تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ جلد 1 تا 7
سورت الجمعہ ۔ ص 433 تفسیر مسیح موعودؑ جلد 7
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿1﴾
اللہ ہی کی تسبیح کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ وہ بادشاہ ہے۔ قدّوس ہے۔ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿2﴾
وہی ہے جس نے اُمّی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿3﴾
اور انہی میں سے دوسروں کی طرف بھی (اسے مبعوث کیا ہے) جو ابھی اُن سے نہیں ملے۔ وہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿4﴾
سیدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تصنیفات اور ملفوظات میں قرآن کریم کی جن آیا ت کی تفسیر بیان فرمائی اسے یکجا کرکے پیش کیا گیا ہے۔ یہ خزانہ 4 جلدوں میں تیار کیا گیا تھا جبکہ موجودہ ٹائپ شدہ ایڈیشن 8 جلدوں میں مرتب کیا گیا تا دوران مطالعہ قارئین کو سہولت ہو۔ معارف قرآنی کا یہ خزانہ حضور علیہ السلا م کی اردو، عربی اور فارسی زبان کی 80 سے زیادہ تصنیفات اور تقاریر میں جابجا مذکور تھا جسے 1967ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے یکجا کرنے کا ارشاد فرمایا تومولوی سلطان احمدصاحب فاضل پیرکوٹی نے بہت تھوڑے وقت میں ان روحانی موتیوں اور روح پرور تفسیری نکات کو نہایت محنت اور عرقریزی سے مکمل کرکے جنوری 1968ء میں مسودہ حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کردیا۔ اس مسودہ کی ترتیب و تدوین اور عربی و فارسی عبارات کے تراجم کا مرحلہ مکمل ہونے پر طباعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ ایڈیشن میں اقتباسات درج کرتے ہوئےصحت متن کا خصوصی خیال رکھا گیاہے، اقتباسات کا حوالہ بھی روحانی خزائن سے مزید معین کردیا گیا ہے نیز نئے سامنے آنے والے اقتباسات کو بھی شامل تفسیر کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو قرآنی حقائق و معارف کے بیان میں ہر مخالف کے مقابل پر ایک زندہ نشان عطا کیا گیا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 7 مارچ 1980ء کو تحریک فرمائی تھی کہ ہر احمدی گھرانہ میں اس تفسیر کا ایک سیٹ ضرور موجود ہونا چاہئے۔