فتاویٰ رشیدیہ ۔ خدا جھوٹ بول سکتا ہے

دیوبندی اکابر کا وہابیوں کی طرح عقیدہ ہے کہ خدا وعدہ خلافی کر سکتا ہے اور جھوٹ بول سکتا ہے ورنہ اس کو عاجز ماننا پڑے گا

(شبه ) براہین قاطعہ میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کذب ممکن ہے اس مسئلہ کی وجہ سے کتب الہیہ میں احتمال جھوٹ کا

پیدا ہو سکتا ہے یعنی مخالفین کہ سکتے ہیں کہ شاید یہ قرآن ہی جھوٹا ہے اور اس کے احکام ہی غلط ہیں اور براہین قطعہ کی اس تحریر

کی وجہ سے بہت لوگ گمراہ ہو گئے۔ از فقیر امداداللہ چشتی فاروقی عفا اللہ عنہ بخدمت مولوی نذیر احمد خاں صاحب بعد سلام

وجہ لوگ ہو – بعد سلام

تحیہ اسلام آنکہ آپ کا خط آیا مضمون سے مطلع ہوا۔ ہر چند کہ بعض وجوہ سے عزم تحریر جواب نہ تھا مگر بفرض اصلاح اور توضیح

وے اِن أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا

استَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ ط

وقوع کذب کا قائل ہونا باطل ہے اور خلاف ہے نص صریح و من اصدقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ المَعِيَاءَ

وغیر ہم آیات کے وہ ذات پاک مقدس ہے شائد نقص کذب وغیرہ سے۔ رہا خلان علماء کا جو درباره وقوع و عدم وقوع خلان

وعید ہے جس کو صاحب براہین قاطعہ نے تحریر کیا ہے۔ وہ دراصل کذب نہیں صورت کذب ہے اس

کی تحقیق میں طول

ہے۔ الحاصل امکان کذب سے مراد دخول کذب تحت قدرت باری تعالیٰ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ وعید فرمایا

ہے اس کے خلاف پر قادر ہے اگر چہ وقوع اس کا نہ ہو امکان کو وقوع لازم نہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شےممکن بالذات

ہوا اور کسی وجہ خالہ جی سے اس کو استعمالہ لاحق ہوا ہو۔ چنانچہ اہل عقل پر مخفی نہیں پیس مذہب جمیع محققین اہل اسلام و

صوفیائے کرام و علماء عظام کا اس مسئلہ میں یہ ہے کہ کذب داخل تحت قدرت باری تعالیٰ ہے۔ پس جو شبہات

آپ نے وقوع کذب پر متفرع کئے تھے وہ مندفع ہو گئے کیونکہ وقوع کا کوئی قائل نہیں۔ یہ مسلہ دقیق ہے عوام کے سامنے


Discover more from احمدیت حقیقی اسلام

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply