وفات مسیح ، حیات مسیح ۔ حضرت عیسی کی گواہی کے دوزمانے ۔ انصر رضا صاحب

daleel wafate maseeh pbuh - hazrat esa pbuh ki gawahi k do zamane aor quran-title

حواریوں کے سامنے

فَلَمَّا أَحَسَ عِيْسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ أَمَنَا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَا مُسْلِمُوْنَ ﴿3:53﴾

پس جب عیسی نے اُن میں انکار (کار جمان) محسوس کیا تو اس نے کہا کون اللہ کی طرف ( بلانے میں ) میرے انصار ہوں گے ؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے انصار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں اور توگواہ بن جا کہ ہم فرمانبر دار ہیں۔

قوم کے سامنے

روز قیامت

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿5:118

میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پس جب تو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تو ہی ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ﴿4:160)

اور اہل کتاب میں سے کوئی (فریق) نہیں مگر اس کی موت سے پہلے یقیناً اس پر ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہو گا۔

ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی کے گواہی دینے کے دو ہی زمانے ہیں : پہلا اپنے حواریوں اور قوم کے سامنے اور دوسرا روز قیامت۔ تیسرا کوئی زمانہ قرآن مجید نے بیان نہیں کیا۔ اگر ، بقول غیر احمدی علماء، وہ قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے اور اہل کتاب کو بتائیں گے کہ وہ رسول اللہ ہیں ابن اللہ نہیں ہیں تو یہ گواہی دینے کا ایک تیسر ازمانہ ہو گا جس کا قرآن مجید نے ذکر نہیں کیا۔

Leave a Reply