوا کہ دنیا قدیم نہیں۔جب قدیم نہ ہوئی تو حادث ٹھہری اور حادث کا کوئی مُحْدِث چاہیے۔سو وہی خدا ہے۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر سولھویں دلیل
دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نہیں۔جو چیز بھی لو فطرت خود گواہی دے گی کہ ضرور بضرور کوئی نہ کوئی اِس کا پیدا کرنے والا ہے۔سو اتنے بڑے عالم کو کہہ دینا کہ یہ خود بخود ہے درست نہیں۔
ہستی باری تعالیٰ یعنی اللہ کے وجود پر سترھویں دلیل
ہمارا روزمرّہ کا تجربہ ہے کہ انسان کسی چیز کے اجزاء اور مرکّبات سے جتنا واقف ہو اس چیز کے مستقبل کے متعلق بھی اتنا ہی اس کو علم ہوتا ہے۔مثلاً ایک گھڑی ساز ایک گھڑی بناتا ہے ۔وہ چونکہ اس کے اجزاء اور مرکّبات سے واقف ہے اس لئے وہ بتا سکتا ہے کہ وہ گھڑی کتنا عرصہ کام دے گی۔مگر چونکہ انسان اپنا خالق نہیں اس لئے اپنے وجود کے اجزاء اور دنیا کی اشیاء کی ماہیّت کامل طور پر نہیں جانتا۔اس لئے عالم الغیب بھی نہیں ۔لیکن اگر کوئی ایسی ہستی ہو جو آئندہ کے تمام حالات جانتی ہو تو یقیناً وہ خالق دنیا (خدا) ہوگی۔خدا تعالیٰ اپنے انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے (جو بو جہ انسان ہونے کے بذاتِ خود غیب نہیں جانتے) مگر خدا تعالیٰ اُن پر آئندہ کی خبریں کھولتا ہے (الجن:۲۷،۲۸) اور اس طریق سے اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔دیکھو آنحضرت ﷺکو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل بتایا تھا کہ
فَٱلۡيَوۡمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ ءَايَةً۬ۚ وَإِنَّ كَثِيرً۬ا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَايَـٰتِنَا لَغَـٰفِلُونَ (٩٢) (یونس:۹۳)
کہ فرعون کے ساتھ جب وہ ڈوب رہا تھا خدا نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کا جسم محفوظ رہے گا۔تورات نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ فرعون بمع اپنے رتھ کے سمندر میں پتھر کی طرح غرق ہو گیا لیکن قرآن نے بتایا کہ اس کی لاش محفوظ ہے ۔چنانچہ ہمارے زمانہ میں اس کا محفوظ جسم برآمد ہونا قرآن کی صداقت اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر زبردست دلیل ہے۔اسی طرح چاند، سورج کو رمضان کے مہینہ میں ۱۳؍اور ۲۸؍تاریخ کو گرہن لگنا اور اس کا امام مہدیؑ کی صداقت پر گواہ ہونا اور پھر اس نشان کا حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے زمانہ ۱۸۹۴ء میں بعینہٖ پورا ہو جانا خدا کی ہستی اور آنحضرت ؐ کی صداقت پر بُرہان قاطع ہے۔
(سنن دار قطنی جلد دوم باب صفۃ صلوٰۃ الخسوف والکسوف وَھَیئتُھما صفحہ ۱۸۸۔مطبع انصاری دہلی ۱۳۱۰ھ)
Share this:
- Share on Facebook (Opens in new window) Facebook
- Share on X (Opens in new window) X
- Share on Reddit (Opens in new window) Reddit
- Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr
- Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest
- Share on Telegram (Opens in new window) Telegram
- Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp
- Email a link to a friend (Opens in new window) Email
- Print (Opens in new window) Print
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.