احمدیہ پاکٹ بک ۔ بابی یا بہائی مذہب

احمدیہ پاکٹ بک ۔ بابی یا بہائی مذہب

بابی یا بہائی مذہب – پی ڈی ایف

یہ فتنہ اگرچہ پرانا ہے مگر چونکہ کبھی مقابل پر نہیں آیا اس لئے دبا رہا اور اس کی تردید و تنقید کی بھی چنداں ضرورت پیش نہ آئی مگر چند سالوں سے دو تین شخصوں کے بابی ہو جانے کے باعث اس کا چرچا ہوا ہے اور چونکہ بابیوں کا وطیرہ ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔بظاہر بھیڑ اور صلح کل بنتے ہیں ، لیکن باطن میں بھیڑئیے اور نسل ِ انسانی اور حق کے دشمن قاتل ہیں ۔اور بالخصوص اسلام اور با نی ٔاسلام کے دشمن ہیں اور بظاہر اپنے تئیں مسلمان بتاتے ہیں اس لئے ان کے کذب اور ملمع سازی کی پردہ دری کرنے کے لئے ان کی کتب سے ان کے مذہب کی حقیقت بیان کی گئی ہے تاکہ لوگ ان کے دھوکہ میں نہ آویں۔

ان میں ایک بڑا مرض یہ بھی ہے کہ اپنی کتب کی اشاعت عام نہیں کرتے جس طرح قرآن کریم بو جہ ایک کامل اور سچی شریعت ہو نے کے دنیا کے ہر گوشہ میں اور صدہا زبانوں میں اشاعت پا رہا ہے اور کوئی مسلمان بھی قرآن کریم کو پیش کرنے سے نہیں ہچکچاتا ۔اس طرح بابی اپنی کتابوں کو شائع نہیں کرتے بلکہ ڈرتے ہیں۔ تاہم بڑی دقت اور مشکل سے جناب مولوی فضل دین صاحب وکیل نے ان کی کتب کو دستیاب کر کے یہ ذخیرہ بہم پہنچایا ہے۔

۱۔بہاء اﷲ اپنی کتاب ادعیہ محبوب صفحہ ۱۹۵ محفل روحانی ملی بہائیان پاکستان طبع و نشر نمود۔ ۱۱۶بدیع میں لکھتے ہیں ’’یَا قَوْم ِفَاتَّبِعُوْاحُدُوْدَاللّٰہِ الَّتِیْ فُرِضَتْ فِی الْبَیَانِ مِنْ لَّدُنْ عَزِیْزٍ حَکِیْمٍ قُلْ اِنَّہُ لَسُلْطَانُ الرُّسُلِ وَکِتَابُہُ لَاُمُّ الْکِتَابِ۔‘‘اس حوالہ میں کتاب البیان کو تمام کتابوں کی ماں اور اس کی اتّباع کرنے کا حکم ہے۔

۲۔ کتاب ایقان مصر صفحہ ۱۶۲پر بہا ء اﷲ لکھتے ہیں :۔’’در عہد موسیٰ ؑ تورات بود و در زمن عیسیٰ ؑ انجیل و در عہد محمد الرسول اﷲ فرقان۔ودر ایں عصر بیان ؔ۔صاف نسخ قرآن موجود ہے۔

۳۔ کتاب الاقدس صفحہ ۱۶۱ میں لکھتے ہیں’’کُنْ۔۔۔۔اٰخِذاًکِتَابِیَ الَّذِیْ اِذْ نَزَّلَ خَضَعَتْ لَہُ کُتُبُ الْعَالَمِ‘‘اے میرے متبع !میری کتاب کو پکڑ لے جس کے اترنے پر دنیا کی تمام کتابیں اس کے سامنے سرنگوں ہیں یعنی اﷲ کی کتابیں اس کے آنے سے منسوخ ہو گئی ہیں۔

۴۔اسی طرح کتاب مبین کے صفحہ ۷۳و کتاب اقتدار از بہاء اﷲ صفحہ ۴۳ و مکاتب عبدالبہاء در مصر محروسہ سنہ ۱۳۴۰ھ کی تیسری جلد صفحہ ۵۰۰سے نسخ شریعت محمدؐیہ ثابت ہے۔

بابی صلح کل ہونے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں مگر ذیل کے فتووں سے ان کی حقیقت ظاہر ہے۔

۱۔علی محمد باب نے روح المعانی میں محمد بغداد شہاب الدین السیدمحمود السنوسی کے نام خط میں لکھا کہ جب تک تم البیان کی شریعت کے احاطہ میں داخل نہ ہوجاؤ خدا تمہارے اعمال کچھ بھی قبول نہ کرے گا خواہ تم ہر ایک چیز قربان کردو اور سب کچھ خرچ کردو تو خدا ہر گز تم سے راضی نہ ہوگا۔سوائے اس تعلیم کے ذریعہ جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ جو لوگ میرے اس دین میں داخل نہ ہوں گے ان کی وہی حالت ہے جیسی ان کی جواسلام کے زمانہ میں اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے (یعنی کفار) آج مسلمانوں کو ان کا دین اور اعمال اس طرح نفع نہ دیں گے جس طرح محمد رسول اﷲ کے مبعوث ہونے کے بعد یہودو نصاریٰ کو ان کا دین کوئی نفع نہیں دے سکتا۔

۲۔کتاب الاقدس صفحہ ۲۴۸میں بہاء اﷲ لکھتے ہیں ۔’’اَنَّہٗ یَاْخُذُ من کفر بہِ و یُعَذِّبُ الَّذِین اَنْکَرُوْا مَاظَھَرَ‘‘کہ خدا ہر اس شخص سے مؤاخذہ کرے گا جس نے اس بات کو نہ مانا اور ان کو عذاب دے گا جنہوں نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔ اسی طرح کتاب مبین صفحہ ۱۸۱ پر منکرین بہائیت کو گمراہ اور کتاب مبین کے صفحہ ۲۸۳ پر مکذبین بابیت کو خاسرین اور الواح مبارکہ از بہاء اﷲ صفحہ ۱۷۸ میں مکذبین کو دوزخی کہا ہے۔


۱۔
 (البیان باب دھم من الواحد الرابع جز ا) کہ کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ باب کی کتاب البیان کے سوا کوئی دوسری کتاب پڑھے یا پڑھائے اور یہ کہ جس قدر علوم متداولہ ہیں ان کو حاصل کرے یا آگے ان کی تعلیم دے۔

۲۔سوائے اِن کتب کے جو بابیہ مذہب کی تائید میں ہیں ۔باقی سب کتب کو دنیا سے نیست و نابود کردیا جائے۔ (البیان باب السادس من الواحد السادس)

۳۔جو لوگ علی محمد باب پر ایمان نہیں لاتے وہ پلید اور واجب القتل ہیں۔دیکھو نقطۃ الکاف مقدمہ صفحہ ۷۔’’ضَرب ِاعناق و حرق کتب و اوراق وھدم بقاع و قتل عام اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ صَدَّقَ بود‘‘۔ کہ حضرت باب کا یہی حکم ہے کہ جو لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ ان کا قتل عام کیا جاوے۔علوم و فنون اور مذاہب عالم کی سب کتابیں جلادی جائیں اور ان کا ہر ایک ورق نذر آتش کیا جاوے اور تمام مقامات مقدسہ اور قبور انبیاء وغیرہ سب گرا دئیے جائیں تاکہ بابی مذہب کے سوا اور کوئی مذہب دنیا میں نہ رہے۔

۴۔کتاب فروع میں علی محمد باب نے اپنے مریدوں کو یہ حکم دیا ہوا تھا کہ ’’اے اصحاب ہر چہ را در بازار گرفتید۔بیادرید من نظر نمایم تا حلال شود۔‘‘یعنی ہر ایک حرام چیز باب کے نظر کرنے سے حلال ہو جاتی ہے۔اس حکم کی تفصیل نقطۃ الکاف صفحہ ۱۴۱وصفحہ ۱۵۰میں ملتی ہے کہ مریدین بغیر اجازت دُکانوں سے چیزیں اٹھا لیتے تھے اور علی محمد باب کے سامنے لا کر اس کی نظر سے گزار کر حلال کرا لیتے ۔

۵۔دلائل العرفان صفحہ ۲۴۷ مصنفہ مرزا حیاء علی بابی میں لکھا ہے ۔الباب التاسع من الواحد التاسع فی حرمۃ صلٰوۃ الجماعۃ الاّ صلٰوۃ المیّت۔‘‘برخلاف شریعت اسلام کے نماز باجماعت سوائے نماز جنازہ کے حرام ٹھہرائی گئی ہے۔

۶۔نقطۃ الکاف صفحہ ۲۳۰ میں مرزا جانی بابی لکھتے ہیں کہ میں نماز جمعہ پڑھا کرتا تھا مگر جب علی محمد باب نے دعویٰ کیا اور اپنی کتاب فروع میں نماز جمعہ کو حرام ٹھہرایا تو میں نے نماز جمعہ چھوڑ دی۔

۷۔کتاب الاقدس عربی صفحہ ۱۸ و ۱۹ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ میں لکھتا ہے کہ باب نے لڑکے اور لڑکیوں کے معاملۂ نکاح میں کسی ولی یا کسی وکیل یا گواہ کی ضرورت نہیں رکھی بلکہ لڑکے لڑکی کی باہمی رضا مندی کافی رکھی ہے،لیکن بہاء اﷲ ان کی رضا مندی کے ساتھ والدین کی رضا مندی بھی ضروری قرار دیتا ہے اور ہر دو متضاد حکموں سے ظاہر ہے کہ باب اور بہاء اﷲ دونوں کے حکموں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کی و جہ یہ ہے کہ دونوں کا منبع ایک نہیں ہے اور دونوں حکم خود ساختہ ہیں۔

ان مشتے از خروارے احکام سے شریعت بابیہ کے غیر معقول ہونے کا بخوبی پتہ لگ جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ان سے نسخِ شریعت ِ محمدؐیّہ کا ادّعا بھی ثابت ہے۔مزید چند حوالے بھی ذیل میں دئیے جاتے ہیں۔

اسلام کی تعلیم ہے کہ سوائے ایک خدا کے اور کوئی معبود نہیں مگر اس کے بالمقابل بہاء اﷲ کی تعلیم ملاحظہ ہو۔

۱۔اطرازات اطراز ششم صفحہ ۱۳ مطبوعہ آگرہ میں بہاء اﷲ لکھتے ہیں ۔’’اِنَّنِیْ اَنَااللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا الْمُھَیْمِنُ الْقَیُّوْمُ۔‘‘پھر

۲۔تجلیاّت (تجلّی چہارم) صفحہ ۵ میں لکھتے ہیں :۔اِنَّنِیْ اَنَااللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَارَبُّ کُلِّ شَیْءٍ وَاِنَّ مَا دُوْنِیْ خَلْقِیْ اِنَّ یَا خَلْقِیْ اِیَّایَ فاَعْبُدُوْنِ۔کہ میں خدا ہوں۔میرے سوا تمام مخلوق ہے اس لئے صرف میری ہی عبادت کرو۔

۳۔کتاب مبین صفحہ ۲۸۶ میں بہاء اﷲ لکھتا ہے :۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَاالْمَسْجُوْنُ الْفَرِیْدُ۔ کہ کوئی خدا نہیں مگر میں اکیلا (بہاء اﷲ) جو قید ہوں۔بہاء اﷲ کے مرید بہاء اﷲ کے روضہ کی پرستش کرتے ہیں۔ دیوان نوش صفحہ ۷بہاء اﷲ کے روضہ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے۔

جُز خاکِ آستانِ تو مسجود خلق نیست

=اے سجدہ گاہ جان رواں روضۂ بہا

Cگردید انبیاء ہمہ ساجد بر ایں تراب

=اے قبلہ گاہِ کروبیاں روضۂ بہا

* پھر صفحہ ۱۴۹ پر ہے:۔

اے مقصد مقصود زماں روضۂ ابہیٰ

Aاے معبد و معبود جہاں روضۂ ابہیٰ

;اے معنی اسرار نہاں روضۂ ابہی

?اے سجدہ گاہ عالمیاں روضۂ ابہیٰ

R اس شریعت اسلامیہ میں جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کی تفصیل دی گئی ہے مگر برخلاف اس کے شریعت بہائیہ کتاب الاقدس میں صرف ماں سے نکاح حرام کیا گیا ہے۔باقیوں کا ذکر نہیں۔

۳۔اسلامی شریعت میں چار تک نکاح کو جائز رکھا ہے مگر برعکس اس کے شریعت بہائیہ میں دو ۲ سے زیادہ عورتیں ناجائز ہیں۔ (دیکھو کتاب الاقدس صفحہ ۱۳۰مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)

۴۔شریعت اسلامی میں مہر حسب توفیق و حیثیت جس قدر چاہیں مقرر کیا جاسکتا ہے مگر شریعت بہائیہ کتاب اقدس میں مہر کی مقدار شہروں میں ۱۹ مثقال سونا اور دیہات میں ۱۹ مثقال چاندی اور زیادہ سے زیادہ ۹۵ مثقال سونا اور ۹۵ مثقال چاندی علی الترتیب ہوسکتا ہے اس سے زیادہ مہر باندھنا حرام ہے۔ (الاقدس صفحہ ۱۳۵مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)

۵۔اسلامی شریعت میں تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر شریعت بہائیہ کتاب اقدس میں تین طلاق کے بعد رجوع ہو سکتا ہے۔ (الاقدس صفحہ۲۰ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)

۶۔اسلامی شریعت میں سود حرام اور خدا سے جنگ کرنے کے برابر ہے مگر شریعت بہائیہ میں جائز ہے۔ (دیکھو اشراقات ۔اشراق نہم صفحہ ۷ نیا ایڈیشن صفحہ ۴۳)

۷۔اسلامی شریعت میں مردوں کے لئے سونے چاندی کے برتنوں اور ریشمی لباس کا استعمال ناجائز ہے مگر شریعت بہائیہ میں جائز ہے۔’’مَنْ اَرَاداَنْ یَّسْتَعْمِلَ اَوَانِیَ الذَّھَبِ وَالْفِضَۃِ لَا بَأسَ عَلَیْہِ۔‘‘ (الاقدس صفحہ ۱۴مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)

۸۔سر کا منڈوانا جو شریعت اسلامیہ میں جائز تھا اس کو شریعت بہائیہ نے ناجائز قرار دیا ہے۔ ’’لَا تَحْلِقوا رُؤُسَکُمْ قَدْ زِیْنَھَااﷲ بِالْشَعْر‘‘۔یعنی اے اہل بہاء !اپنے سروں کو ہرگز نہ منڈوانا کہ بالوں سے ان کی زینت ہے۔ (کتاب الاقدس صفحہ ۱۴ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)

۹۔شریعت اسلامیہ میں کھلے طور پر گانے بجانے کی ممانعت ہے مگر بر خلاف اس کے کتاب اقدس میں لکھا ہے :۔اِنَّا حَلَلْنَا لکم اصغاء الاصوات والنغماتکہ ہم نے تمہارے لئے گانا بجانا جائز کردیا ہے۔ (الاقدسصفحہ ۱۶مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)

۱۰۔شریعت بہائیہ کے رو سے ایک خاوند جو سفر پر گیا ہوا ہو اس کی بیوی ۹ ماہ انتظار کرنے کے بعد نیا نکاح کر سکتی ہے۔حالانکہ اسلامی شریعت میں یہ جائز نہیں۔ (الاقدس صفحہ ۶۱،۶۲ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ)




Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply