
وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَۤا اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَۚ وَبِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ ﴿4﴾
اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف اُتارا گیا اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے اُتارا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں
بعض جعلی ختم نبوت کے مجاہد اس آیت کو پیش کر کے دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ اس میں بعد میں آنے والی وحی کا ذکر نہیں ہے اس لیے بعد میں کوئی وحی نہیں آ سکتی اس لیے کوئی نبی بھی نہیں آ سکتا ۔
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ ﴿21﴾
لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اِسی صورت ہوسکتی ہے
اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان کا بقرہ آیت چار سے استدلال بالکل غلط ہے ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے لوگوں اور ان سے پہلے لوگوں کا خالق ہے بعد میں قیامت تک آنے والوں کا خالق نہیں ہے ۔
مزید تفصیل بھی بعد میں اس میں شامل کی جائے گی