اوصاف ِقرآن مجید ۔ نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی ٰنکلا ۔ کلام مسیح موعودؑ

| پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا | نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی ٰنکلا |
| ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا | حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا |
| جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا | یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالَم ہے |
| مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا | سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں |
| وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا | کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ |
| پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا | پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں |
| ایسا چمکا ہے کہ صد نَیّرِ بیضا نکلا | ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور |
| جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا | زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں |
| جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا | جلنےسے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں |
Post Views: 1,016