وفات مسیحؑ
متوفیک معنی ممیتک ابن عباس رض
قالو کما قال عبد الصالح۔ فما توفیتنی
حدثنا أبو الوليد، حدثنا شعبة، أخبرنا المغيرة بن النعمان قال: سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: خطب رسول الله ﷺ فقال: يا أيها الناس، إنكم محشورون إلى الله حفاةً عراةً غُرْلًا، ثم قال: ﴿كما بدأنا أول خلق نعيده وعدًا علينا إنا كنا فاعلين﴾ [الأنبياء: 104]. ثم قال: ألا وإن أول الخلائق يُكسى يوم القيامة إبراهيم، ألا وإنه يُجاء برجال من أمتي فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول: يا رب أصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، فأقول كما قال العبد الصالح: ﴿وكنت عليهم شهيدًا ما دمت فيهم﴾ إلى قوله: ﴿أنت العزيز الحكيم﴾، فيقال: إن هؤلاء لم يزالوا مرتدين على أعقابهم منذ فارقتهم.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
“اے لوگو! تم سب اللہ تعالیٰ کے حضور ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون (جس حالت میں پیدا کیے گئے تھے) جمع کیے جاؤ گے۔”
پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
“جس طرح ہم نے پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا تھا، اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے، اور ہم یقیناً اسے پورا کرنے والے ہیں۔”
(سورۃ الانبیاء: 104)
پھر فرمایا:
“خبردار! قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ کو لباس پہنایا جائے گا۔ اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا، پھر انہیں بائیں طرف (دوزخ کی طرف) لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ تو مجھے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی باتیں پیدا کر لیں۔ تب میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا:
‘اور جب تک میں ان میں رہا، ان پر گواہ تھا…’
…آخر آیت تک:
‘یقیناً تو ہی کامل غلبہ والا، حکمت والا ہے۔’
پھر کہا جائے گا: یہ لوگ آپ کے جدا ہونے کے بعد برابر اپنی ایڑیوں کے بل (دین سے) پلٹتے رہے۔”
قرآنی آیات
- سورۃ الانبیاء 21:104
﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾
- سورۃ المائدہ 5:117–118 (جزوی اقتباس)
﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ … إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾
یہ حدیث صحیح بخاری میں روایت ہوئی ہے اور قیامت، حشر، اور رسول اللہ ﷺ کے بعد بعض لوگوں کے دین سے انحراف کے بارے میں ہے۔
صحیح بخاری


2 Responses
سکین حوالے بہت ہی مدھم ہیں اور موٹا کریں تو بالکل ہی نہیں پڑھے جاتے
کس حوالے کی بات کر رہے ہیں بھائی؟