حضرت عیسی علیہ السلام کے کوہ ہمالیہ سے آگے بلکہ کشمیر تک آنے کا ذکر پایا،
جاتا ہے۔
ایک مرتبہ شکاریش ہم تنگ (ہمالیہ) سے آگے ہوڑ دیش گئے۔ وہاں پہاڑوں کے
درمیان اس راجا نے سفید پوش گورے رنگت والے معزز شخص کو دیکھا۔ خوش ہو کر
پو چھا آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا میں میٹی (مینی) ہوں۔ کنواری ماں سے پیدا ہوا
ہوں۔ میں سچائی کی تعلیم دینے والے ملیچھ (غیر آریہ / غیر سامی) دھرم کی تعلیم دیتا ہوں۔
یہ سن کر را جانے پوچھادھرم کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟ یہ سن کر مسی
(مسیح علیہ السلام) بولے ” سچائی کے زوال پذیر ہونے اور ملیچھ دیش کے حقانیت سے دور
ہو جانے پر میں مسی (مسیح علیہ السلام) یہاں آیا ہوں …. اے راجا! میرے ذریعے
میچوں کے قائم کئے ہوئے دین کی باتیں سنو …. اس لئے عیشی مسی (عیسی مسیح) میرا نام
اگر اب بھی نہ جائے تو : ۵۸ بحوالہ بھوشیہ پران)
الغرض یہ قوم کہ جن کا نام ہندو اصل مذہب سناتن دھرم شاشوت دھرم یا
سود دھرم ہے، شاید حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ہوں۔ ان کے ویدوں میں حضرت
نوح علیہ السلام کی بابت تفاصیل ملتی ہیں جبکہ ان کے عقائد حقیقیہ اصلیہ ابتدائیہ میں
اللہ کی توحید کے ساتھ رسالت اور رسل عظام علیہم السلام کا نہایت واضح تصویر موجود
ہے۔ صرف یہی کچھ نہیں بلکہ انکی کتب میں خود آقائے دوجہاں میں یہ کا تذکرہ مبارک
در جنوں مقامات موجود پر ہے، ان میں سے بہت سے مقامات پر کعبہ والے شہر مکہ کے
ساتھ تعلق اور وہاں آپ میں دم کی پیدائش کا ذکر ہے۔ کئی مقامات پر آپ کی حقیقت
احمدیہ میم کا بیان ہے ۔ بعض مقامات پر تو با قاعدہ آپ کے نام نامی اسم گرامی یعنی محمد
م کے ساتھ ذکر ہے۔ جبکہ کثیر مقامات ایسے ہیں جہاں آپ کے اسم پاک کا ترجمہ کر
دیا گیا ہے۔ ہم ان میں سے بعض مقامات کا آخر میں ذکر کریں گے ۔
Discover more from احمدیت حقیقی اسلام
Subscribe to get the latest posts sent to your email.